07/06/2026
عوامی مسائل پر آواز اٹھانا کسی ذاتی مفاد کا نہیں بلکہ خدمتِ خلق کا تقاضا ہوتا ہے۔ چند روز قبل اگر سید پیر سلیم شاہ نے عوامی مشکلات اور مسائل پر تنقید کی تو اس کا مقصد بھی عوامی مفاد کا تحفظ تھا، اور آج اگر وہ ٹانک میں جاری بدترین لوڈشیڈنگ کے مسئلے کے حل کے لیے متعلقہ حکام اور ذمہ دار شخصیات سے ملاقاتیں کر رہے ہیں تو یہ بھی عوام کی بہتری اور ریلیف کے لیے ایک مثبت کوشش ہے۔
ایک حقیقی عوامی نمائندہ یا سماجی کارکن یہ نہیں دیکھتا کہ سامنے اس کا دوست کھڑا ہے یا سیاسی مخالف، بلکہ وہ صرف یہ دیکھتا ہے کہ اس کے اقدامات سے عوام کو کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ عوامی خدمت کا جذبہ ذاتی پسند و ناپسند سے بالاتر ہوتا ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں بعض لوگ خود تو عوامی مسائل کے حل کے لیے عملی میدان میں نظر نہیں آتے، لیکن جو افراد اپنے ذاتی وقت، وسائل اور توانائیاں عوام کے لیے وقف کرتے ہیں، انہی کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر بیٹھ کر تبصرے کرنا آسان ہے، مگر عوام کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنا، متعلقہ اداروں کے دروازے کھٹکھٹانا اور مسلسل جدوجہد کرنا ایک مشکل اور صبر آزما عمل ہے۔
ٹانک کے عوام بجلی سمیت دیگر بنیادی مسائل کے حل کے منتظر ہیں۔ ایسے میں ضروری ہے کہ ہر مثبت کوشش کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ اختلافِ رائے ہر کسی کا حق ہے، لیکن تنقید برائے تنقید کے بجائے تعمیری سوچ کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
آئیں ان افراد کی حوصلہ افزائی کریں جو کسی ذاتی مفاد کے بغیر عوامی مسائل کے حل کے لیے عملی کردار ادا کر رہے ہیں، کیونکہ مسائل صرف باتوں سے نہیں بلکہ مسلسل جدوجہد اور اجتماعی کوششوں سے حل ہوتے ہیں۔
**ٹانک ایکشن کمیٹی**