08/06/2026
بڑاپنڈ کی پہچان
ہر گاؤں کی شناخت اس کی زمین، گلیوں یا عمارتوں سے نہیں بلکہ ان لوگوں سے ہوتی ہے جو اپنے کردار، علم اور خدمت کے ذریعے اپنی مٹی کا نام روشن کرتے ہیں، بڑاپنڈ بھی ایسی شخصیات سے مالا مال رہا ہے جنہوں نے اپنی محنت اور اخلاص سے آنے والی نسلوں کی زندگیوں پر انمٹ نقوش چھوڑے، انہی قابلِ فخر شخصیات میں ایک نام استادِ محترم سر عبدالرؤف صاحب کا بھی ہے۔
سر عبدالرؤف صاحب ان خوش نصیب اساتذہ میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے تدریس کو صرف ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک مشن سمجھا۔ گورنمنٹ ہائی سکول بڑاپنڈ میں برسوں تک بائیولوجی، فزکس اور کیمسٹری جیسے اہم مضامین پڑھاتے ہوئے انہوں نے سینکڑوں طلبہ کے ذہنوں میں علم کی شمع روشن کی، ان کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ کتابی علم کو زندگی سے جوڑ دیتے تھے۔
آپ کی تدریس کا انداز منفرد تھا سائنسی اصولوں اور پیچیدہ نظریات کو ایسی سادہ اور روزمرہ مثالوں میں بیان کرتے کہ طالب علم نہ صرف انہیں بخوبی سمجھ لیتے بلکہ علم سے محبت بھی کرنے لگتے۔
نظم و ضبط کے حوالے سے آپ کا مؤقف ہمیشہ واضح اور غیر متزلزل رہا، کلاس روم میں ذرا سی بے توجہی یا غیر سنجیدگی بھی آپ کی نگاہ سے اوجھل نہ رہتی، ایسے موقع پر آپ کی وہ مخصوص گرج دار آواز گونجتی۔
اوے پُتر!
اور پورا کمرہ جماعت لمحوں میں خاموش ہو جاتا، اس ایک جملے میں جتنی سختی تھی، اتنی ہی شفقت بھی، جتنی سنجیدگی تھی، اتنی ہی خیرخواہی بھی۔ آج وہی شاگرد اس آواز کو یاد کر کے مسکراتے ہیں اور دل سے دعائیں دیتے ہیں، کیونکہ اسی تربیت نے انہیں زندگی کے چیلنجز کا سامنا کرنا سکھایا۔
تعلیم کے ساتھ ساتھ سر عبدالرؤف صاحب نے عملی زندگی میں بھی محنت، دیانت اور جدت کی ایک خوبصورت مثال قائم کی۔ زراعت کے شعبے میں جدید طریقوں کو اپناتے ہوئے انہوں نے ثابت کیا کہ کامیابی صرف سوچنے سے نہیں بلکہ مسلسل محنت اور سیکھنے کے جذبے سے حاصل ہوتی ہے۔ ان کی کاوشوں کے ثمرات نہ صرف ان کے اپنے خاندان بلکہ پورے علاقے کے لیے حوصلہ افزا مثال بنے۔
جو شخص اپنی قوم اور شاگردوں کی فکر رکھتا ہو، وہ اپنے عزیزوں کی بھلائی کو بھی کبھی نظرانداز نہیں کرتا۔
سر عبدالرؤف صاحب ہمیشہ گاؤں کے سماجی اور فلاحی معاملات میں بھی پیش پیش رہے. مسجد کے امور ہوں، نوجوانوں کی رہنمائی ہو یا کسی اجتماعی کام میں تعاون، انہوں نے ہر موقع پر اپنی ذمہ داری کو احسن انداز میں نبھایا۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ انہیں صرف ایک استاد کے طور پر نہیں بلکہ ایک مخلص، ذمہ دار اور باکردار انسان کے طور پر بھی جانتے ہیں۔
آج جب وہ اپنی قابلیت، تجربے اور انتھک محنت کے بل بوتے پر گورنمنٹ ہائی سکول مراڑہ میں ہیڈ ماسٹر کے معزز منصب پر فائز ہیں تو یہ کامیابی صرف ان کی ذاتی کامیابی نہیں بلکہ پورے بڑاپنڈ کے لیے باعثِ فخر ہے۔ ان کی ترقی اس بات کا ثبوت ہے کہ اخلاص، محنت اور دیانت داری کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔
سر عبدالرؤف صاحب ان شخصیات میں سے ہیں جو اپنے عہد سے آگے نکل کر لوگوں کی یادوں میں زندہ رہتی ہیں۔ ان کے پڑھائے ہوئے اسباق، ان کی تربیت، ان کی نصیحتیں اور ان کا منفرد انداز آج بھی ان کے شاگردوں کے دلوں میں محفوظ ہے۔ ایسے لوگ کسی ایک ادارے یا عہدے کی نہیں بلکہ پوری قوم کی متاع ہوتے ہیں۔
بڑاپنڈ کے ہر فرد کی جانب سے استادِ محترم سر عبدالرؤف صاحب کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں اور دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں صحت، عزت، خوشیوں اور مزید کامیابیوں سے نوازے، ان کا سایہ ہمیشہ قائم رہے اور وہ اسی طرح علم، کردار اور خدمت کا چراغ روشن رکھتے رہیں۔ آمین ثم آمین ثم آمین یارب العالمین 🤲