Muhammad Taimur Mehsud Official

Muhammad Taimur Mehsud Official Talibjan
(Student)
طالب العلم

الحمدللہ حضرت اقدس مفتی سید مختار الدین شاہ صاحب نور اللہ مرقدہ کی محنتوں کا محور قرآن کریم کی تفسیر *البرھان فی توضیح آ...
12/02/2026

الحمدللہ حضرت اقدس مفتی سید مختار الدین شاہ صاحب نور اللہ مرقدہ کی محنتوں کا محور قرآن کریم کی تفسیر *البرھان فی توضیح آیات الرحمن* کی آٹھویں جلد چھپ کر آگئی ہے۔
✅در الایمان و التقوی کا آفیشل پیج فالو کریں۔👇
Darul-Eman Wal-Taqwa

سکرگاہی ایک نظر میں۔یہ سفیدریش جوان کون ہیں جو آج کل شیخ الاسلام کے آس پاس نظر آتے ہیں،بہت ساروں کوتشویش ہے کہ وہ کیسے ا...
02/02/2026

سکرگاہی ایک نظر میں۔

یہ سفیدریش جوان کون ہیں جو آج کل شیخ الاسلام کے آس پاس نظر آتے ہیں،بہت ساروں کوتشویش ہے کہ وہ کیسے اچانک اوپر سے آکرشیخ صاحب سے جڑگئے،آخر وہ کون ہیں کیاہیں؟
توعرض یہ ہےکہ ایسا نہیں ہے، ابراہیم بھائی پرانا ساتھی ہے اور وہ کوئی پُر اسرار یا ان جاناشخص نہیں،جانی پہچانی نسبتوں کا حامل ہے۔
مولانا عبدالبرسکرگاہی ستر اسی کی دہائی میں کراچی کے دینی علمی حلقوں کا ایک معتبر حوالہ رہاہے،جامعہ فاروقیہ
کی أغوش میں پلے اور وہاں نمایاں اور مقبول ترین استاذ رہے۔
بچے ان کے ماشاء اللہ درجن کے قریب ہیں
ابراہیم سکرگاہی ان کاتیسرے نمبر کا بیٹاہے،مولانا عبدالبر صاحب کی 1995 میں ہمارے دورے کےسال الحمرا سوسائٹی میں الحمرا مسجد کےپاس شہادت ہوئی وہ اس مسجد میں ایک عرصے سےامامت و خطابت اور دینی خدمات سے وابستہ تھے۔
بلا کے ادیب وخطیب اور خوش نویس تھے۔
اس وقت ابراہیم بھائی پندرہ سال کابچہ تھااورکلاس ایٹ میں پڑھتاتھا
مولانا عبدالبر شہید ہمارے استاذ مولنا عبدالرزاق کے خالہ زاد تھے اور انہوں نےہی استاذمحترم کی تعمیر وتربیت کی تھی تو استاذ جی نے اپنے محسن کی شہادت کے بعد ان کے فرزندان خصوصا ابراہیم کی تعلیم وتعمیر اپنےذمےلی اور اس پر خاص توجہ دی اور پھر ابراہیم کو اپنی صاحب زادی دے کر ان پر مزید عنایت ورعایت مرکوز کردی۔
ابراہیم نے جامعہ فاروقیہ میں پڑھا، 2003 میں سند فراغت حاصل کی
اور اسی وقت سے وہ تحریر وتدریس اور وفاق المدارس کی خدمت سے منسلک ہیں۔
بلکہ یوں کہئے کہ طالب علمی سے ہی ان کا اس نوعیت کے کاموں کاذوق بھی تھا اور اس سے کافی تعلق بھی۔
ابراہیم سکرگاہی نے ہمیشہ بلند سوچا اور خاص کردار کی تلاش میں رہا۔
عملی زندگی میں آتے ہی ان کے پاس ایک نیو خوب صورت گاڑی آئی جس میں وہ اپنے بزرگوں استاذ عبدالرزاق،مفتی کفایت اللہ اور ہم دوستوں کو گھماتے تھے،ملتان جب وفاق میں مارکنگ کوجاتے تھے تو بارہا ان کی گاڑی میں ان کی ڈرائیونگ انجوائے کی۔
انہی کی ترتیبات میں بائی ائیر بھی اساتذہ کےہم راہ جانا ہوا،غرض یہ کہ وہ ایک ترقی پسند سوچ اور ذوق لطیف کامالک انسان ہے۔
