Zafarwal News

Zafarwal News First Pakistan (Long live Pakistan)

پنجاب حکومت بلدیاتی انتخابات سے کیوں بھاگ رہی ہے؟تحریر: میاں زاہد ادریسپنجاب حکومت سے عوام یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہ...
20/08/2026

پنجاب حکومت بلدیاتی انتخابات سے کیوں بھاگ رہی ہے؟
تحریر: میاں زاہد ادریس
پنجاب حکومت سے عوام یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ آخر بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں اتنی تاخیر کیوں کی جا رہی ہے؟ پنجاب میں آخری بلدیاتی انتخابات 2015 میں ہوئے تھے، یعنی عوام تقریباً 11 سال سے اپنے مقامی نمائندوں کے انتخاب سے محروم ہیں۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ ان 11 برسوں میں پنجاب میں ایک نہیں بلکہ متعدد بلدیاتی قوانین بنائے اور تبدیل کیے گئے۔ 2019، 2021، 2022 اور پھر 2025 میں نئے قانونی فریم ورک سامنے آئے۔ ہر نئی قانون سازی کے ساتھ الیکشن کمیشن کو نئی حلقہ بندیوں اور انتخابی تیاریوں کا عمل دوبارہ شروع کرنا پڑا۔
سوال یہ ہے کہ اگر حکومتیں قانون سازی کر سکتی ہیں تو انتخابات کیوں نہیں کرا سکتیں؟
بلدیاتی ادارے جمہوریت کی بنیادی اکائی ہیں۔ عوام کو اپنے گلی، محلے، یونین کونسل اور مقامی مسائل کے لیے براہِ راست نمائندے منتخب کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ آئین کا آرٹیکل 140-A بھی مقامی حکومتوں کے قیام اور سیاسی، انتظامی و مالی ذمہ داریوں کے حوالے سے بنیادی اصول فراہم کرتا ہے۔
اب پنجاب حکومت نے 2025 کا نیا بلدیاتی قانون نافذ کیا، 2026 کے انتخابی قواعد بھی جاری ہو چکے ہیں، جبکہ الیکشن کمیشن حلقہ بندیوں کا عمل مکمل کر چکا ہے۔ اگست 2026 میں پنجاب حکومت نے بلدیاتی انتخابات کے لیے 12.52 ارب روپے مختص بھی کیے ہیں۔
تو پھر اب مزید تاخیر کیوں؟
11 اگست 2026 کو الیکشن کمیشن نے پنجاب حکومت سے انتخابی تاریخ کے لیے مشاورت اور کابینہ کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ بھی کیا۔
پنجاب کے عوام اب وعدے نہیں، تاریخ چاہتے ہیں۔
قانون بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے، لیکن قانون بنا کر انتخابات کو مسلسل مؤخر کرتے رہنا جمہوری عمل کو کمزور کرتا ہے۔ بلدیاتی انتخابات کسی سیاسی جماعت کا احسان نہیں بلکہ عوام کا جمہوری حق ہیں۔
اب پنجاب حکومت کو چاہیے کہ تمام قانونی اور انتظامی مراحل جلد مکمل کرکے بلدیاتی انتخابات کی واضح اور حتمی تاریخ کا اعلان کرے۔
پنجاب والو! سوال کریں:
11 سال بعد بھی بلدیاتی نمائندے کب آئیں گے؟
بلدیاتی ادارے جمہوریت کی جڑ ہیں—انہیں مضبوط کرنا ہوگا۔

پنجاب میں بلدیاتی انتخابات 15 دسمبر سے 15 جنوری کے دوران ہوں گے ، الیکشن کمیشن
20/08/2026

پنجاب میں بلدیاتی انتخابات 15 دسمبر سے 15 جنوری کے دوران ہوں گے ، الیکشن کمیشن

قبرستان یا گندا جوہڑ؟یہ منظر ظفروال کے تاریخی ’’باغیچی والے قبرستان‘‘ کا ہے، جہاں بارش اور گندے پانی کے باعث قبروں کے اط...
19/08/2026

قبرستان یا گندا جوہڑ؟
یہ منظر ظفروال کے تاریخی ’’باغیچی والے قبرستان‘‘ کا ہے، جہاں بارش اور گندے پانی کے باعث قبروں کے اطراف پانی جمع ہو کر ایک تالاب کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

