Phander Times

Phander Times Phander Times is a project of Phander Production & Communication Services Private Limited Phander Times is an emerging Digital Media House in Gilgit Baltistan.
(2)

It focuses on the interest of mountain communities, live in Gilgit Baltistan and Chitral. As the real Voice of Region, Phander Times believes in true professional media landscape which can mobilize and sensitise the communities towards behavioural change, peace and love for diversity. We also believe that a free but professional and responsible press can play a vital role to maintain accountability in a society.

بے شرم حکمران حرامخور ٹھیکہ درانیہ تصویر بول رہی ہے کہ یہ ملک بد عنوان لوگوں کا گڑھ ہے. ایکسئین غذر اور ڈی سی غذر کو چاہ...
13/01/2026

بے شرم حکمران حرامخور ٹھیکہ دران

یہ تصویر بول رہی ہے کہ یہ ملک بد عنوان لوگوں کا گڑھ ہے. ایکسئین غذر اور ڈی سی غذر کو چاہئے کہ یہ فوٹو فریم کرکے اپنے دفاتر میں لگائے تاکہ ملاقاتی اس کو جی بھر کر دیکھ سکے. ہر سال محکمہ لاکھوں جبکہ سی ایم کی سفارش، متعلقہ ایم این اے کی محنت سے کروڑوں اس چینل پر خرچ ہوتے ہیں مگر یہ چینل ہے کہ ٹھیک ہونے کا نام نہیں لے رہی. پھنڈر ٹائمز گزشتہ پانچ سالوں سے اسی چینل کی صورتحال کرپشن اور غبن کا واویلا کر رہا ہے. مگر کسی بد عنوان کے کانوں پہ جوں نہں رینگتی.. اینٹی کرپشن کو چاہئے کہ اس چینل پر لگے ملکی خزانے کا احتساب کریں تاکہ دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو.

یاد رہے ہم اس مسلے پر کمیٹی بناکر تحقیقات کے لئے سکریٹری واٹر اینڈ پاور کے پاس گئے تھے مگر اس وقت کے ڈی سی ضمیر عباس نے سکریٹری کو یقین دلایا تھا کہ اب کی بار پانچ کروڑ روپے کی سفارش ہے اس بجٹ سے سارا مسلہ حل کریں گے . مگر ایسا نہ ہو سکا

پایوکؙش تھنگئی کا محسن ، استادالاساتذہ، سماجی و مذہبی قیادت اور خلیفہ عمرخان طویل علالت کے بعد انتقال کرگئےاؙستاد عمر خا...
11/01/2026

پایوکؙش تھنگئی کا محسن ، استادالاساتذہ، سماجی و مذہبی قیادت اور خلیفہ عمرخان طویل علالت کے بعد انتقال کرگئے

اؙستاد عمر خان انیس سو ساٹھ کے آغاز میں اپنی تعلیمی خدمات شروع کی اور گاوں پایوکؙش کو علمی محور
بنانے میں اہم کردار ادا کیا

پایوکؙش میں بڑے بڑے علمی نام ان کی شاگردی و تربیت میں رہے اور ان کےعلمی سائے میں پرورش پاکر حصول علم کو اپنا شعار بنایا

استاد عمر خان پیوکش اور تھنگئی کے لئے علمی بنیاد کا پہلا پتھر ثابت ہوئے جس کے بعد تھنگئی ڈی جے سکول شاندار علمی کارکردگی کا مرکز بنا رہا جو آج نمایاں مقام رکھتا ہے

سماجی خدمت ان کی شخصیت کا جؙز لاینفک تھا جو عمر بھر متحرک رہا، اسماعیلی کونسل اور ثالثی بورڈ میں خدمت دی، 35 سال تک مذہبی تعلیم بھی دیتے رہے

ان کی صحبت ہمیشہ علم دوست اور منابع علوم میں گزری، پیران دین اور اسکالرز سے مستفید رہے اور بعد ازان بطور خلیفہ کمیونٹی کی بھر پور خدمت کی

اؙن کی رحلت پر ان کے شاگردان ، گاوں کے عمائدین اور مختلف حلقوں نے افسوس کا اظہار کیا اور انہیں خراج عقیدت پیش کیئے

معروف شینا شاعر دادا خلیفہ رحمت جان ملنگ کے مزار پر حاضریکالم: قطرہ قطرہتحریر۔ اسرارالدین اسرارگلگت بلتستان کی قدیم اور ...
11/01/2026

