31/07/2025
ناجائز صہیونی ریاست اسرائیل کا غزہ میں بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کرنا بدترین درندگی اور انسانیت کے خلاف جرم ہے۔ (شجاع الدین شیخ)
لاہور (پ ر) ناجائز صہیونی ریاست اسرائیل کا غزہ میں بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کرنا بدترین درندگی اور انسانیت کے خلاف جرم ہے۔ یہ بات تنظیم اسلامی کے امیر شجاع الدین شیخ نے ایک بیان میں کہی۔ اُنہوں نے کہا کہ یہود کی تاریخ بالعموم اور ناجائز صہیونی ریاست اسرائیل کی تاریخ بالخصوص انسانیت سوز جرائم سے بھری پڑی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ 7اکتوبر2023ء کے بعد سے اب تک ایک دن بھی ایسا نہیں گزرا کہ ناجائز صہیونی ریاست اسرائیل نے غزہ کے مظلوم اور مجبور عوام پر حملے کرکے اُن کو شہید نہ کیا ہو۔ میڈیا میں بتائے جانے والے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ تقریباً 22 ماہ کے دوران اسرائیل 60,000 سے زائد فلسطینی مسلمانوں کو شہید اور 120,000 سے زائد کو شدید زخمی کر چکا ہے اور غزہ کو ملبہ کا ڈھیر بنا دیا ہے۔ اب بھوک اور قحط کو غزہ کے مسلمانوں کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے جس پر بعض مغربی ممالک بھی چیخ اُٹھے ہیں۔ بھوک اور مرض میں مبتلا غزہ کے مسلمانوں خصوصاً بچوں اور عورتوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور اِس صہیونی شیطنت میں امریکہ اسرائیل کی مکمل معاونت کر رہا ہے۔ بین الاقوامی اداروں کی اپنی رپورٹس کے مطابق یہ تاریخ کا پہلا واقعہ ہے کہ کوئی خطہ زخمیوں اور مریضوں کے لیے 100 فیصد خون کی درآمد پر مجبور ہوگیا ہو کیونکہ اسرائیلی درندوں نے غزہ کے تمام ہسپتال تباہ کر دیئے ہیں۔ پھر یہ کہ غزہ میں امداد کو داخل نہیں ہونے دیا جا رہا جس کے باعث غزہ کی پوری آبادی دن میں ایک وقت کا کھانا بمشکل حاصل کر پا رہی ہے اور 50 فیصد سے زائد افراد کو تین دنوں میں ایک وقت کی روٹی میسر آتی ہے۔ نسل کُشی کی اِس بدترین صورتِ حال میں شرحِ پیدائش 50 فیصد تک کم ہوگئی ہے۔ جن چند ٹرکوں کو امدادی سامان لے کر غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دے بھی دی جاتی ہے اُن میں جان لیوا کیمیکل بھرا آٹا ہوتا ہے اور جب غزہ کے مظلوم مسلمان قطار بنا کر اِس زہریلی غزا کو حاصل کرنے کے لیے اکٹھے ہوتے ہیں تو اسرائیلی فوج اُن پر گولیوں اور بموں کی بوچھاڑ کر دیتی ہے جس سے روزانہ کی بنیاد پر کئی درجن افراد کو شہید کر دیا جاتا ہے۔ امیر تنظیم نے کہا کہ مسلم ممالک اِس انسانیت سوز نسل کُشی کی مرتکب ناجائز صہیونی ریاست اسرائیل سے ابراہم اکارڈز کے ذریعے تعلقات استوار کرنے کی کس منہ سے بات کر رہے ہیں۔ کیا وہ مسلم ممالک جو اسرائیل کے ٹینکوں، جنگی طیاروں اور ڈرونز کے لیے خام تیل، بجلی اور گیس فراہم کر رہے ہیں اِس بات سے بے خوف ہو چکے ہیں کہ روزِ قیامت اُن سے اپنے مسلمان بھائیوں کی نسل کُشی میں ظالم کی مدد کرنے پر سوال کیا جائے گا؟ اُنہوں نے کہا کہ اگر اب بھی مسلم ممالک اپنا قبلہ درست نہیں کرتے اور ناجائز صہیونی ریاست اسرائیل کے ظلم کو روکنے، فلسطینی مسلمانوں کی مدد کرنے اور مسجدِ اقصیٰ کی حرمت کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات نہیں کرتے تو دنیا کی مزید رسوائی اُنہیں گھیرلے گی اور آخرت میں شدید عذاب کا اندیشہ ہے۔ اللہ تعالیٰ مسلمان حکمرانوں اور مقتدر حلقوں کو غیرتِ دینی اور جرأتِ ایمانی عطا فرمائے۔ آمین!
The illegitimate Zionist state of Israel using hunger as a weapon in Gaza is the worst form of savagery and a crime against humanity. (Shujauddin Shaikh)
Lahore (PR): This was said by the Ameer of Tanzeem-e-Islami, Shujauddin Shaikh, in a statement. He said that the history of Jews in general and the illegal Zionist state of Israel in particular is filled with crimes against humanity. The reality is that since October 7, 2023, not a single day has passed without the illegitimate Zionist state of Israel attacking the oppressed and helpless people of Gaza, causing their shahadah. According to media-reported statistics, in the past approximately 22 months, Israel has caused shahadah of over 60,000 Palestinian Muslims and severely injured more than 120,000, turning Gaza into a pile of rubble. Now, hunger and famine are being used as weapons against the Muslims of Gaza, which has even alarmed some Western countries. The Muslims of Gaza, especially women and children, are being targeted while they are suffering from hunger and disease, and America is fully supporting Israel in this satanic brutality. According to reports from international organizations, this is the first time in history that a region has been forced to import 100% of its blood supply for the injured and sick because Israeli savages have destroyed all hospitals in Gaza. Furthermore, aid is not being allowed to enter Gaza, causing the entire population to barely manage one meal a day, and more than 50% of the people only manage to get one meal every three days. In this horrific situation of genocide, the birth rate has dropped by 50%. The few trucks that are allowed to enter Gaza with relief supplies often carry flour mixed with deadly chemicals, and when the oppressed Muslims of Gaza line up to collect this poisonous food, Israeli forces target them with bullets and bombs, killing many dozens of people every day. The Ameer of Tanzeem-e-Islami said that how can Muslim countries talk about establishing relations with the illegal Zionist state of Israel through the Abraham Accords in light of this brutal genocide? Are those Muslim countries that are supplying crude oil, electricity, and gas for Israel's tanks, warplanes, and drones no longer fearful that on the Day of Judgment, they will be questioned about helping the oppressor in the genocide of their Muslim brethren? He said that if Muslim countries still do not correct their course and fail to take practical steps to stop the oppression of the illegitimate Zionist state of Israel, assist the Palestinian Muslims, and protect the sanctity of Al-Aqsa Mosque, then further humiliation in this world and severe punishment in the Hereafter await them. May Allah (SWT) grant Islamic zeal and courage to Muslim rulers and those in power. Ameen!
Issued by:
Raza-ul-Haq
Markazi Nazim Nashr o Ishaat
A M News Tak News #