05/04/2026
Deputy Commissioner Narowal
گزشتہ سال جموں کے علاقوں میں ہونے والی شدید بارشوں نے نالہ ڈیک میں ایسی طغیانی پیدا کی کہ اس کے حفاظتی پشتے کئی مقامات سے ٹوٹ گئے۔ پانی کے بے رحم ریلوں نے قریبی بستیوں کو خوف اور بے بسی کی کیفیت میں مبتلا کر دیا۔ لوگوں کے گھروں، کھیتوں اور روزگار کو خطرہ لاحق ہو گیا اور کئی خاندانوں نے راتیں جاگ کر گزاریں۔ اس وقت بھی اہلِ علاقہ کے دلوں میں وہ مناظر تازہ ہیں جب پانی ہر لمحہ بستیوں کی طرف بڑھتا محسوس ہو رہا تھا۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ اس واقعے کو تقریباً ایک سال گزرنے کو ہے، مگر نالہ ڈیک کے ٹوٹے ہوئے حفاظتی پشتوں کی مکمل اور مؤثر مرمت ابھی تک نہیں ہو سکی۔ وقت گزرتا رہا، موسم بدلتے رہے، مگر وہ خطرہ جو گزشتہ سال لوگوں کے سروں پر منڈلا رہا تھا، آج بھی اپنی جگہ موجود ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے متعلقہ ادارے اس مسئلے کو اس سنگینی سے نہیں دیکھ رہے جس کا یہ تقاضا کرتا ہے۔
اب جبکہ برسات کا نیا سیزن ایک بار پھر سر پر کھڑا ہے اور صرف چند ہفتے بعد مون سون کی بارشیں شروع ہونے والی ہیں، تو اہلِ علاقہ کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔ لوگوں کے دلوں میں یہ سوال شدت سے ابھر رہا ہے کہ اگر اس سال بھی بارشیں زیادہ ہو گئیں تو کیا وہی منظر دوبارہ دہرایا جائے گا؟ کیا وہ بستیاں ایک بار پھر اسی عذاب سے دوچار ہوں گی جس کے زخم ابھی تک مندمل نہیں ہوئے؟
یہ صرف ایک تکنیکی یا انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی زندگیوں سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ نالہ ڈیک کے کنارے آباد بستیاں کسی بھی ممکنہ سیلابی صورتحال میں براہِ راست متاثر ہو سکتی ہیں۔ اگر حفاظتی پشتے مضبوط نہ ہوں تو پانی کا ایک تیز ریلا سینکڑوں گھروں، کھیتوں اور قیمتی جان و مال کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
اس لیے ضروری ہے کہ صاحبِ اقتدار اور متعلقہ ادارے اس مسئلے کو فوری طور پر سنجیدگی سے لیں۔ نالہ ڈیک کے حفاظتی پشتوں کی مرمت اور مضبوطی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں، تاکہ آنے والے برسات کے سیزن میں کسی ممکنہ تباہی سے بچا جا سکے۔
اہلِ علاقہ کی یہ درخواست کسی ذاتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ اپنی بستیوں، اپنے گھروں اور اپنی آنے والی نسلوں کے تحفظ کے لیے ہے۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو خدشہ ہے کہ تاریخ خود کو دہرا سکتی ہے، اور اس بار نقصان شاید پہلے سے بھی زیادہ ہو۔ وقت کا تقاضا یہی ہے کہ خطرے کو آنے سے پہلے روکا جائے، کیونکہ جب پانی سر سے گزر جاتا ہے تو پھر پچھتاوے کے سوا کچھ باقی نہیں رہتا۔
دعاء گو
فرحان اعجاز ظفروال