معروف شینا شاعر دادا خلیفہ رحمت جان ملنگ کے مزار پر حاضری

کالم: قطرہ قطرہ
تحریر۔ اسرارالدین اسرار

گلگت بلتستان کی قدیم اور مٹھاس سے لبریز زبان شینا کے اولین صاحب دیوان اور معروف شاعر، میرے دادا خلیفہ رحمت ملنگ جان کی ذات شینا ادب میں ایک روشن مینار کی حیثیت رکھتی ہے۔ طویل عرصے بعد اپنے بیٹے وجہہ الدین کے ہمراہ اپنے آبائی گاؤں شیر قلعہ میں واقع ان کے مزار پر حاضری اور فاتحہ خوانی دراصل صرف ایک خاندانی روایت کی ادائیگی نہیں تھی بلکہ شینا زبان، اس کی تہذیب اور اس کے صوفیانہ ورثے سے ایک روحانی تجدیدِ عہد بھی تھی۔

رحمت جان، جنہوں نے شاعری میں ملنگ کا تخلص اختیار کیا، 1885ء میں شیر قلعہ میں پیدا ہوئے اور 1971ء میں اسی سرزمین میں آسودۂ خاک ہوئے۔ ان کی شاعری محض لفظوں کی آرائش نہیں بلکہ ایک فکری، روحانی اور انسانی پیغام کی حامل ہے۔ وہ تصوف اور صوفیانہ نظریات کے علمبردار تھے اور ان کی فکر کا محور عشق، انسانیت اور احترامِ آدمیت تھا۔

ان کی عشقیہ داستان “یورمس گا ملنگ” شینا ادب میں ایک تاریخی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ داستان محض ایک محبوب سے وابستگی کا بیان نہیں بلکہ عشقِ حقیقی اور کائناتی حسن کی رمزوں سے لبریز ایک علامتی بیانیہ ہے۔ ملنگ جان کے نزدیک عشق کسی فرد تک محدود نہیں بلکہ قدرت کی وسعتوں سے جڑا ہوا ایک آفاقی تجربہ ہے۔ان کے تین مجموعہ کاکلام گلزار ملنگ جان، ندائے ملنگ جان اور یورمس ملنگ جان شائع ہوچکے ہیں۔

بدقسمتی سے وقت کے ساتھ کچھ غیر ضروری، لغو اور ہجویہ اشعار ان سے منسوب کیے جاتے رہے، جو نہ صرف ان کی فکری عظمت کے منافی ہیں بلکہ شینا ادب کے ساتھ بھی ناانصافی ہیں۔ ایسی اشعار ان کے حاسدوں کی ذہنی اختراع کہلا سکتے ہیں لیکن ملنگ کی شاعری ہرگز نہیں کہلاسکتے۔ ملنگ بیک وقت عربی ، فارسی ، اردو اور شینا میں مہارت رکھتے اور وہ اپنے زمانے کے پڑھے لکھے شاعر اور عالم تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کی مستند شاعری وہی ہے جو ان کے مجموعہ کلام میں محفوظ ہے۔ بعد ازاں اسی مستند شینا کلام کو میں نے “ملنگ سمترہ” کے عنوان سے اردو ترجمے کے ساتھ 2011ء میں شینا لینگویج اینڈ کلچر پروموشن سوسائٹی کے تعاون سے شائع کرایا۔ اس علمی و ادبی کاوش میں ممتاز ماہرِ لسانیات محترم شکیل احمد شکیل استاد کا کردار نہایت کلیدی رہا۔

ملنگ جان کے کلام میں پاکیزگی، لطافت اور روحانی جمال نمایاں ہے۔ وہ محبوب کو چاند سے زیادہ شفاف اور گلاب سے زیادہ باحیا قرار دیتے ہیں، اور عشق کو بلبل کی نغمگی سے بھی بڑھ کر حسین تصور کرتے ہیں:

پکیزہ ہن تو یونے جو
گلاب شرم تھئے مکھے جو
چینالی مئے جلی جو لائی شیلی بلبل جو

یعنی
تم چاند سے زیادہ پاکیزہ ہو،
گلاب تمہیں دیکھ کر شرماتا ہے،
مجھے تو تم جان سے زیادہ عزیز ہو،
اور تم بلبل سے بھی زیادہ حسین و جمیل ہو۔

