Luqman Gojra News

Ligar Como chegar Website Contactar o negócio

Luqman Gojra News تحصیل گوجرہ کا سب سے بڑا نیوز نیٹ ورک - 200K+ فالوورز کے ساتھ نمبر ون انتخاب!
گوجرہ جانتا ہے

لقمان گوجرہ نیوز (گوجرہ جانتا ہے)
گوجرہ کی عوام کا اعتماد تحصیل گوجرہ کا #1 نیوز نیٹ ورک! 200K+ فالوورز کے ساتھ نمبر ون انتخاب۔
پہلے آپ تک ہر بریکنگ نیوز
تحصیل گوجرہ، ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ فیصل آباد، پاکستان بھر کی تازہ ترین
لوکل سٹوریز، سیاسی ایکسکلوسیوز، لائیو اپڈیٹس
محمد لقمان مانی پوریا (بانی CEO) کی لقمان گوجرہ گروپ کا آفیشل چینل
ابھی فالو کریں | لائک کریں | شیئر کریں
ہر خبر، ہر پل - گوجرہ کی آواز، آپ کا اعتماد!

انکل ہمارے ماما بابا کی صلح کروا دیں ۔۔۔۔ 3 بہنیں ایک بھائی اور ماں باپ کی لڑائی ۔۔۔۔۔۔ملک فہیم کھوکھر کے ایک اور شاندار...
03/10/2026

انکل ہمارے ماما بابا کی صلح کروا دیں ۔۔۔۔ 3 بہنیں ایک بھائی اور ماں باپ کی لڑائی ۔۔۔۔۔۔ملک فہیم کھوکھر کے ایک اور شاندار کارنامے کی روداد ۔۔۔۔۔۔۔ چار بچوں کی ماں شوہر کی مارپیٹ سے تنگ آکر خلع حاصل کرنے وکیل صاحب کے پاس آئی مگر ملک فہیم کھوکھر نے جھگڑے کا دی اینڈ کرنے کی بجائے بچوں کے کہنے پر دونوں میاں بیوی کی صلح کروا دی ۔۔ ساری کہانی جان کر شوہر کو اسکی غلطیاں بتائیں اور بیوی کو اسکا قصور بتایا ۔۔۔ بچوں کے کہنے پر دونوں میاں بیوی صلح پر راضی ہو گئے ، اور آج کئی ماہ ہو گئے ماضی کے شکوے اب ماضی کا قصہ ہیں ۔ اور بچے ماں باپ کی محبت اور شفقت کے ساتھ پرورش پارہے ہیں ۔ بلاشبہ بچے میاں بیوی کے رشتے میں سب سے مضبوط رسی ہوتے ہیں ۔۔۔۔

ویلڈن میانوالی پولیس : اندھے  اور مشکل ترین ق۔ت۔ل کیس کا معمہ 10 روز بعد حل ۔۔۔  مق۔تول کی حسین و جمیل بیوی گرفتار ۔۔۔۔۔...
03/10/2026

ویلڈن میانوالی پولیس : اندھے اور مشکل ترین ق۔ت۔ل کیس کا معمہ 10 روز بعد حل ۔۔۔ مق۔تول کی حسین و جمیل بیوی گرفتار ۔۔۔۔۔ کالاباغ کے علاقہ کوٹ چاندنہ میں 21 ستمبر کی رات ثناء اللہ ولد محمد سلیمان اپنے ہی گھر میں چارپائی اپنی چارپائی پر ق۔ت۔ل ہو گیا تھا ۔ مق۔تول کی بیوی نے پولیس کو بیان کیا کہ ڈا۔کو آئے اور اسکے شوہر کو مزاحمت پر ق۔ت۔ل کرکے فرار ہو گئے ۔ ڈی پی او میانوالی وقار عظیم کھرل نے اس کیس کو حل کرنے کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل دی ، ابتدا میں تو کوئی سراغ ہاتھ نہ آیا نہ مقتول کی کسی سے دشمنی تھی اور نہ ہی یہ ڈکیتی کی واردات لگ رہی تھی ۔علاقہ کی روایات کی وجہ سے فوری طور پر مق۔تول کی بیوی پر فوکس نہ کیا گیا جبکہ میانوالی میں یہ رواج بھی نہ ہونے کے برابر ہے کہ بیویاں اپنے شوہر کو ق۔ت۔ل کروا دیں ۔ لیکن تمام پہلوؤں پر غور کرنے اور اور کوئی سراغ نہ ملنے کے بعد جب پولیس نے مق۔تول کے اہل خانہ پر فوکس کیا تو انکشاف ہوا کہ مق۔تول کا سوتیلا بھائی عمران ولد سلیمان اور مقتول کی بیوی تنزیلہ بی بی ق۔ت۔ل کی اس واردات میں ملوث ہیں۔ دونوں کی شک کی بناء پر گرفتاری کے بعد اندرون خانہ کہانی یہ سامنے آئی کہ مق۔تول ثنا اللہ کی بیوی تنزیلہ کے اپنے شوہر کے سوتیلے بھائی کے ساتھ مراسم تھے ۔ یہ سلسلہ پچھلے سال ڈیڑھ سال سے جاری تھا ۔ ان تعلقات کی ایک حد یہ تھی کہ ثنااللہ کی بیوی اپنے شوہر کو نیند کی گو۔لیاں دے کر سلا دیتی اور خود ساری رات ملزم کے ساتھ گلچھڑے اڑاتی ۔ثنااللہ کو تو اس سارے گندے کھیل کا علم بھی نہ ہو سکا مگر یہ دونوں گناہ کی دلدل میں اتنے پھنسے کہ ایک دوسرے کے علاوہ دونوں کو کچھ نظر ہی نہ آتا تھا اور دونوں فیصلہ کر چکے تھے کہ شادی ہر صورت کریں گے ۔ ملزمہ تنزیلہ کے آشنا کو اب منظور نہ تھا کہ اسکی محبوبہ کسی اور کی ہو کررہے چنانچہ شادی کرنے کی خاطر اور واحد رکاوٹ ہٹانے کے لیے ملزمہ نے وقوعہ کی رات شوہر کو نیند کی گو۔لیاں دیں جبکہ اسکے دیور نے رات گئے گھر میں داخل ہو کر ثنااللہ کو دو گو۔لیاں مار کر ق۔ت۔ل کردیا اور فرار ہو گیا ،ملزمہ نے شور شرابہ کیا اور محلے داروں کو اکٹھا کیا تو 15 پر کال کی گئی ۔ اگلے روز ملزم اپنے سوتیلے بھائی کی لا۔ش کے ساتھ ہسپتال بھی گیا اور بعد میں کفن دفن میں بھی شریک رہا ۔ اس واردات کو 12 دن گزر چکے ہیں کل پولیس نے یہ معمہ سائنسی بنیادوں اور ٹیکنکل ثبوتوں کی بنیاد پر حل کر کے ملزمہ اور اسکے آشنا دیور کو گرفتار کر لیا ہے ۔مزید کارروائی جاری ہے ۔

