Chitral Valley

Chitral Valley Chitral Valley: Where the mountains meet the heavens. ❄️
Capturing the beauty, culture, and life of the Hindu Kush.
📍 Khyber Pakhtunkhwa, Pakistan 🇵🇰

27/08/2026

This is exactly what happened in Nepal 🇳🇵 when the glacier melts. The real danger begins..

انا للہ وانا الیہ راجعون​بشگرام کریم آباد کی معتبر اور محبوب شخصیت، سید ہاشم علی شاہ کی ناگہانی وفات نہ صرف ان کے خانواد...
22/08/2026

انا للہ وانا الیہ راجعون
​بشگرام کریم آباد کی معتبر اور محبوب شخصیت، سید ہاشم علی شاہ کی ناگہانی وفات نہ صرف ان کے خانوادے بلکہ پورے علاقے کے لیے ایک عظیم اور ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ وہ ایک ایسی بااخلاق اور مخلص شخصیت کے مالک تھے جن کی کمی طویل عرصے تک محسوس کی جائے گی۔
سید ہاشم علی شاہ اپنی ذات میں ایک الگ اور منفرد پہچان رکھتے تھے۔ ان کا شمار علاقے کی ان شخصیات میں ہوتا تھا جو ہر خاص و عام میں مساوی طور پر مقبول تھیں اور جن سے مل کر ہر شخص اپناائیت محسوس کرتا تھا۔
ان کی سب سے بڑی پہچان ان کی دلکش اور بے ساختہ مسکراہٹ تھی۔ زندگی کے کسی بھی موڑ پر انہوں نے پیشانی پر بل نہیں آنے دیا۔ ان سے ملنے والا شخص ان کی مسکراہٹ سے اپنی تمام تر تھکن اور غم بھول جاتا تھا ۔ وہ ایک بہترین سماجی و سوشل شخصیت تھے۔ لوگوں کے دکھ درد میں شریک ہونا، محتاجوں کی خاموشی سے مدد کرنا اور ہر کسی کے کام آنا ان کا اوڑھنا بچھونا تھا۔ انہوں نے کبھی مدد کرتے وقت اپنے اور پرائے کا فرق نہیں رکھا۔ وہ ہر مجلس کی رونق اور مثبت توانائی کا سرچشمہ تھے۔ مشکل سے مشکل وقت میں بھی لوگوں کو امید کی کرن دکھانا اور ان کا حوصلہ بڑھانا ان کی عادتِ کریمہ تھی۔
​سید ہاشم علی شاہ کا یوں اچانک ہم سے جدا ہو جانا کریم آباد کے ہر فرد کے لیے انتہائی غمزدہ لمحات کا سبب ہے۔ وہ اگرچہ جسمانی طور پر ہم میں موجود نہیں رہے، مگر ان کے اچھے اخلاق، نیکی اور مسکراتی یادیں ہمیشہ لوگوں کے دلوں میں زندہ رہیں گی۔
​اللہ تعالی مرحوم کے درجات بلند فرمائے، انہیں جوارِ رحمت میں جگہ عطا کرے اور تمام غمزدہ لواحقین و اہلیاںِ علاقہ کو یہ عظیم صدمہ برداشت کرنے کا صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین ۔

16/08/2026

شکریہ طلحہ محمود!
طلحہ محمود کی جانب سے کریم آباد ویلی کے متاثرہ علاقوں کے لیے مالی امداد فراہم کرنا بلاشبہ ایک قابلِ تحسین اور مثبت قدم ہے۔ مشکل وقت میں متاثرہ لوگوں کے درمیان کھڑے ہو کر ان کی مدد کرنا یقیناً قابلِ قدر عمل ہے۔
ہماری رائے میں اگر یہی امدادی رقم کسی معتبر اور باقاعدہ ادارے کے حوالے کی جاتی تو شاید اس کا استعمال مزید منظم، شفاف اور مؤثر انداز میں ہو سکتا تھا۔ تاہم یہ رقم اسی مقصد کے لیے دی گئی ہے کہ متاثرہ علاقوں، خصوصاً تباہ شدہ سڑکوں اور دیگر ضروری کاموں کی بحالی میں استعمال ہو، اس لیے ہم امید کرتے ہیں کہ جن لوگوں کو یہ امداد دی گئی ہے وہ اسے پوری ذمہ داری اور دیانت داری کے ساتھ اسی مقصد کے لیے استعمال کریں گے۔
ہم ان تمام ذمہ دار افراد سے امید رکھتے ہیں کہ وہ متاثرہ علاقوں اور سڑکوں کی بحالی پر یہ رقم صحیح طریقے سے خرچ کریں گے اور اپنے عمل سے کسی قسم کی تنقید یا سوالیہ نشان پیدا نہیں ہونے دیں گے۔
ہم اسی نیک امید اور مثبت سوچ کے ساتھ یہ ویڈیو شیئر کر رہے ہیں کہ یہ امداد حقیقی معنوں میں متاثرہ لوگوں اور علاقے کی بحالی کے کام آئے گی۔
مشکل وقت میں لوگوں کے درمیان کھڑے ہو کر ان کی مدد کرنا قابلِ احترام عمل ہے، اور اس مدد کو صحیح مقصد کے لیے شفاف اور ذمہ دارانہ انداز میں استعمال کرنا سب کی ذمہ داری ہے۔

