Whispers of Sorrow

Whispers of Sorrow نام جس کا روشنی تھا
اس نے مجھے تاریکیاں دی ہیں

یہ میری غزلیں یہ میری نظمیں
تمام تیری حکایتیں ہیں
یہ تذکرے تیرے لطف کے ہیں
یہ شعر تیری شکایتیں ہیں
میں سب تری نذر کر رہا ہوں
یہ ان زمانوں کی ساعتیں ہیں

جو زندگی کے نئے سفر میں
تجھے کسی وقت یاد آئیں
تو ایک اک حرف جی اٹھے گا
پہن کے انفاس کی قبائیں
اداس تنہائیوں کے لمحوں
میں ناچ اٹھیں گی یہ اپسرائیں
مجھے ترے درد کے علاوہ بھی
اور دکھ تھے یہ مانتا ہوں
ہزار غم تھے جو زندگی کی
تلاش میں تھے یہ جانتا ہوں

مجھے خبر تھی کہ تیرے آنچل میں
درد کی ریت چھانتا ہوں
مگر ہر اک بار تجھ کو چھو کر
یہ ریت رنگ حنا بنی ہے
یہ زخم گلزار بن گئے ہیں
یہ آہ سوزاں گھٹا بنی ہے
یہ درد موج صبا ہوا ہے
یہ آگ دل کی صدا بنی ہے
اور اب یہ ساری متاع ہستی
یہ پھول یہ زخم سب ترے ہیں
یہ دکھ کے نوحے یہ سکھ کے نغمے
جو کل مرے تھے وہ اب ترے ہیں
جو تیری قربت تری جدائی
میں کٹ گئے روز و شب ترے ہیں
وہ تیرا شاعر ترا مغنی
وہ جس کی باتیں عجیب سی تھیں
وہ جس کے انداز خسروانہ تھے
اور ادائیں غریب سی تھیں
وہ جس کے جینے کی خواہشیں بھی
خود اس کے اپنے نصیب سی تھیں
نہ پوچھ اس کا کہ وہ دوانہ
بہت دنوں کا اجڑ چکا ہے
وہ کوہ کن تو نہیں تھا لیکن
کڑی چٹانوں سے لڑ چکا ہے
وہ تھک چکا تھا اور اس کا تیشہ
اسی کے سینے میں گڑ چکا ہے

13/09/2025

میں ایک بیکار روح ہوں ۔۔؀

12/09/2025

میرے اندر ایک دل نہیں، ایک قبرستان آباد ہے، جہاں ہر لمحہ میری خوشیوں کی لاشیں دفن ہوتی ہیں۔ اب نہ کوئی مسکراہٹ ہونٹوں پر آتی ہے اور نہ ہی کوئی خواب آنکھوں میں پلتا ہے۔ ہر صبح ایک نئے عذاب کا سورج لے کر آتی ہے اور ہر شام ایک نئی تنہائی کے سائے پھیلا دیتی ہے۔
میں نے محبت کی تھی، جس نے مجھے تباہ کر دیا۔ مجھے برباد کر دیا۔ اب یہ سمجھ نہیں آتی کہ محبت کا نام ہے یا اذیت کا۔ یہ جو سینے میں جلن ہے، یہ جو آنکھوں میں آنسو ہیں، یہ سب اُسی ایک شخص کی دین ہے۔
لوگ کہتے ہیں وقت ہر زخم کو بھر دیتا ہے، لیکن میرے زخم گہرے ہیں، اتنے گہرے کہ وقت بھی ان کی گہرائیوں میں کھو گیا ہے۔ میں ہر روز مرتا ہوں، اور ہر روز مجھے دوبارہ زندہ کیا جاتا ہے، صرف مزید درد سہنے کے لیے۔ میری زندگی ایک ایسی سزا بن چکی ہے، جس سے میں چاہ کر بھی فرار حاصل نہیں کر سکتا۔ کاش! موت مجھے اپنی آغوش میں لے لے، تاکہ میں بھی سکون کی نیند سو سکوں۔

07/08/2025

میں کیوں اتنا عجیب ہوگیا ہوں؟
میری سوچیں مجھے ہر کسی سے دور کرتی جاری ہیں
مجھے ہر رشتہ جھوٹا اور ہر مخلص شخص بھی مکار لگنے لگا ہے
ہر چیز سے اکتاہٹ ہونے لگی ہے، یہاں تک کہ ہر چیز بری لگنے لگی ہے، اب تو من پسند چیزیں بھی زہر لگنے لگی ہیں، اور میرے لیے سکون کا مطلب اب بس خاموشی اور تنہائی ہے۔

Address

Bahawalpur

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Whispers of Sorrow posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Whispers of Sorrow:

Share