Meer Usama Academy

Meer Usama Academy آن لائن قرآن کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے رابطہ کیجئے
مناسب فیس،معیاری تعلیم، تجربہ کار اساتذہ،

06/06/2026

عمار خان یاسر بھائی کی دعوت پر
وہاڑی کرکٹ کا میچ
کھیل بھی زندگی کی رونقوں میں سے ایک رونق ہے، اس لیئے فرصت کے چند لمحے میدان کے نام کر دیے۔

دو میچ ہوئے...
باقی آپ اندازہ لگائیں کہ واپسی مسکراہٹوں کے ساتھ ہوئی یا۔۔۔۔
محبتیں سلامت رہیں

Ammar Khan Yasir
Video credit
Ali Yasir

اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ
07/05/2026

اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ

مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ مجھے…شہید کے آنگن میں آج پھر ایک لاش خون میں نہائی ہوئی رکھی ہے۔ شیخ حسن جان شہیدؒ کے دا...
05/05/2026

مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ مجھے…

شہید کے آنگن میں آج پھر ایک لاش خون میں نہائی ہوئی رکھی ہے۔ شیخ حسن جان شہیدؒ کے داماد بھی شہید کر دیئے گئے۔ شیخ ادریس بھی اپنے اسلاف کے قافلۂ شہدا میں شامل۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔
چارسدہ بلکہ پورے صوبے کی فضا سوگوار ہے۔ زبانیں گنگ۔ لب خاموش اور دل یقین کرنے سے قاصر کہ یہ سانحۂ جاں گداز حقیقت بن چکا ہے کہ سفید داڑھی پر سرخی، رنگِ حنا نہیں، لہو سے وضو ہے۔ یہ اک عہد کی جدائی ہے۔ اک زمانے کا نوحہ۔ اک ایسی ہستی کی رخصتی جس کی زندگی علم و عمل، صبر و حلم، درس و تدریس اور وعظ و بیان کی روشن مثال تھی۔
شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس۔ یہ صرف ایک نام نہیں تھا، بلکہ ایک زندہ روایت، ایک متحرک مکتبِ فکر اور ہزاروں دلوں کی دھڑکن تھا۔ ملعون قاتل کی سفاک گولی نے پورے خطے کو اندھیرے میں دھکیل دیا۔ علم و دانش کی ایک روشن قندیل گل ہو گئی۔ وہ جنہوں نے عمر بھر حدیثِ نبویؐ کے نور سے دلوں کو منور کیا، آج اسی ظلمت کدے میں خود چراغِ راہ بن کر بجھ گئے۔
ان کے لہجے میں نہ شدت تھی، نہ نفرت، نہ تعصب، نہ فرقہ واریت، بلکہ نرمی، حکمت اور دل نشینی کا وہ سوز تھا جو دلوں کو جیت لیتا تھا۔ ہر ایک دل و جان سے ان کا احترام کرتا تھا۔
وہ ادائے دلبری ہو کہ نوائے عاشقانہ
جو دلوں کو فتح کر لے وہی فاتح زمانہ
وہ صرف ایک مدرس نہ تھے، بلکہ مصلح بھی تھے، صرف عالم نہیں، بلکہ عوام کے دلوں میں بسنے والے ایک درد مند واعظ و مربی بھی تھے۔
چند روز قبل انہوں نے قومی مفاد اور امن کی تمنا میں چند جملے کیا کہے کہ جہالت کے سوداگروں نے نفرت کا طوفان برپا کر دیا۔ سوشل میڈیا کی بے مہار دنیا نے کردار کشی، گالم گلوچ اور تضحیک کے ایسے تیر برسائے کہ انسانیت بھی شرمسار ہو جائے۔ مگر انہوں نے جواب میں خاموشی اختیار کی اور آج وہی خاموشی ان کی شہادت کی گواہی بن گئی۔ یہ خاموشی محض سکوت نہ تھی، بلکہ ایک باوقار احتجاج تھا، ایک اعلان کہ اہلِ حق تنہا تو ہو سکتے ہیں، مگر سرنگوں نہیں ہوتے۔ خاموش تو رہ سکتے ہیں، مگر شائستگی کا دامن کبھی ہاتھ سے چھوٹنے نہیں دیتے۔
شیخ صاحب کا یہ مظلومانہ قتل ہمارے معاشرے کی بیمار روح کا آئینہ دار ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں اختلافِ رائے برداشت کرنے کا حوصلہ دم توڑ چکا ہے، جہاں دلیل کی جگہ گولی نے لے لی ہے اور جہاں نہ عالم محفوظ ہے نہ عامی۔ سوال یہ نہیں کہ قاتل کون ہے، سوال یہ ہے کہ وہ فکر کون سی ہے جو اختلاف کو دشمنی اور دشمنی کو قتل تک لے جاتی ہے؟
وہ ایک ایسے خانوادے کے چشم و چراغ تھے جس کی بنیادیں علم میں پیوست تھیں۔ ان کے اسلاف علم و دین کے مینار تھے۔ دادا علامہ جمال الدین افغانی کے استاذ۔ انہوں نے بھی اس روایت کو نہ صرف برقرار رکھا بلکہ اسے نئی وسعتوں سے ہمکنار کیا۔ ہزاروں طلبہ ان کے حلقۂ درس سے فیض یاب ہوئے، لاکھوں لوگوں نے ان کے مواعظ سے رہنمائی پائی۔ وہ صرف کتابوں کے عالم نہیں تھے، بلکہ دلوں کے طبیب تھے۔ ان کا خلا محض ایک کمی نہیں، ایک ایسا زخم ہے جو مدتوں نہیں بھرے گا۔
جگرؔ کے الفاظ آج حقیقت کا نوحہ بن کر گونج رہے ہیں:
جان کر من جملۂ خاصانِ مے خانہ مجھے
مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ مجھے
اللہ تعالیٰ اس شہیدِ علم کو قربِ خاص کے اعلیٰ مراتب عطا فرمائے، لواحقین کو صبرِ جمیل نصیب کرے اور اس خونِ ناحق کا حساب لینے والا خود بنے۔ آمین۔
ضیاء چترالی