آج صبح 15 کال موصول ہوئی کہ بینک میں ڈکیتی واردات ہوئی9 منٹ کی یہ ٹوٹل واردات تھی سیف سٹی اور آپریشنز ونگ ٹیموں نے مشترک...
02/10/2026

آج صبح 15 کال موصول ہوئی کہ بینک میں ڈکیتی واردات ہوئی

9 منٹ کی یہ ٹوٹل واردات تھی سیف سٹی اور آپریشنز ونگ ٹیموں نے مشترکہ کام کر کے واردات ٹریس کی ملزم غیر ملکی ہے اور 16 ستمبر کو پاکستان آیا اس سے پہلے بھی یہ پاکستان آ چکا ہے

والدین سے جھگڑ کر یہ پاکستان آیا اور یہاں پیسوں کے کئے واردات کی گیمز دیکھ کر اس نے واردات کی ملزم نے پلان بنا رکھا تھا کہ رینٹ کی گاڑی لیکر اسلام آباد روانہ ہونا تھا

ملزم نے پوری پلاننگ کر کے یہ واردات کی 7 لاکھ 32 ہزار اس نے بنک سے لوٹے رینٹ سے ملزم نے گاڑی لے رکھی تھی اور اسلام آباد جانا تھا یو کے میں اس کی فیملی سے لڑائی ہوئی تھی یہاں آ گیا

ملزم نے گھر کے قریب ایک بنک کا انتخاب کیا ملزم نے اسلحہ خریدا اور ٹھوکر سے گولیاں خریدیں ان سب پر بھی کارروائی کر رہے ہیں اس گھر کے اوپر والے پورشن پر کرایہ دار رہ رہے تھے

سیف سٹی کی مدد سے یہ واردات ٹریس کی گئی ہے ملزم نے پوری پلاننگ کر کے یہ واردات کی 7 لاکھ 32 ہزار اس نے بنک سے لوٹے

رینٹ سے ملزم نے گاڑی لے رکھی تھی اور اسلام آباد جانا تھا یو کے میں اس کی فیملی سے لڑائی ہوئی تھی یہاں آ گیا

ملزم نے گھر کے قریب ایک بنک کا انتخاب کیا ملزم نے اسلحہ خریدا اور ٹھوکر سے گولیاں خریدیں ان سب پر بھی کارروائی کر رہے ہیں

اس گھر کے اوپر والے پورشن پر کرایہ دار رہ رہے تھے سیف سٹی کی مدد سے یہ واردات ٹریس کی گئی ہے

ماں باپ بھائی سب ہیں مگر اصل میں میرا اس دنیا میں کوئی بھی نہیں ہے  : دو روز قبل خانپور ،رحیم یار خان کی ایک لیڈی کانسٹی...
02/10/2026

ماں باپ بھائی سب ہیں مگر اصل میں میرا اس دنیا میں کوئی بھی نہیں ہے : دو روز قبل خانپور ،رحیم یار خان کی ایک لیڈی کانسٹیبل نے میکے اور سسرال کے رویوں سے تنگ آکر اپنے دفتر میں کچھ کھا کر انتہائی قدم اٹھا لیا تھا ،

مگر فوری طور پر اسکی جان کیسے بچا لی گئی ۔؟ خان پور میں وائرلیس آپریٹر کے طور پر ڈیوٹی سرانجام دینے والی کانسٹیبل صبا کنول اپنوں کی ضد اور ہٹ دھرمی سے تنگ آچکی تھی ۔ اقدام سے قبل اپلوڈ کردہ اپنی ویڈیو میں صبا کنول نے بتایا کہ اسکے اپنے اسکے دشمن بن چکے ہیں ، اسے نہ سسرال میں سکون ہے اور نہ میکے میں تحفظ ،

