Zafarwal News

Zafarwal News Welcome 👇 to the Zafarwal News. Please Send 👉 Your Name •
WhatsApp Number & Address° Thanks Welcome to the Zafarwal News.

Check out our page to view the latest news and don't forget to Like to the Zafarwal News.

Public Service Massage Gepco Sub Division No 2 Zafarwal •°•SDO: 03183992522LS: 03183991451LS: 03183992096               ...
22/04/2026

Public Service Massage
Gepco Sub Division No 2 Zafarwal •°•

SDO: 03183992522
LS: 03183991451
LS: 03183992096

11/04/2026

حلقہ پی پی 58 کی یونین کونسل دہم تھل کے گاؤں جیوکے، ٹھیٹر اور لدھڑ کے مین راستوں کی موصول ہونے والی ویڈیو

#ٹھیٹر #لدھڑ #ظفروال #نارووال #پنجاب #پاکستان
🚧📹

محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن حکومت پنجابحکومت پنجاب کی جانب سے موٹرسائیکل ٹرانسفر پر فیس اور دیگر چارجز معافلاہور: وزیراعل...
10/04/2026

محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن حکومت پنجاب

حکومت پنجاب کی جانب سے موٹرسائیکل ٹرانسفر پر فیس اور دیگر چارجز معاف

لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے موجودہ حالات کے تناظر میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے موٹرسائیکل سواروں کے لیے فیول سبسڈی کا اعلان کیا ہے۔
اسی سلسلے میں محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن پنجاب نے شہریوں کو مزید سہولت فراہم کرنے کے لیے موٹرسائیکل ٹرانسفر فیس 605 روپے، ایڈیشنل رجسٹریشن مارک فیس 1000 روپے اور اسمارٹ کارڈ فیس 1300 روپے معاف کر دی ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سبسڈی سے فائدہ اٹھا سکیں۔ شہری اس رعایت سے 6 اپریل تا 5 مئی 2026 تک استفادہ کر سکیں گے۔ تاہم اس سہولت سے استفادہ کرنے کے لیے لازم ہے کہ موٹر سائیکل درخواست دہندہ کے اپنے نام پر رجسٹرڈ ہو۔
حکومت پنجاب کے اس ریلیف پیکج کے ذریعے عوام کو مجموعی طور پر 20 کروڑ روپے کا ریلیف فراہم کیا جا رہا ہے جسے محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن برداشت کرے گا۔
واضح رہے کہ یہ رعایت لائف ٹائم ٹوکن ٹیکس پر لاگو نہیں ہوگی، تاہم ٹرانسفر فیس اور دیگر رجسٹریشن سے متعلق چارجز بدستور معاف رہیں گے۔
ڈائریکٹر جنرل محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن عمر شیر چٹھہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس موقع سے فائدہ اٹھائیں اور اپنی موٹرسائیکل اپنے نام پر رجسٹر کروائیں تاکہ وہ فیول سبسڈی اسکیم سے مستفید ہو سکیں۔

10/04/2026

مہنگائی نے پہلے ہی عوام کا جینا دوبھر کر رکھا ہے، لیکن جب قانون کے رکھوالے ہی زندگی کو مشکل بنا دیں تو سوال اٹھنا فطری ہے۔
ظفروال میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا جہاں ٹریفک پولیس کے بھاری چالان اور مبینہ سخت رویے سے دلبرداشتہ ہو کر ایک غریب شہری نے اپنے آپ کو اور گاڑی کو آگ لگانے کی کوشش کی۔ یہ صرف ایک واقعہ نہیں، بلکہ اس معاشرتی دباؤ کی عکاسی ہے جس میں ایک عام آدمی پس رہا ہے۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ 2000 روپے کا چالان کسی دیہاڑی دار کے لیے کیا معنی رکھتا ہے؟ یہ اس کے بچوں کا راشن، اس کی محنت کا صلہ اور اس کے خوابوں کا قتل ہے۔ اوپر سے اگر رویہ بھی تلخ ہو تو زخم اور گہرے ہو جاتے ہیں۔
کیا قانون کا اطلاق صرف کمزور پر ہوتا ہے؟
کیا وردی کا مطلب خدمت ہے یا خوف پیدا کرنا؟
اب وقت آ گیا ہے کہ ذمہ داران اس صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لیں، ورنہ ایسے واقعات ہمارے معاشرے میں مزید بگاڑ پیدا کریں گے۔