28/07/2026

Chitrali Trump 😂

ایس ایس پی (یا اسسٹنٹ سب انسپکٹر) علی نواز خان صاحب کو سٹی تھانہ چترال کا ایڈیشنل ایس ایچ او تعینات ہونے پر دل کی گہرائی...
24/07/2026

ایس ایس پی (یا اسسٹنٹ سب انسپکٹر) علی نواز خان صاحب کو سٹی تھانہ چترال کا ایڈیشنل ایس ایچ او تعینات ہونے پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد ,,
​آپ کی یہ شاندار کامیابی آپ کی محنت، دیانت داری، فرض شناسی اور بہادری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ سوسوم کریم آباد سمیت پوری کمیونٹی کو آپ پر فخر ہے کہ آپ نے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے علاقے کا سر فخر سے بلند کیا۔
​ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو مزید عزت، بلندیاں اور دین و وطن کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ,,

Admin chitral Valley

زرینہ... ایک بات کہوں؟ برا تو نہیں مانو گی؟وقت نے دونوں کے بالوں کو چاندی بنا دیا تھا، مگر ان کے درمیان نوک جھونک کی مٹھ...
19/07/2026

زرینہ... ایک بات کہوں؟ برا تو نہیں مانو گی؟

وقت نے دونوں کے بالوں کو چاندی بنا دیا تھا، مگر ان کے درمیان نوک جھونک کی مٹھاس آج بھی ویسی ہی تھی جیسے نئی نئی شادی کے دنوں میں تھی۔

ایک شام چائے پیتے ہوئے حاجی سلیم نے اپنی بیوی زرینہ کو غور سے دیکھا، عینک اتاری، گلا صاف کیا اور نہایت سنجیدگی سے بولے،

زرینہ... ایک بات کہوں؟ برا تو نہیں مانو گی؟

زرینہ مسکرائی۔

پچاس سال برداشت کر لیا ہے، اب بھی سن لوں گی۔ بولیے!

حاجی سلیم نے لمبی سانس لی اور فلسفیانہ انداز میں کہا،

دیکھو... پچاس سال پہلے ہمارے پاس نہ اپنا گھر تھا، نہ گاڑی۔ ایک پرانا سا کرائے کا مکان تھا، کھٹارا موٹر سائیکل تھی، لوہے کے پلنگ پر سوتے تھے، اور دس انچ کا سیاہ سفید ٹی وی تھا...

زرینہ خاموشی سے سنتی رہی۔

وہ مزید بولے،

"لیکن ایک چیز تھی... ہر رات میرے ساتھ تئیس سال کی ایک خوبصورت، حسین اور جوان لڑکی ہوتی تھی۔"

زرینہ نے ہونٹ دبا لیے تاکہ ہنسی نہ نکل جائے۔

حاجی سلیم نے آہ بھری۔

اور آج دیکھو...

پانچ کروڑ کا گھر ہے...

مہنگی گاڑی ہے...

بادشاہوں جیسا بیڈروم ہے...

ستر انچ کا اسمارٹ ٹی وی ہے...

لیکن...

وہ رک گئے۔
لیکن اب میرے ساتھ انہتر سال کی ایک بڑھیا ہے۔

مجھے لگتا ہے... تم اپنی طرف کی ذمہ داری ٹھیک سے نہیں نبھا رہیں!

کمرے میں چند لمحوں کے لیے خاموشی چھا گئی۔

زرینہ نے چائے کا کپ میز پر رکھا...

عینک سیدھی کی...