کیا ہمارے بزرگوں کی آخری آرام گاہ اس نوعیت کی غفلت اور لاپرواہی کی مستحق ہے؟

نکاسیٔ آب کے مؤثر اور باقاعدہ نظام کی عدم موجودگی کے باعث نہ صرف قبروں کو نقصان پہنچ رہا ہے بلکہ آنے والے لواحقین کو بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

محض عارضی اقدامات اس مسئلے کا حل نہیں، بلکہ اس کے لیے مستقل اور پائیدار حل ناگزیر ہے۔

متعلقہ اداروں کو اس جانب فوری توجہ دیتے ہوئے اس مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کرنا چاہیے۔

یہ قبرستان ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

آئیں، اپنے بزرگوں کی آخری آرام گاہ کے تحفظ کے لیے اجتماعی طور پر آواز بلند کریں۔

تحریر: میاں زاہد ادریس
سینئر صحافی و سیاسی و سماجی کارکن

#ظفروال #قبرستان

شہباز احمد کیانیچیف آفیسر ضلع کونسل نارووالسابق چیف آفیسر میونسپل کمیٹی شکر گڑھسابق چیف آفیسر میونسپل کمیٹی ظفروالسابق ا...
18/08/2026

شہباز احمد کیانی
چیف آفیسر ضلع کونسل نارووال
سابق چیف آفیسر میونسپل کمیٹی شکر گڑھ
سابق چیف آفیسر میونسپل کمیٹی ظفروال
سابق اسسٹنٹ ڈائریکٹر ADLG نارووال
کی کارکردگی پر چند جملے
ان کی کارکردگی کیسی رہی اپنی رائے سے آگاہ کیجئے

بلدیاتی ادارے جمہوریت کی جڑ ہیں، آئینی تحفظ ناگزیر ہےتحریر: میاں زاہد ادریسپاکستان میں جمہوریت کے استحکام کی بات تو بہت ...
18/08/2026

