Dastan E Alam

Dastan E Alam Follow
👇 پیج کو فالو ضرور کریں! 👇
✒️ داستانِ عالم
سچے واقعات، سبق آموز کہانیاں اور مختصر دلنشین تحریریں۔
وہ باتیں جو دل سے نکلیں اور دل تک پہنچیں

💔 آپ کے خیال میں پردیسی کی سب سے بڑی خوشی کیا ہوتی ہے؟ کمنٹ میں ضرور بتائیں۔پردیسی لوگ بھی عجیب ہوتے ہیں…پورا مہینہ دھوپ...
07/09/2026

💔 آپ کے خیال میں پردیسی کی سب سے بڑی خوشی کیا ہوتی ہے؟ کمنٹ میں ضرور بتائیں۔

پردیسی لوگ بھی عجیب ہوتے ہیں…
پورا مہینہ دھوپ، تھکن اور مشقت میں خون پسینہ بہا کر کماتے ہیں،
اور پھر ایک دن میں اپنی ساری کمائی اپنوں کو بھیج کر خود سب سے زیادہ خوش ہوتے ہیں۔ ❤️

اپنے لیے شاید کچھ نہ بچائیں،
مگر گھر والوں کے چہروں کی مسکراہٹ کے لیے سب کچھ قربان کر دیتے ہیں۔

پردیس میں رہنے والا ہر شخص صرف پیسے نہیں کماتا،
وہ اپنے گھر والوں کے خواب پورے کرتا ہے۔ 🥺❤️

اللہ ہر پردیسی کو اپنے پیاروں کے ساتھ خوشیاں نصیب کرے۔ آمین 🤲

#پردیسی #محنت #قربانی #پردیس

ہم مُسافروں کی محبت بھی بَڑی عجیب ہوتی ہے… 💔❤️ہزاروں میل کی دوری، مختلف ٹائم زونز اور موبائل کی یہ چھوٹی سی اسکرین! 📱یہ ...
31/08/2026

ہم مُسافروں کی محبت بھی بَڑی عجیب ہوتی ہے… 💔❤️
ہزاروں میل کی دوری، مختلف ٹائم زونز اور موبائل کی یہ چھوٹی سی اسکرین! 📱
یہ ویڈیو کال پر آدھا دل بنانا اور دوسری طرف سے اس کا مکمل ہونا… یہ محض ایک تصویر نہیں، بلکہ اس صبر، انتظار اور بے لوث محبت کی داستان ہے جو صرف ایک مسافر اور اس کی شریکِ حیات ہی سمجھ سکتے ہیں۔🫵
پروردگار تمام مسافروں کی محنتوں🫰 کو قبول فرمائے، ان کی حفاظت کرے اور انہیں جلد اپنے پیاروں سے ملائے۔ (آمین) 🤲✨
#پردیس

بھروسہ کے قاتلقسط 5: ملک بیدار ہوتا ہےکانفرنس کے آخری حصے میں سائرہ نے سیدھا کیمرے کی طرف دیکھا۔"میں تمام والدین سے کہنا...
29/08/2026

بھروسہ کے قاتل
قسط 5: ملک بیدار ہوتا ہے
کانفرنس کے آخری حصے میں سائرہ نے سیدھا کیمرے کی طرف دیکھا۔
"میں تمام والدین سے کہنا چاہتی ہوں — اپنے بچوں کی زندگی میں دیوار نہ بنیں، دروازہ بنیں۔ ان پر شک نہ کریں، ان سے بات کریں۔ ان کا موبائل چھیننا حل نہیں، ان کا اعتماد جیتنا حل ہے۔"
اس نے اسکولوں سے اپیل کی کہ وہ ہفتہ وار پیرنٹ میٹنگز کریں، اور بچوں کو سمجھائیں کہ کوئی بھی راز، چاہے کتنا ہی چھوٹا لگے، خاندان سے چھپانے کی چیز نہیں۔
اس رات سوشل میڈیا پر ہزاروں ویڈیوز اپلوڈ ہونے لگیں — کریئٹرز، اساتذہ، عام لوگ، سب سائرہ کا پیغام آگے پھیلاتے رہے۔ ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرنے لگا: "میری بیٹی، میری امانت۔"
گلیوں میں، اسکولوں میں، دفتروں میں، لوگ ایک دوسرے سے پوچھنے لگے: "کیا تم نے اپنے بچے سے آج بات کی؟"
سائرہ نے اپنی گاڑی میں بیٹھے، فون پر آتے ہزاروں پیغامات دیکھے، اور پہلی بار مہینوں میں، اس کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔ مگر وہ جانتی تھی — یہ صرف آغاز تھا۔