جب پولیس کہے بے گناہ اور عدالت دے دے سزا — آخر سچ کیا ہے؟سی سی ٹی وی میں لاہور، مگر فیصلہ ظفروال سے سزا کا — انصاف کہاں ...
13/03/2026

جب پولیس کہے بے گناہ اور عدالت دے دے سزا — آخر سچ کیا ہے؟
سی سی ٹی وی میں لاہور، مگر فیصلہ ظفروال سے سزا کا — انصاف کہاں ہے؟
تفتیش میں بے گناہ، مگر عدالت سے سات سال سزا — سوالات کھڑے ہو گئے
کیا ایک بے گناہ کو سیاسی دباؤ کے تحت سزا دی گئی؟
انصاف یا ناانصافی؟ ظفروال کے فیصلے نے کئی سوالات کھڑے کر دیے
پولیس کی تحقیق ایک طرف، عدالتی فیصلہ دوسری طرف — حقیقت کیا ہے؟
اگر ملزم لاہور میں تھا تو سزا کس بات کی؟ عوام جواب مانگ رہی ہے
ظفروال میں پیش آنے والا ایک عدالتی فیصلہ اس وقت عوامی، سماجی اور سیاسی حلقوں میں شدید بحث کا موضوع بن چکا ہے۔ یہ معاملہ صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ انصاف کے اس بنیادی اصول کا بھی ہے کہ کسی بھی شہری کو بغیر ٹھوس شواہد کے سزا نہ دی جائے، اور اگر کوئی بے گناہ ہو تو اسے مکمل انصاف فراہم کیا جائے۔
اطلاعات کے مطابق فائرنگ کے ایک مقدمے میں میاں عثمان رشید کو پولیس نے دورانِ تفتیش بے گناہ قرار دیا۔ پولیس کو پیش کیے گئے شواہد میں سی سی ٹی وی فوٹیج بھی شامل تھی جس کے مطابق وقوعہ کے وقت عثمان رشید لاہور میں موجود تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ پولیس نے نہ صرف یہ فوٹیج وصول کی بلکہ اس کی تصدیق بھی کی، اور اپنی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ واقعے کے وقت عثمان رشید ظفروال میں موجود نہیں تھے بلکہ لاہور میں تھے۔
اس کے باوجود ظفروال کے مجسٹریٹ فراز جاوید نے پولیس کی تفتیش سے اختلاف کرتے ہوئے عثمان رشید کو سات سال قید اور پچیس لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی۔ اس فیصلے کے بعد علاقے میں مختلف سوالات جنم لے رہے ہیں اور لوگ یہ پوچھنے پر مجبور ہیں کہ اگر پولیس کی اپنی تحقیقات کسی شخص کی بے گناہی ظاہر کر رہی تھیں تو پھر سزا کیسے سنا دی گئی؟
اس کیس کے حوالے سے ایک اور پہلو بھی زیرِ بحث آ رہا ہے، اور وہ ہے سیاسی گرفتاری کا تاثر۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر کسی شخص کو سیاسی دباؤ یا ذاتی مفادات کی بنیاد پر مقدمے میں گھسیٹا گیا ہو تو یہ نہ صرف ایک فرد کے ساتھ زیادتی ہے بلکہ قانون اور انصاف کے پورے نظام کے لیے ایک خطرناک مثال بھی بن سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی لوگ اس معاملے کو ممکنہ طور پر سیاسی نوعیت کا قرار دے رہے ہیں اور اس کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
سیاسی اور سماجی حلقوں میں بھی اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ اس معاملے کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہیے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ حقیقت کیا ہے۔ اگر واقعی کسی بے گناہ کو سزا دی گئی ہے تو یہ نہ صرف ایک فرد کے ساتھ زیادتی ہوگی بلکہ انصاف کے نظام پر عوام کے اعتماد کو بھی متاثر کرے گی۔
یہ بات بھی زیرِ بحث آ رہی ہے کہ اگر پولیس کی تفتیش اور عدالت کے فیصلے میں اتنا بڑا تضاد موجود ہے تو اس معاملے کو اعلیٰ سطح پر دیکھا جانا چاہیے۔ شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات اس لیے ضروری ہیں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ اصل حقیقت کیا ہے اور کس کا مؤقف درست ہے۔ قانون کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ بے گناہ کو تحفظ ملے اور قصوروار کو سزا۔
ہماری ریاست اور اداروں کی بنیاد انصاف پر قائم ہے۔ جب کسی بھی معاملے میں شکوک و شبہات پیدا ہوں تو بہتر یہی ہوتا ہے کہ اس کی مکمل اور آزادانہ تحقیقات کی جائیں تاکہ حقائق سب کے سامنے آ سکیں۔ اگر کوئی بے گناہ ہے تو اسے انصاف ملنا چاہیے اور اگر کوئی قصوروار ہے تو اسے قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے۔
یہ معاملہ صرف عثمان رشید کا نہیں بلکہ ہر اس شہری کا ہے جو یہ امید رکھتا ہے کہ اس ملک میں انصاف کا نظام مضبوط اور غیر جانبدار ہے۔ انصاف نہ صرف ہونا چاہیے بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے۔ یہی کسی بھی مہذب معاشرے اور مضبوط ریاست کی پہچان ہے۔
لہٰذا متعلقہ اداروں سے گزارش ہے کہ اس معاملے کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے، شواہد کو دوبارہ پرکھا جائے اور اگر ضرورت ہو تو آزادانہ تحقیقات کروائی جائیں تاکہ سچ سامنے آ سکے اور انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں۔
اگر آج کسی بے گناہ کی آواز نہ سنی گئی تو کل کسی اور کے ساتھ بھی یہی ہو سکتا ہے۔ انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ ہر شہری کو اس کا حق دیا جائے اور کسی کے ساتھ ناانصافی نہ ہونے دی جائے۔