بلدیاتی ادارے جمہوریت کی جڑ ہیں، آئینی تحفظ ناگزیر ہے
تحریر: میاں زاہد ادریس
پاکستان میں جمہوریت کے استحکام کی بات تو بہت کی جاتی ہے، مگر جمہوریت کی اصل بنیاد یعنی بلدیاتی نظام آج بھی وہ آئینی، انتظامی اور مالی تحفظ حاصل نہیں کر سکا جو ایک مضبوط جمہوری معاشرے کے لیے ضروری ہے۔ اگر اٹھائیسویں آئینی ترمیم کے حوالے سے سنجیدہ غور و فکر ہو رہا ہے تو اس کا ایک اہم ترین حصہ بااختیار، خودمختار اور مضبوط بلدیاتی اداروں کا آئینی تحفظ ہونا چاہیے۔
گزشتہ کئی برسوں کا تجربہ ہمارے سامنے ہے۔ بلدیاتی ادارے قائم ہوتے ہیں تو ان کی مدت، اختیارات، فنڈز اور تسلسل اکثر صوبائی حکومتوں کی سیاسی ترجیحات سے متاثر ہوتے ہیں۔ کبھی انتخابات میں تاخیر ہوتی ہے، کبھی قوانین تبدیل کیے جاتے ہیں اور کبھی منتخب نمائندوں کو اختیارات اور وسائل سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ نتیجتاً عوام کے منتخب نمائندے موجود ہوتے ہوئے بھی اپنے علاقوں کے بنیادی مسائل کے حل کے لیے بیوروکریسی اور صوبائی اداروں کے محتاج رہتے ہیں۔
یہ صورتحال جمہوریت کی روح کے منافی ہے۔
آئین پاکستان کا آرٹیکل 140-A صوبوں کو بلدیاتی نظام قائم کرنے اور سیاسی، انتظامی اور مالی ذمہ داریاں و اختیارات منتخب بلدیاتی نمائندوں کو منتقل کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔ لیکن عملی صورتحال یہ ثابت کرتی ہے کہ صرف آئینی شق کافی نہیں؛ اسے مؤثر بنانے کے لیے واضح ضمانتیں، قابلِ عمل طریقہ کار اور اختیارات کے تحفظ کی ضرورت بھی ہے۔
اٹھائیسویں آئینی ترمیم میں اگر بلدیاتی اداروں کو حقیقی اور مؤثر آئینی تحفظ دیا جاتا ہے تو یہ پاکستان کے جمہوری نظام میں ایک تاریخی پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔ بلدیاتی انتخابات کسی صوبائی حکومت کی مرضی، سیاسی مصلحت یا انتظامی فیصلے کے رحم و کرم پر نہیں ہونے چاہئیں بلکہ ان کا انعقاد ایک آئینی ذمہ داری ہونا چاہیے۔
الیکشن کمیشن کو ایسا واضح آئینی اختیار اور ذمہ داری دی جانی چاہیے کہ بلدیاتی اداروں کی مدت مکمل ہونے سے پہلے نئے انتخابات کا عمل لازماً شروع ہو۔ انتخابات میں غیر ضروری تاخیر کی صورت میں کسی حکومت کو یہ اختیار نہیں ہونا چاہیے کہ وہ اپنی سیاسی ضرورت کے مطابق منتخب اداروں کو ختم کرے یا انتخابات کو غیر معینہ مدت تک مؤخر کر دے۔
اسی طرح منتخب بلدیاتی نمائندوں کو صرف نام کا نمائندہ بنانے کے بجائے انہیں سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات بھی دیے جائیں۔ جس یونین کونسل، تحصیل یا ضلع کے عوام نے اپنے نمائندے منتخب کیے ہیں، انہیں اپنے علاقے کی ترقی، صفائی، بنیادی سہولیات، سڑکوں، تعلیم، صحت اور دیگر مقامی مسائل کے حل میں مؤثر کردار ادا کرنے کا اختیار بھی ملنا چاہیے۔
یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ اگر عوام اپنے نمائندے ووٹ کے ذریعے منتخب کرتے ہیں تو پھر ان نمائندوں کے پاس اختیار اور وسائل کیوں نہیں ہوتے؟
جمہوریت کا مطلب صرف یہ نہیں کہ ہر چند سال بعد قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کرا دیے جائیں۔ جمہوریت کا حقیقی حسن اس وقت سامنے آتا ہے جب عام شہری کو اپنے محلے، گاؤں، یونین کونسل اور شہر کی سطح پر بھی اپنے مسائل کے فیصلوں میں شریک ہونے کا موقع ملے۔
دنیا کے ترقی یافتہ جمہوری معاشروں میں مقامی حکومتیں ریاستی نظام کا بنیادی ستون سمجھی جاتی ہیں۔ وہاں مقامی نمائندے عوام کے روزمرہ مسائل کے حل میں براہِ راست کردار ادا کرتے ہیں۔ پاکستان میں بھی اگر جمہوریت کو نچلی سطح تک مضبوط کرنا ہے تو بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنانا ہوگا۔
یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ 2026 میں مختلف سیاسی حلقوں کی جانب سے اٹھائیسویں آئینی ترمیم اور مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے کے مطالبات اور تجاویز سامنے آتی رہی ہیں۔ اس تناظر میں ضروری ہے کہ مجوزہ آئینی اصلاحات محض سیاسی جماعتوں کے درمیان اختیارات کی تقسیم کا معاملہ نہ بنیں بلکہ عام شہری کے اختیار اور مقامی حکومت کے مستقبل کو مرکزی حیثیت دی جائے۔
اگر بلدیاتی انتخابات آئینی طور پر لازم قرار پاتے ہیں، منتخب نمائندوں کی مدت اور اختیارات کا تحفظ ہوتا ہے، مالی وسائل کی مناسب ضمانت دی جاتی ہے اور صوبائی حکومتوں کی مداخلت کو آئینی حدود میں لایا جاتا ہے تو اس کے نتیجے میں نہ صرف جمہوریت مضبوط ہوگی بلکہ عوام اور ریاست کے درمیان اعتماد بھی بڑھے گا۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اٹھائیسویں آئینی ترمیم میں یہ اصول واضح کر دیا جائے کہ بلدیاتی نظام کسی حکومت کا احسان نہیں بلکہ عوام کا آئینی حق ہے۔
بلدیاتی ادارے جمہوریت کی جڑ ہیں۔ اگر جڑ مضبوط ہوگی تو جمہوریت کا درخت بھی مضبوط ہوگا۔ لیکن اگر جڑ ہی کمزور ہو تو پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں جمہوریت کی مضبوطی کے دعوے بھی ادھورے محسوس ہوں گے۔
لہٰذا اٹھائیسویں آئینی ترمیم میں بلدیاتی اداروں کو واضح، مؤثر اور ناقابلِ تردید آئینی تحفظ دیا جانا چاہیے، تاکہ بلدیاتی انتخابات صوبائی حکومتوں کے رحم و کرم پر نہ رہیں بلکہ آئین کے تحت ایک لازمی ذمہ داری بن جائیں۔
اختیار عوام کو، نظام آئین کے تحت، اور بلدیاتی ادارے حقیقی معنوں میں بااختیار—یہی مضبوط جمہوریت کی بنیاد ہے۔
میاں زاہد ادریس
کالم نگار و سینئر صحافی

