20/08/2026
پنجاب حکومت بلدیاتی انتخابات سے کیوں بھاگ رہی ہے؟
تحریر: میاں زاہد ادریس
پنجاب حکومت سے عوام یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ آخر بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں اتنی تاخیر کیوں کی جا رہی ہے؟ پنجاب میں آخری بلدیاتی انتخابات 2015 میں ہوئے تھے، یعنی عوام تقریباً 11 سال سے اپنے مقامی نمائندوں کے انتخاب سے محروم ہیں۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ ان 11 برسوں میں پنجاب میں ایک نہیں بلکہ متعدد بلدیاتی قوانین بنائے اور تبدیل کیے گئے۔ 2019، 2021، 2022 اور پھر 2025 میں نئے قانونی فریم ورک سامنے آئے۔ ہر نئی قانون سازی کے ساتھ الیکشن کمیشن کو نئی حلقہ بندیوں اور انتخابی تیاریوں کا عمل دوبارہ شروع کرنا پڑا۔
سوال یہ ہے کہ اگر حکومتیں قانون سازی کر سکتی ہیں تو انتخابات کیوں نہیں کرا سکتیں؟
بلدیاتی ادارے جمہوریت کی بنیادی اکائی ہیں۔ عوام کو اپنے گلی، محلے، یونین کونسل اور مقامی مسائل کے لیے براہِ راست نمائندے منتخب کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ آئین کا آرٹیکل 140-A بھی مقامی حکومتوں کے قیام اور سیاسی، انتظامی و مالی ذمہ داریوں کے حوالے سے بنیادی اصول فراہم کرتا ہے۔
اب پنجاب حکومت نے 2025 کا نیا بلدیاتی قانون نافذ کیا، 2026 کے انتخابی قواعد بھی جاری ہو چکے ہیں، جبکہ الیکشن کمیشن حلقہ بندیوں کا عمل مکمل کر چکا ہے۔ اگست 2026 میں پنجاب حکومت نے بلدیاتی انتخابات کے لیے 12.52 ارب روپے مختص بھی کیے ہیں۔
تو پھر اب مزید تاخیر کیوں؟
11 اگست 2026 کو الیکشن کمیشن نے پنجاب حکومت سے انتخابی تاریخ کے لیے مشاورت اور کابینہ کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ بھی کیا۔
پنجاب کے عوام اب وعدے نہیں، تاریخ چاہتے ہیں۔
قانون بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے، لیکن قانون بنا کر انتخابات کو مسلسل مؤخر کرتے رہنا جمہوری عمل کو کمزور کرتا ہے۔ بلدیاتی انتخابات کسی سیاسی جماعت کا احسان نہیں بلکہ عوام کا جمہوری حق ہیں۔
اب پنجاب حکومت کو چاہیے کہ تمام قانونی اور انتظامی مراحل جلد مکمل کرکے بلدیاتی انتخابات کی واضح اور حتمی تاریخ کا اعلان کرے۔
پنجاب والو! سوال کریں:
11 سال بعد بھی بلدیاتی نمائندے کب آئیں گے؟
بلدیاتی ادارے جمہوریت کی جڑ ہیں—انہیں مضبوط کرنا ہوگا۔