پیرِ طریقت، امامُ العلماء حضرت مولانا پیر خواجہ محمد عبدالماجد صدیقی نقشبندی، سجادہ نشین خانقاہِ مالکیہ نقشبندیہ، آج کار...
30/04/2026

پیرِ طریقت، امامُ العلماء حضرت مولانا پیر خواجہ محمد عبدالماجد صدیقی نقشبندی، سجادہ نشین خانقاہِ مالکیہ نقشبندیہ، آج کارڈیالوجی ہسپتال تشریف لائے جہاں انہوں نے ممبر امن کمیٹی، ہر دلعزیز و محترم میاں محمد اجمل عباس صاحب کی عیادت فرمائی۔ اس موقع پر حضرت نے نہایت شفقت و محبت کے ساتھ ان کی جلد اور کامل صحتیابی کے لیے خصوصی دعا فرمائی اور اپنے فیوض و برکات سے نوازا۔

اس بابرکت موقع پر حضرت کے ہمراہ حضرت مولانا خواجہ محمد صدیقی صاحب، ڈاکٹر محمد آصف ڈھڈی صاحب اور جناب میر اسامہ صاحب بھی موجود تھے، جبکہ حضرت مولانا افضل عباس صاحب، محترم جناب فاروق عباس اور اطہر افضل نے معزز مہمانانِ گرامی کا استقبال کیا۔

اللہ رب العزت ممبر امن کمیٹی، ہر دلعزیز میاں محمد اجمل عباس صاحب کو کامل صحت و عافیت عطا فرمائے اور انہیں جلد از جلد صحتِ کاملہ نصیب کرے۔ آمین

محبتیں سلامت رہیں

سندھ کے خاموش و پُرسکون دامن میں، عمرکوٹ کے قریب ڈھوروناروں کی ایک سادہ سی مسجد میں بیٹھے ہم، جیسے وقت کی رفتار سے الگ ک...
25/04/2026

سندھ کے خاموش و پُرسکون دامن میں، عمرکوٹ کے قریب ڈھوروناروں کی ایک سادہ سی مسجد میں بیٹھے ہم، جیسے وقت کی رفتار سے الگ کسی اور ہی جہان میں اتر آئے تھے۔ گرد و پیش میں محرومیوں کی ہلکی سی دھند تھی، مگر دلوں میں ایک عجیب روشنی تھی—ایسی روشنی جو نہ بجلی کی محتاج تھی، نہ وسائل کی۔

اسی سکوت کے لمحے میں ایک دبلے پتلے، معصوم چہرے والا نوجوان قریب آیا۔ اس کے لہجے میں ادب کی نمی اور آنکھوں میں شوق کی چمک تھی۔ اس نے آہستہ سے کہا:
“کیا آپ میر اسامہ بھائی ہیں؟ چند دن پہلے آپ کی ایک تحریر دیکھی تھی… دل نے چاہا تھا کہ آپ سے ملاقات ہو… اور آج آپ خود یہاں ہیں!”