وفاق میں پرچے جانچنے کےعلاوہ ممتحن اعلی بھی رہے ہیں
اپنی صلاحیتوں کاپہلےپہل اظہار انہوں نے وفاق المدارس کے نتائج کمپیوٹرائز مرتب کرنے کی صورت کیا
اور کئی برس اخبارات میں انہی کے مرتب کردہ نتائج شائع ہوتے رہے۔ اور اس کامعاوضہ تو نہیں انعام وہ وصولتے رہے۔
اس کے علاوہ وہ وفاق کے میڈیا کوأرڈینیٹر بھی رہے ہیں
اور جب وفاق المدارس کے نظم میں نقب لگانے کی شریروں نے کوشش کی تو ابراہیم بھائی نے وہ تمام سازشی عناصر ڈھونڈ نکالے اور پورے نیٹ ورک کوتہس نہس کیا
اسی پر حضرت شیخ سلیم اللہ خان کی شاباش لی اور ان کے اعتماد اور محبت سمیٹنے میں کامیاب ہوئے
پھر حضرت کو انہوں نے اسفار میں،میٹنگز میں اور دیگر سرکاری اور سفارتی امور میں مفت خدمت کی پیش کش کی جسے بصد مسرت قبول کیاگیا۔
ابراہیم بھائی نے برسوں سے خود کو اس کار گراں کےلئے وقف کیا،شیخ صاحب کے بعد ڈاکٹر صاحب اور اب شیخ الاسلام کی صدارت میں بھی وہ خدمت میں پیش پیش رہے،یقینا بہت سارے مقربین کو وہ کھٹکتے بھی ہوں گے
مگر ایک تو ان جیسی پھرتی ،بےغرضی،خود سپردگی کےساتھ خدمت کسی اور کے بس میں نہیں اور دوم ان کی دقیقہ سنجی،معاملہ فہمی اور باریک بینی کسی اور کے حصے میں نہیں آئی۔
لہذا مشایخ کے آس پاس رہنا اور تسلسل کےساتھ ان کا فعال کردار ادا کرنا کوئی اچنبھے کی بات نہیں بلکہ بڑے باپ کے ذہین بیٹے کا ٹیلنٹ ہے جس کی تحسین ہی ہونی چاہئے۔
تعجب کی بات یہ کہ اس کل وقتی اور ہمہ جہت خدمت کےساتھ ابراہیم بھائی اپنی اور بچوں کی بہتری کےلئے بھی سرگرم رہے،ان کے بچے دارالعلوم سے حفظ اور حرا فاونڈیشن سے اعلی پوزیشنوں کےساتھ تعلیم حاصل کررہے ہیں۔
دوستوں کی بھلے کابھی ہر موقعہ پرسوچا اور اس میں بھر پور حصہ ملایا۔
وہ کام کا انسان ہے نام اور أرائش اورتکلفات کی بجائے سیدھے سادے رہے،ایک قمیص شلوار اور سفید جالی ٹوپی اور منہ میں پان ان کی پہچان ہے۔پان کی عادت تو شاید ماموں مولانا انور راہی سے ورثے میں ملی۔
ابراہیم بھائی ہی کےتوسط سے ہماری غازی عبدالرشید برادران کےساتھ تفصیلی ملاقات ہوئی جس کےچند روز بعد غازی صاحب کی شہادت ہوئی۔
جہاں سب کی نظریں ان پر ہوتی ہے ان کی توجہ اپنےمقصود بزرگ پر ہوتی ہے،قائد جمعیت کے بھی وہ خاصے قریب ہیں۔قائد وفاق کے بھی اور دیگر اکابر کے بھی
خادم اکابر ہونے کےساتھ وہ علم دین کے بھی خادم ہیں اور حدیث کے استاذ ہیں۔
تنہائیوں میں ان کاپسندیدہ معمول ائمہ حرمین کی اورمصری قراء کی تلاوتیں سنناہے،اسی لئے انہوں نے شریم کی محبت میں بیٹے کانام سعود رکھاہے۔
خدا سلامت رکھے۔

عزیزعظیمی۔
👇👇👇
Muhammad Taimur Mehsud Official

مطالعہ میں معاون پانچ امور: ۱- مطالعہ کا وقت متعین کیجیے۔ ۲- مطالعہ کے وقت میں سوشل ویب سائٹس سے دور رہیے۔ ۳- مطالعہ کے ...
24/01/2026