بھروسہ کے قاتلقسط 4: سچ کا اعلاناسٹوڈیو کی روشنیاں تیز تھیں۔ سائرہ کے سامنے صحافی، سوشل میڈیا کریئٹرز، اور کئی متاثرہ خا...
26/08/2026

بھروسہ کے قاتل
قسط 4: سچ کا اعلان
اسٹوڈیو کی روشنیاں تیز تھیں۔ سائرہ کے سامنے صحافی، سوشل میڈیا کریئٹرز، اور کئی متاثرہ خاندان بیٹھے تھے، جن کی آنکھوں میں امید اور بے چینی دونوں تھیں۔
مائیک ہاتھ میں لیتے ہی سائرہ کے ہاتھ کانپے۔ اس نے ایک لمحے کے لیے آنکھیں بند کیں، عالیہ کا چہرہ یاد کیا، اور بولنا شروع کیا۔
"پندرہ سال پہلے، میری بڑی بہن، عالیہ، کو پہلی بار موبائل ملا۔ وہ خوش تھی، آزاد محسوس کرتی تھی۔ چار مہینے بعد، وہ ہم سے دور ہوتی چلی گئی۔ ہم نے نوٹس کیا، مگر سمجھ نہ پائے۔ اور پھر ایک رات... وہ گھر واپس نہیں آئی۔"
ہال میں مکمل خاموشی چھا گئی۔ کیمرے کی لائٹس جھلملاتی رہیں، مگر کوئی حرکت نہ ہوئی۔
"میں نے اس دن قسم کھائی تھی کہ کسی اور بہن کو یہ درد نہیں سہنا پڑے گا۔ لیکن گزشتہ سولہ سالوں میں، اسی طریقے سے، سینکڑوں معصوم لڑکیاں چھینی جا چکی ہیں۔ اور میں... میں تین بار اس کے بہت قریب پہنچی، اور تین بار ہار گئی۔"
اس کی آواز ٹوٹی، مگر اس نے خود کو سنبھالا۔ "میں آج شرمندگی سے نہیں، سچائی سے یہاں کھڑی ہوں۔ کیونکہ یہ جنگ اب صرف میری نہیں۔"
ہال میں کئی آنکھیں نم تھیں۔ ایک ماں، جس کی بیٹی گزشتہ مہینے مار دی گئی تھی، آگے آئی اور سائرہ کو گلے لگا لیا۔ "ہم تمہارے ساتھ ہیں،" اس نے روتے ہوئے کہا۔

بھروسہ کے قاتلقسط 3: فیصلہرات کو سائرہ نے اپنی پوری ٹیم کو بلایا۔ کمرے میں سناٹا تھا، سب تھکے ہوئے چہرے۔"ہم نو مہینوں سے...
18/08/2026

