Ara tv

Ara tv Historical Videos, Documentary, News Feed on our page will inform u about Politics and latest Gossips

فرعون سے کیا ہوا خدا کا وعدہ ۔۔۔ 1-یہ واقعہ آج سے ساڑھے تین ہزار سال پہلے پیش آیا تھا،فرعون کے ڈوب کر مرنے کے بعد سمندر ...
06/02/2024

فرعون سے کیا ہوا خدا کا وعدہ ۔۔۔
1-

یہ واقعہ آج سے ساڑھے تین ہزار سال پہلے پیش آیا تھا،
فرعون کے ڈوب کر مرنے کے بعد سمندر نے اس کی لاش کو اللہ کے حکم سے
باہر پھینک دیا۔۔۔۔۔

جبکہ باقی لشکر کا کوئی نام و نشان نہ ملا۔

مصریوں میں سے کسی شخص نے ساحل پر پڑی اس کی لاش پہچان کر اہل در بار کو
بتایا۔ فرعون کی لاش کو محل پہنچایا گیا۔

درباریوں نے مسالے لگا کر اسے پوری
شان اور احترام سے تابوت میں رکھ کر محفوظ کر دیا۔

حنوط کرنے کے عمل کے دوران ان سے ایک غلطی ہو گئی تھی ،

کیا آپ جانتے ہیں حنوط کیا ہوتا ہے۔

حنوط ایک ایسا عمل ہوتا جس میں نعش کو مسالہ یہ خوشبو جائے اور جس کی وجہ سے وہ گلنا اور سڑنا بند کر دیتی ہے صدیوں تک محفوظ رہتی ہے۔


فرعون کیوں کہ سمندر میں ڈوب کر مر اتھااور مرنے کے بعد کچھ عرصہ تک
پانی میں رہنے کی وجہ سے اس کے جسم پر سمندری نمکیات کی ایک تہہ جمی رہ گئی
تھی۔۔۔

مصریوں نے اس کی لاش پر نمکیات کی وہ تہہ اسی طرح رہنے دی اور اسے
اسی طرح حنوط کر دیا۔

2-

وقت گزرتارہا، زمین و آسمان نے بہت سے انقلاب دیکھے جن کی گرد کے نیچے
سب کچھ چپ گیا،
گئیں،

ان حتی کہ فرعونوں کی حنوط شدہ لاشیں بھی زمین کی تہوں میں چھپ کر رہ گئی اور انکے نام صرف کتابوں ، ان کی تعمیرات اور کارنامے لوگوں کے ذہنوں میں رہ گئے۔

اس واقعے کے دو ہزار سال بعد اس دنیا میں اللہ کے آخری نبی حضرت محمد
تشریف لاۓ ، ان پر نازل ہونے والی آخری کتاب میں فرعونوں کے قصے بڑی
تفصیل کے ساتھ بیان کیے گئے تھے

اور اسی سلسلے میں
اس فرعون کا جسم محفوظ کرنے کی بابت آیت بھی نازل ہوئی تھی۔۔۔

جس کی سچائی پر
سب اہل ایمان کا پختہ یقین تو تھا.....

3-

لیکن وہ سمجھنے سے قاصر تھے کہ اس خدائی کا دعوے کرنے والے کی لاش کہاں
محفوظ کی گئی اور کیسے اسے عبرت کا نشان بنایا جاۓ گا۔

1871ء میں مصر کے ایک شہر الغورنیہ سے تعلق رکھنے والے غریب اور معمولی
چوراحمد عبدالرسول کو فرعونوں کی حنوط شدہ لاشوں کی طرف جانے والے خفیہ
راستے تک رسائی مل گئی

۔احمد عبد الرسول نوادرات چوری کر کے بیچا کرتا تھا۔ ایک دن وہ دریاۓ نیل
کے کنارے کے قریب تبیہ کے مقام پر اسی سلسلے میں پھر رہا تھا

جب اسے ایک خفیہ راستے کا پتہ چلا۔ وہاں وہ نوادرات کی چوری کے لئے جگہ
کھود رہا تھا کہ اسی دوران اسے کچھ لوگوں نے پکڑ لیا اور پولیس کے حوالے کر دیا۔...