بلدیاتی نظام یا اختیارات کی بندر بانٹ؟تحریر: میاں زاہد ادریسترقی یافتہ جمہوری ممالک میں مقامی حکومتیں عوام کی براہِ راست...
17/08/2026

بلدیاتی نظام یا اختیارات کی بندر بانٹ؟

تحریر: میاں زاہد ادریس

ترقی یافتہ جمہوری ممالک میں مقامی حکومتیں عوام کی براہِ راست رائے اور انتخابی عمل کے ذریعے وجود میں آتی ہیں۔ وہاں میئر اور سٹی ناظم جیسے اہم عہدوں کے لیے عوام اپنے نمائندوں کو براہِ راست ووٹ کے ذریعے منتخب کرتے ہیں، کیونکہ جمہوریت کا بنیادی اصول ہی یہ ہے کہ اختیارات نچلی سطح تک عوام کے منتخب نمائندوں کو منتقل کیے جائیں۔

مگر افسوس کہ ’’پڑھے لکھے پنجاب‘‘ میں بلدیاتی نظام کو مضبوط بنانے کے بجائے ایک ایسا فرسودہ اور پیچیدہ ڈھانچہ متعارف کرایا جا رہا ہے جس میں یونین کونسل کے چیئرمین یا ناظم کے براہِ راست انتخاب کے امکانات بھی محدود کر دیے گئے ہیں۔

غیر جماعتی بنیادوں پر جنرل کونسلرز کا انتخاب اور پھر انہی منتخب نمائندوں کے ذریعے چیئرمین کا انتخاب ایک ایسا نظام تشکیل دے سکتا ہے جس میں عوام کے ووٹ کی اصل قوت کمزور پڑ جائے۔ خدشہ یہ ہے کہ منتخب جنرل کونسلرز کو ترقیاتی منصوبوں، گلیوں، نالیوں اور دیگر مقامی اختیارات کے ذریعے متاثر کر کے سیاسی وفاداریاں تبدیل کروائی جا سکیں گی، جس کے نتیجے میں عوامی مینڈیٹ کے مقابلے میں حکومتی اثر و رسوخ زیادہ غالب آ سکتا ہے۔

یہ طرزِ عمل جمہوریت کی روح کے مطابق ایک مضبوط بلدیاتی نظام کے بجائے اختیارات کو اوپر سے نیچے کنٹرول کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قانون میں مناسب ترامیم کے ذریعے یونین کونسل کی سطح پر بھی جماعتی بنیادوں پر انتخابات کا راستہ کھولا جائے اور عوام کو اپنی سیاسی وابستگی اور مرضی کے مطابق چیئرمین یا ناظم منتخب کرنے کا مؤثر اور حقیقی حق دیا جائے۔

مجھے امید ہے کہ پنجاب اسمبلی اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کرے گی اور ایسا نظام تشکیل دیا جائے گا جس میں بلدیاتی نمائندے محض نمائشی کردار تک محدود نہ رہیں بلکہ حقیقی معنوں میں بااختیار ہوں۔

حلقہ بندیوں پر بھی سوالات

دوسرا اہم مسئلہ نئی حلقہ بندیوں کا ہے۔ حلقہ بندی صرف نقشے پر لکیریں کھینچنے کا عمل نہیں بلکہ اس کا براہِ راست تعلق مقامی آبادی، جغرافیہ، سماجی روابط، عوامی سہولت اور انتظامی ضروریات سے ہوتا ہے۔ اگر حلقہ بندیوں میں سیاسی مفادات کو ترجیح دی جائے تو اس سے عوام کا اعتماد مجروح ہوتا ہے۔

ظفروال شہر اور گردونواح کی بعض نئی حلقہ بندیوں پر بھی عوامی سطح پر سنجیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں۔ وڈھالہ، اگووال اور مراڑہ کو ایک یونین کونسل میں شامل کرنے، جنڈیالہ اور دیگر دیہات کی حدود میں تبدیلی، راجیاں اور دیگر آبادیوں کو مختلف کونسلز میں تقسیم کرنے، اور اونچہ کلاں کو شہر کے ساتھ منسلک کرنے جیسے فیصلوں پر مقامی آبادی نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

