11/09/2026
سلطان نور الدین زنگیؒ اور مدینہ منورہ کا ایمان افروز واقعہ
عشاقِ مصطفیٰ کے دلوں کو گرمانے والا یہ واقعہ تاریخِ اسلام کا وہ سنہری باب ہے جسے سن کر آنکھیں اشبار ہو جاتی ہیں اور دل درود و سلام کے گلدستے پیش کرنے لگتا ہے۔
ایک رات، دمشق کے عادل اور پرہیزگار حکمران **سلطان نور الدین زنگیؒ** سونا چاہتے تھے کہ قسمت جاگ اٹھی۔ خواب میں کائنات کی سب سے عظیم ہستی، ہمارے آقا و مولا **نبی کریم ﷺ** کی زیارت نصیب ہوئی۔ سرکارِ دو عالم ﷺ نے دو سرخ رنگ کے بالوں اور چہروں والے افراد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: **"نور الدین! مجھے ان دونوں کے شر سے بچاؤ۔"**
سلطان کی آنکھ کھلی، جسم کانپ رہا تھا اور آنکھیں اشکبار تھیں۔ آپ نے وضو کیا، نوافل ادا کیے اور دوبارہ سو گئے۔ لیکن مسلسل تین بار یہی خواب دکھائی دیا۔ سلطان سمجھ گئے کہ یہ کوئی عام خواب نہیں بلکہ مدینہ منورہ سے بلاوا اور سرکار ﷺ کا حکم ہے۔
آپ نے بغیر کسی تاخیر کے، راتوں رات مدینہ منورہ کی طرف رختِ سفر باندھا۔ شاہی خزانوں سے تحائف اور درہم و دینار ساتھ لیے اور دن رات سفر طے کرتے ہوئے مدینہ منورہ پہنچے۔
مدینہ منورہ پہنچ کر سلطان نے تمام اہل والیاں اور مدینہ کے شہریوں کو دعوتِ عام دی اور ہر شخص کو اپنے ہاتھ سے تحائف اور صدقات تقسیم کرنے لگے۔ سلطان کی تیز نگاہیں ہر شخص کے چہرے کو غور سے دیکھ رہی تھیں، لیکن وہ دو چہرے کہیں نظر نہیں آ رہے تھے۔
سلطان نے پوچھا: **"کیا مدینہ کا ہر شخص اپنا تحفہ لے چکا ہے؟"**
لوگوں نے عرض کی: "عالی جاہ! مدینہ کا ہر باشعور شخص آ چکا ہے، سوائے دو زاہد و عابد غیر ملکیوں کے، جو روضہ رسول ﷺ کے قریب ایک حجرے میں رہتے ہیں، دن بھر عبادت کرتے ہیں اور کسی سے کچھ نہیں مانگتے۔"
سلطان نے فرمایا: **"انہیں بھی میرے سامنے حاضر کرو۔"**
جب وہ دونوں سلطان کے سامنے لائے گئے، تو سلطان کا دل گواہی دے گیا—یہ وہی دو چہرے تھے جو آقا دو عالم ﷺ نے خواب میں دکھائے تھے!
سلطان خود ان کے حجرے میں داخل ہوئے۔ ظاہر میں وہاں صرف تسبیح، مصلےٰ اور قرآنِ پاک کے نسخے موجود تھے۔ لیکن جب سلطان نے فرش پر بچھے ہوئے بورئیے اور چٹائیوں کو ہٹایا، تو نیچے ایک سوراخ (سرنگ) دکھائی دی جو سیدھی **روضہ اطہر** کی طرف کھودی جا رہی تھی۔ وہ نصرانی جاسوس تھے جو اسلام اور آقا ﷺ کے جسدِ اطہر کے خلاف ایک ناپاک سازش کر رہے تھے۔
سلطان نور الدین زنگیؒ نے روتے ہوئے ان دونوں ملعونوں کو ان کے عبرتناک انجام تک پہنچایا اور پھر بارگاہِ رسالت ﷺ میں شکرانے کے نفل ادا کیے۔
اس کے بعد سلطان نے روضہ اطہر کے گرد زمین کو اتنی گہرائی تک کھدوایا جہاں سے پانی نکل آیا اور اس میں **پگھلا ہوا سیسہ (Lead)** بھروا دیا، تاکہ قیامت تک کوئی بدبخت ایسی ناپاک جسارت کا سوچ بھی نہ سکے۔
آج بھی مدینہ منورہ میں جبلِ احد کے قریب **مسجد نور الدین زنگی** اس عظیم عاشقِ رسول کی یاد اور ان کی خدمات کی گواہی دیتی کھڑی ہے۔
اللہ تعالیٰ سلطان نور الدین زنگیؒ کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں بھی آقا ﷺ کی سچی اور بے لوث محبت عطا فرمائے۔ (آمین)
---