ARG URDU ARG URDU ✔️
Trusted updates, clear insights, and real stories from around the world — brought to you in Urdu. News tips: argurdu.news/tips

18/08/2026









علاج کے اخراجات عمران خان خود یا اس کے اہلِ خانہ دیں گے، سپریم کورٹ۔پاکستانیو! بناؤ کوئی اکاؤنٹ، ہم پیسوں سے بھر دیں گے۔...
18/08/2026

علاج کے اخراجات عمران خان خود یا اس کے اہلِ خانہ دیں گے، سپریم کورٹ۔
پاکستانیو! بناؤ کوئی اکاؤنٹ، ہم پیسوں سے بھر دیں گے۔
رہنما پی ٹی آئی — گوہر وڈانی ایڈووکیٹ







01/08/2026
31/07/2026


Nadir Abbas

06/07/2026

ڈیرہ غازی خان کی پبلک لائبریری میں بجلی کی طویل بندش، طلبہ شدید پریشان

ڈیرہ غازی خان کی پبلک لائبریری میں صبح سے بجلی بند ہونے کے باعث طلبہ کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ شدید گرمی میں امتحانات کی تیاری اور مطالعہ کرنے والے طلبہ پسینے میں شرابور ہو کر اذیت برداشت کرنے پر مجبور ہیں۔

طلبہ نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر بجلی بحال کی جائے تاکہ انہیں بہتر تعلیمی ماحول میسر آ سکے۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ یہی نوجوان ملک و قوم کا روشن مستقبل ہیں، لہٰذا ان کے لیے بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکرز پر بھاری فیس عائد کرنے کی تیاری میںمشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے درمیان Iran نے ا...
23/03/2026

ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکرز پر بھاری فیس عائد کرنے کی تیاری میں
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے درمیان Iran نے اہم سمندری گزرگاہ Strait of Hormuz سے گزرنے والے آئل ٹینکرز پر تقریباً 20 لاکھ ڈالر تک فیس عائد کرنے کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔ عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمجھی جانے والی اس گزرگاہ پر ممکنہ چارجز سے عالمی مارکیٹ، تیل کی قیمتوں اور شپنگ انڈسٹری پر گہرے اثرات پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ اقدام نافذ ہوتا ہے تو یہ عالمی تجارت کے لیے ایک بڑا موڑ ثابت ہو سکتا ہے، جبکہ کئی ممالک نے اس پیش رفت پر تشویش کا اظہار بھی کیا ہے۔

"کیا آزادی اظہار رائے محدود ہونی چاہیے؟""کیا آزادی اظہار رائے محدود ہونی چاہیے؟ یہ ایک اہم سوال ہے، کیونکہ ہر شہری کو اپ...
23/01/2026

"کیا آزادی اظہار رائے محدود ہونی چاہیے؟"

"کیا آزادی اظہار رائے محدود ہونی چاہیے؟ یہ ایک اہم سوال ہے، کیونکہ ہر شہری کو اپنی رائے کا حق حاصل ہے، لیکن اس کے ساتھ ذمہ داری بھی جڑی ہے۔
پاکستان کے آئین میں، آرٹیکل 19 کے تحت ہمیں آزادی اظہار رائے حاصل ہے۔ ہم اپنی رائے بلا خوف اور بلا روک تھام بیان کر سکتے ہیں، چاہے وہ زبانی ہو یا تحریری۔
لیکن آئین واضح کرتا ہے کہ یہ آزادی عوامی امن، مذہبی وقار، یا کسی جرم کی روک تھام کے لیے محدود ہو سکتی ہے۔ یعنی آزادی اظہار رائے بلاحدود نہیں، بلکہ ذمہ داری کے ساتھ استعمال ہونی چاہیے۔
میرا تجزیہ یہ ہے کہ آزادی اظہار رائے معاشرتی مباحثے، تعلیم اور جمہوریت کے لیے بہت ضروری ہے۔ لوگ اپنی رائے ظاہر کریں، بحث کریں اور معاشرتی تبدیلی لائیں۔
لیکن اگر یہ آزادی بلاحدود ہو تو نفرت انگیز تقریر، جھوٹ یا تشدد کی ترغیب معاشرتی امن کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قوانین میں اس پر پابندیاں بھی موجود ہیں۔
لہذا، آزادی اظہار رائے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم کچھ بھی کہہ دیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم اپنے الفاظ کے اثرات سمجھتے ہوئے خیالات کا اظہار کریں، تاکہ ہر شہری کی عزت اور معاشرتی امن برقرار رہے۔ آزادی اور ذمہ داری کا توازن ہی ایک مضبوط معاشرے کی بنیاد ہے۔"