سب سے زیادہ قابلِ غور معاملہ گھمرولہ اور درمان، جرپال اور سورج چک و لوہال، جبکہ بڑاپنڈ اور پرگوال کی تقسیم ہے۔ اگر کسی علاقے کو اس انداز میں تقسیم کیا جائے کہ مقامی سماجی، تعلیمی اور سیاسی روابط متاثر ہوں تو اس کی وجوہات عوام کے سامنے واضح اور شفاف انداز میں پیش کی جانی چاہئیں۔

حلقہ بندی کا مقصد کسی امیدوار یا سیاسی گروہ کو فائدہ یا نقصان پہنچانا ہرگز نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ایک متوازن، قابلِ عمل اور عوام دوست بلدیاتی ڈھانچہ تشکیل دینا ہونا چاہیے جس میں مقامی آبادی کے مفادات، جغرافیائی حقائق اور عوامی سہولت کو بنیادی اہمیت حاصل ہو۔

یہ بھی ضروری ہے کہ حلقہ بندیوں کے حوالے سے عوامی اعتراضات اور تجاویز کو محض رسمی کارروائی نہ سمجھا جائے بلکہ ان پر غیر جانب دار اور شفاف انداز میں غور کیا جائے۔ اگر کسی حلقے کے عوام یہ محسوس کریں کہ ان کی رائے اور مقامی حقائق کو نظرانداز کیا گیا ہے تو اس سے جمہوری عمل پر اعتماد کمزور ہو سکتا ہے۔

بلدیاتی انتخابات دراصل جمہوریت کی بنیاد ہیں۔ اگر بنیاد ہی کمزور ہو تو پوری عمارت مضبوط نہیں رہ سکتی۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ پنجاب میں ایسا بلدیاتی نظام تشکیل دیا جائے جس میں عوام کا ووٹ بااختیار ہو، نمائندے حقیقی معنوں میں جواب دہ ہوں، سیاسی وفاداریاں تبدیل کروانے کے امکانات کم سے کم ہوں، اور حلقہ بندیاں مکمل طور پر عوامی مفاد، آبادی اور جغرافیائی حقائق کے مطابق کی جائیں۔

بلدیاتی نظام کا اصل مقصد گلی، محلے اور یونین کونسل کے مسائل کا مؤثر حل اور عوام کو فیصلہ سازی میں حقیقی شراکت دینا ہے۔ اگر عوام کے منتخب نمائندے ہی مؤثر اختیارات سے محروم ہوں تو ایسے نظام کو مضبوط جمہوریت قرار دینا مشکل ہے۔

جمہوریت کا حسن یہی ہے کہ عوام جسے منتخب کریں، اختیار بھی اسی کے پاس ہو

یونین کونسل بڑاپنڈ جرپال
17/08/2026

یونین کونسل بڑاپنڈ جرپال

14/08/2026
اٹھائیسویں آئینی ترمیم(تجویز کردہ آئینی مسودہ)باب اول: ریاست کا انتظامی ڈھانچہپاکستان ایک وفاقی، جمہوری اور آئینی ریاست ...
13/08/2026

اٹھائیسویں آئینی ترمیم
(تجویز کردہ آئینی مسودہ)
باب اول: ریاست کا انتظامی ڈھانچہ
پاکستان ایک وفاقی، جمہوری اور آئینی ریاست ہوگا، جس میں مضبوط وفاق، بااختیار صوبے اور مکمل خودمختار بلدیاتی نظام قائمیا جائے گا۔ تمام ریاستی ادارے آئین کے تابع ہوں گے۔

باب دوم: نئے صوبے

بہتر انتظام، متوازن ترقی اور عوام کو سہولیات کی فراہمی کے لیے ملک کو انتظامی بنیادوں پر درج ذیل صوبوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

پنجاب

1. شمالی پنجاب
2. سنٹرل پنجاب
3. جنوبی پنجاب
4. پوٹھوہار
5. بہاولپور

سندھ

6. کراچی
7. حیدرآباد
8. میرپورخاص
9. سکھر
10. لاڑکانہ

خیبر پختونخوا

11. پشاور
12. ہزارہ
13. ملاکنڈ
14. ڈیرہ اسماعیل خان

بلوچستان

15. کوئٹہ
16. مکران
17. ژوب
18. قلات

دیگر وفاقی اکائیاں

19. گلگت بلتستان
20. آزاد جموں و کشمیر (آئینی و سیاسی اتفاقِ رائے کے مطابق)



