28/12/2025
پروفیسر احسن اقبال چوہدری پاکستان کے سینئر اور بااثر سیاستدانوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے نظریاتی سیاست، پالیسی سازی اور قومی ترقی کے عمل میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کا تعلق ضلع نارووال سے ہے، جہاں سے وہ طویل عرصے تک عوامی اعتماد حاصل کرتے رہے ہیں اور قومی سیاست میں ایک مضبوط آواز کے طور پر ابھرے۔
انہوں نے اپنی عملی سیاسی زندگی کا آغاز 1993ء میں کیا جب وہ پہلی مرتبہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ اس کے بعد 1997ء، 2008ء، 2013ء اور 2018ء میں بھی قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہونا ان کی مسلسل سیاسی جدوجہد اور عوامی مقبولیت کا مظہر ہے۔ ایک ہی حلقے سے بار بار منتخب ہونا اس بات کی علامت ہے کہ عوام نے ان کی قیادت اور کارکردگی پر اعتماد کیا۔
اپنے سیاسی سفر کے دوران پروفیسر احسن اقبال مختلف اہم وفاقی وزارتوں پر فائز رہے، جن میں وفاقی وزیر تعلیم، وفاقی وزیر داخلہ اور وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی شامل ہیں۔ بطور وزیر منصوبہ بندی و ترقی انہوں نے ملکی ترقی کے لیے ایک جامع وژن پیش کیا جسے ویژن 2025 کے نام سے جانا جاتا ہے، جس کا مقصد پاکستان کو پائیدار ترقی، معاشی استحکام اور سماجی بہتری کی راہ پر گامزن کرنا تھا۔
وہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے اہم منصوبہ سازوں میں بھی شامل رہے، جس کے تحت توانائی، انفراسٹرکچر، صنعتی ترقی اور مواصلات کے شعبوں میں بڑے منصوبے شروع کیے گئے۔ ان اقدامات نے نہ صرف ملکی معیشت کو سہارا دیا بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کیے۔
پروفیسر احسن اقبال ایک تعلیم یافتہ سیاستدان، مفکر اور مصنف بھی ہیں۔ ان کی تقاریر اور تحریروں میں تعلیم، نوجوانوں کے کردار، بہتر طرزِ حکمرانی اور ادارہ جاتی اصلاحات نمایاں موضوعات رہے ہیں۔ وہ ہمیشہ پالیسی اور منصوبہ بندی کو جذباتی سیاست پر فوقیت دینے کے قائل رہے ہیں۔
سیاسی زندگی کے دوران انہیں کئی چیلنجز اور مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا، حتیٰ کہ ایک قاتلانہ حملے میں شدید زخمی بھی ہوئے، مگر اس کے باوجود انہوں نے جمہوری جدوجہد اور عوامی خدمت کا سفر جاری رکھا۔ آئین کی بالادستی، جویلین بالادستی اور جمہوریت ان کے سیاسی نظریے کا بنیادی حصہ رہے ہیں۔
ضلع نارووال کی ترقی میں بھی ان کا کردار نمایاں رہا ہے، جہاں تعلیم، صحت، سڑکوں اور دیگر عوامی فلاحی منصوبوں کے ذریعے علاقے کو آگے بڑھانے کی کوشش کی گئی۔ مجموعی طور پر پروفیسر احسن اقبال چوہدری کو پاکستان کی سیاست میں ایک مدبر، وژنری اور اصولی رہنما کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو مستقبل کی نسلوں کے لیے ایک بہتر پاکستان کی تعمیر کے خواہاں ہیں۔