Hum sab ka Pakistan

Hum sab ka Pakistan Follow and like My page everyone 💓🌹🌹🌷💓💓🌷🌹

Again
24/01/2026

Again

09/01/2026

پاکستان کےپاس جے یف 17 کے 12.5 ارب ڈالرکےآرڈرہیں یعنی دفاع اب معیشت بھی سنوار رہا ہے

08/01/2026

دعائے قنوت ۔
اللّٰهُمَّ اهْدِنَا فِيمَنْ هَدَيْتَ،
وَعَافِنَا فِيمَنْ عَافَيْتَ،
وَتَوَلَّنَا فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ،
وَبَارِكْ لَنَا فِيمَا أَعْطَيْتَ،
وَقِنَا شَرَّ مَا قَضَيْتَ،
فَإِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ،
إِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ،
وَلَا يَعِزُّ مَنْ عَادَيْتَ،
تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ۔
ترجمہ!
اے اللہ!
ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما جنہیں تو نے ہدایت دی،
اور ہمیں ان لوگوں میں عافیت عطا فرما جنہیں تو نے عافیت دی،
اور ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما جنہیں تو نے اپنا دوست بنایا،
اور جو کچھ تو نے ہمیں عطا فرمایا ہے اس میں برکت دے،
اور ہمیں اس فیصلے کے شر سے بچا جو تو نے فرمایا،
بے شک تو ہی فیصلہ کرتا ہے اور تیرے خلاف کوئی فیصلہ نہیں ہو سکتا،
جسے تو دوست بنا لے وہ کبھی ذلیل نہیں ہوتا،
اور جسے تو دشمن بنا لے وہ کبھی عزت نہیں پاتا،
اے ہمارے رب! تو بابرکت ہے اور سب سے بلند ہے۔

ریس کانفرنس کے بعد تیراہ ویلی میں سیکیورٹی آپریشن کے آغاز نے علاقے کی صورتحال کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق ممک...
08/01/2026

ریس کانفرنس کے بعد تیراہ ویلی میں سیکیورٹی آپریشن کے آغاز نے علاقے کی صورتحال کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق ممکنہ خطرات اور سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر مختلف شہروں اور دیہات کو خالی کروایا گیا تاکہ کسی بھی جانی نقصان سے بچا جا سکے۔ مقامی آبادی کو عارضی طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، جس کے باعث ہزاروں خاندانوں کی روزمرہ زندگی شدید متاثر ہوئی ہے۔

آپریشن کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے، جبکہ داخلی و خارجی راستوں پر ناکے لگا دیے گئے ہیں۔ علاقے میں آمد و رفت محدود ہونے سے تجارتی سرگرمیاں تقریباً معطل ہو چکی ہیں، بازار بند ہیں اور تعلیمی ادارے بھی متاثر ہوئے ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اچانک انخلا اور سیکیورٹی اقدامات نے انہیں شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔

عوامی حلقوں میں یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا ایسے آپریشنز سے دیرپا امن قائم ہو سکے گا یا نہیں۔ ماضی کے تجربات کی روشنی میں لوگ شفاف حکمتِ عملی اور واضح اہداف کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ بار بار نقل مکانی اور عدم استحکام سے بچا جا سکے۔ تیراہ ویلی میں جاری آپریشن نہ صرف سیکیورٹی بلکہ انسانی اور معاشرتی پہلوؤں کے حوالے سے بھی ایک اہم چیلنج بن چکا ہے۔