اور پوری سنجیدگی سے بولی،

"بات تو آپ کی بالکل درست ہے۔

حاجی سلیم چونک گئے۔

انہیں لگا شاید آج قسمت مہربان ہو گئی۔

زرینہ مسکرائی اور بولی،

آپ ایک کام کریں...

جی؟

جائیں... کہیں سے ایک تئیس سال کی خوبصورت لڑکی ڈھونڈ لائیں...

حاجی سلیم کی آنکھوں میں چمک آ گئی۔

سچ؟

زرینہ نے سر ہلایا۔

بالکل سچ!

پھر ذرا جھک کر ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی،

اور باقی فکر مجھ پر چھوڑ دیں...

میں یہ بھی یقینی بنا دوں گی کہ آپ پھر سے ایک چھوٹے سے کرائے کے مکان میں رہ رہے ہوں..

کھٹارا موٹر سائیکل چلا رہے ہوں...

لوہے کے پلنگ پر سو رہے ہوں..

اور دس انچ کا سیاہ سفید ٹی وی دیکھ رہے ہوں...

حاجی سلیم کے چہرے کی ساری رومانویت ایک ہی لمحے میں غائب ہو گئی۔

وہ چند لمحے خاموش بیٹھے رہے...

پھر آہستہ سے بولے،

زرینہ... چائے ذرا اور مل سکتی ہے؟

زرینہ زور سے ہنس پڑی۔

ضرور...

لیکن اب احتیاط سے پیا کیجیے...

اس عمر میں خواب بھی شوگر بڑھا دیتے ہیں!

دونوں اتنا ہنسے کہ ان کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔

اسی لمحے ان کی پوتی اندر آئی اور حیرت سے پوچھنے لگی،

"دادا ابو! دادی اماں! اتنا کیوں ہنس رہے ہیں؟

حاجی سلیم نے مسکراتے ہوئے زرینہ کا ہاتھ تھاما اور بولے،

بیٹا...

اصل دولت بڑا گھر یا مہنگی گاڑی نہیں ہوتی...

اصل دولت وہ انسان ہوتا ہے جو پچاس سال بعد بھی تمہاری ہر فضول بات کا ایسا جواب دے کہ تمہیں اپنی عقل پر شک ہونے لگے!

زرینہ نے شرارت سے کہا،

اور یاد رکھنا...

عورت عمر کے ساتھ بوڑھی نہیں ہوتی... صرف اپنے شوہر کے بہانے سننے میں ماہر ہو جاتی ہے!

تحریر ایڈمن چترال ویلی ،،

19/07/2026

Ashiqi Anger ki birai ..
Khuwar song 🎵

13/07/2026

3 lacc raan hamotee ..pisa kia remiyan

سردینیا (اٹلی) کے خوبصورت ساحلی علاقے پورٹو چیرو (Porto Cervo) میں منعقدہ ایک پروقار تقریب کے دوران، مقامی حکام نے شہر ک...
11/07/2026

سردینیا (اٹلی) کے خوبصورت ساحلی علاقے پورٹو چیرو (Porto Cervo) میں منعقدہ ایک پروقار تقریب کے دوران، مقامی حکام نے شہر کے مرکزی چوک (پلازا) کو مولانا شاہ کریم کے نامِ سے منسوب کر دیا۔ اس موقع پر ایک یادگاری مجسمے کی نقاب کشائی بھی کی گئی، جو اس بنجر خطے کو ایک حسین اور ترقی یافتہ ساحلی جنت میں تبدیل کرنے کے لیے ان کی لازوال اور بصیرت انگیز خدمات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

​اس پُرنور اور جذباتی تقریب میں مولانا حاضر امام شاہ رحیم الحسینی بنفسِ نفیس رونقِ افروز تھے، جبکہ آپ کے ہمراہ پرنس امین، پرنس عرفان اور پرنس سنان بھی موجود تھے۔ حاضر امام علیہ السلام نے اپنے خطاب میں، جس کا کچھ حصہ انہوں نے اطالوی زبان میں ارشاد فرمایا، اپنے والدِ محترم کو دیے گئے اس بعد از وفات اعزاز پر مقامی حکام کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔

​مولانا حاضر امام نے فرمایا:
​ایک چوک (پلازا) دراصل ملاقاتوں، یادوں اور برادری کا مرکز ہوتا ہے۔ میرے والدِ محترم کے نام کو اس جگہ سے منسوب کرنا، ان کی یادوں کو پورٹو چیرو کے دل میں بسانے جیسا ہے—ان لوگوں، فنِ تعمیر، مناظر اور اس سمندر کے درمیان جس سے انہیں بے پناہ محبت تھی۔ میں اور میرا خاندان اس جذباتی اور خوبصورت خراجِ عقیدت پر دل کی گہرائیوں سے شکر گزار ہیں۔

