11/12/2025
غزوۂ اُحد میں حضور رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زخمی ہو گئے، خود (لوہے کی ٹوپی جو دورانِ جنگ پہنی جاتی تھی) کی کڑیوں نے رخسار مبارک زخمی کر دیئے۔
یہ دیکھ کر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ دوڑتے ہوئے خدمتِ اقدس میں پہنچے حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر رخسارِ اقدس سے خود کی کڑیوں کو نکالا۔
پہلی کڑی نکالنے لگے تو زور سے پیچھے گر پڑے اور ان کا ایک دانت ٹوٹ گیا لیکن شمع رسالت کے پروانے نے اپنے زخمی ہونے کی پروا نہ کی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رخسارِ اقدس سے خود کی دوسری کڑی کو بھی نکال لیا لیکن ایسا کرتے ہوئے ایک بار پھر گر گئے اور دوسرا دانت بھی ٹوٹ گیا۔
وہ زبانِ حال سے گویا ہوئے :
یا رسول اللّه صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم یہ تو محض دو دانت ہیں آپ کے قدموں پر گر کر جان بھی چلی جائے تو میرے لئے اس سے بڑا اعزاز اور کیا ہوگا۔
(ابن هشام، السيرة النبويه، 4 : 29)
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک دن پروگرام بنایا کہ حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کے گھر جا کر ان سے ملاقات کریں۔
اس وقت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ مسلمانوں کے وزیر (خزانہ) مال تھے ۔ انہوں نے کہا امیر المومنین مجھے یہ بات پسند نہیں کہ آپ کی آنکھوں کے پیمانے چھلک پڑیں۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہہ نے اصرار کرتے ہوئے کہا
"میں تم سے تمہارے گھر میں ضرور ملاقات کروں گا"
جب سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کے گھر داخل ہوئے تو دیکھا کہ ان کے پاس ایک جبہ، بکری کی ایک کھال، ایک برتن کھانے پینے کےلئے اور ایک برتن وضو کرنے کےلئے تھا۔ اس کے علاوہ کچھ نہ تھا۔ انہیں ایسا گھر دکھائی دیا جیسے وہ غریب ترین مسلمان کا گھر ہو۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں۔
حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا
"امیر المومنین میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ میں آپ کی آنکھوں سے بہنے والی آنسووں کی برکھا نہیں دیکھنا چاہتا"
اللہ تعالٰی ان طیب و طاہر نفوس قدسیہ پر رحمت و رضوان کی بارشیں نازل فرمائے۔
بےشک وہ اقوام عالم کےلئے عظمتوں کے جگمگاتے ہوئے مینار تھے۔💞
من نفحات الخلود
محدث کبیر علامہ سید محمد صالح فرفور گیلانی (رحمتہ اللہ علیہ)
زندہ جاوید خوشبوئیں
شرف ملت علامہ محمد عبد الحکیم شرف قادری (رحمتہ اللہ علیہ)
صفحہ 187-188