4-

وہ جس جگہ کو کھو درہاتھاوہاں سے ملنے والے راستے کی جب مسلسل کھدائی کی
گئی۔

1891ء کو دوسری ممیوں کے ساتھ اس غرق ہونے والے فرعون کی لاش بھی
مل گئی

۔اس کے کفن پر سینے کے مقام پر اس کا نام لکھا ہوا تھا۔ان ممیوں کو ماہرین
قاہرہ لے گئے۔

جب ان ممیوں کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا تو فر عون والی می پر
جمی نمکیات کی تہہ سے تصدیق ہو گئی کہ یہ وہی فرعون ہے جسے اللہ نے پانی میں
غرق کر کے بد ترین انجام سے ہمکنار کیا تھا۔

یہ بہت بڑا واقعہ تھا اس کی تصدیق کے لیے دنیا بھر کے ماہرین آثار قدیمہ اور
سائنسدان مصر کی طرف امڈ پڑے۔

مختلف سائنسی ٹیسٹ کرنے کے بعد دنیا بھر
کے سائنسدانوں نے تصدیق کر دی کہ دوسری سب لاشوں کی نسبت صرف
فرعون کی لاش پر ہی سمندری نمکیات کی تہہ جمی ہوئی تھی۔

اس تصدیق کے بعد
اسے فرعون کی لاش قرار دے کر عجائب گھر میں محفوظ کر دیا گیا۔...

5-

1982ء میں فرعون کی ممی خراب ہونے لگی تو اس وقت کی مصری حکومت نے
فرانس کی حکومت کو درخواست کی کہ فرعون کی ممی کو خراب ہونے سے بچایا
جاۓ

نیز جدید سائنسی ذرائع سے اس کی موت کی وجہ بھی معلوم کی جاۓ چنانچہ مصری
اور فرانسیسی حکومت نے مل کر ممی کو فرانس لے جانے کا انتظام کیا۔

جب فرعون کی لاش کو فرانس پہنچایا گیا توائیر پورٹ پر اس دور کے فرانسیسی صدر
بذات خود حکومت کے اعلی عہد یداروں، تمام وزراء اور فوج کے افسران کے
ساتھ استقبال کے لیے موجود تھے۔

6-
فرعون کی لاش کا استقبال کسی عظیم زندہ بادشاہ کی طرح کیا گیا، فوجی دستوں نے
سلامی دی۔

فرعون کی ممی کو ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم کے حوالے کیا گیا۔ اس ٹیم کی سر براہی
ڈاکٹر مورس بوکائ نے کی تھی۔

مائیکروسکوپک ٹیسٹوں کے ذریعے ممی کے
تمام اعضاء کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ اس کی لاش اور جسم میں
سمندری ذرات ابھی تک موجود ہیں اور موت کی وجہ بھی پانی میں ڈوبنے کی وجہ
سے ہوئی تھی۔۔۔

7-

ایک بادشاہ کی موت پانی میں ڈوبنے کی وجہ سے ہو ??!

یہ ڈاکٹر مورس کے لیے حیرت کی بات تھی۔ اس نے اس ممی کے بارے
مزید جاننے کی کوشش کی تو اسے معلوم ہوا کہ اس بادشاہ کی موت کے حالات
مسلمانوں کے نبی حضرت محمد پر اتری کتاب قرآن پاک میں تفصیل سے درج
ہیں۔

اسے علم تھا کہ جہاں سے یہ لاش ملی ہے وہ ایک اسلامی ملک ہے چنانچہ
تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر وہ مصر پہنچا۔

وہ ایک سائنسدان تھا اس نے اس
معاملے میں مصر کے ہی ایک سائنسدان سے ملاقات کی
۔اس سائنسدان نے قرآن پاک کھول کر اسے سورۃ یونس کی آیات کا
ترجمہ لفظ بہ لفظ سنایا۔...