بھروسہ کے قاتل
قسط 3: فیصلہ
رات کو سائرہ نے اپنی پوری ٹیم کو بلایا۔ کمرے میں سناٹا تھا، سب تھکے ہوئے چہرے۔
"ہم نو مہینوں سے اس آدمی کا پیچھا کر رہے ہیں،" سائرہ نے بورڈ کے سامنے کھڑے ہو کر کہا۔ "اور ہم اکیلے ناکام ہو رہے ہیں۔ اب وقت ہے کہ ہم اکیلے لڑنا چھوڑ دیں۔"
عائشہ نے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔ "میڈم، مطلب؟"
"مطلب یہ کہ ہم پورے ملک کو اپنی ٹیم بنائیں گے۔ ہر ماں، ہر باپ، ہر استاد، ہر بچہ۔"
اس رات سائرہ نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی ذاتی کہانی، جسے اس نے پندرہ سال چھپائے رکھا تھا، دنیا کے سامنے رکھے گی۔ یہ فیصلہ آسان نہیں تھا۔ رات بھر وہ عالیہ کی ڈائری پڑھتی رہی، جو اس نے کبھی کسی کو نہیں دکھائی تھی۔
ڈائری کے آخری صفحے پر لکھا تھا: "مجھے لگتا ہے وہ مجھے سمجھتا ہے، جتنا گھر والے نہیں سمجھتے۔"
سائرہ نے ڈائری بند کی، سینے سے لگائی، اور فیصلہ پکا کر لیا۔

بھروسہ کے قاتلقسط 2: استاد کی دستکاگلی صبح فون کی گھنٹی بجی۔ اسکرین پر نام دیکھ کر سائرہ کے چہرے پر پہلی مسکراہٹ آئی — پ...
16/08/2026

بھروسہ کے قاتل
قسط 2: استاد کی دستک
اگلی صبح فون کی گھنٹی بجی۔ اسکرین پر نام دیکھ کر سائرہ کے چہرے پر پہلی مسکراہٹ آئی — پروفیسر ریاض۔
"بیٹا، میں نے کل رات کی خبر دیکھی۔ تمہاری آواز میں... میں پہچانتا ہوں وہ درد۔ آ سکتا ہوں؟"
دو گھنٹے بعد سائرہ پروفیسر کے چھوٹے سے کمرے میں بیٹھی تھی، جہاں دیواروں پر کتابوں کے ڈھیر، پرانی تصویریں، اور وقت کی گرد جمی تھی۔ پروفیسر کا ہاتھ کانپتا تھا مگر آنکھیں تیز تھیں۔
"چائے پیو،" انہوں نے کہا۔ "اور مجھے وہ سب بتاؤ جو تم فائلوں میں نہیں لکھتیں۔"
سائرہ نے پہلی بار، کسی کے سامنے، مکمل کہانی کھول کر رکھ دی — راتوں کی بے خوابی، ٹیم کی مایوسی، اور وہ خوف جو اسے کھاتا رہتا تھا کہ شاید وہ کبھی اسے نہیں پکڑ پائے گی۔
پروفیسر نے آنکھیں بند کر لیں، جیسے کچھ یاد کر رہے ہوں۔ "بیٹا، ایسے مجرم طاقت سے نہیں جیتتے۔ وہ خالی جگہ ڈھونڈتے ہیں — وہ خالی جگہ جو ایک نئی موبائل والی لڑکی کے دل میں ہوتی ہے، جب وہ پہلی بار آزادی محسوس کرتی ہے مگر کوئی اسے سننے والا نہیں ہوتا۔ وہ مہینوں انتظار کرتا ہے۔ وہ بھروسہ بناتا ہے۔ اصل جنگ اسکرین پر نہیں، رشتوں میں لڑی جا رہی ہے۔"
سائرہ کی آنکھیں بھر آئیں۔ "میری بہن کے ساتھ بھی یہی ہوا تھا۔ میں اس وقت چودہ سال کی تھی۔ مجھے یاد ہے، وہ اپنے کمرے میں بند رہنے لگی تھی، ہنسنا بھول گئی تھی۔ ہم نے سوچا شاید یہ عمر کا اثر ہے۔"
"تم نے کچھ غلط نہیں کیا،" پروفیسر نے اس کا ہاتھ تھاما۔ "وہ لوگ اسی لیے کامیاب ہوتے ہیں کیونکہ خاندان محبت کرتے ہیں، شک نہیں کرتے۔ لیکن اب، تمہیں دونوں کرنا ہوں گے — محبت بھی، ہوشیاری بھی۔"
سائرہ نے سر ہلایا۔ باہر نکلتے وقت اس کے قدموں میں پہلے سے زیادہ یقین تھا۔

