16/08/2026
انگلیاں بول رہی تھیں مری رفتار کا دکھ
دائرہ خاک سمجھ سکتا ہے پرکار کا دکھ
اس کے اندر کی بغاوت مری آنکھوں نے پڑھی
ایک غدار سمجھ سکتا تھا غدار کا دکھ
تم کہ اجداد کی عزت کے امیں ہو ہی نہیں
تم کو معلوم کہاں ہے مری دستار کا دکھ
اک طرف بیٹی کی شادی کی پریشانی ہے
اس پہ پھر فصل پہ پڑتی ہوئی بوچھار کا دکھ
اس مہارت سے اداکاری جتائی میں نے
آئینہ جان نہ پایا ترے بیمار کا دکھ
میں نے اس شخص کی خاطر تھا سنوارا خود کو
اب تلک لپٹا ہے پوشاک سے معیار کا دکھ
مجھ کو آرام نہیں تیری کمی چاہیے تھی
یوں میسر سے سمجھ آیا تھا درکار کا دکھ
ہجرتیں چھین لیا کرتی ہیں پہناوے نئے
اک مسافر ہی سمجھ سکتا ہے تہوار کا دکھ
مریم صفاء