Saqib Sabir

Saqib Sabir Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Saqib Sabir, Digital creator, jubail eastern province, Jubail.
(1)

‏سب دلیلیں بے سروپا سب فسانے مسترد
جو یہاں بیٹھے ہیں بس قبضہ جمانے مسترد
یوں تو سب دنیا کے پرچم اور ترانے محترم
جو ہمیں جھٹلائیں وہ پرچم ترانے مسترد
وہ اگر قابض ہیں تو پھر معتبر کہلائیں کیوں ؟
یہ بڑے بھائی کے بھاشن یہ بہانے مسترد !

23/05/2026

"علم صرف خود تک رکھ لینا بھی ایک خود غرضی ہے،
کیونکہ باشعور لوگوں کی خاموشی نسلوں کو اندھیروں میں چھوڑ دیتی ہے۔"

11/05/2026

ایک شخص بنارس گیا۔ وہاں ایک نہایت شریف شکل کا آدمی ملا، سفید کرتا، مسکراہٹ ایسی کہ بندہ خود ہی اعتماد کر لے۔
اس نے کہا:
“بھائی صاحب! آپ تھکے لگ رہے ہیں، آئیے ذرا پان کھلاتا ہوں، بنارسی پان ہے، دل خوش ہو جائے گا۔”
مسافر سادہ تھا، مان گیا۔
پان کھایا، باتوں میں لگا، بنارسی ٹھگ نے فلسفہ شروع کر دیا:
“دیکھئے جناب! دنیا میں سب سے قیمتی چیز اعتماد ہے، پیسہ تو ہاتھ کی میل ہے۔”
مسافر متاثر ہو گیا۔
باتوں باتوں میں ٹھگ نے کہا:
“بس ایک چھوٹا سا تجربہ کرتے ہیں، آپ اپنا بٹوہ مجھے دیں، میں رکھتا ہوں، آپ کا اعتماد پرکھ لیتے ہیں۔”
مسافر نے فوراً بٹوہ دے دیا۔
ٹھگ نے مسکرا کر کہا:
“شاباش! آپ کامیاب ہو گئے… اعتماد کے امتحان میں!”
اور یہ کہہ کر وہ غائب 😄
مسافر کچھ دیر بعد ہوش میں آیا تو بولا:
“پیسہ تو گیا، مگر بات سچ ہے… اعتماد واقعی قیمتی چیز ہے!”
تبھی سے مشہور ہو گیا:
'بنارسی ٹھگ لوٹے نہ لوٹے، فلسفہ ضرور دے جاتا ہے'

*ایک کسان نے مُردہ سور ایک سوکھے کنویں میں پھینک دیا۔*تھوڑی ہی دیر بعد 70-80 چوہے اُس سور کی بدبو سے کھنچ کر کنویں میں ک...
09/05/2026

*ایک کسان نے مُردہ سور ایک سوکھے کنویں میں پھینک دیا۔*
تھوڑی ہی دیر بعد 70-80 چوہے اُس سور کی بدبو سے کھنچ کر کنویں میں کود پڑے۔ اُن کے لیے یہ آسان غذا تھی۔ اُنہوں نے مل کر سور کو کھا لیا۔

لیکن اصل مشکل تب شروع ہوئی جب کھانے کے بعد اُنہوں نے باہر نکلنے کی کوشش کی — تب اُنہیں احساس ہوا کہ وہ اس کنویں میں پھنس چکے ہیں۔

دن گزرتے گئے، کھانا ختم ہوگیا، بھوک نے شدت پکڑی۔ چند ہی دنوں میں وہ کنواں جہنم بن گیا۔ زندہ رہنے کے لیے چوہوں نے ایک دوسرے کو مارنا شروع کیا اور پھر کھانا بھی۔

آہستہ آہستہ سب ختم ہوگئے۔

آدھے مہینے بعد اُس کنویں میں صرف ایک چوہا بچا تھا، جس کی آنکھیں خون کی طرح لال ہوچکی تھیں۔