سسرال میں شوہر اور اسکا والد ذہنی وجسمانی اذیت دیتے ہیں اور والدین کے گھر جائے تو بھائی مارتے ہیں ، ماں بالکل تماشائی بنی ہوئی ہے اور والد کہتا ہے کہ وہ اپنے بھائی یعنی میرے سسر کو نہیں چھوڑ سکتا اس لیے میں نباہ کروں ۔۔۔ میں زندگی میں ایک غلطی کر بیٹھی تھی میں کسی کو پسند کرتی تھی جس کا نام اجمل تھا مگر میرے والد نے پھر میری رخصتی چچا کے گھر کردی اور میں دلہن بن کر چچا کے گھر چلی گئی ، میرا شوہر اجمل کا نام لیکر مجھ پر شک کرتا الٹے سیدھے سوالات کرتا اور دن رات مجھے ذہنی و جسمانی طور پر تش۔دد کا نشانہ بناتا ۔

اسے پہلے دن سے میرے کردار پر شک رہا تنگ آکر میں روٹھ کر میکے جاتی اور طلاق کی بات کرتی تو میرے والد میری منت سماجت کرتے کہ میں اپنے بھائی سے نہیں ٹوٹ سکتا تم ہر صورت اپنا گھر بساؤ ، بھائی مجھے مارتے کہ میں بے حیا ہوں حالانکہ اللہ گواہ ہے میں نے اپنی پسند کو والدین کی پسند پر قربان کردیا تھا اور شادی کے بعد میرے اوپر لگنے والا ہر الزام بہتان تھا جسکا کوئی ثبوت کسی کے پاس نہ تھا ۔

کہنے کو تو میں وردی پہنتی تھی پولیس ملازم تھی لیکن میں دراصل اپنے ہی رشتوں کے سامنے غیر محفوظ تھی ، کہتے ہیں ماں باپ سے زیادہ احساس کرنے والا کوئی نہیں ہوتا ۔۔۔ لیکن میرے والد کو میری کوئی پروا نہیں ۔ انہیں میرے آنسو نظر نہیں آتے، میں میکے میں اپنی ماں کے پاس سوتی ہوں ساری رات روتی رہتی ہوں لیکن میری ماں ایک بار بھی نہیں پوچھتی کہ کیوں رو رہی ہو ؟ یہ کیسے والدین ہیں یہ کیسی زندگی اور کیسا دکھ ہے

جو مجھے اکیلے جھیلنا پڑ رہا ہے ۔ صبا نے بتایا کہ میں نے بہت کوشش کی میرا شوہر اپنی حرکتوں سے باز آجائے میں نے اسکی خاطر نوکری بھی قربان کرنا چاہی لیکن اس نے میری قدر نہ کی ۔ تنگ آکر والدین کے گھر گئی تو سگے بھائیوں نے شوہر کی طرح مجھے اجمل کا نام لے کر طعنے دیے ۔ مجھے کہا گیا کہ تم گھر نہیں بسانا چاہتی کیونکہ تم اجمل کے پاس جانا چاہتی ہوں اور تمہارا اس سے رابطہ ہے ۔۔

میں انہیں کیسے یقین دلاتی ، میں نے کہا میں مر جاؤں گی تو میرے شوہر کی طرح بھائیوں نے بھی کہا تم نہیں مروگی ، جنہیں مرنا ہوتا ہے وہ باتیں نہیں عمل کرتے ہیں ، جاؤ ہماری بلا سے مر جاؤ ۔۔۔۔میں اس زندگی سے تنگ آچکی ہوں ۔

میری ڈی پی او رحیم یار خان عرفان سموں اور حکومت پنجاب سے اپیل ہے کہ اس اقدام کے بعد جب میں مر جاوں تو میری میت میرے میکے یا سسرال کے حوالے نہ کی جائے ۔ نہ ہی کسی کو میرا منہ دیکھنے کی اجازت دی جائے ۔اگر میرا کوئی اپنا میرے اوپر کھڑا ہوا یا میری میت کو ہاتھ لگایا تو مجھے بہت تکلیف ہوگی ۔ میں سرکاری ملازم ہوں کم یا زیادہ جتنی بھی ملازمت کی میری میت کے کفن دفن کی ذمہ داری حکومت پوری کرے اور میری قبر کا بھی میرے گھر والوں کو نہ بتایا جائے کہ کہاں ہے ۔

اسے میری آخری خواہش سمجھا جائے ۔۔۔۔ میری موت کا ذمہ دار کسی کو نہ ٹھہرایا جائے ، میں اپنی قا۔تل خود ہوں ، خاص طور پر پولیس نوٹ کرلے میری موت کے بعد میرے سسرال اور میکے والے ملکر اجمل پر الزام دھرنے کی کوشش کریں گے ، میں بیان کررہی ہوں کہ اسکا میری موت سے یا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہے خدارا اسے بخش دیا جائے ، میرے والد اپنے بھائی کے ساتھ خوش رہیں ،

میرا شوہر دوسری شادی کر لے ۔ ایک بدکردار بیوی سے اسکی جان چھوٹ رہی ہے وہ خوش ہو جائے اور میرے بھائی غیرت کے جھنڈے اٹھا کر شہر میں پھرا کریں کہ انکی بے حیا بہن اب دنیا سے چلی گئی ہے ۔۔۔ اس ویڈیو کے دوران ہی صبا کنول نے لگا تار کئی گو۔لیاں پانی کے ساتھ حلق سے اتاریں اور پھر خدا حافظ کہا ۔

صبا کنول کی آئی ڈی پر اس ویڈیو کے اپلوڈ اور فوری وائرل ہوتے ہی ہر کسی نے رحیم یار خان پولیس اور دیگر افسران کو ٹیک کرنا شروع کردیا ۔ معاملہ ڈی پی او عرفان سموں کے نوٹس میں آیا انہوں نے فوری طور پر متعلقہ تھانے میں کال کی اور ایس ایچ او کو خود وائرلیس روم میں جانے کو کہا اس وقت صبا کنول کی حالت غیر تھی اسکے منہ سے جھاگ نکلنا شروع ہو چکی تھی ۔

