06/02/2024
فرعون سے کیا ہوا خدا کا وعدہ ۔۔۔
1-
یہ واقعہ آج سے ساڑھے تین ہزار سال پہلے پیش آیا تھا،
فرعون کے ڈوب کر مرنے کے بعد سمندر نے اس کی لاش کو اللہ کے حکم سے
باہر پھینک دیا۔۔۔۔۔
جبکہ باقی لشکر کا کوئی نام و نشان نہ ملا۔
مصریوں میں سے کسی شخص نے ساحل پر پڑی اس کی لاش پہچان کر اہل در بار کو
بتایا۔ فرعون کی لاش کو محل پہنچایا گیا۔
درباریوں نے مسالے لگا کر اسے پوری
شان اور احترام سے تابوت میں رکھ کر محفوظ کر دیا۔
حنوط کرنے کے عمل کے دوران ان سے ایک غلطی ہو گئی تھی ،
کیا آپ جانتے ہیں حنوط کیا ہوتا ہے۔
حنوط ایک ایسا عمل ہوتا جس میں نعش کو مسالہ یہ خوشبو جائے اور جس کی وجہ سے وہ گلنا اور سڑنا بند کر دیتی ہے صدیوں تک محفوظ رہتی ہے۔
فرعون کیوں کہ سمندر میں ڈوب کر مر اتھااور مرنے کے بعد کچھ عرصہ تک
پانی میں رہنے کی وجہ سے اس کے جسم پر سمندری نمکیات کی ایک تہہ جمی رہ گئی
تھی۔۔۔
مصریوں نے اس کی لاش پر نمکیات کی وہ تہہ اسی طرح رہنے دی اور اسے
اسی طرح حنوط کر دیا۔
2-
وقت گزرتارہا، زمین و آسمان نے بہت سے انقلاب دیکھے جن کی گرد کے نیچے
سب کچھ چپ گیا،
گئیں،
ان حتی کہ فرعونوں کی حنوط شدہ لاشیں بھی زمین کی تہوں میں چھپ کر رہ گئی اور انکے نام صرف کتابوں ، ان کی تعمیرات اور کارنامے لوگوں کے ذہنوں میں رہ گئے۔
اس واقعے کے دو ہزار سال بعد اس دنیا میں اللہ کے آخری نبی حضرت محمد
تشریف لاۓ ، ان پر نازل ہونے والی آخری کتاب میں فرعونوں کے قصے بڑی
تفصیل کے ساتھ بیان کیے گئے تھے
اور اسی سلسلے میں
اس فرعون کا جسم محفوظ کرنے کی بابت آیت بھی نازل ہوئی تھی۔۔۔
جس کی سچائی پر
سب اہل ایمان کا پختہ یقین تو تھا.....
3-
لیکن وہ سمجھنے سے قاصر تھے کہ اس خدائی کا دعوے کرنے والے کی لاش کہاں
محفوظ کی گئی اور کیسے اسے عبرت کا نشان بنایا جاۓ گا۔
1871ء میں مصر کے ایک شہر الغورنیہ سے تعلق رکھنے والے غریب اور معمولی
چوراحمد عبدالرسول کو فرعونوں کی حنوط شدہ لاشوں کی طرف جانے والے خفیہ
راستے تک رسائی مل گئی
۔احمد عبد الرسول نوادرات چوری کر کے بیچا کرتا تھا۔ ایک دن وہ دریاۓ نیل
کے کنارے کے قریب تبیہ کے مقام پر اسی سلسلے میں پھر رہا تھا
جب اسے ایک خفیہ راستے کا پتہ چلا۔ وہاں وہ نوادرات کی چوری کے لئے جگہ
کھود رہا تھا کہ اسی دوران اسے کچھ لوگوں نے پکڑ لیا اور پولیس کے حوالے کر دیا۔...
4-
وہ جس جگہ کو کھو درہاتھاوہاں سے ملنے والے راستے کی جب مسلسل کھدائی کی
گئی۔
1891ء کو دوسری ممیوں کے ساتھ اس غرق ہونے والے فرعون کی لاش بھی
مل گئی
۔اس کے کفن پر سینے کے مقام پر اس کا نام لکھا ہوا تھا۔ان ممیوں کو ماہرین
قاہرہ لے گئے۔
جب ان ممیوں کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا تو فر عون والی می پر
جمی نمکیات کی تہہ سے تصدیق ہو گئی کہ یہ وہی فرعون ہے جسے اللہ نے پانی میں
غرق کر کے بد ترین انجام سے ہمکنار کیا تھا۔
یہ بہت بڑا واقعہ تھا اس کی تصدیق کے لیے دنیا بھر کے ماہرین آثار قدیمہ اور
سائنسدان مصر کی طرف امڈ پڑے۔
مختلف سائنسی ٹیسٹ کرنے کے بعد دنیا بھر
کے سائنسدانوں نے تصدیق کر دی کہ دوسری سب لاشوں کی نسبت صرف
فرعون کی لاش پر ہی سمندری نمکیات کی تہہ جمی ہوئی تھی۔
اس تصدیق کے بعد
اسے فرعون کی لاش قرار دے کر عجائب گھر میں محفوظ کر دیا گیا۔...
