10/01/2026
حضرت نوح علیہ السلام کا واقعہ قرآن کریم اور احادیث میں بار بار آیا ہے، خاص طور پر *سورہ نوح، سورہ ہود، سورہ مؤمنون، سورہ عنکبوت* وغیرہ میں۔ یہ واقعہ نہ صرف تاریخی ہے بلکہ اس میں ایمان، صبر، تبلیغ، انکارِ حق اور اللہ کے عذاب سے بچاؤ کے اہم اسباق موجود ہیں۔
ذیل میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا جا رہا ہے:
---
*1. حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کی حالت:*
حضرت نوح علیہ السلام کی قوم بت پرستی، ظلم، فحاشی، اور نافرمانی میں مبتلا تھی۔ وہ مختلف بتوں کی پوجا کرتے تھے، جن کے نام قرآن میں ذکر ہیں:
*سورہ نوح: 23*
> "اور انہوں نے کہا: اپنے معبودوں کو ہرگز نہ چھوڑو، اور نہ ود، سواع، یغوث، یعوق اور نسر کو چھوڑو۔"
---
*2. حضرت نوح علیہ السلام کی تبلیغ:*
اللہ نے حضرت نوح علیہ السلام کو نبی بنا کر بھیجا۔ انہوں نے 950 سال تک دن رات، چھپ کر، علانیہ، محبت سے، تنبیہ سے، ہر طریقے سے قوم کو اللہ کی طرف بلایا۔
*سورہ عنکبوت: 14*
> "اور ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا، تو وہ ان میں پچاس کم ایک ہزار سال رہا..."
*سورہ نوح: 5-9*
> "اے میرے رب! میں نے اپنی قوم کو رات دن بلایا، لیکن میری دعوت نے ان کے فرار میں اضافہ ہی کیا..."
---
*3. قوم کا ردِ عمل:*
قوم نے حضرت نوح علیہ السلام کا مذاق اڑایا، انہیں جھٹلایا، اور کہا کہ تم تو ہم جیسے انسان ہو۔ سرداروں نے کہا کہ یہ نبی نہیں بلکہ گمراہ ہے۔
*سورہ ہود: 27*
> "تو ان کی قوم کے سرداروں نے کہا: ہم تو تمہیں اپنے جیسا انسان ہی دیکھتے ہیں..."
*4. اللہ کا عذاب مقرر ہونا:*
جب قوم نے مسلسل انکار کیا، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
*سورہ ہود: 36*
> "اور نوح کی طرف وحی کی گئی: بے شک تمہاری قوم میں سے جو ایمان لا چکے، ان کے سوا اب کوئی ایمان نہیں لائے گا..."
اللہ نے حضرت نوح کو حکم دیا کہ ایک *بڑی کشتی* بنائیں۔
*سورہ ہود: 37*
> "اور ہماری نگرانی میں اور ہمارے حکم کے مطابق کشتی بناؤ، اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے کچھ نہ کہو، وہ سب ڈبو دیے جائیں گے۔"
---
*5. کشتی کی تیاری اور مذاق:*
حضرت نوح علیہ السلام کشتی بناتے رہے، اور قوم ان پر ہنستی رہی۔
*سورہ ہود: 38*
> "اور جب وہ کشتی بناتے، ان کی قوم کے سردار ان پر ہنستے..."
---
*6. عذاب کا آغاز – طوفان:*
اللہ نے نشان مقرر کیا: *جب تنور سے پانی ابلے گا*، تو سمجھ لو وقت آ گیا۔
*سورہ المؤمنون: 27*
> "... جب تنور اُبلے، تو اس میں ہر جوڑے میں سے دو لے لو..."
بارش آسمان سے برسی، زمین سے چشمے پھوٹے، اور شدید طوفان آ گیا۔
*سورہ القمر: 11-12*
> "پس ہم نے آسمان کے دروازے کھول دیے زور دار بارش کے ساتھ، اور زمین سے چشمے جاری کر دیے..."
---
*7. بیٹے کا انجام (کنعان):*
حضرت نوح کا ایک بیٹا سوار نہ ہوا، اور کہا کہ پہاڑ پر چڑھ جائے گا۔ حضرت نوح نے سمجھایا، لیکن وہ ڈوب گیا۔
*سورہ ہود: 43*
> "اس نے کہا: میں کسی پہاڑ پر چڑھ کر بچ جاؤں گا... نوح نے کہا: آج اللہ کے حکم سے کوئی نہیں بچ سکتا..."
---
*8. کشتی کا ٹھہرنا:*
جب طوفان ختم ہوا، کشتی "جُودی پہاڑ" پر ٹھہر گئی۔
*سورہ ہود: 44*
اور کہا گیا: اے زمین! اپنا پانی نگل لے، اور اے آسمان! تھم جا... اور کشتی جودی پر ٹھہر گئی..."
---
*9. سبق:*
- اللہ کی نافرمانی کا انجام ہلاکت ہے۔
- نبی کی بات نہ ماننا تباہی لاتا ہے۔
- نجات ایمان اور اطاعت میں ہے، رشتے یا مقام سے نہیں (بیٹے کی مثال)۔
- اللہ کی مدد صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتی ہے۔
---
*حدیث کی روشنی میں:*
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
*"سب سے پہلا رسول نوح ہے جو اپنی قوم کی طرف بھیجا گیا۔"*
(صحیح بخاری)