08/01/2026

عدالتی نظام پر سوالیہ نشان ؟

سز۔ائے موت ختم ہو گئی ، 17 سال کاٹ لیے ،8 رہ گئے ، وہ بھی گزر جائیں گے ، میں خوش اور مطمئن ہوں کہ میں نے غیرت دکھائی ۔۔۔۔
کوٹ لکھپت جیل میں 17 سال سے بند خاتون جس نے عدالت میں اپنے بھائی کے قا۔تل کو گولیوں سے بھون ڈالا تھا ، قید میں رہ کر بھی مطمئن ۔۔۔۔ بس کبھی کبھی گھر یاد آجاتا ہے جہاں میری شادی کی باتیں ہو رہی تھیں۔۔۔۔۔۔میرے بھائیوں کو ق۔ت۔ل کیا گیا تو انصاف کے لیے جگہ جگہ مارے پھرے ، ہر دروازہ کھٹکھٹایا لیکن انصاف یہاں صاف پیسے اور طاقت والوں کو ملتا ہے ، بس پھر سوچ لیا کمزور اور مظلوم بن کر نہیں رہنا چنانچہ جس روز بھائی کے قا۔تل کی پیشی تھی میں بھی پہنچ گئی اور اسے جج کے سامنے فایئر ما۔ر کے ڈھیر کردیا ، پتہ نہیں میں نے ٹھیک کیا یا غلط ، پتہ نہیں قانون کیا کہتا ہے اور انصاف کے تقاضے کیا کہتے ہیں ، میرا دل اور دماغ کہتا ہے میں نے بالکل ٹھیک کیا ۔۔۔۔ جیل تو اب گھر لگتا ہے مجھے یہاں کوئی ٹینشن نہیں لگتا ہے یہیں کھیل کود کر جوان اور اب بوڑھی ہو رہی ہوں ، 18 سال کی تھی جب یہاں آئی اب 35 سال کی ہوں ، کوٹ لکھپت جیل لاہور میں عمر قید کی مجرم ایک خاتون کی باتیں

07/01/2026

مگرمچھ آدمی کو کھا گیا😢😢

07/01/2026

سو جاؤ عزیزو کہ فصیلوں پہ ہر اک سمت ہم لوگ ابھی زندہ و بیدار کھڑے ہیں 🇵🇰

07/01/2026

Tum se Tum tak ki next episode Kon Kon dekhna chahata ha ???

’میں پاک فوج میں کیپٹن تھا۔ 26 نومبر 2024 کو مجھے عوام پر سیدھا فائر کرنے کا حکم ملا تھا۔ میں نے بطور کمپنی کمانڈر یہ حک...
07/01/2026

’میں پاک فوج میں کیپٹن تھا۔ 26 نومبر 2024 کو مجھے عوام پر سیدھا فائر کرنے کا حکم ملا تھا۔ میں نے بطور کمپنی کمانڈر یہ حکم ماننے سے انکار کیا جس کی وجہ سے مجھے پولیس نے گرفتار کر کے غداری کے مقدمات درج کیے‘

خود کو ' کیپٹن عمران علی ' کہنے والے شخص نے افغانستان انٹرنیشنل نامی پلیٹ فارم پر رحمان بونیری نامی ایکٹیوسٹ کو دیے گئے انٹرویو میں نہ صرف یہ دعویٰ کیا کہ وہ پاک فوج میں کیپٹن تھا بلکہ یہ بھی کہا کہ اسے 26 نومبر 2024 کو عوام پر فائرنگ کا حکم دیا گیا جسے اس نے ماننے سے انکار کیا۔ اسی انکار کے نتیجے میں اس کے مطابق اسے پولیس نے گرفتار کر کے غداری کے مقدمات میں نامزد کیا۔

اسی انٹرویو میں مبینہ کیپٹن عمران علی نے کہا کہ 'پوری دنیا جانتی ہے کہ عمران خان ایک سچا لیڈر ہے۔ وہ اس وقت امت مسلمہ کا واحد لیڈر ہے' اپنے اس دعوے کو تقویت دینے کے لیے اس نے یہ بھی کہا کہ 26 نومبر کو اس نے باوردی ہو کر پاکستان تحریک انصاف کا جھنڈا لہرایا۔

لیکن جب اس بیان اور دعوؤں کو زمینی حقائق اور دستیاب ریکارڈ کے ساتھ پرکھا تو بالکل ہی مختلف تصویر سامنے آئی۔ دراصل حقیقت یہ ہے کہ یہ شخص 26 نومبر 2024 کو نہیں بلکہ دو ماہ قبل یعنی 16 ستمبر 2024 کو ہی گرفتار ہو چکا تھا۔ یہ گرفتاری ضلع شانگلہ کی پولیس عمل میں لائی تھی۔ شانگلہ پولیس کے مطابق ایک منظم نوسربازی، جعلی فوجی شناخت اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے کیس میں اسے گرفتار کیا گیا تھا۔ یہ بیان ڈی پی او شانگلہ کے پیج پر موجود ہے جس کا لنک پن کمینٹ میں فراہم کر رہا ہوں۔ وہاں آپ مقامی لوگوں کے تبصرے بھی پڑھیے گا۔