بھروسہ کے قاتلقسط 1: خاموشی جو چیخ بن گئیرات کے پونے تین بجے موبائل کی گھنٹی نے سائرہ کی نیند اچاٹ کر دی۔ کمرے میں اندھی...
15/08/2026

بھروسہ کے قاتل
قسط 1: خاموشی جو چیخ بن گئی
رات کے پونے تین بجے موبائل کی گھنٹی نے سائرہ کی نیند اچاٹ کر دی۔ کمرے میں اندھیرا تھا، صرف اسکرین کی روشنی اس کے چہرے پر پڑ رہی تھی۔
"میڈم... ایک اور۔ اس بار پندرہ کی پندرہ۔ سب ایک ہی جگہ۔"
وہ ایک لمحے کے لیے ساکت ہو گئی۔ فون کان سے لگائے وہ بستر سے اٹھی، ننگے پاؤں فرش پر چلتے ہوئے کھڑکی تک پہنچی۔ باہر شہر سویا پڑا تھا، بے خبر۔ اسے وہ رات یاد آئی جب پندرہ سال پہلے اسی طرح کی گھنٹی بجی تھی — اس وقت وہ خود ایک بہن تھی، پولیس افسر نہیں۔ اس رات کے بعد اس نے کبھی چین سے نیند نہیں لی تھی۔
"میں پہنچ رہی ہوں۔" اس نے فون بند کیا اور آئینے میں خود کو دیکھا — آنکھوں کے نیچے حلقے، لیکن نظروں میں وہی پرانا عزم۔
راستے میں گاڑی میں بیٹھے اس نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ سڑکیں خالی تھیں، مگر اس کے ذہن میں شور مچا ہوا تھا — پچھلے نو مہینوں کی ہر تصویر، ہر نام، ہر ماں کی چیخ جو اس نے تھانے میں سنی تھی۔
آفس پہنچی تو دیوار پر لگا بورڈ اسے گھورنے لگا۔ تاریخیں، نام، عمریں۔ ہر تین ماہ بعد ایک نیا سلسلہ۔ اس نے بورڈ کے سامنے کھڑے ہو کر ایک ایک نام پڑھا، جیسے ہر نام کے ساتھ اسے معافی مانگنی ہو۔
"میڈم، آپ رات بھر یہیں تھیں؟" اس کی جونیئر افسر، عائشہ نے پوچھا، دو کپ چائے لیے۔
"نیند نہیں آتی عائشہ۔ جب تک یہ آدمی آزاد ہے، مجھے سکون کا کوئی حق نہیں۔"
عائشہ نے کچھ کہنا چاہا، مگر رک گئی۔ وہ جانتی تھی، میڈم سائرہ کا درد صرف کیس کا درد نہیں تھا۔
اس رات، سب کے جانے کے بعد، سائرہ اکیلی بیٹھی رہی۔ دراز سے وہ پرانی، مڑی تڑی تصویر نکالی — ایک ہنستی ہوئی لڑکی، سائرہ سے تین سال بڑی۔ عالیہ۔
"تم مجھے سکھاتی تھیں کہ ہر رات ڈائری میں لکھوں، یاد ہے؟" سائرہ نے سرگوشی میں کہا، انگلیوں سے تصویر کو چھوتے ہوئے۔ "میں نے آج بھی لکھا۔ لکھا کہ میں تھک گئی ہوں، مگر رکوں گی نہیں۔"
آنسو گالوں پر بہہ نکلے، مگر اس نے انہیں پونچھا نہیں۔ کبھی کبھی رونا بھی ایک قسم کی طاقت ہوتا ہے۔

Episode 12رہائی کے بعد کے دنوں میں علی عباس کی صحت مزید بگڑنے لگی۔ برسوں کی تنہائی، دل کا مسلسل بوجھ، اور اب جیل کی صعوب...
14/08/2026