8-

فرعون کا خدائی کا دعوی ، اس کا پانی میں ڈوب کر مر نااور پھر پانی سے نکال کر اس
کی لاش کا حنوط ہو جانا اور پھر دوبارہ لاش کا ملنا اور پھر اس کی لاش کو جدید سائنسی
دور میں دوبارہ محفوظ کیا جانا۔

سب کا اشارہ ایک جانب تھا اور بہت واضح تھا۔

تجھے بعد میں آنے والوں کے لیے عبرت کا نشان بنادوں گا‘‘۔

فرعون کی لاش ایسے محفوظ کر کے دنیا کے سامنے لا کر رکھ دی گئی ہے

کہ انٹرنیٹ
کے ایک کلک پر ، رسائل و جرائد پر ، ٹی وی چینلز پر اور عجائب گھر میں اربوں
انسانوں کی آنکھوں کے سامنے کر یہہ اور پیچی قابل ترس حالت میں موجود ہے۔

عبرت کے لیے ، سوچنے کے لیے کہ عبادت کے لائق اور ہمیشہ رہنے والا وہی ہے

جو سب کا خالق اور رازق ہے۔ ڈاکٹر مورس نے آیات کا ترجمہ سنا تو اسی وقت
پکار اٹھا قرآن سچاھے کلمہ پڑھا اور مسلمان ہو گیا

وڈیو دیکھنے کے لیے لنک پر کلک کریں۔
https://youtu.be/nzB58mN6zMw?si=3k6JQNCbIJXTnpfH

کیا آپ جانتے ہیں دوستوں کہ مچھلی کیوں ذبح نہیں کی جاتی اگر نہیں جانتے تو ائیے جانتے ہیں وہ ہیں۔۔۔۔مرغی ، گائے اور بکری و...
29/01/2024

کیا آپ جانتے ہیں دوستوں کہ مچھلی کیوں ذبح نہیں کی جاتی اگر نہیں جانتے تو ائیے جانتے ہیں وہ ہیں۔۔۔۔

مرغی ، گائے اور بکری وغیرہ کو ہم ذبح کر کے حلال کرتے ہیں،۔

لیکن مچھلی کو کیوں حلال نہیں کرتے۔۔

کیوں کے
مچھلی جب پانی سے باہر آتی ہے تو ویسی ہی مرجاتی ہے ہم اسے ذبح نہیں کرتے تو وہ کیسے حلال رہتی ہے.....

صورتِ مسئولہ میں شریعتِ مطہرہ نے مچھلی کے حلال ہونے کے لیےشرعی ذبح کو شرط نہیں بتایا ہے

، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ:"ہمارے لیے دومردار اور دو خون حلال کیے گیے ہیں، دومردار سے مراد مچھلی اور ٹڈی ہیں

اور دو خون سے مراد جگر اور تلی ہیں"

، اسی طرح دیگر جانوروں کو اس لیے ذبح کیا جاتا ہے کہ ان میں جو دم مسفوح نکل جائے اور مچھلی میں خشکی کے جانورں کی طرح دم مسفوح نہیں ہوتا

، بلکہ اس کے بدن کا اصلی مادہ پانی ہے اور پانی بالطبع پاک ہے، اس لیے ذبح کرنے کاحکم نہیں ہے....

اسلام نے حرام کھانے سے منع کیا ہے صرف حلال کھانے کا حکم دیا اور حلال بھی
جسے صرف اسلامی طریقے سے ذبح کیا گیا ہو...

غیر مسلم حرام گوشت نہ صرف استعمال کرتے ہیں بلکہ مسلمانوں پر اعتراض
بھی کرتے ہیں اور مچھلی کی مثال دیتے ہیں کہ اسے تو آپ لوگ بھی بغیر ذبح کئیے
استعمال کرتے ہو-

اب سائنس نے اس بات کا جواب دیا ہے اور آپ پڑھ کر بے اختیار سبحان اللہ
کہہ اٹھیں گے کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آج سے چودہ سو سال
پہلے ہمیں یہ بتادیا تھا.....