شانگلہ پولیس کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق ایک گاڑی از قسم ریوو، رجسٹریشن نمبر KW-8887 (سندھ)، سوات سے انتہائی تیز رفتاری سے آ رہی تھی۔ یہ گاڑی شانگلہ ٹاپ چیک پوسٹ پر بغیر رکے آگے نکل گئی جس پر پولیس نے اس کا تعاقب کیا اور بمقام چھتری موڑ اسے قابو میں لے لیا۔

گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھے شخص نے خود کو پاک آرمی کا 'میجر عمران' ظاہر کیا۔ گاڑی کے ڈالہ میں موجود افراد یونیفارم میں ملبوس تھے اور اسلحہ بھی موجود تھا جس پر پولیس کو شک ہوا اور تفصیلی تلاشی لی گئی۔ فرنٹ سیٹ پر بیٹھے عمران نے پہلے خود کو میجر ظاہر کیا پھر سورس ہونے کا دعویٰ کیا لیکن کسی قسم کی مستند دستاویز پیش نہ کر سکا۔

جامع تلاشی کے دوران عمران علی کے قبضے سے ایک جعلی آرمی میجر سروس کارڈ بنام عمران علی، چھ عدد باوردی آرمی تصاویر، نو عدد مختلف نیٹ ورک سمز، چودہ عدد مختلف بینک چیکس اور تین موبائل فون برآمد ہوئے۔ اس کے ساتھ موجود باوردی گن مین سے ایک عدد رائفل از قسم کالا کوف 222 بور، تین میگزین، تیس کارتوس اور دیگر سامان برآمد ہوا جبکہ ڈرائیور عارف اللہ کے قبضے سے 9 ایم ایم پستول، دو میگزین اور 25 کارتوس برآمد کیے گئے۔ پولیس کے مطابق یہ تمام افراد خود کو کسی نہ کسی طرح ریاستی اداروں سے منسلک ظاہر کر کے لوگوں کو دھوکہ دینے میں ملوث تھے۔ اس حوالے سے مقامی لوگوں نے بھی ایسے کئی واقعات کی طرف اشارہ کیا جن میں یہ جعلی فوجی افسر لوگوں کے ساتھ دھوکہ کر کے موبائل فونز وغیرہ لے جاتا۔

پولیس کا کہنا تھا کہ ملزمان پاک آرمی کے سرکاری کارڈز، سمز، بینک چیکس، آرمی کیپ اور دیگر سامان کے بارے میں کوئی تسلی بخش جواب دینے میں ناکام رہے۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ عمران علی کے خلاف ماضی میں ضلع بونیر میں بھی اسی نوعیت کا مقدمہ درج ہو چکا ہے۔

یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ اس معاملے میں محض پولیس ریکارڈ ہی نہیں بلکہ مقامی سطح پر ذاتی معلومات اور گواہیاں بھی موجود ہیں۔ میں بذات خود اس شخص سے واقف ہوں اور ان لوگوں سے بھی ملا ہوں جنہیں اس نے مختلف اوقات میں دھوکہ دیا۔ یہ ضلع شانگلہ، تحصیل پورن گاؤں سنیلہ سرگی سے تعلق رکھتا ہے۔ میرا گاؤں یہاں سے کوئی 3 سے 4 کلومیٹر دور ہے۔ اس کے والد گل صدر ایک دکاندار ہیں جبکہ اس کا بھائی پولیس میں ملازم ہے اور ماضی میں یوتھ کا الیکشن بھی لڑ چکا ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق عمران علی کو کئی مرتبہ سمجھایا گیا کہ وردی کا غلط استعمال کرنے سے گریز کرے لیکن اس کے باوجود وہ بار بار اسی طرز کی سرگرمیوں میں ملوث پایا گیا۔

تحصیل بھر میں اس کی کہانیاں زبان زد عام ہیں۔ لوگوں کے مطابق کبھی خود کو فوجی افسر ظاہر کرنا، کبھی سکیورٹی اداروں سے تعلق کا دعویٰ، اور کبھی بااثر ہونے کا تاثر دے کر لوگوں کو متاثر کرنا اس کا پرانا طریقہ رہا ہے۔

