27/01/2026
آخری دروازہ
گاؤں کے کنارے ایک پرانی حویلی تھی، جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہاں سورج ڈوبنے کے بعد کوئی نہیں جاتا۔ دروازے پر زنگ آلود تختی لگی تھی:
“اندر جانا منع ہے”
ایک رات، علی نے شرط جیتنے کے لیے اس حویلی میں داخل ہونے کا فیصلہ کیا۔ جیسے ہی اس نے دروازہ کھولا، اندر سے ٹھنڈی ہوا کا جھونکا آیا، اور چرچراتی آواز نے اس کے قدم روک دیے۔ دیواروں پر لٹکی گھڑیاں ایک ساتھ رک گئیں—وقت جیسے وہیں ٹھہر گیا ہو۔
اندر ایک لمبا راہداری تھی، جس کے آخر میں ایک آخری دروازہ تھا۔ علی کو لگا کوئی اسے نام لے کر پکار رہا ہے۔ آواز اس کے اپنے جیسی تھی۔
اس نے کانپتے ہاتھوں سے دروازہ کھولا۔
اندر ایک آئینہ تھا… اور آئینے میں علی نہیں تھا۔
وہاں ایک مسکراتا سایہ کھڑا تھا، جس کی آنکھیں خالی تھیں۔
سائے نے کہا:
“آخرکار تم آ گئے… اب باہر تم جاؤ گے، اور میں تم بن کر رہوں گا۔”
صبح گاؤں والوں نے علی کو حویلی سے نکلتے دیکھا—وہ بالکل ٹھیک لگ رہا تھا۔
بس ایک فرق تھا…
اب وہ کبھی آئینے میں نظر نہیں آتا تھا۔