13/03/2026
ہم جن قبروں پر سال میں ایک بار فاتحہ پڑھنے جاتے ہیں وہی لوگ کبھی ہمارے دس منٹ لیٹ گھر آنے پر بے چین ہو جایا کرتے تھے۔
دروازے پر کھڑے رہتے ، فون پر بار بار کال کرتے ، دل میں ہزار خدشے لیے ہماری راہ تکتے تھے۔ آج ہم گھنٹوں، دنوں، مہینوں کی دوری سہہ لیتے ہیں، مگر وہ مٹی تلے خاموش ہیں۔ نہ شکوہ نہ سوال نہ انتظار کی آہٹ۔
وقت نے کیسا ستم کیا ... جن کی فکر ہمیں سانسوں سے زیادہ تھی ، آج ان کی قبروں پر کھڑے ہو کر ہم اپنی مصروفیات کا جواز دیتے ہیں۔ کاش ایک بار پھر وہی ڈانٹ سننے کو مل جائے وہی بے چینی نصیب ہو جائے۔ مگر اب صرف خاموش مٹی ہے ، اور دل
میں عمر بھر کا پچھتاوا ۔