اتنے میں کسان واپس آیا، اُس نے کنویں میں رسی ڈالی اور آخری چوہے کو باہر نکال کر کھیت میں چھوڑ دیا۔

*اب سوال: کیا کسان کو اُس چوہے پر رحم آگیا تھا؟*

*حقیقت کچھ اور تھی۔*
وہ چوہا مکمل طور پر بدل چکا تھا۔ وہ اپنی ہی جنس کو کھانے کا عادی ہوچکا تھا، اس لیے وہ اب اناج نہیں کھاتا تھا۔ کھیت میں جاتے ہی وہ پاگلوں کی طرح دوسرے چوہوں کا شکار کرنے لگا۔

اور یہی ہے اصل *"Divide Trap"* — جہاں اوپر بیٹھے لوگ خود کبھی نہیں لڑتے، بس ایسا ماحول بنا دیتے ہیں کہ نیچے والے لوگ آپس میں لڑ کر ایک دوسرے کو ختم کردیں۔

سچ یہ ہے کہ بہت سے لوگ پوری زندگی دوسروں کو ہرانے میں لگا دیتے ہیں، لیکن اُنہیں کبھی سمجھ نہیں آتی کہ وہ خود کسی اور کے کھیل کا حصہ بن چکے ہیں۔

اس لیے کسی اور کے بنائے جال میں مت پھنسو — اور اگر کبھی پھنس بھی جاؤ تو لڑو مت، باہر نکلنے کا راستہ ڈھونڈو۔

🔻 *پاکستان کے موجودہ حالات میں یہ کہانی کیا کہتی ہے؟*

*پچھلے ڈیڑھ سال میں پاکستان کا نظام تیزی سے زوال پذیر ہوا ہے:*

· انفراسٹرکچر تباہ کیا جا چکا ہے — سڑکیں، پل، اسپتال، سکول سب تباہ حال ہیں۔
· لسانیت (زبان پر بنیاد تعصب) اپنے عروج پر ہے — ایک دوسرے کو پنجابی، سندھی، پٹھان، بلوچ، مہاجر کہہ کر کاٹا جا رہا ہے۔
· بنیادی اشیاء کی قیمتیں اس قدر بڑھ چکی ہیں کہ انسان صرف اپنی جلد کی فکر کرتا ہے۔ روٹی، بجلی، گیس، دوائی — سب عوام کی پہنچ سے باہر۔
· معاشی، اخلاقی، خاندانی اور مذہبی حوالوں سے ماحول زہریلا ہو چکا ہے:
· معاشی طور پر مہنگائی نے انسان کو حیوان بنا دیا ہے۔
· اخلاقی طور پر جھوٹ، دھوکہ، رشوت اور کرپشن عام ہو چکی ہے۔
· خاندانی نظام ٹوٹ رہا ہے — والدین کے ساتھ بے عزتی، بہن بھائیوں میں لالچ، رشتوں میں دوریاں۔
· مذہبی طور پر فرقہ واریت نے لوگوں کو آپس میں کاٹنا شروع کر دیا ہے۔ ہر گروہ دوسرے کو کافر یا بدعتی قرار دیتا ہے۔

*نتیجہ:* آج پاکستان کا معاملہ بالکل اسی کنویں جیسا ہو چکا ہے، جہاں عوام ایک دوسرے کو نوچ کھا رہے ہیں۔ ہم نے اپنی اصل دشمن *(اوپر بیٹھے کرپٹ حکمرانوں، بیوروکریٹس، اور زمیندار جاگیرداروں)* کو بھول کر اپنے ہی پڑوسی، اپنی ہی نسل، اپنے ہی مذہب کے لوگوں کو دشمن سمجھ لیا ہے۔

*اور اوپر بیٹھے لوگ؟* وہ آرام سے اپنی عیاشیوں میں مصروف ہیں، ہماری لڑائیوں پر ہنستے ہیں، اور نئے ’مردہ سور‘ پھینکنے کا انتظار کر رہے ہیں۔

