Abubakar Zubair

سلطان نور الدین زنگیؒ اور مدینہ منورہ کا ایمان افروز واقعہعشاقِ مصطفیٰ کے دلوں کو گرمانے والا یہ واقعہ تاریخِ اسلام کا و...
11/09/2026

سلطان نور الدین زنگیؒ اور مدینہ منورہ کا ایمان افروز واقعہ

عشاقِ مصطفیٰ کے دلوں کو گرمانے والا یہ واقعہ تاریخِ اسلام کا وہ سنہری باب ہے جسے سن کر آنکھیں اشبار ہو جاتی ہیں اور دل درود و سلام کے گلدستے پیش کرنے لگتا ہے۔

ایک رات، دمشق کے عادل اور پرہیزگار حکمران **سلطان نور الدین زنگیؒ** سونا چاہتے تھے کہ قسمت جاگ اٹھی۔ خواب میں کائنات کی سب سے عظیم ہستی، ہمارے آقا و مولا **نبی کریم ﷺ** کی زیارت نصیب ہوئی۔ سرکارِ دو عالم ﷺ نے دو سرخ رنگ کے بالوں اور چہروں والے افراد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: **"نور الدین! مجھے ان دونوں کے شر سے بچاؤ۔"**

سلطان کی آنکھ کھلی، جسم کانپ رہا تھا اور آنکھیں اشکبار تھیں۔ آپ نے وضو کیا، نوافل ادا کیے اور دوبارہ سو گئے۔ لیکن مسلسل تین بار یہی خواب دکھائی دیا۔ سلطان سمجھ گئے کہ یہ کوئی عام خواب نہیں بلکہ مدینہ منورہ سے بلاوا اور سرکار ﷺ کا حکم ہے۔

آپ نے بغیر کسی تاخیر کے، راتوں رات مدینہ منورہ کی طرف رختِ سفر باندھا۔ شاہی خزانوں سے تحائف اور درہم و دینار ساتھ لیے اور دن رات سفر طے کرتے ہوئے مدینہ منورہ پہنچے۔

مدینہ منورہ پہنچ کر سلطان نے تمام اہل والیاں اور مدینہ کے شہریوں کو دعوتِ عام دی اور ہر شخص کو اپنے ہاتھ سے تحائف اور صدقات تقسیم کرنے لگے۔ سلطان کی تیز نگاہیں ہر شخص کے چہرے کو غور سے دیکھ رہی تھیں، لیکن وہ دو چہرے کہیں نظر نہیں آ رہے تھے۔

سلطان نے پوچھا: **"کیا مدینہ کا ہر شخص اپنا تحفہ لے چکا ہے؟"**
لوگوں نے عرض کی: "عالی جاہ! مدینہ کا ہر باشعور شخص آ چکا ہے، سوائے دو زاہد و عابد غیر ملکیوں کے، جو روضہ رسول ﷺ کے قریب ایک حجرے میں رہتے ہیں، دن بھر عبادت کرتے ہیں اور کسی سے کچھ نہیں مانگتے۔"

سلطان نے فرمایا: **"انہیں بھی میرے سامنے حاضر کرو۔"**

جب وہ دونوں سلطان کے سامنے لائے گئے، تو سلطان کا دل گواہی دے گیا—یہ وہی دو چہرے تھے جو آقا دو عالم ﷺ نے خواب میں دکھائے تھے!

سلطان خود ان کے حجرے میں داخل ہوئے۔ ظاہر میں وہاں صرف تسبیح، مصلےٰ اور قرآنِ پاک کے نسخے موجود تھے۔ لیکن جب سلطان نے فرش پر بچھے ہوئے بورئیے اور چٹائیوں کو ہٹایا، تو نیچے ایک سوراخ (سرنگ) دکھائی دی جو سیدھی **روضہ اطہر** کی طرف کھودی جا رہی تھی۔ وہ نصرانی جاسوس تھے جو اسلام اور آقا ﷺ کے جسدِ اطہر کے خلاف ایک ناپاک سازش کر رہے تھے۔

سلطان نور الدین زنگیؒ نے روتے ہوئے ان دونوں ملعونوں کو ان کے عبرتناک انجام تک پہنچایا اور پھر بارگاہِ رسالت ﷺ میں شکرانے کے نفل ادا کیے۔

اس کے بعد سلطان نے روضہ اطہر کے گرد زمین کو اتنی گہرائی تک کھدوایا جہاں سے پانی نکل آیا اور اس میں **پگھلا ہوا سیسہ (Lead)** بھروا دیا، تاکہ قیامت تک کوئی بدبخت ایسی ناپاک جسارت کا سوچ بھی نہ سکے۔