پاکستان میں ہتکِ عزت کے قوانین کے تحت سخت کارروائی کی جا سکتی ہےحکومت پاکستان کے پینل کوڈ کی دفعہ 499 اور 500 کے تحت ہتک...
23/01/2026

پاکستان میں ہتکِ عزت کے قوانین کے تحت سخت کارروائی کی جا سکتی ہے

حکومت پاکستان کے پینل کوڈ کی دفعہ 499 اور 500 کے تحت ہتکِ عزت کے جرم میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جا سکتی ہے۔
دفعہ 499 کے مطابق، جو بھی شخص کسی دوسرے شخص کی عزت اور شہرت کو جان بوجھ کر نقصان پہنچانے والا الزام لگاتا ہے یا جھوٹی خبر پھیلاتا ہے، اسے قانونی سزا دی جا سکتی ہے۔
دفعہ 500 میں اس جرم پر سزا کا تعین کیا گیا ہے، جس کے مطابق ملزم کو زیادہ سے زیادہ 2 سال قید، یا پچاس ہزار روپے جرمانہ، یا دونوں کی سزا ہو سکتی ہے۔
قانون کے مطابق، یہ شقیں شخصی حرمت اور وقار کی حفاظت کے لیے بنائی گئی ہیں تاکہ عوام میں بے بنیاد الزامات کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی کہا ہے کہ ہتکِ عزت کے قوانین کے اطلاق میں شفافیت ضروری ہے تاکہ آزادی اظہار رائے متاثر نہ ہو

حکومت پاکستان نے جعلی خبروں کے تدارک کے لیے نیا قانون متعارف کروا دیاحکومت پاکستان نے سوشل میڈیا، نیشنل ٹی وی چینلز اور ...
23/01/2026

حکومت پاکستان نے جعلی خبروں کے تدارک کے لیے نیا قانون متعارف کروا دیا

حکومت پاکستان نے سوشل میڈیا، نیشنل ٹی وی چینلز اور اخبارات میں پھیلائی جانے والی جعلی خبروں کو روکنے کے لیے نیا قانون متعارف کروا دیا ہے۔
اس قانون کی شق 26A (Section 26A) کے مطابق، جو بھی شخص جان بوجھ کر جعلی یا جھوٹی معلومات پھیلاتا ہے، جس کا مقصد عوام میں خوف، انتشار یا بےچینی پیدا کرنا ہو، اسے سزا دی جا سکتی ہے۔
سزا کے مطابق ملزم کو زیادہ سے زیادہ 3 سال قید، یا 2 ملین روپے جرمانہ، یا دونوں ہو سکتے ہیں۔
قانون کے تحت ایک نیا ادارہ، سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی بھی قائم کیا جائے گا، جو سوشل میڈیا مواد کو ہٹانے، بلاک کرنے اور شکایات کی تحقیقات کرے گا۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس قانون کو آزادی اظہار رائے کے خلاف قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ قانون کے اطلاق میں شفافیت اور حد بندی ضروری ہے تاکہ صحافتی آزادی متاثر نہ ہو۔

بلاول نے تصویر جاری کروا دی ہے اور کراچی اور سندھ والوں کو بتا دیا ہے کہ بچے گٹر میں گر کر مریں، بارش آنے کے بعد کوئی ڈو...
23/01/2026

بلاول نے تصویر جاری کروا دی ہے اور کراچی اور سندھ والوں کو بتا دیا ہے کہ بچے گٹر میں گر کر مریں، بارش آنے کے بعد کوئی ڈوب کر یا کرنٹ سے مرے ، ڈمپر کی ٹکر سے مرے ،صحت کی بنیادی سہولیات نہ ملنے سے مرے ، گل پلازہ میں جل کر مرے یا سٹریٹ کرائم میں گولی کا نشانہ بنے ، میرا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا ۔
بد قسمتی سے اب اقتدار میں رہنے کا معیار چند تصاویر ہیں!!
صدیق جان کا ٹویٹ

Address

Jeddah Islamic Port

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ARG URDU posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to ARG URDU:

Shortcuts

Share