14/04/2026
میں آج کل کے نوجوانوں کو دیکھتا ہوں کہ وہ بیرونِ ملک جانے کے بہت خواہشمند ہیں اور کوشش کر رہے ہیں کہ کسی طرح باہر چلے جائیں مطلب یہ کہ مجبوری ہے یا نہیں ہے بس یہ ایک ٹرینڈ بن چکا ہے کہ کام کرنا تو باہر کرنا ہے کچھ لوگ کامیاب ہو چکے ہیں اور ان کی ویڈیوز دیکھ کر دوسرے بھی باہر جا رہے ہیں۔
ٹھیک ہے، باہر ضرور جاؤ لیکن پہلے تھوڑا سا مشاہدہ ضرور کرو اپنے گاؤں اور محلے سے شروع کرو کہ تمہارے گاؤں یا محلے میں کتنے لوگ باہر پردیس گئے، انہوں نے کتنا وقت گزارا اور کتنے لوگ امیر یا زیادہ پیسہ کما سکے۔ اور ان کے بچوں کو دیکھو کہ ان پردیسیوں کے بچوں نے کتنا تعلیم حاصل کیا
اگر ان میں سے 30% بھی لوگوں نے پیسہ کمایا ہے اور اچھی زندگی گزاری ہے اور ان کے بچے آج اچھی جگہوں پر ہیں تو پھر اللہ کا نام لے کر ضرور پردیس جاؤ۔
میں اپنے گاؤں کی بات بتا دیتا ہوں، میرے گاؤں کے اکثر لوگ بیرونِ ملک خلیجی ممالک میں مزدوری کر رہے ہیں میرے مشاہدے کے مطابق تقریباً ہر ایک 17/18 سال کی عمر میں گیا ہے اور 35/40 سال تک مزدوری کی ہے۔ ایک ایک گھر بنایا ہے اور اب ان پردیسیوں کے بچے بھی پردیس جا چکے ہیں، اب وہ بھی وہاں مزدور ہیں۔ ہاں ان میں سے کچھ کے گھروں میں ٹائلیں ضرور لگی ہیں لیکن اپنی زندگی کے 35/40 سال لگا دیے ہیں
اس کے برعکس اگر کوئی سرکاری ملازم ہے، استاد ہے یا کسی اور ادارے میں کام کرتا ہے یا اپنے گاؤں میں چھوٹا موٹا کاروبار کرتا ہے تو ان کے بچوں نے تعلیم اور بہترین ماحول میں باپ کے سائے تلے پرورش پائی ہے۔ ان کے گھروں میں ٹائلیں نہیں ہیں لیکن ان کی سوچ اور زندگی پردیسیوں کے مقابلے میں بہتر ہے
یاد رکھو نوجوانو! جب پردیس میں ایک بار قدم رکھا تو پھر واپس جانا آسان نہیں ہوگا.
Think before you move to overseas.
آپ کا بھائی ۔ ابرار حسین خان