مطالعہ میں معاون پانچ امور:
۱- مطالعہ کا وقت متعین کیجیے۔
۲- مطالعہ کے وقت میں سوشل ویب سائٹس سے دور رہیے۔
۳- مطالعہ کے شوقین دوست بنائیے۔
۴- روزانہ مطالعہ کردہ صفحات نوٹ کیجیے۔
۵- دورانِ سفر، مطالعہ کی عادت ڈالیے۔
👇👇👇
Muhammad Taimur Mehsud Official

متى يجوزُ ضربُ إمامِ المسجدِ؟قالَ المتوَكِّلُ لِعُبادةَ:بلغَني أنَّكَ ضربتَ إمامَ مَسجدٍ، وإنْ لمْ تأتِ بعذرٍ أدّبتُكَ.ق...
21/01/2026

متى يجوزُ ضربُ إمامِ المسجدِ؟
قالَ المتوَكِّلُ لِعُبادةَ:
بلغَني أنَّكَ ضربتَ إمامَ مَسجدٍ، وإنْ لمْ تأتِ بعذرٍ أدّبتُكَ.
قالَ: يا أميرَ المؤمنينَ، مررتُ بمسجدٍ، فأقامَ المؤذِّنُ، ودخَلنا في الصَّلاةِ، فابتدأَ الإمامُ فقرأَ الفاتحةَ، وافتتَحَ سورةَ البقرةِ،
فقلتُ: لعلَّهُ يريدُ أنْ يقرأَ آياتٍ من هذهِ السُّورةِ، فانتهَى إلى آخرِها في الركعةِ الأولىٰ!
ثمَّ قامَ إلى الثَّانيةِ، فلمْ أشُكَّ في أنَّهُ يقرأُ معَ الفاتحةِ سورةَ الإخلاصِ، فافتتَحَ سورةَ آلِ عمرانَ حتى أتمَّها!
ثمَّ أقبلَ بوجهِهِ على النَّاسِ وقدْ كادتِ الشَّمسُ تَطلُعُ.
فقالَ: أعيدُوا صلاتَكم -رحمكمُ اللَّهُ- فإنِّي لمْ أكنْ على طهارةٍ،
فقمتُ إليهِ وصفعتُهُ.
فضحكَ المتوكِّلُ مِنْ ذلكَ 😁

👇👇👇🇵Muhammad Taimur Mehsud Official Official

علماء کرام اور طلبۂ عظام کے لیے خوشخبری!دینی مدارس کے فضلاء اور زیر تعلیم طلبہ کے لیے22 روزہ خصوصی دورۂ انگلش کا شاندار...
15/01/2026

علماء کرام اور طلبۂ عظام کے لیے خوشخبری!

دینی مدارس کے فضلاء اور زیر تعلیم طلبہ کے لیے
22 روزہ خصوصی دورۂ انگلش کا شاندار اہتمام!
جسمیں
انگریزی زبان کے چار بنیادی اسکلز
1..Reading
2.. Writing
3.. Speaking
4..Listening
خصوصی توجہ کے ساتھ پڑھائے جائیں گے ان شاءاللہ
تاکہ علماء اور طلبہ
دعوت تدریس تحقیق اور عصری تقاضوں میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔
آغاز! 26 جنوری 2026 بروز پیر
اختتام۔۔! 16 فروری 2026

بمقام۔۔۔۔۔ جامعہ صدیقیہ جال روڈ لنڈہ اڈہ تحصیل پروا ضلع ڈیرہ اسماعیل خان

زیر نگرانی ۔ استاذ العلماء حضرت مولانا محمد جمیل قریشی صاحب دامت برکاتہم

نوٹ۔۔۔۔۔! نشستیں محدود ہیں
لہذا بروقت رابطہ کرکے اس قیمتی موقع سے فائدہ اٹھائیں۔
رابطہ نمبر 03469343601
03433852954
Muhammad Taimur Mehsud Official

ضلع ٹانک اور آس پاس کے علاقوں سے تعلق رکھنے والے طلباء کیلئے بہترین موقعہدورة اللغة العربية 👇👇👇🔻🇵🇸Muhammad Taimur Mehsud...
15/01/2026

ضلع ٹانک اور آس پاس کے علاقوں سے تعلق رکھنے والے طلباء کیلئے بہترین موقعہ
دورة اللغة العربية
👇👇👇🔻🇵🇸
Muhammad Taimur Mehsud Official
#ٹانک
#گومل


District Tank

کھانے پینے کے آداب  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔👇👇👇🔻🔻🇵🇸🇵🇸Muhammad Taimur Mehsud Official
15/01/2026