مچھلی کے پانی سے باہر آنے کے بعد اس کا تمام خون راستہ بدل کر اس کے منہ میں
موجود اپنی ایپی گلاٹس میں جمع ہو جاتا ہے اور مچھلی کے گوشت کی صفائی کے دوران
اس اپی گلاٹس کو باہر نکال دیا جاتا ہے تو خون جسم میں موجود ہیں نہیں ہوتااسے
ذبح کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔...

اور یہ بات یاد رہے کہ اسلام ذبح کا حکم صرف خون کو باہر نکالنے کیلئے ہی دیتا ہے۔۔

کیوں کہ خون میں ہی تمام جراثیم موجود ہوتے ہیں ....

اور بات یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ اسلام کے طریقہ ذبح کو بھی سائنس نے آشکار
کر دیا

اور تمام غیر مسلم حیران
رہ گئے کہ وہ کیسا نبی تھا جس نے یہ چیزیں آج سے
چودہ سو سال پہلے جان لیں تھیں......

وہ اس طرح کہ جب جانور پر چھری چلائی جاتی ہے اس کا دل دھڑکتا رہتا ہے اس
کا دماغ سے تعلق ختم نہیں ہوتا اور تب تک دل دھڑکتا ہے جب تک جسم کا تمام
گندہ خون گلے کی رگوں سے باہر نہ نکل جاۓ .....

اور جو دوسر اغیر حلال طریقہ ہے جس میں جانور کو کرنٹ و غیر ہ کا جھٹکا دے کر
مارا جاتا ہے اس میں جانور فور امر جاتا ہے اور دل دھڑ کنا بھی فوراً بند کر دیتا ہے

یعنی کے اسی وقت جسم ساکن ہو جاتا ہے ۔

جس کی وجہ سے گندہ خون گوشت کے اندر ہی رہ جاتا ہے جو انسان کیلئے بہت
نقصان دہ ہے....

جس کو کھانے سے بہت سی موضی بماریاں لاہک ہو سکتی ہیں۔

تو آپ اب خود دیکھیں اور غور کریں اور پھر خدا تعالیٰ کا شکر ادا کریں ۔

کہ ہم مسلمان پیدا ہوۓ
اور اس پر فخر کریں

اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان دیکھیں کہ جو باتیں سائنس
اب بتارہی ہے وہ احکام انہوں نے چودہ سو سال پہلے بتا دیئے تھے۔
تو اخری الزماں پیغمبر مصطفی امت مرسلین پر ایک درود پڑھ لازم لیجئے گا۔

ایسی معلوماتی تاریخی اور اسلامق تحریر یہ وڈیوز دیکھنے کے لیں ۔۔

آپ YouTube چینل کو اور page کو سبسکرائب کر سکتے ہیں ۔

خدا نگہبان ۔

Video dekhne k leye link per click krein 👇
https://youtu.be/_PLO-YuMN-c?si=pky9yb5wCq-_ERRU

The Greatest hero of Hollywood Boxer Muhhamad Ali - The story of the Walk of fame ہالی وڈ کا عاشق رسول۔۔ھالی ووڈ کی تاری...
28/01/2024

The Greatest hero of Hollywood Boxer Muhhamad Ali - The story of the Walk of fame

ہالی وڈ کا عاشق رسول۔۔

ھالی ووڈ کی تاریخ میں ایک بار ایک بہت ہی عجیب واقعہ پیش آیا جو ہمیشہ کے
لیے ہالی ووڈ کا یادگار واقعہ بن گیا....

وہ واقعہ کچھ اس طرح پیش آیا کہ ھالی ووڈ کی
بلیوار ڈسڑک کے اطراف میں واک آف فیم کے نام سے ایک تقریب منعقد کی
جاتی ھے
اس تقریب میں امریکہ کا نام روشن کرنے والے ہیروز کے ناموں
کے ستارے سڑک کے اطراف میں بنے راستے پر زمین پر لگاۓ جاتے ہیں...

ہر
ستارے کے ساتھ ہیرو کا نام لکھا ھوتاھے لوگ وہاں سے گزرتے ہوۓ اپنے
ھیروز کے نام پڑھتے ہیں

اور ان کی خدمات سے آگاہ ہوتے ہیں اور خوشی محسوس
کرتے ہیں
یہ تقریب بہت بڑے اعزاز والی ھوتی ھے .....

