19/01/2026
وضاحتی بیان
#تربت: میں نوشاد سعید، اس وضاحتی بیان کے ذریعے عوام، میڈیا اور متعلقہ اداروں کو یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میرے خلاف اور میری زیرِ استعمال زمین سے متعلق بعض افراد کی جانب سے پھیلائے جانے والے الزامات سراسر بے بنیاد، گمراہ کن اور حقائق کے منافی ہیں۔
یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ عظیم گچکی اور اس کا بھائی ناصر گچکی خود مختلف زمینوں پر ناجائز قبضوں کے الزامات کی زد میں ہیں، اس کے باوجود وہ دوسروں پر بلاجواز الزامات عائد کر کے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ علاقے کے عوام بخوبی آگاہ ہیں کہ مسجد کی زمین تک ان افراد کے قبضے میں ہے، جس کا باقاعدہ گواہ علاقہ کونسلر خود ہے، جبکہ اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر کے نام تحریری درخواست بھی جمع کرائی جا چکی ہے۔
1۔ میری زیرِ استعمال زمین تمام قانونی تقاضوں پر پوری اترتی ہے اور اس کی ملکیت مکمل طور پر قانون کے دائرے میں ہے۔
2۔ مذکورہ زمین کے لیے مجھے باقاعدہ طور پر این او سی (NOC) جاری کیا گیا ہے، جو اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ تمام قانونی مراحل مکمل کیے گئے۔
3 اسسٹنٹ کمشنر کی جانب سے تعمیرات کی تحریری اجازت دی گئی، جس کے دستاویزی شواہد آج بھی موجود ہیں۔
4۔ اگر عظیم گچکی واقعی اس زمین کا دعوے دار ہے تو اسے ملکیت سے متعلق مستند قانونی دستاویزات پیش کرنی چاہئیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس کے پاس اس نوعیت کا کوئی قانونی ثبوت موجود نہیں۔
5۔ مجھ پر یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ ہمارے لوگوں نے عظیم گچکی پر تشدد کیا، جو سراسر حقائق کے برعکس ہے۔ واقعے کے روز ہماری جانب سے صرف ایک فرد موجود تھا جو مزدوروں اور کام کی نگرانی پر مامور تھا۔ اس کے ساتھ پہلے بدزبانی کی گئی اور بعد ازاں معمولی نوعیت کا تنازع پیش آیا، جسے غیر ضروری طور پر بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔
6۔ اگر مخالف فریق کے پاس زمین سے متعلق معمولی سا بھی قانونی ثبوت ہوتا تو وہ اسے متعلقہ قانونی فورمز، بشمول ڈیپارٹمنٹ آف سیٹلمنٹ، قاضی کورٹ یا ڈپٹی کمشنر آفس میں پیش کرتا، مگر تاحال ایسا نہیں کیا گیا۔
میں معزز میئر صاحب اور ڈپٹی کمشنر صاحب سے پُرزور اپیل کرتا ہوں کہ اس معاملے کا غیر جانبدارانہ، شفاف اور مکمل قانونی بنیادوں پر نوٹس لیا جائے، بے بنیاد الزامات لگانے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور قانون کو ہاتھ میں لینے کی کسی بھی کوشش کو روکا جائے۔
واضح کیا جاتا ہے کہ میں اپنی زمین سے متعلق تمام قانونی دستاویزات، بشمول ملکیتی کاغذات، این او سی اور تعمیراتی اجازت نامے، متعلقہ اداروں، میڈیا اور عوام کے سامنے پیش کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہوں، اور یہ تمام دستاویزات وقتِ ضرورت فراہم کی جائیں گی۔. مزید یہ کہ اگر اس معاملے سے متعلق کوئی ایف آئی آر درج ہوئی ہے تو وہ اب عدالت میں زیرِ سماعت ہے، اور مجھے عدالت کے ہر فیصلے پر مکمل اعتماد اور رضامندی ہے۔ تاہم، بلاوجہ پولیس اور اداروں کو بدنام کرنے اور مجھ پر بے بنیاد الزامات عائد کرنے سے گریز کیا جائے۔