ایک اور مشہور شعر میں وہ اپنے تخلیقی کرب اور فکری وابستگی کو یوں بیان کرتے ہیں:

قلم یاین کاغذے ساتھ
خیال بجن یورمسے ساتھ
فلک نچن ملنگ ساتھ
ظلم تھین ہزار رنگے ساتھ

قلم قرطاس پر رواں ہے،
خیال یورمس کے ساتھ محوِ سفر ہے،
فلک بھی ملنگ سے حسد کرتا ہے،
اور ہزار رنگ کے مظالم ڈھاتا ہے۔

جبکہ عشق کی ماہیت پر ان کا یہ شعر ان کی فکری گہرائی کا عکاس ہے:

یورمس نہ عبارت ہن
معنی عشق قدرت ہن

یورمس محض ایک استعارہ ہے،
عشق کا اصل مفہوم تو قدرت کی رعنائی میں پوشیدہ ہے۔

خلیفہ رحمت ملنگ جان کی شاعری کسی ہجو یا لغویت کی محتاج نہیں۔ وہ شاعرِ عشق بھی ہیں اور شاعرِ انسانیت بھی۔ ان کا اصل تعارف وہی ہے جو ان کے مستند کلام میں محفوظ ہے، اور وہی شینا ادب کا اصل سرمایہ ہے۔
میری خواہش ہےکہ زندگی نے مہلت دی تو ملنگ کی شاعری پر تبصرہ اور ان کے مکمل تعارف پر مبنی کالمز کا سریز شروع کیا جائے۔

11/01/2026

شمرن بجلی گھر کی چینل عوام کے جان و مال دونوں کے لئے عذاب ہے، آج صبح ایک جانور کو کئی جتن کے بعد زندہ نکالا گیا

اسی چینل میں کئی قیمتی جانیں چلی گئیں، حکومت، ٹھیکہ دار اور بیورو کریسی کو شرم نہ آسکی

ستر کروڑ روپے اس چینل کے نام پر خرچ ہوئے، سردیوں میں پانی کی کمی اور گرمیوں میں فراوانی کے سبب لوڈ شیڈنگ معمول ہے

جی بی دنیا کی واحد کالونی ہے جہاں آفسر شاہی ٹھیکہ دار، ٹھکیہ دار آفسر شاہی پال رہا ہے جبکہ ریاستی ایجنسیز سیاست دان سدھار رہے ہیں

انسانی آبادی کے وسط سے گزرنے والی اس چینل پر حفاظتی اقدامات تو دور کی بات ہے چینل سے رسیا پانی گاوں کا گاوں سیاچن گلیشئر میں تبدیل ہوتا ہے

اہل سیاست کو شرم، آفسر شاہ کو ندامت اور نہ ہی حرام خور ٹھیکہ داروں کو اپنی آخرت کی فکر ہے

بے بس عوام جن کو غیور کہہ کر سیاست دان اؙلو بنا رہےہیں، اب دو ماہ بعد فصلی بٹیروں کی کھیپ چوک چوراہوں پر تقاریر سنانے پہنچ جائیں گے

ماضی سے سبق اور بیداریِ غیرت عظمت ولی خان  باشعورقومیں نعروں سے نہیں کردار سے بنتی ہیںغیرت لفظوں میں نہیں عمل میں نظر آت...
11/01/2026