Episode 12
رہائی کے بعد کے دنوں میں علی عباس کی صحت مزید بگڑنے لگی۔ برسوں کی تنہائی، دل کا مسلسل بوجھ، اور اب جیل کی صعوبتیں — سب نے مل کر اس کے کمزور دل پر گہرا اثر ڈالا تھا۔ ڈاکٹروں نے خبردار کیا کہ اس کا دل اب زیادہ بوجھ برداشت کرنے کے قابل نہیں رہا۔
انہی دنوں عائشہ، ندامت اور شرمندگی سے چور، علی عباس سے ملنے آئی۔ اس نے معافی مانگی — ان تمام برسوں کی، جو زخم اس نے دیے تھے، ان سب کی۔ علی عباس نے، اپنی فطرت کے عین مطابق، بغیر کسی کدورت کے اسے معاف کر دیا۔ "میں نے کبھی تم سے نفرت نہیں کی،" اس نے آہستہ سے کہا، "بس زندگی نے مجھے ایک اور راستہ دکھا دیا تھا۔"
انہی ملاقاتوں کے دوران علی عباس نے ایک خواہش ظاہر کی — ایک آخری خواہش، جو اس کے دل کی گہرائیوں سے نکلی تھی۔ اس نے عائشہ سے کہا کہ وہ چاہتا ہے کہ وہ دونوں، ماضی کے تمام زخموں کو بھلا کر، ایک ساتھ عمرہ ادا کریں — نہ میاں بیوی کی حیثیت سے، بلکہ دو ایسے انسانوں کی طرح جنہوں نے زندگی کے نشیب و فراز میں ایک دوسرے کو معاف کر دیا ہو، اور جو اپنے رب کے حضور، اپنے تمام گناہوں اور دکھوں سے پاک ہو کر حاضر ہونا چاہتے ہوں۔
عائشہ کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے۔ اس نے سر ہلا کر ہامی بھری۔
چند دن بعد، دونوں نے مکہ مکرمہ کا رخ کیا۔ خانہ کعبہ کے سامنے کھڑے ہو کر، علی عباس کی آنکھوں میں ایک عجیب سا سکون تھا — وہ سکون جو برسوں سے اس کے دل کو نصیب نہ ہوا تھا۔ طواف کرتے ہوئے، دعائیں مانگتے ہوئے، اس کے چہرے پر ایک ایسی روشنی تھی جو کسی نے برسوں سے نہیں دیکھی تھی۔
عمرہ مکمل ہوا۔ سعی کے آخری چکر پر، جب علی عباس نے آخری دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے، تو اس کے ہونٹوں پر ایک مسکراہٹ تھی۔ اس نے آہستہ سے سرگوشی کی، "یا اللہ، میں نے اپنی زندگی جس کے لیے بھی جی، اپنے حصے کا فرض ادا کیا۔ اب مجھے اپنے پاس بلا لے۔"
اور پھر، اسی مقدس سرزمین پر، خانہ کعبہ کی چھاؤں میں، علی عباس کا دل ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا۔ وہ خاموشی سے، بغیر کسی تکلیف کے، اپنے رب کے حضور جا پہنچا۔
عائشہ کی چیخ نکل گئی۔ ارد گرد جمع لوگ حیران رہ گئے۔ خبر پھیلتے ہی، وہ ہزاروں لوگ جنہیں کبھی علی عباس نے "مسیحا" بن کر سہارا دیا تھا، غم سے نڈھال ہو گئے۔ سعودی عرب کے کونے کونے میں، پاکستانی کمیونٹی کے گھروں میں، آہ و بکا کا سماں تھا۔ ایک ایسے شخص کا انتقال، جس نے اپنی زندگی کا ہر دکھ دوسروں کی خوشی میں بدل دیا تھا۔
اس کی نماز جنازہ میں ایک جمِ غفیر شریک ہوا — وہ سب لوگ جن کی اس نے کبھی مدد کی تھی، وہ خاندان جنہیں اس نے دوبارہ ملایا تھا، وہ قیدی جنہیں اس نے آزاد کرایا تھا۔ عائشہ بھی، سر جھکائے، آنسوؤں میں ڈوبی،اس آخری صف میں کھڑی تھی۔
علی عباس چلا گیا — نہ کسی شکوے کے ساتھ، نہ کسی نفرت کے ساتھ، بلکہ اس سکون کے ساتھ جو ایک ایسے انسان کو نصیب ہوتا ہے جس نے اپنی تکلیف کو دوسروں کی بھلائی میں بدل دیا ہو۔ اس کی کہانی، جو ایک ٹوٹے دل سے شروع ہوئی تھی، ایک ایسے مسیحا کی داستان بن کر ختم ہوئی جس نے ثابت کیا کہ سب سے گہرے زخم بھی، اگر صبر اور محبت سے سہے جائیں، تو کسی کی زندگی کی روشنی بن سکتے ہیں۔
تمام شد
یہ کہانی خیالی ہے، اور کسی حقیقی شخصیت سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔
End
نا #انسانیت #معافی #صبر #قربانی #عمرہ