#انصاف #جمہوریت #پاکستان


28/02/2026

چیئرمین گیپکو سب ڈویژن نمبر 2 ظفروال رانا قیصر مجید کے والد محترم چیئرمین عبدالمجید انتقال کر گئے۔
نمازِ جنازہ آبائی گاؤں جبال میں ادا کی گئی جہاں سیاسی، سماجی اور صحافتی شخصیات سمیت واپڈا آفیسران و اہلکاروں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کو جوارِ رحمت میں جگہ دے اور لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔

#ظفروال #گیپکو #تعزیت #سیالکوٹ

پیرا فورس کو حکم دے دیا گیا •  تازہ ترین کپڑوں کی سلائی اور شیو کے حوالے سے سرکاری نرخ جاری سوٹ کی سلائی 900 روپے مقرر ز...
21/02/2026

پیرا فورس کو حکم دے دیا گیا • تازہ ترین کپڑوں کی سلائی اور شیو کے حوالے سے سرکاری نرخ جاری سوٹ کی سلائی 900 روپے مقرر زیادہ قیمت وصول کرنے والے کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی • ذرائع
شہری اپنی شکایت اسسٹنٹ کمشنر کے دفتر میں بھی جمع کروا سکتے ہیں
Helpline. 080002345

13/01/2026

ظـفـروال شہــر اور گــردونواح میـں شـدیـد دھنــد کا سلسلہ جـاری

Samaa TV Ali Raza Rana
#ظفروال

09/01/2026

ظفروال میں ٹریفک پولیس ملازمین کے رویّے پر سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
سب انسپکٹر خالد اور ٹریفک کانسٹیبلز حفیظ و عمران کے سخت اور نامناسب رویّے۔
درست دبئی لائسنس اور پاکستانی لرنر ہونے کے باوجود اوورسیز پاکستانی کا چالان کر دیا گیا۔عوامی حلقوں نے اس عمل کو اختیارات کے غلط استعمال سے تعبیر کرتے ہوئے انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔

#ظفروال #حفیظ #عمران #انصاف

07/01/2026


ظـفـروال
Ali Raza Rana Reporter Samaa TV

02/01/2026

Zafarwal News Public info

Address

Zafarwal
51670

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Zafarwal News posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Zafarwal News:

Share