اسے فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے فوری توجہ دے کر صبا کنول کوموت کے منہ سے نکال لیا ۔۔ بعد میں مسلسل علاج سے صبا کنول کی زندگی بچا لی گئی ۔۔۔ اس فوری ایکشن پر ایک طرف تو رحیم یار خان پولیس شاباش کی مستحق ہے لیکن دوسری جانب اگر صبا کنول کو دوبارہ اسکے ان رشتہ داروں کے حوالے کردیا گیا تو وہ جلد یا بدیر یہی قدم اٹھانے پر مجبور ہو جائے گی ، ڈی پی او رحیم یار خان عرفان سموں ایک زبردست اور ذمہ دار پولیس افسر ہیں ،

ان سے اپیل ہے کہ صبا کنول کا سرکاری سطح پر علاج کروایا جائے اسے کسی ماہر نفسیات کے پاس بھیجا جائے اور فی الحال اسے سسرال اور میکے سے دور رکھا جائے تاکہ اسے زندگی میں دلچسپی محسوس ہو ۔ اگر اسے گھر بھیجا گیا تو طعنے اور ملامتیں اسے دوبارہ سر نہیں اٹھانے دیں گے

، صبا کنول نے اپنوں سے تنگ آکر یہ قدم اٹھایا لیکن اسے دوبارہ زندگی ملنے کی سزا نہ دی جائے بلکہ اسے رہنے کے قابل زندگی اور ماحول فراہم کیا جائے ، امید ہے ڈی پی او رحیم یار خان اور اس متعلقہ لوگ صبا کنول کے مسئلے کا بہترین حل نکالیں گے اور اسکی زندگی کو دوبارہ خطروں کے حوالے نہیں کریں گے ۔۔۔۔

یہ عبرت کی جاء ہے تماشا نہیں ہے : کراچی کے ایک معروف وکیل کی موت ، گھر قبیلہ کی بے اعتنائی اور پھر کراچی والوں نے دیکھا ...
02/10/2026

یہ عبرت کی جاء ہے تماشا نہیں ہے : کراچی کے ایک معروف وکیل کی موت ، گھر قبیلہ کی بے اعتنائی اور پھر کراچی والوں نے دیکھا حیران کن منظر ۔۔۔۔۔۔

منظور کلہوڑو ایڈووکیٹ جب زندہ تھے تو انکے رشتہ دار بھی تھے خاندان بھی اور کلہوڑو قبیلہ بھی ان پر فخر کرتا تھا مگر افسوس یہ نامور وکیل زندگی کے آخری دنوں ، بڑھاپے اور علالت میں اپنوں کی بے اعتنائی کی وجہ سے مر گیا ،

وہ ایک کمرے کے فلیٹ میں قیام پذیر تھے ، شاید منتظر رہے ہونگے کہ کوئی آئے گا انکی تیمار داری کرے گا انہیں ہسپتال لے جائے گا مگر ایسا کچھ نہ ہوا ۔ سننے میں آیا ہے کہ انکے بیٹے بیرون ملک مقیم ہیں ، اہلیہ انتقال کر چکیں ، رہ گئے رشتہ دار تو انہوں نے وکیل صاحب کی بیماری اور علاج و نگہداشت کا خرچہ اپنے گلے ڈالنے کی ضرورت محسوس نہ کی ، یعنی کہا گیا ہمارا کیا ہے ۔۔۔

اور پھر ایک روز منظور احمد کلہوڑو نے تنہائی میں اپنے کمرے میں جان جان آفرین کے سپرد کردی اس وقت انکے پاس انکا کوئی اپنا یا پرایا موجود نہ تھا ، دوسرے روز ہمسایوں کو پتہ چلا تو چھیپا والوں کو فون کیا گیا ، کلہوڑو صاحب کی ڈیڈ باڈی سرد خانے لے جائی گئی جہاں یہ ایک ہفتہ اپنوں کی منتظر رہی مگر کوئی انہیں وصول کرنے نہ آیا

اس دوران وکلاء برادری کو پتہ چلا تو سندھ بار اور کراچی بار ایسوسی ایشن کے لوگ سامنے آئے وہ منظور احمد کلہوڑو کی میت کے وارث بن گئے قانونی تقاضے پورے کرکے میت وصول کی گئی ۔ چھپیا کے مغسل میں انہیں غسل دیا گیا ، ہزاروں وکلاء کو نماز جنازہ کے وقت کی اطلاع دی گئی یوں انتقال کے ایک ہفتے بعد منظور احمد کلہوڑو کا کراچی کے وکلاء نے جنازہ پڑھا۔ صفوں میں ہر طرف کالے کوٹ والے ہی نظر آرہے تھے ۔ پھر انہیں انہیں عیسیٰ نگری گلشن اقبال کے قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔ دعا ہے اللہ کریم ایڈووکیٹ منظور احمد کلہوڑو کے درجات بلند فرمائے آمین ثم آمین

والدہ بلوچستان اور والد قندھار سے مگر میں جو کچھ ہوں اپنے باپ کی وجہ سے نہیں بلکہ صرف ماں کی وجہ سے ہوں ۔۔۔۔!!!بالی وڈ ا...
02/10/2026

والدہ بلوچستان اور والد قندھار سے مگر میں جو کچھ ہوں اپنے باپ کی وجہ سے نہیں بلکہ صرف ماں کی وجہ سے ہوں ۔۔۔۔!!!