Episode 11علی عباس کی گرفتاری کی خبر پوری کمیونٹی میں آگ کی طرح پھیل گئی۔ جن ہزاروں لوگوں کی اس نے مدد کی تھی، وہ سب اس ...
13/08/2026

Episode 11
علی عباس کی گرفتاری کی خبر پوری کمیونٹی میں آگ کی طرح پھیل گئی۔ جن ہزاروں لوگوں کی اس نے مدد کی تھی، وہ سب اس کے حق میں کھڑے ہو گئے۔ سفارتخانے پر درخواستوں کا تانتا بندھ گیا، وکیلوں نے مفت میں اس کا مقدمہ لڑنے کی پیشکش کی، اور سوشل میڈیا پر "علی عباس بے قصور ہے" کی مہم چل نکلی۔
ادھر عائشہ کے دل میں بے چینی بڑھتی جا رہی تھی۔ اگرچہ اس نے بلال کو بچانے کے لیے جھوٹ بولا تھا، مگر اندر ہی اندر اسے احساس تھا کہ سچ کیا ہے۔ راتوں کو نیند نہ آتی، ضمیر اسے کچوکے دیتا۔ بلال کا رویہ بھی دن بدن مشکوک ہوتا جا رہا تھا — وہ گھبرایا ہوا، بے چین، اور عائشہ کے سوالوں سے بچتا پھرتا۔
آخرکار، جب سیکورٹی حکام نے ایئرپورٹ کے کیمروں کی مکمل فوٹیج کھنگالی، تو وہ لمحہ صاف نظر آ گیا جب بلال نے گھبراہٹ میں وہ پیکٹ علی عباس کے بیگ میں سرکایا تھا۔ حقیقت بے نقاب ہو گئی۔
عائشہ کو جب یہ فوٹیج دکھائی گئی، تو اس کے پیروں تلے زمین نکل گئی۔ اس نے، دوسری بار، اسی شخص کے ساتھ ناانصافی کی تھی جس نے کبھی اس سے بے پناہ محبت کی تھی، اور اسے بغیر کسی شکوے کے سب کچھ دے دیا تھا۔ ضمیر کی چبھن نے اسے مجبور کیا کہ وہ خود عدالت میں جا کر سچ بیان کرے۔ اس نے اپنے بیان سے رجوع کیا اور مکمل حقیقت بتا دی۔
بلال کو گرفتار کر لیا گیا۔ منشیات کی اسمگلنگ کے سنگین الزام میں اسے طویل قید کی سزا سنائی گئی۔ اور علی عباس کو، تمام ثبوتوں اور عائشہ کے بیان کی روشنی میں، باعزت بری کر دیا گیا۔
جیل کے دروازے سے باہر نکلتے ہی، ہزاروں لوگوں کا ہجوم اس کے استقبال کے لیے موجود تھا — وہی لوگ جن کی اس نے کبھی مدد کی تھی۔ نعرے لگ رہے تھے، آنکھیں نم تھیں۔ مگر علی عباس کی نظریں ہجوم میں کسی اور کو تلاش کر رہی تھیں۔
تھوڑی دور، ایک کونے میں، عائشہ کھڑی تھی، سر جھکائے، آنکھوں میں ندامت کے آنسو لیے۔ برسوں بعد ان دونوں کی نظریں ملیں — نہ کوئی غصہ تھا، نہ کوئی شکوہ، بس ایک خاموش سا درد جو دونوں کے دلوں میں مشترک تھا۔ #قسط11 #انصاف #بےقصور #انسانیت #معافی #ندامت #قربانی #حوصلہ #جذبات