​جب مولانا شاہ کریم نے 1960 کی دہائی کے آغاز میں پہلی بار سردینیا کے علاقے 'مونٹی ڈی مولا' کا دورہ کیا تھا، تو یہ سڑکوں اور بجلی سے محروم ایک سنگلاخ اور بنجر زمین تھی۔ لیکن ان کی شفقت، رہنمائی اور لازوال محبت نے اس ویرانے کو 'لا کوسٹا سمی رالڈا' (The Emerald Coast - زمرد کا ساحل) جیسے شاہکار میں بدل دیا۔ انہوں نے اس ترقی کے دوران نہ صرف مقامی وسائل کا استعمال کیا بلکہ قدرت کے حسن کو بھی آنچ نہ آنے دی۔

​حاضر امام شاہ رحیم الحسینی نے اس عظیم الشان منصوبے کی فکری گہرائی پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ اس کام نے ان کے والد کو ان تمام چیزوں کو ایک جگہ یکجا کرنے کا موقع دیا جن سے انہیں والہانہ لگاؤ تھا: یعنی تعمیرات، دستکاری، قدرتی مناظر، حسن اور طویل المدتی انسانی ترقی۔

​آرزاکینا (Arzachena) کے میئر رابرٹو راگنیڈا نے مرحوم امام کے پہلے دورے کو جذباتی انداز میں یاد کرتے ہوئے کہا کہ ان کا فلسفہ یہ تھا کہ تعمیرات کو ماحول پر حاوی نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اسے فطرت کے رنگوں میں گھل مل جانا چاہیے۔ میئر نے اعتراف کیا:
​"پرنس کریم نے اس مٹی سے محبت کی اور اس کے لیے ایک ایسے پائیدار مستقبل کا خواب دیکھا جو کارخانوں اور ماحول کی تباہی سے پاک ہو۔ ان کے پاس وہ الہامی بصیرت تھی جس نے سمجھا کہ مقامی شناخت اور قدرتی ورثہ ہی مشترکہ ترقی کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ آج اس چوک کا نام رکھنا اور اس یادگار کا افتتاح، ہماری سچی عقیدت کا اظہار ہے۔"

​میئر نے اس تاریخی موقع پر یہ اعلان بھی کیا کہ مولانا حاضر امام شاہ رحیم الحسینی کو آرزاکینا کی اعزازی شہریت پیش کی جائے گی—یہ وہی اعزاز ہے جو 1965 میں ان کے والدِ گرامی کو دیا گیا تھا۔

​سردینیا کے خود مختار خطے کی صدر، الیسنڈرا ٹوڈے نے خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم صرف ایک چوک کا افتتاح نہیں کر رہے، بلکہ ہم سردینیا کی تاریخ کو بدلنے والے ایک عظیم نام اور وژن کو نسلوں کے حافظے کے حوالے کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا فیض صرف عمارتوں تک محدود نہیں رہا، بلکہ انہوں نے یہاں روزگار، جدت اور نوجوانوں کے لیے امیدوں کے نئے چراغ روشن کیے۔
​آج یہ ساحل دنیا بھر کے لیے ماحولیاتی تحفظ اور سیاحت کا ایک حسین امتزاج بن چکا ہے، جہاں اب بھی ترقی کے ساتھ ساتھ سمندری حیات کا تحفظ اور ماحول دوستی پہلی ترجیح ہے۔

​تقریب کے اختتام پر، مولانا حاضر امام شاہ رحیم الحسینی نے تمام مقامی عہدیداروں، فنکاروں اور اپنے والدِ گرامی کی یاد کو دلوں میں زندہ رکھنے والے تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا۔ آپ نے فرمایا:
​"اگر آج وہ ہمارے درمیان ہوتے، تو اس عزت افزائی پر ان کا دل بھر آتا۔ میں جانتا ہوں کہ وہ چاہتے کہ یہ لمحہ مستقبل کی طرف دیکھنے کا ہو۔ وہ چاہتے کہ ہم اس خطے کی دیکھ بھال اسی تخیل، نظم و ضبط اور امانت داری کے احساس کے ساتھ کریں جس نے اس کی تخلیق کو ممکن بنایا تھا۔

Address

Islamabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Chitral Valley posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share