بالی وڈ اداکار قادر خان کے ایک پرانے انٹرویو سے کچھ باتیں جن سے آپ کو کوئی سبق ضرور ملے گا ۔۔۔۔۔

قادر خان کی والدہ کا تعلق بلوچستان سے تھا اور والد انہیں بیاہ کر قندھار لے گئے ، وہاں قادر خان سے پہلے اس جوڑے کے ہاں تین بیٹے ہوئے ۔ لیکن سب کے سب اس دنیا سے بچپن میں رخصت ہو گئے ، قادر خان پیدا ہوئے تو والدہ ڈر گئیں

کہ انکا یہ بیٹا بھی مر جائے گا اس لیے انہوں نے انکے والد سے ضد کی ، والد بھی معاشی تنگدستی کی وجہ سے پریشان تھے ۔ اس چھوٹی سی فیملی نے ہجرت کا فیصلہ کیا ، کئی شہروں میں دھکے کھاتے اور مسلسل سفر کرتے قادر خان اپنے والدین کے ہمراہ بمبئی کے علاقہ کماٹی پورہ میں آکر رکے یہاں انہیں ایک بلڈنگ میں چھوٹا سا ایک کمرہ مل گیا ۔۔۔

اس علاقے کے حالات یہ تھے کہ ایک طرف جسم۔ فرو۔شی کے اڈے دوسری طرف من ۔شیات فروشوں کے ٹھکانے ، سامنے جو۔ا اور شر۔اب خانے جب کہ پچھلی طرف جرائم پیشہ کا گڑھ تھا ، لیکن اور کوئی ٹھکانہ نہ ملا تو اس خاندان نے یہاں زندگی کی گاڑی کو دھکا لگانا شروع کردیا ۔۔

لیکن چند ماہ ہی گزرے کہ والد اور والدہ کے درمیان معاشی تنگی کی وجہ سے اختلاف ہوا اور ایک روز والد جو اصل میں اپنے خاندان کی ضروریات پوری کرنے سے قاصر تھے وہ والدہ کو طلاق کا تحفہ دے کر چلتے بنے ۔ قادر خان ان دنوں دو سال کے تھے ۔ انکی والدہ نے اپنے والد اور بھائیوں کو خط لکھا اور اپنے حالات بتائے تو قادر کے نانا اور ماموں ان سے ملنے بمبئی آن پہنچے ۔ انہوں نے اس مسئلے کا حل یہ نکالا کہ اپنی بیٹی اور بہن کی شادی ایک مسلم ترکھان سے کردی اور بے فکر ہو کر چلے گئے ۔

قادر خان کا سوتیلا والد بھی نکما نکلا وہ کام کرنے کی بجائے گھر پر پڑا رہتا ، چنانچہ قادر اور انکی والدہ کی زندگی میں بہتری کی بجائے بدتری آگئی ۔ والدہ سخت مزاج تھیں ایک نکھٹو شوہر انہیں کیسے برداشت ہوتا ۔ چنانچہ زندگی مزید تلخ ہو گئی لیکن والدہ نے جیسے تیسے ادھر ادھر گھوم پھر کر کام کرکے یا امیر خواتین سے خیرات بھیک مانگ کر قادر کو نہ صرف پالنا جاری رکھا بلکہ اسے ایک میونسپل سکول میں بھی داخل کروا دیا ۔

قادر کے سکول کےد وست اسے مشورہ دیتے تم کن چکروں میں ہو چھوڑو پڑھائی کو اور کام کرکے ماں کا سہارا بنو ۔۔۔ چند ہفتے کی خاموشی کے بعد ایک روز کام کی نیت سے قادر خان بغیر سکول بیگ اٹھائے گھر سے نکلنے لگے تو ماں نے اسے روک لیا اور کہا مجھے معلوم ہے آج تم پڑھنے کی بجائے مزدوری پر جارہے ہو ، میں تمہارا درج سمجھتی ہوں لیکن قادر : تو پڑھ ، باقی مجھ پر چھوڑ دے ، میں تیرا اور اپنا پیٹ بھر لوں گی ، تیری فیس بھی دے دونگی ، یاد رکھ قادر ، ہماری زندگی تیرے کام کرنے سے نہیں تیرے علم حاصل کرنے سے بہتر ہو گی ۔۔۔۔۔۔

اسکے بعد قادر خان نے پڑھنا شروع کردیا ۔۔۔ وہ پڑھتے رہے ،8 سال کے تھے تو انہیں ایک عادت لگ گئی کہ کسی کو اچھا بولتا دیکھتے تو اس جیسا بولنے کی پریکٹس کرتے ۔ اسی پریکٹس یعنی ڈائیلاگ بازی کی مشق کے لیے گھر کے قریب ایک یہودی قبرستان میں جا کر بیٹھ جاتے

، اسی قبرستان میں انہیں کسی نے ڈائیلاگ بولتے سنا تو ایک ڈرامے میں کردار کی پیشکش کی ، 8 سال کے قادر خان نے اس ڈرامے میں شاندار پرفارمنس دیکھ کر اپنا نام بنا لیا اور راتوں رات علاقے میں مشہور ہو گئے ، میٹرک پاس کرنے کے بعد قادر خان نے باقاعدہ آڈیشن دیا اور انہیں چھوٹے موٹے رول ملنے لگے ۔۔۔