💡 *حقیقی سبق:*

· دوسروں کے بنائے ہوئے لسانی، فرقہ وارانہ، سیاسی جال میں مت پھنسو۔
· جب تم اپنے ہی بھائی کو کاٹو گے تو ’‘ *(بااثر طبقہ)* خوش ہوگا۔
· لڑو مت — باہر نکلنے کا راستہ ڈھونڈو۔ اتحاد کرو، اصل دشمن پہچانو۔
· ورنہ یہ کہانی حقیقت بن جائے گی: کنواں خالی، اور صرف ایک لال آنکھوں والا چوہا باقی — جو خود بھی پاگل ہو چکا ہے۔
_*

اللہ پاکستان کو اس فتنے سے بچائے۔ آمین

پرندوں کو ڈرانے کے لیے حضرت انسان نے کھیتوں میں جب پہلی بار پتلا لگایا تو وہ سمجھ گیا کہ "وہم" حقیقت سے زیادہ خوف پیدا ک...
07/05/2026

پرندوں کو ڈرانے کے لیے حضرت انسان نے کھیتوں میں جب پہلی بار پتلا لگایا تو وہ سمجھ گیا کہ "وہم" حقیقت سے زیادہ خوف پیدا کرتا ہے

04/05/2026

‏ایک شخص جس نے ایک عورت کے ساتھ زیادتی کی اسے 20 سال کی سزا ملی لیکن افسوس کہ عام معافی آ گئی اور وہ 20 ماہ بھی جیل میں گزارے بغیر باہر آ گیا
عورت نے ایک دن پستول حاصل کی اور سڑک کے بیچوں بیچ اپنے ساتھ زیادتی کرنے والے کو مار دیا
اسے پکڑ لیا گیا اور جج کے سامنے پیش کیا گیا جج نے پوچھا تم نے اسے کیوں ق ت ل کیا؟
لڑکی نے جواب دیا اس نے میرے ساتھ زیادتی کی تھی
جج نے کہا کیا ریاست نے اسے سزا نہیں دی تھی؟
لڑکی نے کہا دی تھی جناب 20 سال کی مگر وہ 20 ماہ بھی جیل میں رہے بغیر باہر آ گیا
جج نے کہا لیکن ریاست نے اسے معاف کر دیا
عورت غصے میں چیخ پڑی
جنابِ جج اس بے شرم نے ریاست کے ساتھ نہیں میرے ساتھ زیادتی کی تھی مجھ سے پوچھے بغیر اسے معاف کرنے کا اختیار کس کو ہے؟

کاپی پوسٹ

یہ بات ہمارے معاشرے کی ایک بہت تلخ حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ لوگ اکثر سچ کا ساتھ نہیں دیتے، بلکہ اُس شخص کے ساتھ کھڑے ہو ...
30/04/2026

یہ بات ہمارے معاشرے کی ایک بہت تلخ حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ لوگ اکثر سچ کا ساتھ نہیں دیتے، بلکہ اُس شخص کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں جسے وہ پسند کرتے ہیں۔

بہت بار حق اور باطل کا فیصلہ دلیل سے نہیں، تعلق سے کیا جاتا ہے۔ اگر پسندیدہ شخص غلط بھی ہو، تب بھی لوگ اُس کی غلطی کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔

اسی لیے ہر مقبول انسان سچا نہیں ہوتا، اور ہر سچا انسان مقبول نہیں ہوتا۔ بعض اوقات حق تنہا رہ جاتا ہے، کیونکہ حق کے ساتھ کھڑے ہونے کے لیے کردار چاہیے، جبکہ کسی پسندیدہ شخص کا ساتھ دینے کے لیے صرف جذبات کافی ہوتے ہیں۔

عقل مند انسان لوگوں کی تالیوں سے سچ کو نہیں پرکھتا، بلکہ سچ کو سچ اس لیے مانتا ہے کیونکہ وہ سچ ہے، چاہے پوری دنیا اُس کے خلاف کیوں نہ کھڑی ہو۔!

