Yazman News

Yazman News Yazman (Urdu: يزمان‎), is a city and capital of Yazman Tehsil of Bahawalpur District, in southern Pun

27/02/2026

یزمان منڈی کو ضلع بنانا کیوں ضروری ہے؟
جنوبی پنجاب کا اہم اور تاریخی شہر یزمان عرصہ دراز سے انتظامی طور پر ضلع بہاولپور کا حصہ ہے، مگر آبادی میں اضافہ، پاکستان کا سب رقبے کے لحاظ بڑی تحصیل، رقبے کی وسعت اور بڑھتی ہوئی ضروریات اس بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ یزمان کو باقاعدہ ضلع کا درجہ دیا جائے۔ وقت کے ساتھ ساتھ عوامی مسائل میں اضافہ ہوا ہے، اور موجودہ انتظامی ڈھانچہ ان مسائل کو بروقت حل کرنے میں مکمل طور پر مؤثر ثابت نہیں ہو پا رہا۔
سب سے پہلے انتظامی سہولت کا پہلو نہایت اہم ہے۔ دور دراز دیہات کے لوگوں کو سرکاری امور کی انجام دہی کے لیے بہاولپور جانا پڑتا ہے، جس میں وقت اور پیسہ دونوں خرچ ہوتے ہیں۔ اگر یزمان ضلع بن جائے تو ڈپٹی کمشنر، پولیس، عدلیہ اور دیگر محکموں کے دفاتر مقامی سطح پر قائم ہوں گے، جس سے عوام کو فوری ریلیف ملے گا اور سرکاری نظام زیادہ مؤثر انداز میں کام کرے گا۔
دوسرا اہم پہلو ترقیاتی منصوبے ہیں۔ ضلع بننے کے بعد الگ بجٹ اور فنڈز مختص ہوتے ہیں، جس سے سڑکوں کی تعمیر، ہسپتالوں کی اپ گریڈیشن، تعلیمی اداروں کے قیام اور صاف پانی جیسے منصوبوں میں تیزی آتی ہے۔ حاصلپور ایک زرعی علاقہ ہے، جہاں کپاس اور دیگر اجناس کی پیداوار معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ضلع کا درجہ ملنے سے زرعی شعبے کو بھی براہِ راست فائدہ ہوگا اور کسانوں کے مسائل مقامی سطح پر حل ہوں گے۔
مزید برآں، ضلع بننے سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ سرکاری دفاتر، عدالتیں اور دیگر انتظامی ادارے قائم ہونے سے نوجوانوں کو نوکریوں کے مواقع میسر آئیں گے، جس سے مقامی معیشت کو تقویت ملے گی۔ کاروباری سرگرمیاں بڑھیں گی اور سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا۔
سیاسی اور سماجی لحاظ سے بھی یہ اقدام نہایت اہم ہے۔ ضلع کی حیثیت ملنے سے علاقے کی نمائندگی مضبوط ہوگی اور عوامی مسائل براہِ راست اعلیٰ حکام تک پہنچ سکیں گے۔ اس سے عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد بھی بڑھے گا۔
مختصر یہ کہ یزمان کو ضلع بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ یہ قدم نہ صرف انتظامی آسانی فراہم کرے گا بلکہ معاشی، سماجی اور تعلیمی ترقی کا راستہ بھی ہموار کرے گا۔ عوامی مفاد اور خطے کی بہتری کے لیے اس مطالبے کو سنجیدگی سے زیرِ غور لانا چاہیے تاکہ یزمان ترقی کی نئی منزلیں طے کر سکے۔۔
#یزمان