ماضی سے سبق اور بیداریِ غیرت

عظمت ولی خان

باشعورقومیں نعروں سے نہیں کردار سے بنتی ہیں
غیرت لفظوں میں نہیں عمل میں نظر آتی ہے اور جب کوئی
قوم خود کو پہچان لیتی ہے تو انہیں کوئی آسانی سے مٹا نہیں سکتا.
بالائی غذر حلقہ ۲ کے زندہ دل عوام
یہ تحریر کسی فرد کسی گروہ یا کسی سیاست کے خلاف نہیں بلکہ ہمارے اپنے ضمیر کے نام ایک پکار ہے یہ وہ آئینہ ہے جس میں ہمیں خود کو دیکھنا ہوگا سوال یہ نہیں کہ ہمیں کیا ملا اصل سوال یہ ہے کہ ہم نے کیا کھو دیا؟ اور سب سے اہم بات یہ کہ کیا ہم اب بھی جاگنے کے لیے تیار ہیں یا نہیں؟
ہم ایک ایسے خطے کے وارث ہیں جس کی زمین زرخیز ہے پہاڑ باوقار ہیں اور لوگ غیرت مند کہلانے کے حقدار ہیں مگر تلخ حقیقت یہ ہے کہ آج بھی ہمارے بچے بنیادی سہولیات سے محروم ہیں ہمارے نوجوان راستہ ڈھونڈ رہے ہیں اور ہمارے بزرگ حسرت بھری نگاہوں سے مستقبل کو دیکھ رہے ہیں یہ سب قدرت کی کمی نہیں، یہ ہماری اجتماعی غفلت کا نتیجہ ہے
ہم نے ماضی میں بار بار وہی غلطی کی
ہم نے کردار کے بجائے چہرے دیکھے
ہم نے اصولوں کے بجائے نعروں پر یقین کیا
ہم نے اجتماعی مستقبل کے بجائے ذاتی فائدے کو ترجیح دی
اور پھر جب نتیجہ وہی نکلا جو نکلنا تھا، تو ہم نے حالات کو کوسا خود کو نہیں
یاد رکھیں
قومیں تب تباہ نہیں ہوتیں جب ان کے پاس وسائل کم ہوں قومیں تب تباہ ہوتی ہیں جب ان میں غیرت مر جائے
غیرت یہ نہیں کہ ہم صرف باتیں کریں، غیرت یہ ہے کہ ہم غلط کو غلط کہنے کا حوصلہ رکھیں۔ غیرت یہ ہے کہ ہم اپنے فیصلوں پر خود سوال اٹھا سکیں
تعلیم کے نام پر عمارتیں تو کھڑی ہو گئیں، مگر سوچ نہیں بدلی اسکول موجود ہیں مگر معیار نہیں اساتذہ ہیں مگر نگرانی نہیں ہم نے تعلیم کو ڈگری تک محدود کر دیا حالانکہ تعلیم کا اصل مقصد شعور پیدا کرنا تھا آج کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم تعلیم یافتہ ہو کر بھی بے سمت ہیں
صحت کے مراکز بنے مگر صحت نہ مل سکی بیمار ماں زخمی بچہ اور بے بس بزرگ آج بھی بہتر علاج کے لیے دور دراز شہروں کی طرف دیکھتے ہیں علاج اگر وقت پر نہ ملے تو وہ سہولت نہیں ایک بے معنی ڈھانچہ بن جاتا ہے یہ سوال ہم سب سے ہے کیا علاج مانگنا گناہ ہے
نوجوان کسی بھی قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں مگر یہاں نوجوان مسئلہ بن گئے ہیں اس لیے نہیں کہ وہ نالائق ہیں بلکہ اس لیے کہ ہم نے انہیں راستہ نہیں دیا ہنر، کھیل، روزگار اور مثبت سرگرمیوں کے دروازے بند رکھے گئے جب نوجوان کو مقصد نہ ملے تو وہ مایوس ہوتا ہے اور مایوسی سب سے خطرناک دشمن ہے
ہمیں اب ماننا ہوگا کہ مسئلہ سڑک بجلی یا پانی سے کہیں بڑا ہے اصل مسئلہ ہماری سوچ ہے ہم شور تو بہت مچاتے ہیں مگر مستقل مزاجی نہیں دکھاتے ہم جذباتی فیصلے کرتے ہیں پھر برسوں ان کے نتائج بھگتتے ہیں ہم سب کچھ ایک دن میں چاہتے ہیں مگر قربانی دینے کو تیار نہیں ہوتے
قیادت کا تصور بھی ہم نے بگاڑ دیا ہے ہم لیڈر کو حاکم سمجھ بیٹھے حالانکہ قیادت خدمت کا نام ہے بہترین لیڈر وہ نہیں جو سب سے اونچی آواز میں بولے بلکہ وہ ہے جو سب سے زیادہ درد محسوس کرے جو اقتدار کو اعزاز نہیں امانت سمجھے جو وعدوں سے نہیں عمل سے پہچانا جائے
لیکن سچ یہ بھی ہے کہ کمزور قیادت کمزور عوام کی پیداوار ہوتی ہے جب ہم سوال نہیں کرتے جب ہم صرف تماشائی بنتے ہیں جب ہم غلط پر خاموش رہتے ہیں تو ہم خود اپنے مستقبل کے قاتل بن جاتے ہیں خاموشی بھی جرم ہے جب سامنے ناانصافی ہو
کب تک ہم ایک دوسرے کو الزام دیتے رہیں گے؟
کب تک ہم قبیلے علاقے اور ذاتی پسند ناپسند میں بٹے رہیں گے؟
یاد رکھو جو قومیں بٹ جاتی ہیں وہ مٹ جاتی ہیں
آج وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے بچوں کے چہروں کو دیکھ کر فیصلہ کریں یہ فیصلہ کسی جلسے میں نہیں اپنے ضمیر کے سامنے کرنا ہے کیا ہم انہیں ایک بہتر مستقبل دے کر جانا چاہتے ہیں یا صرف وعدوں اور تقریروں کا بوجھ؟
ہمیں اب غیرت کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا
غیرت کے ساتھ سوال کرنا ہوگا
غیرت کے ساتھ درست اور غلط میں فرق کرنا ہوگا
اور غیرت کے ساتھ کردار اور اصول کو معیار بنانا ہوگا
اگر آج بھی ہم نے ماضی سے سبق نہ سیکھا اگر آج بھی ہم نے سوچ نہ بدلی تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی مگر اگر ہم نے آج فیصلہ کر لیا اگر ہم نے اپنے ضمیر کو جگا لیا تو کوئی طاقت ہمارے خطے کو آگے بڑھنے سے نہیں روک سکتی
یہ تحریر ختم ہو سکتی ہے
مگر سوچ ختم نہیں ہونی چاہیے
یہ الفاظ کاغذ پر ہیں
مگر فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے

08/01/2026

تلاش گمشدہ پاسپورٹ

ایک عدد پاسپورٹ گاہکوچ بازار میں کہیں گم گیا ہے اگر کسی کو ملا ہو تو برائے کرم اس نمبر پر اطلاع دیں. عین نوازش ہوگی .
+92 355 5085666

نگراں وزیرِ تعلیم گلگت بلتستان بہادر علی کی زیر صدارت نومینیشن بورڈ کا اہم اجلاس ہوااجلاس میں نامزدگی بورڈ کے اراکین جن ...
08/01/2026

نگراں وزیرِ تعلیم گلگت بلتستان بہادر علی کی زیر صدارت نومینیشن بورڈ کا اہم اجلاس ہوا

اجلاس میں نامزدگی بورڈ کے اراکین جن میں سیکریٹری ہائر، ٹیکنیکل و اسپیشل ایجوکیشن گلگت بلتستان فرید احمد، محکمہ صحت کے نمائندہ ڈپٹی سیکریٹری محمد اسحاق، ڈائریکٹر ہائر ایجوکیشن محمد عالم، ایڈیشنل ڈائریکٹر پلاننگ (ہائر، ٹیکنیکل و اسپیشل ایجوکیشن) محمد بلال، ڈپٹی سیکریٹری (ہائر ایجوکیشن) شمس الدین، ڈائریکٹر اکیڈمکس (اسکولز) گلگت واجد علی، ڈائریکٹر دیامر–استور ریجن (اسکولز) فقیراللہ اور ڈائریکٹر بلتستان ریجن (اسکولز) عبد الوہاب شامل تھے۔

سیکریٹری ہائر، ٹیکنیکل و اسپیشل ایجوکیشن نے بورڈ کو ایم بی بی ایس/بی ڈی ایس نامزدگی پالیسی کے ساتھ ساتھ داخلہ کے عمل کے حوالے سے حکومتِ پنجاب کے حالیہ فیصلوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔ تفصیلی غور و خوض کے بعد نامزدگی بورڈ نے تعلیمی سال 2025-26 کے لیے گلگت بلتستان کوٹے کے تحت خیبر پختونخواہ، سندھ، بلوچستان اور آزاد جموں و کشمیر میں مختص 29 نشستوں پر امیدواروں کے انتخاب کی منظوری دے دی۔

صوبائی وزیرِ تعلیم بہادر علی نے بطور چیئرمین نامزدگی بورڈ، نامزدگی ٹیم کی محنت، لگن اور جامع غور و خوض کو سراہا اور اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا کہ ایم بی بی ایس/بی ڈی ایس امیدواروں کے انتخاب کا عمل شفاف اور میرٹ کی بنیاد پر مکمل کیا گیا۔

گلگت بلتستان میں خواتین باہم معذوری اور ان کا حقِ رائے دہیکالم: قطرہ قطرہتحریر: اسرارالدین اسرارافراد باہم معذوری معاشرے...
07/01/2026