قادر خان نے ہمت نہ ہاری جدوجہد کرتے رہے مختلف کام بھی کیے ماں کا سہارا بھی بنے اور آج قادر خان کو دنیا ایک لیجنڈ اداکار کہتی ہے ۔ جنکے ذکر کے بغیر بھارتی فلم انڈسٹری کی تاریخ نامکمل رہے گی ۔۔۔۔ آج قادر خان اور انکی والدہ اس دنیا میں نہیں لیکن قادر خان اپنے وجود سے ثابت کرگئے کہ ہمت کرے انسان تو کیا ہو نہیں سکتا ۔۔۔۔۔

بے شک قسمت اور تقدیر کے فیصلوں کے ساتھ جدوجہد انسان کو بڑا آدمی بنا دیتی ہے ۔۔۔ اللہ کریم قادر خان اور انکے والدین کے درجات بلند فرمائے آمین ثم آمین

باپ سعودی عرب میں کمائیاں کررہا ، ماں اپنے میکے ڈیرے ڈال کر بیٹھ گئی ، مگر ایسا کیا ہوا کہ دونوں نے بچوں کی ذمہ داری لین...
02/10/2026

باپ سعودی عرب میں کمائیاں کررہا ، ماں اپنے میکے ڈیرے ڈال کر بیٹھ گئی ، مگر ایسا کیا ہوا کہ دونوں نے بچوں کی ذمہ داری لینے سے انکار کر دیا ۔۔۔۔

یاد رہے کہ میاں عمران ارشد نے یہ انٹرویو ایک مسجد میں بیٹھ کر کیا جہاں تینوں بھائی لاوارثوں کی طرح زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ، کسی کی منت سماجت کرکے یا مانگ کے کھانا کھا لیتے ہیں مسجد میں نماز پڑھتے ہیں اور اللہ اللہ خیر صااللہ۔۔۔ ہوا

یہ کہ ساہیوال کے ایک نواحی چک میں کبھی یہ بچے اپنے والد کے گھر میں اچھی زندگی گزار رہے تھے ، بڑا بیٹا 15 سال کا جبکہ سب سے چھوٹا 10 سال کا ہے۔ والد عرصہ دراز سے سعودی عرب میں مقیم ہے ۔

2 یا تین سال بعد گھر آتا اور پھر چند ہفتے رہ کر واپس چلا جاتا ، پچھلے کچھ سالوں سے میاں بیوی کے درمیان لڑائی شروع تھی ، مبینہ طور پر شوہر امیر ہونے کے بعد دوسری شادی کا خواہشمند تھا لیکن بیوی شوہر کی دوسری شادی پر آمادہ نہیں تھی ،

نتیجتا دونوں ایک دوسرے پر الزام تراشی پر آگئے ۔ پھر کچھ ہفتے قبل دونوں کا فون پر جھگڑا ہوا ، شوہر نے بیوی سے کہا اپنے بچے لے کر میرے گھر سے نکل جاؤ ، بیوی نے کہا بچے تمہارے ہیں تم جانو اور یہ بچے ۔۔ بیوی نے اپنے کپڑے اور زیور اٹھایا اور چلتی بنی ، بچے روتے چیختے چلاتے رہے ، ادھر سعودی عرب میں بیٹھے جانگلی شخص نے اپنے والدین اور عزیزوں کو کہا ان بچوں کو دھکے دے کر میرے گھر سے نکال دو ۔۔۔۔

ماں چھوڑ گئی تھی ، باپ نے بھی گھر سے نکال دیا ، ایک بار تو بچے والدہ کے پیچھے اپنے نانکے گئے مگر وہاں سے انہیں فوری طور پر واپس روانہ کردیا گیا اور کہا گیا کہ تمہارا جو کچھ ہے تمہارے باپ کے گھر ہے ادھر جاؤ اور دھرنا دے کر بیٹھ جاؤ، یہاں نانکے سے تمہیں کچھ نہیں ملنے والا ، بچے واپس باپ کے گھر آگئے لیکن یہاں انہیں کسی نے داخل بھی نہ ہونے دیا ۔۔۔۔

جسکے بعد بچے گلیوں میں رلنے لگے تو علاقہ کے ایک شخص بے مسجد میں ان بچوں کی رہائش کا انتظام کردیا ، علاقے کے لوگ کبھی کبھار کھانا بھجوا دیتے ہیں یا یہ بچے اس گاؤں میں مانگ تانگ کر گزارہ کر لیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔
نوٹ : یہ واقعہ کچھ پرانا ضرور ہے لیکن قابل ذکر ہے کہ والدین کی لڑائی بچوں کو کیسے برباد کرتی ہے یہ سچا واقعہ اسکی بڑی مثال ہے ۔۔۔

میری 7 بیویاں اور 36 بچے ہیں ،کروڑ پتی اور مالدار آدمی  ہوں لیکن بہت پریشان ہوں ، میری مدد کریں ۔۔۔۔۔۔ڈی پی او کی کھلی ک...
02/10/2026

میری 7 بیویاں اور 36 بچے ہیں ،کروڑ پتی اور مالدار آدمی ہوں لیکن بہت پریشان ہوں ، میری مدد کریں ۔۔۔۔۔۔

ڈی پی او کی کھلی کچہری میں آئے اس شخص نے فریاد کی کہ جناب والا مجھ پر اللہ کا بے حد کرم ہے 7 شادیاں کیں جن سے 36 بچے ہوئے ، پچھلے 20 سال سے شوگر کا مریض ہوں ،