پینتالیس سال پہلے کی بات ہے اس سال بھی واک آف فیم کے سلسلے میں امریکہ
کے ہیروز کے نام کے ستارے سڑک پر لگائے جارہے تھے .. اس موقع پر ایک
ھیرو نے اپناستارہ زمین پر لگوانے سے انکار کر دیا.۔۔۔
اس کا کہنا تھا کہ وہ اپنے نام کو
زمین پر لکھا ھوا بر داشت نہیں کر سکتا گر منتظمین کو اس پر اعتراض ھے تو وہ
چاہیں تو اس کا نام میر وز کی لسٹ میں سے نکال سکتے ہیں.....

یہ عجیب و غریب اعتراض تھا پہلے کبھی بھی ایسا نہیں ہوا تھا۔۔۔

ہیروز اس واک آف
فیم میں اپنے نام کے ستارے کو سڑک پر لگانے پر اعتراض نہیں کیا کرتے تھے۔۔۔

بلکہ
وہ تو اپنانام اس فہرست میں شامل ھونے کو ہی اپنی سب سے بڑی خوش نصیبی
سمجھتے تھ۔۔۔۔

جس شخص نے اعتراض کیا تھا وہ اس زمانے میں امریکہ کاسب سے
ٹاپ کلاس ہیرو تھا..۔۔

انتظامیہ نے اس سے پوچھا کہ اسے کیوں اعتراض ھے.
ھیرو نے کہا بات صرف میرے نام کی نہیں ھے ..۔۔

دراصل جس حستی کے نام پر
میں نے اپنا نام رکھا ھے مجھے اس کے نام سے ایسا عشق ھے اور میرے دل میں
اس نام کی ایسی عزت ھے کہ میں برداشت ہی نہیں کر سکتا کہ یہ نام زمین پر لکھا
جاۓ۔۔۔

زمین پر نام لکھنے سے نام کی توہین ھو گی ....

میں اپنے نام اس فہرست سے ھرزار بار خارج کر واسکتا ھوں لیکن اس عظیم نام
کی توہین برداشت نہیں کر سکتا۔۔۔۔

اگر آپ لوگوں نے مجھے اس تقریب میں شامل
رکھنا ھے تو میرے نام کے ستارے کو دیوار پر بلند جگہ پر لگاؤ ۔۔۔..
حیر و کی شرط مان لی
گئی اور یوں تاریخ میں پہلی اور آخری بار کسی ہیر و کے نام کاستارہ واک آف فیم کی
تقریب کے موقع پر دیوار پر کافی بلندی پر لگایا گیا تھا.....

اس عظیم ہیرو کا نام باکسر محمد علی تھا۔۔۔

اور جس نام کی توہین اس کی برداشت سے
باہر تھی وہ نام اس کے آقا محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا تھا۔۔۔.

نام محمد سے اس
کے عشق کا یہ عالم عجیب تھا.. یہ اس کا قصور نہیں تھانہ ہی یہ جذ بہ اس کے اندر
خود بخود پیدا ھوا تھا بلکہ یہ بہت بڑا معجزہ ھے کہ جس نے بھی مدینے کے تاجدار
صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی غلامی کا پٹا گلے میں ڈال لیا اس کے لیے یہ نام اس کی
زندگی کا سب سے مقدس نام بن جاتا ھے

وہ ایک اور ہی دنیا کا باسی بن جاتا ہے
جہاں محبوب کے عشق میں ، محبوب کی شان کی خاطر جان دی بھی جاسکتی ھے اور
کسی گستاخ کی جان لی بھی جاسکتی ھے.....

