23/03/2026
سید حسین موسوی عراق کے شہر نجف کے ایک ممتاز شیعہ عالمِ دین اور مجتہد تھے۔ جب "آیت اللہ" خمینی جلاوطنی کے دوران نجف میں مقیم تھے، تو سید حسین موسوی ان کے انتہائی قریبی ساتھیوں اور معتمدین میں شامل تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ خمینی اور دیگر رہنماؤں کے ان خیالات اور بعض دیگر عقائد کو قریب سے دیکھنے کے بعد، انہوں نے شیعہ مسلک کو ترک کر دیا اور اہل سنت کا مسلک اختیار کر کے کتاب "للہ ثم للتاریخ" لکھی تاکہ وہ اپنے تجربات بیان کر سکیں۔
اس کتاب میں لکھتے ہیں کہ خمینی نے ایک مرتبہ کہا:
"سيد حسين! آن الأوان لتنفيذ وصايا الأئمة صلوات الله عليهم، سنسفك دماء النواصب، وسنمحو مكة والمدينة من وجه الأرض لأن هاتين المدينتين صارتا معقل الوهابيين، ولا بد أن تكون كربلاء -أرض الله المباركة المقدسة- قبلة الناس للصلاة“
(للہ ثم للتاریخ، ص: ۹۱)
ترجمہ
"سید حسین! اب وقت آ گیا ہے کہ ائمہ کرام (صلوات اللہ علیہم) کی وصیتوں پر عمل کیا جائے، ہم ناصبیوں کا خون بہائیں گے، اور مکہ و مدینہ کو روئے زمین سے مٹا دیں گے کیونکہ یہ دونوں شہر وہابیوں کا گڑھ بن چکے ہیں، اور یہ ضروری ہے کہ کربلا — جو اللہ کی بابرکت اور مقدس زمین ہے — نماز کے لیے لوگوں کا قبلہ بنے۔"
( یاسر اسعد )