گلگت بلتستان میں خواتین باہم معذوری اور ان کا حقِ رائے دہی
کالم: قطرہ قطرہ
تحریر: اسرارالدین اسرار

افراد باہم معذوری معاشرے کے سب سے زیادہ کمزور طبقات میں شمار ہوتے ہیں، تاہم معذور خواتین کو صنفی امتیاز اور معذوری، دونوں بنیادوں پر دوہرے امتیاز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ تہہ دار محرومی ان کی سیاسی شمولیت کو شدید طور پر محدود کرتی ہے، بالخصوص گلگت بلتستان کے تناظر میں، جہاں جغرافیائی، سماجی اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق مسائل پہلے ہی بنیادی سہولیات تک رسائی کو مشکل بناتے ہیں، وہاں معذور خواتین انتخابی عمل میں بڑی حد تک نظر انداز رہتی ہیں۔
اس پس منظر میں محترمہ تسنیم عباس، دارالہنر فاؤنڈیشن کی سربراہ، کی کاوشیں قابلِ تحسین ہیں۔ وہ گلگت بلتستان میں معذور خواتین کے بااختیار بنانے کے لیے مسلسل سرگرمِ عمل ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے آغا خان دیہی معاونتی پروگرام کے اشتراک سے دنیور میں ایک پینل گفتگو کا انعقاد کیا، جس کا موضوع معذور خواتین اور دیگر معذور افراد کی سیاسی شرکت اور حقِ رائے دہی تھا۔ راقم بھی اس پینل گفتگو میں پینلسٹ کی حیثیت سے شریک تھا۔ اس نشست میں سول سوسائٹی کے اراکین، سماجی کارکنان اور کمیونٹی نمائندگان نے بڑی تعداد میں شرکت کی، جہاں ان قانونی خلا، سماجی رکاوٹوں اور عملی مشکلات پر تفصیلی گفتگو کی گئی جن کا سامنا معذور خواتین کو انتخابات کے دوران کرنا پڑتا ہے۔
قانونی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو معذور خواتین کے حقِ رائے دہی کی بنیاد مضبوط بین الاقوامی اور قومی انسانی حقوق کے فریم ورک میں موجود ہے۔ عالمی سطح پر انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے کی دفعہ اکیس، خواتین کے خلاف ہر قسم کے امتیاز کے خاتمے کے کنونشن، شہری و سیاسی حقوق کے بین الاقوامی عہدنامے کی دفعہ پچیس، اور اقوام متحدہ کے معذور افراد کے حقوق سے متعلق کنونشن کی دفعہ انتیس ریاستوں کو پابند کرتی ہے کہ وہ بلا امتیاز تمام شہریوں کی مساوی سیاسی شرکت کو یقینی بنائیں۔
قومی سطح پر آئینِ پاکستان کی دفعہ پچیس اور دفعہ سینتیس مساوات اور شرکت کی ضمانت دیتی ہیں، جبکہ انتخابی قانون دو ہزار سترہ میں معذور افراد کے لیے قابلِ رسائی پولنگ کے انتظامات سے متعلق دفعات شامل ہیں۔ معذور افراد کے حقوق کا قانون دو ہزار اٹھارہ بھی مساوی حقوق اور عدم امتیاز کو تقویت دیتا ہے۔ گلگت بلتستان میں معذور افراد کے بااختیار بنانے سے متعلق قانون دو ہزار بیس معذور افراد کے حقوق، بشمول سیاسی شرکت، کو واضح طور پر فروغ دیتا ہے۔ تاہم ان تمام قانونی وعدوں کے باوجود عملی نفاذ نہایت کمزور ہے۔
پینل گفتگو میں گلگت بلتستان میں معذور خواتین کے حقِ رائے دہی کو مضبوط بنانے کے لیے جامع سفارشات پیش کی گئیں۔ سب سے پہلی سفارش یہ ہے کہ فوری طور پر قانونی اور پالیسی اصلاحات کی جائیں۔ ہر قسم کی معذوری رکھنے والے افراد کے لیے حقِ رائے دہی کو واضح اور غیر مبہم طور پر تسلیم کیا جائے۔ غیر رسمی اور غیر قانونی رکاوٹیں، جیسے طبی سرٹیفکیٹ کا مطالبہ، سرپرست کی اجازت، یا خاندان کے ذریعے ووٹ پر کنٹرول، ختم کیے جائیں۔ خاندان کے افراد یا دیکھ بھال کرنے والوں کے ذریعے جبری یا نمائندہ ووٹنگ پر واضح پابندی عائد کی جائے، اور گلگت بلتستان کے انتخابی قوانین کو معذور افراد کے حقوق سے متعلق بین الاقوامی کنونشن کی دفعہ انتیس اور قومی معذوری قوانین کے مطابق مکمل طور پر ہم آہنگ کیا جائے۔
دوسری سفارش پولنگ اسٹیشنز کی مکمل قابلِ رسائی ہونے سے متعلق ہے۔ رسائی کو صرف چند منتخب پولنگ اسٹیشنز تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ تمام پولنگ اسٹیشنز کو جسمانی طور پر قابلِ رسائی بنایا جائے۔ اس میں بغیر سیڑھی کے داخلہ، ریمپس، چوڑے دروازے اور راہداریاں، قابلِ رسائی ووٹنگ بوتھ، مناسب روشنی، بیٹھنے کی سہولت اور واضح نشانات شامل ہوں۔ گلگت بلتستان کے پہاڑی اور دیہی علاقوں کو مدنظر رکھتے ہوئے انتخابات سے قبل رسائی کے جائزوں کو لازمی قرار دیا جائے۔