27/04/2026
جنوبی سوڈان کے ارب پتی لارنس لوال پر جب حکومت نے ان کے ذرائع آمدن کی تحقیقات شروع کیں تو وہ اپنی تمام دولت سمیٹ کر کینیڈ...
17/04/2026

جنوبی سوڈان کے ارب پتی لارنس لوال پر جب حکومت نے ان کے ذرائع آمدن کی تحقیقات شروع کیں تو وہ اپنی تمام دولت سمیٹ کر کینیڈا چلے گئے۔
رخصت ہوتے وقت وہ ایک ایسا جملہ کہہ گئے جو سوچنے پر مجبور کرے
> "جب میں جوبا کے فٹ پاتھ پر سوتا تھا… بارش میں بھیگتا تھا… بھوکا پیاسا دن گزارتا تھا… کچر-ے سے روٹی کے ٹکڑے نکال کر کھاتا تھا… اُس وقت کسی حکومت کو میرے سورس آف غربت میں دلچسپی کیوں نہ ہوئی؟
یاد رکھو! جس حکومت کو تمہاری غریبی کی پرواہ نہ ہو، اسے تمہاری امیری کا حساب لینے کا کوئی حق نہیں۔"

یہ جملہ صرف ایک شخص کا نہیں…
یہ اُن کروڑوں بے بس انسانوں کی خاموش فریاد ہے،
جنہیں غریبی میں نظرانداز کیا گیا، اور خوشحالی میں کٹہرے میں کھڑا کر دیا جاتا ہے۔۔

ملائیشیا میں ایک شخص راہگیروں سے چند سکے مانگ رہا تھا، مگر اس دن اسے سب سے حیران کن تحفہ ایک ہاتھی کی طرف سے ملا۔وہ سامن...
12/04/2026

ملائیشیا میں ایک شخص راہگیروں سے چند سکے مانگ رہا تھا، مگر اس دن اسے سب سے حیران کن تحفہ ایک ہاتھی کی طرف سے ملا۔
وہ سامنے کپ رکھے بیٹھا تھا کہ اچانک ایک ہاتھی وہاں سے گزرا اور کچھ لمحوں کے لیے رُک کر جیسے صورتحال کو سمجھنے کی کوشش کرنے لگا۔ تقریباً ایک گھنٹے بعد وہی ہاتھی دوبارہ واپس آیا۔

اس بار وہ آہستہ سے اس شخص کے قریب پہنچا اور اس کے کپ میں کچھ ڈال دیا، مگر وہ پیسے نہیں تھے—بلکہ پانی تھا۔ جیسے ہاتھی نے سوچا ہو کہ شاید یہ شخص پیاسا ہے، اور اپنی سمجھ کے مطابق مدد کرنا چاہتا ہو۔ یہ دیکھ کر وہ آدمی لمحہ بھر کو حیران رہ گیا، پھر مسکرا کر اس معصوم اور دل کو چھو لینے والے تحفے پر ہاتھی کا شکریہ ادا کیا۔____________ copied

‏زمین کا کوئی بھی فلسفہ؛‏کھونے والے کو اس کی گمشدہ چیز کا عوض پیش نہیں کر سکتا!
11/04/2026

‏زمین کا کوئی بھی فلسفہ؛
‏کھونے والے کو اس کی گمشدہ چیز کا عوض
پیش نہیں کر سکتا!

نیتیں اس قدر پوشیدہ ہوتی ہیں کہ آپ کسی شخص کے لیے آسمان لا کر دینا چاہتے ہیں جبکہ وہ سوچ رہا ہوتا ہے کہ وہ اسے آپ کے سر ...
09/04/2026

نیتیں اس قدر پوشیدہ ہوتی ہیں کہ آپ کسی شخص کے لیے آسمان لا کر دینا چاہتے ہیں جبکہ وہ سوچ رہا ہوتا ہے کہ وہ اسے آپ کے سر پر گرا دے گا!

Address

Jubail Eastern Province
Jubail
1233

Telephone

+923479500736

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Saqib Sabir posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Saqib Sabir:

Share