جگر پتہ گردے کام چھوڑ چکے ہیں ، مجھے اور کوئی پریشانی نہیں لیکن مختلف بیویوں سے چار بیٹوں نے زندگی حرام کی ہوئی ہے ، گا۔لیاں دیتے ہیں گریبان پکڑ لیتے ہیں ، آپ بتائیں انہیں پیدا کرکے اور انکا باپ بن کر میں نے کیا جرم کیا ہے ؟ ڈی پی او صاحب نے تفصیلات پوچھیں تو اس شخص کا کہنا تھا کہ میری کروڑوں کی جائیداد ہے ، میری خواہش ہے کہ بچے میرے بن کر دکھائیں حقدار بنیں تو میں انہیں انکا حصہ سونپوں مگر انہوں نے حد کردی ہے ہر ایک کی خواہش ہے سب سے قیمتی اور زیادہ جائیداد اس کو لکھ کر دے دوں ، بات تھانے کچہری تک جا پہنچی ہے وہ مجھے گا۔لیاں دیتے ہیں ،

کہتے ہیں تمہاری ٹانگیں توڑ کر معذور کردیں گے ، تمہیں جان سے مار ڈالیں گے ، لا۔ش کو ایسے غائب کریں گے کہ قیامت تک کسی کو پتہ بھی نہیں چلے گا ۔۔۔۔ ڈی پی صاحب اس شخص کے ساتھ پہلے تو مذاق کے موڈ میں تھے مگر معاملے کی سنگینی جان کر انہوں نے مذکورہ شخص سے وعدہ کیا ہم نافرمان اور حرص کے مارے بیٹوں کے خلاف آپ کی بھرپور مدد کریں گے ،

اگر آپ کی جانب سے کوئی ناانصافی سامنے آئی تو آپ جواب دہ ہونگے مگر آپ کے بیٹوں سے آپ کو ہر صورت تحفظ فراہم کیا جائے گا ، جائیدادآپ کی ہے اور اللہ نے دی ہے بیٹے اگر باپ کے وارث اسکے بازو ہاتھ بنیں تو جائیداد کے حقدار بنتے ہیں ، لیکن کاش آپ نے ایک دو شادیوں پر ہی اکتفا کیا ہوتا ۔۔

بے تحاشا آبادی بے شمار مسائل کو جنم دیتی ہے یہی سب آپ کے ساتھ ہوا ہے ، مگر ہم ہر ممکن آپ کے ساتھ ہیں بے فکر ہو جائیں ۔۔۔۔ سننے میں آیا ہے کہ بعد میں ڈی پی او صاحب کی مداخلت پر باپ اور اسکے بیٹوں کے درمیان جائیداد کا تنازعہ صلح صفائی سے حل کروا دیا گیا تھا کیونکہ بیٹے جان گئے تھے کہ گھی ٹیڑھی انگلی سے نہیں نکلے گا ۔۔۔۔

اسے عشق کا خمار چڑھا ہوا تھا  اور اسکے دماغ کو چڑھی گرمی نے اسے مروا دیا ۔۔۔۔۔۔ 2023 میںلاہور میں  ایک ڈیلیوری بوائے کے ...
02/10/2026

اسے عشق کا خمار چڑھا ہوا تھا اور اسکے دماغ کو چڑھی گرمی نے اسے مروا دیا ۔۔۔۔۔۔

2023 میںلاہور میں ایک ڈیلیوری بوائے کے ق۔ت۔ل اور اگلے روز میاں بیوی کی گرفتاری کے پیچھے کیا کہانی تھی ؟ مانو اپنے شوہر کے ساتھ سسرال میں خوشگوار زندگی گزار رہی تھی اسکا شوہر جاب کرتا گھر میں وہ اپنی ساس سسر اور نند کے ساتھ ہوتی انہی دنوں اس کے آرڈر کرنے پر ایک ڈیلیوری بوائے سامان دینے آتا ۔

رئیس نامی یہ ڈیلیوری بوائے جب دو چار چکر لگا چکا تو مانو اسکے ساتھ ہنس ہنس کر باتیں کرنے لگی ، رئیس سمجھا کہ لڑکی پھنس گئی ہے

دونوں گیٹ پر ایک دوسرے کے ساتھ مذاق کرتے اور بات ختم ہو جاتی ، رئیس کبھی کبھار فون بھی کر لیتا اور مختصر بات چیت بھی ہو جاتی ، لگ بھگ اس معاملے کے 6 ماہ بعد ایک روز رئیس نے مانو کو جسمانی طور پر چھیڑا تو یہ غصہ کر گئی ، رئیس چلا گیا ، رات کو شوہر فرحان گھر آٰیا تو مانو نے ساری بات اسے بتائی

، فرحان کو شدید غصہ آیا اس نے مانو کے نمبر سے اسی وقت ایک آرڈر کیا اور تھوڑی دیر بعد رئیس انکے گھر کے دروازے پر تھا ، فرحان رئیس کو اندر لے آیا اور اسے ڈنڈوں سے پیٹا ، مانو کے بقول اس وقت وہ اپنی نند کے کمرے میں تھی اسے کچھ معلوم نہ ہوا ۔۔۔ تھوڑی دیر بعد فرحان نے مانو کو بلایا اپنی گاڑی باہر نکالی اور مانو کو فرنٹ سیٹ پر بٹھا کر مختلف سڑکوں پر ڈرائیور کرتا رہا ، جب کافی دیر گزر گئی تو مانو نے اس سے پوچھا ہم کدھر جارہے ہیں لیکن فرحان نے اسے ہاتھ کے اشارے سے خاموش رہنے کو کہا ، ایک سنسان جگہ فرحان نے گاڑی روکی اور نیچے اترا ، مانو کار میں بیٹھی رہی ۔ پچھلا دروازہ کھول کر فرحان نے کچھ باہر نکالا اس پر پٹرول چھڑ۔کا اور آ۔گ لگا دی ،