کھانے پینے کے آداب ۔۔۔۔
۔
۔
۔
۔
۔
👇👇👇🔻🔻🇵🇸🇵🇸
Muhammad Taimur Mehsud Official

وقت کی قدر وقت نکل جانے کے بعد ہوتی ہے ابھی وقت ہے اس کی قدر کر لیجیےMuhammad Taimur Mehsud Official                    ...
01/01/2026

وقت کی قدر وقت نکل جانے کے بعد ہوتی ہے ابھی وقت ہے اس کی قدر کر لیجیے
Muhammad Taimur Mehsud Official
#2026

31/12/2025

ابو عبیدہ کیسے شہید ہوئے؟

ہفتہ کی شام، 30 اگست 2025ء کو، سرزمین قدس میں غداری کی بدترین مثال سامنے آئی۔ ایک غدار نے طویل عرصے بعد اپنے اہلِ خانہ سے ملاقات کے دوران نقاب پوش مجاہد کی موجودگی کی اطلاع اسرائیلی خفیہ ادارے شاباک کو دے دی۔
شاباک نے اس اطلاع کو غنیمت اور ایک نایاب موقع سمجھا، کیونکہ اس سے پہلے اس مجاہد کو شہید کرنے کی 14 کوششیں ناکام ہو چکی تھیں۔ فوراً فوجی قیادت کا ہنگامی اجلاس ہوا اور فیصلہ کیا گیا کہ ایسے خاص طیارے استعمال کیے جائیں جو صرف مزاحمتی قیادت کو نشانہ بنانے کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔
اگرچہ انہیں معلوم تھا کہ حذیفہ کحلوت ایک مخصوص فلیٹ میں موجود ہے، پھر بھی پورے رہائشی عمارت کو بمباری کا نشانہ بنایا گیا، تاکہ ہدف کے مارے جانے کی مکمل یقین دہانی ہو جائے اور ساتھ ہی پورے خاندان سے انتقام لیا جا سکے۔
اس حملے میں بین الاقوامی طور پر ممنوعہ آتش گیر اور حرارتی بم استعمال کیے گئے، جو پہلے ہوا میں آتش گیر ایندھن کا بادل چھوڑتے ہیں، پھر اچانک آگ بھڑک اٹھتی ہے، جس سے شدید حرارت اور مہلک دباؤ پیدا ہوتا ہے۔ یہ آگ انسانی جسموں کو جلا کر ختم کر دیتی ہے، آکسیجن کو کھینچ لیتی ہے، اور نہ انسان بچتا ہے نہ عمارت۔
یوں ہمارے ہیرو شہید ہو گئے، ان کی اہلیہ شہید ہوئیں اور ان کے معصوم بچے: لیان، منّة اللہ اور یمان بھی شہادت پا گئے۔
ان کا پاکیزہ جسم مکمل طور پر مٹ گیا، گویا دشمن ان کا نشان تک ختم کرنا چاہتا تھا۔
ان کے ساتھ ان کے خاندان “الکحلوت” کے 40 افراد بھی شہید ہوئے۔ کیونکہ پورا فلیٹ مکمل طور پر تباہ ہوگیا تھا۔
وہ پیٹھ پھیر کر نہیں بلکہ سینہ تان کر شہید ہوئے۔ ان کی شہادت سے پہلے ایک وعدہ اور بشارت بھی تھی۔
یہ خواب انہوں نے اپنے داماد ڈاکٹر منذر العامودی کو سنایا تھا، جس میں انہیں رسول اللہ ﷺ کی زیارت کا شرف حاصل ہوا، آپ فرما رہے تھے:
“تم آج شہید ہو جاؤ گے۔”
چنانچہ اس دن انہوں نے غسل کیا، خود کو سنوارا، جیسے کسی دلہن سے ملنے جا رہے ہوں۔
انہوں نے اپنی ذمہ داری پوری کرنے کے بعد شہادت پائی، اپنے دین اور وطن کا دفاع اپنے خون سے کیا۔ پوری امت نے ان پر گریہ کیا، مساجد، محرابیں اور میدانِ جنگ ان کے غم میں ڈوب گئے۔
ہم یہ نہیں سمجھتے کہ شہداء مر جاتے ہیں، وہ تو رخصت ہو کر ہم پر گواہ بن جاتے ہیں۔
اللہ ہمارے ہیرو حذیفہ کی شہادت قبول فرمائے۔
(ضیاء چترالی)
Muhammad Taimur Mehsud Official

31/12/2025

بعض النصائح..ابو..
Muhammad Taimur Mehsud Official

Address

Wana

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Muhammad Taimur Mehsud Official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Muhammad Taimur Mehsud Official:

Share