26/08/2025

ملک میں نئے صوبوں کی بحث
سمیرا ملک
ملک میں نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے بحث جاری ہے، اس بحث سے لوگوں میں خوشی دیکھنے میں آئی ہے کہ خصوصاً پنجاب میں کہ بہت بڑا صوبہ ہونے کے باعث لوگ مسائل اور مشکلات کا شکار ہیں، نئے صوبوں کی بات نئی نہیں بلکہ پرانی ہے، اس اقدام سے بہتری ہو گی، گزشتہ 30 سال سے صوبوں کی تقسیم کی بات چل رہی ہے، اب تک نئے صوبوں پر صرف سیاست ہوئی، زبانی جمع خرچ کے سوا کچھ نہیں ہوا لیکن اب وقت آگیا ہے کہ باہمی مشاورت سے نئے صوبوں کے قیام کی راہ ہموار ہو، نئے صوبے ملکی استحکام اور معیشت کی بہتری میں معاون ثابت ہو نگے۔پوری دنیا میں صوبوں کی تعداد زیادہ ہے۔ سری لنکا کی تین کروڑ آبادی ہے اور اس کے 9 صوبے ہیں۔ امریکہ کی آبادی 30 کروڑ ہے صوبے پچاس، افغانستان کے 34صوبے، ایران کے 25، ویتنام کے 58، اومان کے 61، اٹلی کے 110، فلپائن کے 82، ترکی کے 81، تھائی لینڈ کے 77صوبے ہیں، ارجنٹائن کے 23صوبے، سعودی عرب13، جرمنی 16، یونان147، چلی کے 54صوبے ہیں۔ ان ملکوں نے چھوٹے صوبے بنا کر وہاں کے لوگوں کے مسائل حل کئے ہیں۔ اسی عمل کو پاکستان میں دہرانے کی ضرورت ہے۔
کوئی کہہ رہا ہے کہ صوبوں کا شوشہ چھوڑا گیا ہے، یہ شوشہ نہیں حقیقت ہے اس کی سب کو حمایت کرنی چاہئے، اس سے پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کا نیا دور آئے گا۔ چھوٹے صوبے ہونے سے صنعتی ترقی ہو گی، غریبوں کو روزگار ملے گا، خوشحالی کا دور دورہ ہوگا۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا آبادی میں اضافے کے بعد نئے صوبوں کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے۔ پنجاب، سندھ، کے پی کے اور بلوچستان میں نئے صوبے بننے چاہئیں، ہر صوبے میں اسی نام کے ساتھ نارتھ، ساؤتھ اور سینٹرل نئے صوبے بنانے ہونگے،نئے صوبوں سے عوام کے مسائل کا حل ان کی دہلیز پر ممکن ہو گا، نئے صوبوں میں ہائیکورٹس، چیف سیکرٹری اور آئی جی بہتر کام کر سکیں گے۔ عوام کی شکایات کے ازالے کے لئے نئے صوبے جلد بنائیں جائیں، سیکرٹریٹ میں میلوں دور سے آنے والے شہریوں کو ریلیف ملے گا، موجودہ صوبوں کو اسی شناخت کے ساتھ دو یا تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ استحکام پاکستان پارٹی نے ملک میں نئے صوبوں کے قیام کا مطالبہ کیا ہے، آئی پی پی کا کہنا ہے کہ چاروں صوبوں کو موجودہ تقاضوں کے مطابق 3،3 نئے صوبوں میں تقسیم کیا جائے۔
پاکستان میں صوبے آبادی یا رقبے کے لحاظ سے نہیں بنائے گئے، کراچی کو صوبہ بنایا جائے تو حالات بہتر ہوسکتے ہیں۔ بلوچستان میں نصیرآباد، سبی، ژوب، قلات، مکران، کوئٹہ کو ملا کر صوبہ بنایا جا سکتا ہے، بہاولپور، ڈی جی خان اور ملتان کو بھی الگ الگ صوبہ بنایا جا سکتا ہے کہ وہاں ڈیمانڈ بھی ہو رہی ہے۔ صوبے کم ہونے سے گورننس کے مسائل پیدا ہوتے ہیں، 33 صوبے بننے سے نئی لیڈرشپ پیدا ہوگی، پولیٹیکل لیڈرشپ ہمیشہ مڈل کلاس سے آتی ہے، صوبوں میں محکموں کی تعداد بھی کم کرنے کی ضرورت ہے۔ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں بیٹھ کر پنجاب کے معاملات نہیں چلائے جا سکتے۔صوبے بننے سے تمام مسائل حل ہوں گے، بروقت انصاف ملے تو صوبے بنانے پر اخراجات میں کوئی حرج نہیں، ہم جنت نہیں ایسا سسٹم چاہ رہے ہیں جس سے عوامی مسائل حل ہوں۔ چاہے 12 صوبے بنائے جائیں یا 32، اگر اسمبلیاں اجازت دیتی ہیں تو بسم اللہ کی جائے،اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔ان دنوں ملک میں ایک نئی بحث نے جنم لیا ہے کہ ملک کا نظام بہتر طریقے سے چلانے کے لیے نئے صوبوں کا قیام ناگزیر ہے۔ اگر پاکستان کی ترقی اور خوشحالی چاہیے تو انتظامی صوبے بنانے ہوں گے۔
معاشی تھنک ٹینک اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈیولپمنٹ نے نئے صوبوں سے متعلق 3 منصوبے پیش کئے ہیں جو کہ درست ہیں، رپورٹ میں موجودہ انتظامی ڈھانچے کو معاشی مسائل حل کرنے میں ناکامی کا ذمہ دار قرار دے دیا گیا ہے،نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے پہلے منظر نامے میں ملک میں 12 چھوٹے صوبے بن سکتے ہیں، دوسرے منظرنامے میں 15 سے 20 چھوٹے صوبے قائم ہوسکتے ہیں، تیسری صورت میں 38 وفاقی ڈویژنز ہوسکتے ہیں۔معاشی تھنک ٹینک اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈیولپمنٹ نے رپورٹ جاری کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ 12 چھوٹے صوبے قائم کرنے سے ہر صوبے کی آبادی کم ہوکر 2 کروڑ تک ہوجائے گی، 12 چھوٹے صوبوں کے قیام سے صوبائی بجٹ 994 ارب روپے تک ہو جائے گا۔معاشی تھنک ٹینک نے درست منصوبے پیش کئے ہیں، صوبوں کے حقوق غصب نہیں ہوں گے بلکہ بڑے صوبے جو کہ اپنے پسماندہ علاقوں کا حق غصب کرتے ہیں یہ حق ان تک پہنچے گا۔
اگر ہم ترقی یافتہ ممالک کو دیکھیں تو وہ اپنے اپنے معاشی تھنک ٹینک کے ذریعے منصوبہ بندی کرتے ہیں، یہاں کا پانچ سالہ منصوبہ بھی نہیں بنتا وہاں پچاس سال اور سو سال کی پلاننگ ہوتی ہے۔ ہمارے معاشی تھنک ٹینک کی تجویز بہتر مثبت اور کار آمد ہے۔ ہمارے ہمسایہ اور دنیا کے دیگر ممالک میں جب صوبے بن رہے تھے تو ہمارے ہاں ون یونٹ بنا جس سے مسائل الجھے اور چھوٹے صوبوں نے اس پر غصے کا اظہار کیا۔ چھوٹے صوبوں کے قیام کے لیے ضیاء الحق دور میں بھی کام ہوا مگر افسوس کہ پایہ تکمیل کو نہ پہنچا۔ اب اس کام کو مکمل ہونا چاہئے اس سے حکومت کی نیک نامی میں اضافہ ہوگا اور جب لوگوں کو سہولتیں ملیں گی تو لوگ یاد رکھیں گے، اب مخالفت صرف وہ کر رہے ہیں جو غریبوں کا استحصال کرتے ہیں ورنہ پاکستان کا ہرتعلیم یافتہ اور سمجھدار شہری نئے صوبوں کے قیام کے حق میں ہے، غریب اور پسماندہ علاقوں کو تعلیم، صحت اور روزگار مہیا کرنے کا معاشی تھنک ٹینک کا منصوبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