پھر وہ گاڑی میں بیٹھا اور گاڑی دوڑا دی ، مانو کو لگا کہ کچھ غلط ہو گیا ہے اس نے چلا کر فرحان سے پوچھا تم نے کیا کیا ہے ؟تو فرحان نے تسلیم کر لیا کہ اس نے رئیس کو سینے پر ڈنڈا ما۔را تھا اور وہ مر گیا تھا اس لیے جرم چھپانے کے لیے اس نے اسکی لا۔ش کو یہاں لاکر آ۔گ لگائی ہے ۔۔۔۔ اب مانو کچھ نہیں کر سکتی تھی سوائے خاموش رہنے کے ۔۔۔ یہ لوگ واپس گھر آئے اور سو گئے ۔۔۔ دوسرے دن پولیس انکے گھر آئی اور دونوں میاں بیوی کو گرفتار کر لیا ۔۔۔

پولیس نے کال ریکارڈ کی مدد سے انہیں مشکوک سمجھ کر گرفتاری ڈالی تھی اور تھانے لے گئے ، حیران کن بات یہ ہے کہ گرفتاری سے پہلے مانو نے پولیس افسران کو وارننگ دی کہ مجھے کوئی مرد ہاتھ نہیں لگائے گا اور نہ ملزم سمجھ کر کوئی میری مجبوری کا فائدہ اٹھائے گا تو میں ساری بات سچ بتاؤں گی ۔ تھانے میں مانو نے پولیس کے سامنے اعتراف کیا اور جو کچھ اسے معلوم تھا اس نے سب بتا دیا

جبکہ اسکے شوہر فرحان نے بھی اپنے جرم کا اعتراف کیا اور یہ بیان دیا کہ ق۔ت۔ل کا مانو کو کچھ معلوم نہیں ، رئیس نے اسکے جسم کو ہاتھ لگایا تھا اور میں اسے سبق سکھانا چاہتا تھا مگر سینے پر ڈنڈا لگنے سے وہ مر گیا ۔۔۔ بعد میں مانو سے ایک صحافی نے سوال کیا کہ رئیس نے جو کچھ کیا وہ غلط تھا مگر کیا اسکی سزا موت تھی اور کیا آپ کو اپنے کیے پر پچھتاوا نہیں کہ آپ کی حوصلہ افزائی کی وجہ سے وہ مر گیا ۔۔۔ مانو نے کہا اسے اسکا عشق کا خمار اور گرمی لے ڈوبی ، ہنس کر بات کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی عورت آپ کے ساتھ سیٹ ہو گئی ہے ۔۔۔

یاد رہے کہ رئیس کے لواحقین نے بیان کیا تھا کہ مانو نے اسے خود اپنے جال میں پھنسایا ، استعمال کیا اور جب وہ اس سے تنگ آگئی تو شوہر کو شکایت کی ، اسے دونوں نے ملکر ق۔ت۔ل کیا ، اور لا۔ش کو اکٹھے باہر لے جاکر حوالہ آ۔گ کیا ۔۔۔۔۔

بعد میں پولیس نے دونوں میاں بیوی کو چالان کرکے جیل بھجوا دیا تھا ۔۔۔ 2023 میں پیش آئے اس واقعہ کا مقدمہ اب بھی لاہور کی ایک عدالت میں چل رہا ہے ۔۔۔۔

نوشہرہ کے ایک قبرستان میں فاتحہ خوانی کے لیے آئے لوگوں کو مٹی میں دبے، کپڑے میں لپٹی ایک نومولود بچی ملی۔ ایک شخص نے اس ...
01/10/2026

نوشہرہ کے ایک قبرستان میں فاتحہ خوانی کے لیے آئے لوگوں کو مٹی میں دبے، کپڑے میں لپٹی ایک نومولود بچی ملی۔ ایک شخص نے اس پر پڑا کپڑا ہٹایا تو بچی کا ننھا سا بازو ہلا۔ وہ زندہ تھی۔

یہ واقعہ 7 فروری 2025 کو پیش آیا۔ اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی ٹیم پہنچی، بچی کو وہاں سے نکالا اور فوری طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا۔ جس عمر میں بچے کو ماں کی گود میں ہونا چاہیے تھا، اِس بچی کو قبرستان سے ہسپتال پہنچایا جا رہا تھا۔

رسالپور میں فوجی کورس کرنے والے میجر وقاص کو جب اس واقعے کا پتا چلا تو وہ بچی کو دیکھنے ہسپتال گئے۔ لیکن وہ صرف اسے دیکھ کر واپس نہیں آئے۔ انہوں نے اسے گود لینے کا فیصلہ کیا، قانونی کارروائی مکمل کی اور رپورٹس کے مطابق سول کورٹ کے ذریعے بچی کو اپنا لیا۔

اس کہانی میں ریسکیو 1122 کے اہلکاروں نے بچی کی جان بچائی، اور میجر وقاص نے اس کی پرورش کی ذمہ داری قبول کی۔ اس طرح جس ننھی جان کو کسی نے قبرستان میں مرنے کے لیے چھوڑ دیا تھا، اسے ایک باپ اور گھر مل گیا۔ اللہ اس بچی کو لمبی، صحت مند اور خوشیوں بھری زندگی عطا فرمائے۔

Endereço

Lisbon
1100-453

Notificações

Seja o primeiro a saber: enviamos-lhe um e-mail quando Luqman Gojra News publicar novidades e promoções. O seu endereço de e-mail não será utilizado para nenhum outro fim e pode cancelar a subscrição a qualquer momento.

Contactar O Negócio

Envie uma mensagem para Luqman Gojra News:

Atalhos

Partilhar