تیسری سفارش مختلف ووٹنگ طریقوں کی فراہمی سے متعلق ہے۔ معذور خواتین کے لیے ڈاک کے ذریعے ووٹنگ، دور دراز علاقوں کے لیے موبائل پولنگ اسٹیشنز، اور شدید معذوری کے شکار افراد کے لیے گھریلو ووٹنگ متعارف یا وسیع کی جائے، جبکہ بدعنوانی سے بچاؤ کے لیے سخت حفاظتی اقدامات بھی یقینی بنائے جائیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ووٹر کو اپنی مرضی کے مطابق ووٹنگ کا طریقہ منتخب کرنے کا حق حاصل ہو تاکہ اس کی خودمختاری اور وقار برقرار رہے۔
چوتھی سفارش معاون ووٹنگ آلات کی فراہمی سے متعلق ہے، جن میں ابھری ہوئی تحریر والے بیلٹ پیپر، بڑے حروف والے بیلٹس اور جہاں ممکن ہو صوتی سہولت شامل ہو۔ کسی بھی قسم کی معاونت صرف ووٹر کی درخواست پر، خفیہ اور غیر جانبدار انداز میں فراہم کی جائے تاکہ ووٹ پر کسی قسم کا اثر نہ پڑے۔ گلگت بلتستان کے لیے کم لاگت اور مقامی حالات کے مطابق معاون حل اختیار کیے جائیں۔
پانچویں سفارش صنفی حساس نقطۂ نظر کی اہمیت پر زور دیتی ہے۔ پالیسی سازوں اور انتخابی حکام کو معذور خواتین کو درپیش دوہرے امتیاز کو تسلیم کرنا ہوگا۔ خواتین ووٹرز کی معاونت کے لیے تربیت یافتہ خواتین پولنگ عملہ تعینات کیا جائے، اور خصوصی آگاہی مہمات دیہی علاقوں کی معذور خواتین، اقلیتی اور مقامی خواتین پر مرکوز ہوں۔ خاندان یا کمیونٹی کے دباؤ سے خواتین کے ووٹنگ فیصلوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔
چھٹی سفارش قابلِ رسائی ووٹر آگاہی سے متعلق ہے۔ انتخابی معلومات ابھری ہوئی تحریر، صوتی فارمیٹس، آسان زبان میں اردو اور مقامی زبانوں میں فراہم کی جائیں، اور جہاں ممکن ہو اشاروں کی زبان میں بھی دستیاب ہوں۔ معذور افراد کی تنظیموں اور خواتین گروپس کے ساتھ شراکت داری ناگزیر ہے، جبکہ ریڈیو، کمیونٹی مراکز اور مقامی نیٹ ورکس کے ذریعے دور دراز علاقوں تک رسائی حاصل کی جائے۔
ساتویں سفارش انتخابی عملے کی تربیت سے متعلق ہے، جو کسی صورت نظر انداز نہیں کی جا سکتی۔ لازمی تربیت میں معذور افراد کے حقوق، صنفی حساسیت، عدم امتیاز اور باوقار ابلاغ شامل ہو۔ اہلکاروں کو واضح ہدایات دی جائیں کہ کسی بھی ووٹر کو معذوری کی بنیاد پر واپس نہ کیا جائے اور فراہم کی جانے والی معاونت ووٹ پر اثر انداز نہ ہو۔
آٹھویں سفارش یہ ہے کہ معذور خواتین کو انتخابی فیصلوں میں فعال طور پر شامل کیا جائے۔ انہیں انتخابی منصوبہ بندی کمیٹیوں، رسائی کے جائزوں اور انتخابی نگرانی ٹیموں میں نمائندگی دی جائے۔
“ہمارے بارے میں کوئی فیصلہ ہمارے بغیر نہیں” کا اصول تمام اصلاحات کی بنیاد ہونا چاہیے۔
نویں سفارش اعداد و شمار جمع کرنے اور نگرانی کی اہمیت پر زور دیتی ہے۔ ووٹر رجسٹریشن، ووٹنگ میں شرکت اور درپیش رکاوٹوں سے متعلق صنف اور معذوری کے لحاظ سے تفصیلی معلومات باقاعدگی سے جمع کی جائیں۔ سول سوسائٹی اور انتخابی مبصرین کو پولنگ اسٹیشنز کی رسائی اور معذور خواتین کے ساتھ سلوک کی نگرانی کی اجازت دی جائے۔
آخر میں، مضبوط احتساب اور شکایتی نظام ناگزیر ہے۔ شکایات کے نظام سادہ، قابلِ رسائی اور وسیع پیمانے پر مشتہر ہونے چاہئیں۔ جو اہلکار حقوق کی خلاف ورزی کریں یا رسائی سے انکار کریں، ان کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے، اور انتخابات کے دوران بروقت اصلاحی اقدامات یقینی بنائے جائیں۔
مجموعی طور پر پیغام بالکل واضح ہے: شمولیتی ووٹنگ کوئی خیرات نہیں بلکہ آئینی اور انسانی حقوق کی ذمہ داری ہے۔ رسائی کی منصوبہ بندی، مناسب فنڈنگ اور مؤثر نفاذ ناگزیر ہیں؛ اسے محض نیک نیتی یا وقتی انتظامات پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ کم وسائل اور پہاڑی علاقوں جیسے گلگت بلتستان میں بھی معذور خواتین کی بامعنی سیاسی شمولیت سیاسی عزم، کمیونٹی شراکت اور حقوق پر مبنی نقطۂ نظر کے ذریعے ممکن ہے۔ معذور خواتین کے حقِ رائے دہی کو یقینی بنانا نہ صرف قانونی فریضہ بلکہ ایک حقیقی جمہوری معاشرے کے لیے ایک اخلاقی تقاضا بھی ہے۔