اسی طرح ایک واقعہ اور بھی پیش آیا جس میں اس زمانے کے ایک اور ہیوی ویٹ
چیمپئن ارنی ٹیرل محمد علی کو نفرت اور چڑانے کے لیے محمد علی کی بجاۓ اس کے
اسلام قبول کرنے سے پہلے والے نام کیشیئس کلے کے نام سے پکارا کر تا تھا۔۔۔۔

لیکن محمد علی اسے بار بار روکتا. جبکہ وہ اسلام سے تعصب کی وجہ سے جان بوجھ کر
ایسا کر تا تھا اس بات پر کئی بار محمد علی نے اسے رنگ سے باھر بھی بہت زیاد ہ مارا تھا۔۔۔

لیکن لوگ چھڑادیا کرتے تھے محمد علی کو اس بات کی بہت تکلیف ھوتی تھی لیکن
وہ بڑی مشکل سے برداشت کرتارہا۔۔۔.

وہ موقع کی تلاش میں تھا کہ اگر کبھی ارنی
ٹیرل سے مقابلہ ھواتو وہ اسے اچھی طرح سبق سکھاۓ گا.....

اور پھر بالآخر ایک بار ایسا موقع مل ہی گیا۔۔۔۔

رنگ کے اندر مقابلہ شروع ھوا. محمد
علی پہلی بار مقابلہ شروع ہوتے ہی مخالف پر کسی و حشی کی طرح ٹوٹ پڑا۔۔۔۔

میں اس
کے مزاج کے خلاف تھا. وہ مقابلے کو دلچسپ بنانے کے سفر سے واقف تھا۔۔۔

وہ اپنے مخالف کھلاڑی کو پہلے خوب تھکایا کرتا تھا۔ کسی ماھر رقاص کی طرح اس
کے پاؤں ناچنے کے انداز میں بجلی کی طرح حرکت کرتے تھے اور وہ ایک بھی
مکہ مارے بغیر کافی دیر تک رنگ میں ادھر سے ادھر انچلتارہتا تھا..۔۔

لیکن اس
مقابلے میں ایسا نہیں تھا۔ وہ ٹیرل ارنی کو بری طرح پیٹ رہا تھا .. اس دوران
وہ کے برساتے ہوۓ ایک ہی سوال کر تاجارہاتھا.۔۔۔۔

بتاؤ میر انام کیا ھے. میرا
نام کیا ھے ، مجھے بتاؤ میرا کیا نام ہے . ساتھ ہی ساتھ وہ مکوں کی رفتار بڑھاتا چلا
گیا۔۔۔۔

مخالف باکسر کو پتہ چل گیا کہ آج محمد علی کے ھاتھوں زندہ بچناناممکن ھے

وہ دیوانوں کی طرح چلا چلا کر اس سے اپنا نام پوچھ رہا تھا اور پھر ارنی ٹیرل کی
برداشت جواب دے گئی . تب زندگی میں پہلی بار رنگ میں بد ترین پٹائی کے نتیجے
میں اس کے منہ سے محمد علی محمد علی نام اداھو نے لگا....

بعد میں لوگوں نے محمد علی سے پوچھا کہ وہ اس نام کے لیے کیوں جذباتی ھے .
اس نام کے معانی کیا ھیں ۔ محمد علی نے نہایت ہی میٹھے اور محبت بھرے انداز میں
بتایا محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے معانی ہیں وہ جس کی تعریف کی گئی ھو اور علی
کے معانی بلند و بالا ھے....

جس نے عشق محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا نام پی لیا پھر وہ چاھے عرب کا ھو نجم کا
ھو گوراھو کالا ھو پاکستانی عوامر یکی ہو چاہے اس کی کوئی بھی زبان کو وہ پوری دنیا
میں موجودھر مسلمان کے ساتھ ایک تسبیح میں پر دیا جاتا ھے .. پھر وہ مرتے دم
تک اس تسبیح سے خود کو جدا نہیں کر سکتا . .
( درود شریف پڑھ لیں اور کمنٹ میں لکھ دیں )

ولید قمر ۔
یوٹیوب چینل آرا ٹی وی۔
مکمل ویڈیو دیکھنے کے لیے لنک پر کلک کریں ۔

https://youtu.be/hOHPBgdta3k?si=W2QaoQZCZu2bzKRE









Address

Vehari
61100

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ara tv posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share