باب سوم: صدرِ مملکت

* صدر ریاست، وفاق اور آئین کی علامت ہوگا۔
* صدر کا انتخاب براہِ راست عوام کریں گے۔
* صدر وفاقی حکومت کا سربراہ ہوگا۔
* وفاقی کابینہ صدر کے ماتحت کام کرے گی۔
* صدر قومی سلامتی، خارجہ پالیسی اور وفاقی اداروں کا نگران ہوگا۔



باب چہارم: وفاقی کابینہ

* تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ وفاقی کابینہ کے رکن ہوں گے۔
* ہر وزیراعلیٰ اپنے صوبے کے معاملات میں بااختیار ہوگا لیکن قومی و وفاقی معاملات میں صدر کو جواب دہ ہوگا۔
* قومی پالیسی سازی میں تمام وزرائے اعلیٰ شریک ہوں گے تاکہ وفاق اور صوبوں کے درمیان مکمل ہم آہنگی قائم رہے۔



باب پنجم: گورنر

* ہر صوبے میں ایک گورنر ہوگا جو وفاق اور صدرِ مملکت کا نمائندہ ہوگا۔
* گورنر آئین کے نفاذ اور وفاقی پالیسی پر عمل درآمد کی نگرانی کرے گا۔
* اگر کوئی وزیراعلیٰ آئین کی خلاف ورزی کرے یا اپنی آئینی ذمہ داریاں ادا نہ کرے تو گورنر، صدر کی منظوری سے، آئینی طریقۂ کار کے مطابق وزیراعلیٰ کو معزول کرنے کی سفارش یا اقدام کر سکے گا، جس کا عدالتی جائزہ وفاقی آئینی عدالت میں لیا جا سکے گا۔
باب ششم: وفاقی مقننہ

* قومی اسمبلی ختم کر دی جائے۔
* سینیٹ واحد وفاقی قانون ساز ایوان ہوگا۔
* تمام وفاقی قوانین، بجٹ اور آئینی ترامیم سینیٹ سے منظور ہوں گی۔
* سینیٹرز کا انتخاب صوبائی اسمبلیاں اوپن بیلٹ کے ذریعے کریں گی۔



باب ہفتم: صوبائی حکومت

* ہر صوبے میں منتخب صوبائی اسمبلی ہوگی۔
* وزیراعلیٰ کا انتخاب صوبائی اسمبلی کے اراکین کریں گے۔
* صوبائی کابینہ صوبے کے انتظامی امور چلائے گی۔



باب ہشتم: وفاقی آئینی عدالت

* وفاقی آئینی عدالت ملک کی اعلیٰ ترین آئینی عدالت ہوگی۔
* یہی ادارہ سپریم کورٹ کا آئینی کردار ادا کرے گا۔
* آئین کی تشریح، بنیادی حقوق کے تحفظ اور وفاق و صوبوں کے درمیان تنازعات کا حتمی فیصلہ اسی عدالت کے پاس ہوگا۔



باب نہم: بلدیاتی نظام

* ہر ضلع میں ضلع ناظم براہِ راست عوام کے ووٹ سے منتخب ہوگا۔
* ڈپٹی کمشنر (DC) ضلع ناظم کے ماتحت انتظامی افسر ہوگا۔
* ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (DPO) ضلع ناظم کے ماتحت ضلعی امن و امان کے انتظام میں کام کرے گا، جبکہ پولیس کے پیشہ ورانہ اور قانونی اختیارات آئین اور قانون کے مطابق محفوظ رہیں گے۔
* تحصیل ناظم اور یونین کونسل کا نظام آئینی تحفظ کے ساتھ قائم ہوگا۔
* ترقیاتی فنڈز کا بڑا حصہ براہِ راست بلدیاتی اداروں کو منتقل کیا جائے گا۔



باب دہم: بنیادی اصول

1. مضبوط وفاق، بااختیار صوبے۔
2. طاقتور اور آئینی بلدیاتی نظام۔
3. تیز، شفاف اور غیر سیاسی احتساب۔
4. آزاد وفاقی آئینی عدالت۔
5. اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی۔
6. تمام ریاستی ادارے آئین اور قانون کے تابع ہوں گے۔

14 اگست پروگرام تحصیل انتظامیہ
13/08/2026

14 اگست پروگرام تحصیل انتظامیہ

Address

Zafarwal

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Zafarwal News posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Zafarwal News:

Shortcuts

Share