دؙنیائے کھوار کا روشن مینار،شاعر، ادیب، گلوکار و صدا کار اقبال الدین سحر انتقال کر گئےایک روشن سحر کا آغاز شوغور چترال م...
07/01/2026

دؙنیائے کھوار کا روشن مینار،شاعر، ادیب، گلوکار و صدا کار اقبال الدین سحر انتقال کر گئے

ایک روشن سحر کا آغاز شوغور چترال میں ہوا تھا اور زندگی کی شام پشاور کے ایک ہسپتال میں ہوئی

کھوار موسیقی، ادب، شاعری ،صدکاری اور گائیکی میں جو نام اقبال الدین سحر نے بنایا وہ کسی اور کے حصے میں شاید ہی آئے

آج دن گیارہ بجے کھوار کے سحر کو ان کے آبائی گاوں شوغور میں سپرد خاک کیا جائے گا

مہ کھوارو ژن مہ سحر بغائے
مہ کھسپان زبان مہ میتار بغائے

02/01/2026

‎ہردی پھتی‎ Part 14

02/01/2026

‎ہردی پھتی‎ Part 13

02/01/2026

‎ہردی پھتی‎ Part 12

Endereço

7 1 D, 2810/175
Almada
2800

Notificações

Seja o primeiro a receber as novidades e deixe-nos enviar-lhe um email quando Phander Times publica notícias e promoções. O seu endereço de email não será utilizado para qualquer outro propósito, e pode cancelar a subscrição a qualquer momento.

Entre Em Contato Com O Negócio

Envie uma mensagem para Phander Times:

Compartilhar