5-
1982ء میں فرعون کی ممی خراب ہونے لگی تو اس وقت کی مصری حکومت نے
فرانس کی حکومت کو درخواست کی کہ فرعون کی ممی کو خراب ہونے سے بچایا
جاۓ
نیز جدید سائنسی ذرائع سے اس کی موت کی وجہ بھی معلوم کی جاۓ چنانچہ مصری
اور فرانسیسی حکومت نے مل کر ممی کو فرانس لے جانے کا انتظام کیا۔
جب فرعون کی لاش کو فرانس پہنچایا گیا توائیر پورٹ پر اس دور کے فرانسیسی صدر
بذات خود حکومت کے اعلی عہد یداروں، تمام وزراء اور فوج کے افسران کے
ساتھ استقبال کے لیے موجود تھے۔
6-
فرعون کی لاش کا استقبال کسی عظیم زندہ بادشاہ کی طرح کیا گیا، فوجی دستوں نے
سلامی دی۔
فرعون کی ممی کو ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم کے حوالے کیا گیا۔ اس ٹیم کی سر براہی
ڈاکٹر مورس بوکائ نے کی تھی۔
مائیکروسکوپک ٹیسٹوں کے ذریعے ممی کے
تمام اعضاء کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ اس کی لاش اور جسم میں
سمندری ذرات ابھی تک موجود ہیں اور موت کی وجہ بھی پانی میں ڈوبنے کی وجہ
سے ہوئی تھی۔۔۔
7-
ایک بادشاہ کی موت پانی میں ڈوبنے کی وجہ سے ہو ??!
یہ ڈاکٹر مورس کے لیے حیرت کی بات تھی۔ اس نے اس ممی کے بارے
مزید جاننے کی کوشش کی تو اسے معلوم ہوا کہ اس بادشاہ کی موت کے حالات
مسلمانوں کے نبی حضرت محمد پر اتری کتاب قرآن پاک میں تفصیل سے درج
ہیں۔
اسے علم تھا کہ جہاں سے یہ لاش ملی ہے وہ ایک اسلامی ملک ہے چنانچہ
تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر وہ مصر پہنچا۔
وہ ایک سائنسدان تھا اس نے اس
معاملے میں مصر کے ہی ایک سائنسدان سے ملاقات کی
۔اس سائنسدان نے قرآن پاک کھول کر اسے سورۃ یونس کی آیات کا
ترجمہ لفظ بہ لفظ سنایا۔...
8-
فرعون کا خدائی کا دعوی ، اس کا پانی میں ڈوب کر مر نااور پھر پانی سے نکال کر اس
کی لاش کا حنوط ہو جانا اور پھر دوبارہ لاش کا ملنا اور پھر اس کی لاش کو جدید سائنسی
دور میں دوبارہ محفوظ کیا جانا۔
سب کا اشارہ ایک جانب تھا اور بہت واضح تھا۔
تجھے بعد میں آنے والوں کے لیے عبرت کا نشان بنادوں گا‘‘۔
فرعون کی لاش ایسے محفوظ کر کے دنیا کے سامنے لا کر رکھ دی گئی ہے
کہ انٹرنیٹ
کے ایک کلک پر ، رسائل و جرائد پر ، ٹی وی چینلز پر اور عجائب گھر میں اربوں
انسانوں کی آنکھوں کے سامنے کر یہہ اور پیچی قابل ترس حالت میں موجود ہے۔
عبرت کے لیے ، سوچنے کے لیے کہ عبادت کے لائق اور ہمیشہ رہنے والا وہی ہے
جو سب کا خالق اور رازق ہے۔ ڈاکٹر مورس نے آیات کا ترجمہ سنا تو اسی وقت
پکار اٹھا قرآن سچاھے کلمہ پڑھا اور مسلمان ہو گیا
وڈیو دیکھنے کے لیے لنک پر کلک کریں۔
https://youtu.be/nzB58mN6zMw?si=3k6JQNCbIJXTnpfH