21/08/2025

حضرات، توجہ فرمائیں!

یہ اعلان حکومتِ پنجاب کی جانب سے کیا جا رہا ہے!* 📢📢📢📢

تمام اہلِ علاقہ کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ حکومتِ پنجاب نے PSER گھر گھر سروے کا آغاز کر دیا ہے!

یہ سروے آپ اور آپ کے خاندان کی صحت، تعلیم، روزگار، رہائش اور دیگر بنیادی سہولیات کی بہتری کے لیےکیا جا رہا ہے–
تاکہ ہر خاندان کو براہِ راست سرکاری سہولیات، مالی امداد، وظائف، سبسڈی، فری علاج اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔

یہ PSER سروے آپ کی دہلیز پر تربیت یافتہ اہلکار بذریعہ ٹیبلٹ سرانجام دے رہے ہیں۔

عوام الناس سے پرزور اپیل ہے کہ:
✔️ ان سروے ٹیموں سے بھرپور تعاون کریں
✔️ درست معلومات فراہم کریں
✔️ اپنے خاندان کے کسی بھی فرد کو، چاہے وہ دودھ پیتا بچہ ہو یا بزرگ، کرایہ دار ہو یا مستقل رہائشی— سروے میں اندراج سے محروم نہ رکھیں!

شکریہ۔۔۔📢📢
*Punjab Socio-Economic Registry [ ]*
Socio Economic Registry

21/08/2025

Address

Yazman Mandi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Yazman News posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share