episode 10برسوں گزر گئے۔ علی عباس اب سعودی عرب میں ایک جانی پہچانی شخصیت بن چکا تھا۔ اس کی عمر بھی ڈھل رہی تھی، اور صحت ...
12/08/2026

episode 10
برسوں گزر گئے۔ علی عباس اب سعودی عرب میں ایک جانی پہچانی شخصیت بن چکا تھا۔ اس کی عمر بھی ڈھل رہی تھی، اور صحت بھی پہلے جیسی نہ رہی تھی — دل کی تکلیف نے کچھ عرصے سے اسے پریشان رکھا ہوا تھا، مگر وہ اپنے کام سے کبھی رکا نہیں۔
ایک دن اسے خبر ملی کہ عائشہ اور بلال عمرے کی نیت سے سعودی عرب آ رہے ہیں۔ برسوں بعد یہ نام دوبارہ سننا کسی زخم کو چھیڑنے جیسا تھا، مگر علی عباس نے خاموشی سے اس خبر کو نظرانداز کر دیا۔ اس کی زندگی اب کسی اور راستے پر چل نکلی تھی، اور وہ ماضی کو کریدنا نہیں چاہتا تھا۔ #قسط10 #انصاف #قربانی #انسانیت #کیان #تھانوی #تھا #کیا
اتفاق کی بات، جس ایئرپورٹ پر عائشہ اور بلال اترے، وہیں علی عباس بھی، اپنی ایک سماجی سرگرمی کے سلسلے میں، کچھ نئے آنے والے مزدوروں کی رہنمائی کے لیے موجود تھا۔ بلال نے، جو اپنے ساتھ ممنوعہ اشیاء (منشیات کی ایک کھیپ) چھپا کر لایا تھا، اچانک سیکورٹی چیکنگ کی سختی دیکھ کر گھبراہٹ میں وہ پیکٹ، موقع پاتے ہی، قریب کھڑے ایک اجنبی شخص کے بیگ میں سرکا دیا — اور وہ اجنبی شخص، قسمت کا ایک ظالم کھیل، علی عباس ہی نکلا، جس کا بیگ چیکنگ کاؤنٹر پر بلال کے بیگ کے بالکل ساتھ رکھا تھا۔
اگلے ہی لمحے سیکورٹی الارم بج اٹھا۔ علی عباس کے بیگ کی تلاشی لی گئی، اور ممنوعہ اشیاء برآمد ہوئیں۔ اسے فوری طور پر حراست میں لے لیا گیا۔ وہ حیران و پریشان، بار بار یہی کہتا رہا کہ یہ سامان اس کا نہیں، مگر ثبوت اس کے خلاف تھے۔
عائشہ، جو تھوڑی دور کھڑی یہ سب دیکھ رہی تھی، نے بلال کی گھبراہٹ بھانپ لی، مگر خوف اور بدحواسی میں، جب ایئرپورٹ حکام نے پوچھ گچھ کی، تو اس نے بھی، بلال کو بچانے کی کوشش میں، علی عباس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہہ دیا کہ وہ اسے پہلے سے جانتی ہے اور اس پر پہلے سے بھی شک تھا۔ یہ بیان علی عباس کے خلاف مزید ثبوت بن گیا۔
علی عباس کو جیل بھیج دیا گیا — وہی شخص جس نے برسوں دوسروں کو جیلوں سے چھڑانے کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی تھی، آج خود ایک ایسے الزام میں سلاخوں کے پیچھے تھا جو اس نے کبھی کیا ہی نہ تھا۔

Address

Makkah

Telephone

+923286749870

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dastan E Alam posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share