اب یہی شخص ٹرائل کے دوران ضمانت ملنے کے بعد غیر قانونی طریقے 'ڈنکی' کے ذریعے انگلینڈ پہنچ چکا ہے اور وہاں سیاسی پناہ یعنی ازائلم حاصل کرنے کے لیے خود کو 'ضمیر کا قیدی'، 'فوجی حکم ماننے سے انکار کرنے والا افسر' اور 'سیاسی مظلوم' کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے وہ بیرون ملک پلیٹ فارمز اور پاکستان مخالف بیانیہ رکھنے والے ایکٹیوسٹس رحمان بونیری کو استعمال کر رہا ہے۔ اس نے اسلام آباد کے ایک تھانے کے نام پر جعلی ایف آئی آر بھی بنائی ہے جسے پڑھتے ہی سمجھ آجاتا ہے کہ جعلی ہے۔

رحمان بونیری ماضی میں بھی پاکستان کے خلاف مواد اور بیانیہ پھیلانے کے حوالے سے متحرک رہا ہے۔ اس کا زیادہ تر مواد پاکستان خلاف پروپیگنڈا پر مبنی ہوتا ہے۔ تاہم اس بار یہ پروپیگنڈا بے نقاب ہوگیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس شخص نے انٹرویو میں بتایا کہ فوجیوں حکم نہ ماننے پر اسے پولیس نے گرفتار کر کے غداری کے مقدمات چلائے جبکہ یہ ممکن نہیں ہے۔ فیلڈ میں فوجی احکامات ماننے سے انکار پر کسی کمپنی کمانڈر کو پولیس گرفتار نہیں کر سکتی۔ پاکستان آرمی کے افسران اور جوان پاکستان آرمی ایکٹ 1952 کے تابع ہوتے ہیں۔ احکامات ماننے سے انکار، بغاوت یا نظم و ضبط کی خلاف ورزی فوجی جرم ہے۔ ایسے معاملات میں کورٹ مارشل ہوتا ہے لیکن سول پولیس کارروائی نہیں کر سکتی۔

اگر کوئی کمپنی کمانڈر جنگی یا آپریشنل حکم ماننے سے انکار کر دے یا کمانڈ سٹرکچر کی خلاف ورزی کرے تو اسے فوج خود حراست میں لیتی ہے۔ اس کے بعد انکوائری، فیلڈ جنرل کورٹ مارشل یا سمری ٹرائل ہوتا ہے۔ پولیس کا یہاں کوئی کردار نہیں ہوتا۔

دوسرا دلچسپ امر یہ ہے کہ اس جھوٹے بیانیے کو ایک سیاسی جماعت کے بعض کارکنان نے بھی بغیر تصدیق کے آگے شئیر کیا اور اسے اپنے سیاسی مؤقف کے حق میں استعمال کرنے کی کوشش کی۔ سوشل میڈیا پر جذباتی نعروں اور اداروں پر تنقید کے ساتھ اس کہانی کو پھیلایا گیا۔ بیرون ملک بیٹھ کر بعض عناصر جھوٹے بیانیے، جعلی کرداروں اور من گھڑت کہانیوں کے ذریعے نہ صرف پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں بلکہ سیاسی تقسیم کو بھی مزید تقویت دیتے ہیں۔ ایسے میں ذمہ داری صرف ریاستی اداروں پر نہیں بلکہ میڈیا، سیاسی جماعتوں اور سوشل میڈیا صارفین پر بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ کسی بھی دعوے کو بغیر تصدیق کیے قبول کرنے کی بجائے حقائق کو جانچیں کیونکہ جب جھوٹ کو سچ کے لبادے میں پیش کیا جائے اور اسے مظلومیت یا نظریے کے نام پر بیچا جائے تو نقصان صرف اداروں کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا ہوتا ہے۔
#منقول

06/01/2026

الحمدللہ پاکستان اب مکمل تیار ہو چکا ہے تم جس رستے سے بھی آو گے مار دئیے جاؤ گے

Address

Street No 3
Yazman Mandi
7712324

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hum sab ka Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share