یہ محض جملہ نہ تھا، ایک سچے جذبے کی آواز تھی—جس نے فاصلے سمیٹ دیے اور اجنبیت کو مٹا دیا۔

وہ علاقہ جہاں بنیادی سہولیات بھی مکمل طور پر میسر نہیں، وہاں لوگوں کی محبت اور پہچان نے حیران کر دیا۔ یوں محسوس ہوا کہ محرومیوں کے بیچ بھی انسانیت نے اپنے چراغ بجھنے نہیں دیے۔ اس لمحے یہ حقیقت اور واضح ہوئی کہ سوشل میڈیا اگر اخلاص کے ساتھ استعمال ہو، تو یہ محض رابطہ نہیں، بلکہ دلوں کے درمیان ایک مضبوط پل بن جاتا ہے۔

اس خوبصورت احساس کا امین نوجوان حیات ہے—
جو اپنے گھر سے تقریباً چار سو کلومیٹر دور جا کر علم کی تلاش میں نکلا، اور آج ماشاءاللہ ماسٹرز مکمل کر چکا ہے۔ اس کی آنکھوں میں خوابوں کی چمک نہیں، تعبیر کی روشنی تھی۔

یہ ملاقات محض ایک واقعہ نہیں، ایک پیغام تھی—
کہ اس دھرتی کے دور دراز گوشوں میں بھی ایسے چراغ روشن ہیں، جو اگرچہ نظروں سے اوجھل ہیں، مگر اپنی روشنی سے زمانے کو منور کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

محبتیں سلامت رہیں

07/04/2026

آپ کو اگر حرمین شریفین اور ایران کے درمیان ایک کو چننا ہو تو آپ کس کا انتخاب کرینگے؟

امام العلماء والصلحاء حضرت مولانا پیر خواجہ محمد عبدالماجد صدیقی نقشبندی مدامت برکاتہم العالیہ کوخانیوال کی سرزمین پر شا...
03/04/2026

امام العلماء والصلحاء حضرت مولانا پیر خواجہ محمد عبدالماجد صدیقی نقشبندی مدامت برکاتہم العالیہ کو
خانیوال کی سرزمین پر شاندار و منظم سہ روزہ روحانی، تربیتی اجتماع کے انعقاد پر مبارکباد پیش کرتے ہیں۔
اللہ اس کی برکات سے ہر کو ایک مستفید ہونے کی توفیق نصیب فرمائے آمین ثم آمین یارب العالمین
حضرت کے فیض کو پوری دنیا میں عام کرے۔آمین
محبتیں سلامت رہیں

25/03/2026

📍خانیوال اجتماع

امام العلما والصلحا حضرت مولانا پیر خواجہ محمد عبدالماک صدیقی نقشبندی مجددی (رح) کی
خانقاہ مالکیہ نقشبندیہ مینار مسجد خانیوال کا (51) واں سالانہ ( اصلاحی،تربییتی،روحانی ) نقشبندی اجتماع

زیرسرپرستی : جانشین امام العلماوالصلحا حضرت مولانا پیر خواجہ محمد عبدالماجد صدیقی نقشبندی دامت برا کاتہم العالیہ

بتاریخ : 1,2,3,اپریل 2026

•( ختم نبوت کانفرنس 31 مارچ بروز منگل بعدنمازعشا )

نوٹ : موسم كے مطابق بستر ہمر اه لائیں


‏ # #

آپ کی مسجد میں ختمِ قرآن کس دن ہے اور اس بار خانیوال میں آپ کس مسجد میں تراویح پڑھ رہے ہیں؟کیا آپ علم میں ہے کہ مینار مس...
14/03/2026

آپ کی مسجد میں ختمِ قرآن کس دن ہے اور اس بار خانیوال میں آپ کس مسجد میں تراویح پڑھ رہے ہیں؟

کیا آپ علم میں ہے کہ مینار مسجد میں انتیسویں شب تکمیلِ قرآن ہوگی اور اسمائے حسنیٰ کے ساتھ رقت آمیز دعا حضرت مولانا پیر خواجہ محمد عبدالماجد صدیقی صاحب فرمائیں گے۔ کیا کبھی آپ کا وہاں اس دعا میں شریک ہونے کا اتفاق ہوا ہے؟
کمنٹس میں جواب ضرور دیجے
محبتیں سلامت رہیں

ان شاءاللہ خانقاہ مالکیہ نقشبندیہ کا سالانہ اجتماع
09/02/2026

ان شاءاللہ خانقاہ مالکیہ نقشبندیہ کا سالانہ اجتماع

Address

Mecca

Telephone

+923069107104

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Meer Usama Academy posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category