19/06/2026
پردیس بھیجتے وقت اکثر ماں باپ کے دل میں ایک ہی خواب ہوتا ہے کہ ان کا بیٹا باہر جا کر بہت پیسہ کمائے گا، گھر کے حالات بدل جائیں گے اور ہر مہینے ہزاروں روپے بھیجے گا۔ کچھ لوگ تو یہ سمجھتے ہیں کہ جیسے ہی ان کا بیٹا ایئرپورٹ سے باہر نکلے گا، کامیابی اس کے قدم چومے گی اور پیسے خود اس کے پاس آ جائیں گے۔
لیکن حقیقت اس سے بہت مختلف ہوتی ہے۔ پردیس پہنچتے ہی ایک نوجوان کو سب سے پہلے زبان کا مسئلہ پیش آتا ہے۔ نہ وہ لوگوں کی بات سمجھ پاتا ہے اور نہ اپنی بات آسانی سے سمجھا پاتا ہے۔ پھر رہنے کے لیے کمرہ ڈھونڈنا، کھانے پینے کا انتظام کرنا، نئی جگہ کے قوانین سمجھنا اور سخت موسم میں کام کرنا، یہ سب آسان نہیں ہوتا۔
اکثر وہ راتوں کو گھر والوں کو یاد کر کے خاموشی سے روتا ہے، مگر کسی کو کچھ نہیں بتاتا تاکہ اس کے والدین پریشان نہ ہوں۔ افسوس تب ہوتا ہے جب کچھ لوگ اپنی اولاد کو انسان نہیں بلکہ پیسے کمانے والی مشین سمجھ لیتے ہیں۔ وہ صرف یہی پوچھتے ہیں کہ پیسے کب بھیجو گے اور کتنے بھیجو گے
یاد رکھیں، پردیس میں رہنے والا ہر بیٹا پہلے انسان ہوتا ہے، پھر کمانے والا۔ اسے صرف پیسوں کی نہیں بلکہ اپنے ماں باپ کی محبت، حوصلے اور دعا کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