12/09/2026
🌿 ملکہ زبیدہ — سخاوت کی وہ نہر جو صدیوں بعد بھی یاد ہے
تاریخ میں بعض شخصیات اپنے اقتدار کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنی خدمت اور سخاوت کی وجہ سے زندہ رہتی ہیں۔ عباسی دور کی ایک ایسی ہی بااثر اور صاحبِ خیر خاتون زبیدہ بنت جعفر تھیں، جنہیں تاریخ میں عموماً ملکہ زبیدہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
وہ خلیفہ ہارون الرشید کی اہلیہ اور خلیفہ ابو جعفر منصور کی پوتی تھیں۔ شاہانہ زندگی کے باوجود ان کی شہرت محض محل، دولت اور اقتدار تک محدود نہیں رہی؛ ان کا نام سب سے زیادہ حجاجِ کرام کے لیے پانی کے انتظام کے حوالے سے زندہ ہے۔
💧 مکہ میں پانی کا مسئلہ
قدیم زمانے میں مکہ مکرمہ ایک دشوار گزار، خشک اور سنگلاخ علاقے میں واقع تھا۔ حجاج کی تعداد بڑھنے کے ساتھ پانی کی ضرورت بھی بہت بڑھ جاتی تھی۔ خاص طور پر عرفات اور دوسرے مشاعر میں پانی پہنچانا ایک بڑا مسئلہ تھا۔
روایات کے مطابق زبیدہ نے حجاج کی اس مشکل کو محسوس کیا اور پانی کا ایک وسیع نظام قائم کرنے کا عزم کیا۔
پہاڑوں اور وادیوں سے پانی جمع کرکے اسے مکہ اور مشاعرِ مقدسہ تک پہنچانے کے لیے نہریں، نالیاں، زیرِ زمین راستے، حوض اور کنویں بنائے گئے۔
یہ عظیم منصوبہ تاریخ میں "عینِ زبیدہ" اور "نہرِ زبیدہ" کے نام سے مشہور ہوا۔
🏔️ پہاڑوں سے عرفات تک پانی
عینِ زبیدہ کا نظام صرف ایک سادہ نہر نہیں تھا بلکہ ایک وسیع آب رسانی کا منصوبہ تھا۔
اس کے مختلف حصے پہاڑوں اور وادیوں سے پانی حاصل کرتے ہوئے اسے وادیٔ نعمان، عرفات، مزدلفہ اور منیٰ کی سمت پہنچاتے تھے، یہاں تک کہ پانی مکہ مکرمہ کے علاقوں تک پہنچتا تھا۔
تاریخی نظام کے مرکزی راستے کی لمبائی تقریباً 37 کلومیٹر بتائی جاتی ہے۔
سوچیے!
آج جب چند کلومیٹر سڑک یا پانی کی لائن بنانا بھی ایک بڑا منصوبہ سمجھا جاتا ہے، اس زمانے میں سنگلاخ پہاڑوں اور دشوار گزار وادیوں کے درمیان پانی کا ایسا وسیع نظام قائم کرنا کس قدر مشکل کام ہوگا۔
💰 دولت اپنے لیے نہیں، اللہ کے بندوں کے لیے
زبیدہ کے بارے میں مشہور ہے کہ جب انجینئروں اور ماہرین نے منصوبے کی دشواری اور اخراجات کا ذکر کیا تو انہوں نے کام جاری رکھنے کی ہدایت کی۔
ان سے منسوب ایک مشہور روایت ہے کہ:
"پہاڑ کاٹ کر پانی پہنچانا پڑے تو پہاڑ کاٹو، جہاں زمین کھودنی پڑے وہاں کھودو۔"
اگرچہ اس جملے کی یہی لفظی صورت قدیم ماخذ سے ثابت کرنا مشکل ہے، لیکن یہ روایت اس منصوبے کے عظیم حجم اور زبیدہ کی سخاوت کی عوامی یاد کو ضرور ظاہر کرتی ہے۔
🕋 حجاج کے لیے صدقۂ جاریہ
عینِ زبیدہ صرف ایک تعمیراتی منصوبہ نہیں تھا۔
یہ ایک ایسی خدمت تھی جس کا فائدہ حجاج، مسافروں اور اہلِ مکہ کو صدیوں تک پہنچتا رہا۔
بعد کے ادوار میں بھی اس نظام کی مرمت، توسیع اور بحالی ہوتی رہی۔ یعنی زبیدہ کا قائم کیا ہوا بنیادی تصور آنے والی نسلوں کے لیے بھی پانی کا ذریعہ بنا رہا۔
یہی وجہ ہے کہ "زبیدہ" کا نام آج بھی مکہ کی تاریخ میں ایک نہر، ایک چشمے اور ایک عظیم آب رسانی کے نظام کے ساتھ زندہ ہے۔
🌸 اصل عظمت کیا تھی؟
زبیدہ کے پاس دولت تھی، اختیار تھا اور شاہی وسائل تھے۔
لیکن اصل کمال یہ تھا کہ انہوں نے اپنی دولت کو صرف محلات کی آرائش تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے ایک ایسے کام میں لگایا جس کا فائدہ عام لوگوں کو پہنچا۔
محلات مٹ جاتے ہیں، خزانے ختم ہو جاتے ہیں، اقتدار بدل جاتا ہے…
مگر وہ پانی جو پیاسے کو سیراب کر دے، صدیوں تک انسانوں کی دعاؤں میں زندہ رہتا ہے۔
ملکہ زبیدہ کی داستان ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ دولت کی سب سے خوبصورت شکل وہ ہے جو انسانوں کی زندگی آسان بنا دے۔
💧 نہرِ زبیدہ — پانی کا ایک راستہ نہیں، سخاوت کی ایک تاریخی یادگار۔
#حجاج
#سخاوت