آج بھی مدینہ منورہ میں جبلِ احد کے قریب **مسجد نور الدین زنگی** اس عظیم عاشقِ رسول کی یاد اور ان کی خدمات کی گواہی دیتی کھڑی ہے۔

اللہ تعالیٰ سلطان نور الدین زنگیؒ کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں بھی آقا ﷺ کی سچی اور بے لوث محبت عطا فرمائے۔ (آمین)

---

البیک، بروسٹ چکن اور دیارِ حبیب ﷺ کے وہ سرسبز لمحےجب آپ دیارِ حبیب ﷺ کی مقدس اور تپتی زمین پر قدم رکھتے ہیں، تو روحانی ت...
10/09/2026

البیک، بروسٹ چکن اور دیارِ حبیب ﷺ کے وہ سرسبز لمحے
جب آپ دیارِ حبیب ﷺ کی مقدس اور تپتی زمین پر قدم رکھتے ہیں، تو روحانی تسکین کے ساتھ ساتھ ایک زمینی ذائقہ بھی آپ کے سفرِ عشق کا انوکھا ہمسفر بن جاتا ہے۔ وہ ذائقہ، جس کی خوشبو مدینے کی گلیوں سے لے کر مکے کے چوراہوں تک پھیلی ہے—یعنی البیک!
سعودی عرب کی یہ سنہری داستان 1974ء میں جدہ کے ایک چھوٹے سے گوشے سے شروع ہوئی۔ شکور ابوغزالہ نامی ایک باہمت شخص نے دیکھا کہ عوام کو صاف ستھرا، باکفایت اور باذائقہ فاسٹ فوڈ میسر نہیں۔ اس نے انتھک محنت کی، خفیہ مصالحہ جات کی ایسی ترکیب تیار کی جس نے آنے والی دہائیوں میں کروڑوں دلوں پر حکومت کی۔ آج یہ محض ایک بروسٹ نہیں، بلکہ سعودی عرب کا ایک ثقافتی استعارہ بن چکا ہے۔
پاکستان سے جانے والے زائرینِ حرم کے لیے البیک صرف ایک کھانا نہیں، بلکہ ایک جذبہ اور لازوال یادوں کا مجموعہ ہے۔ طواف و زیارت کے بعد جب قدم تھک جاتے ہیں، تو البیک کے کاؤنٹر کے باہر لگی لمبی قطاروں میں کھڑے ہونا بھی ایک فرحت بخش تجربہ بن جاتا ہے۔ وہ لمحہ کس کو بھولتا ہے جب سرخ رنگ کے ڈبے ہاتھ میں تھامے، ہوٹل کے کمرے میں سفرا بچھا کر پورا خاندان ایک ساتھ بیٹھتا ہے؟ وہ تھوم (گارلک ساس) کی اضافی ڈبیاں مانگنے کی تکرار، وہ چرچراتا کرسپی چکن، اور پہلے ہی نوالے پر منہ سے نکلنے والی بے ساختہ "واہ!"—یہ وہ لمحاتی خوشیاں ہیں جو ہر زائر اپنے ساتھ پاکستان لاتا ہے۔ یہاں تک کہ جدہ ایئرپورٹ پر بھی دیس واپسی سے پہلے زائرین کے ہینڈ کیری میں البیک کے ڈبے پیک ملنا ایک روایت بن چکی ہے۔
سعودی عرب میں کامیابی کے جھنڈے گاڑنے کے بعد البیک نے اپنے پروں کو وسعت دی اور بیرونی دنیا کا رخ کیا۔ اب اس کی خوشبو بحرین، متحدہ عرب امارات (دبئی)، قطر اور کویت تک پہنچ چکی ہے، جہاں ہر نئی برانچ کے افتتاح پر شائقین کا ایک سمندر امڈ آتا ہے۔
لیکن افسوس! ہمارے اپنے دیارِ پاک میں البیک کی محبت کا ایک عجیب ماجرا بھی دیکھنے کو ملا۔ جہاں بھی دیکھو، گلی محلوں اور شاہراہوں پر "البیک" کے بورڈز سجے ملتے ہیں—مگر کاغذی شیروں کی طرح! یہ محض نام کی نقالی اور جعلی برانچیں ہیں، جو چند روپے کمانے کی دھن میں اس اصل اور لذیذ ذائقے کی روح کو مجروح کر رہی ہیں۔
رہی بات اصل البیک کے پاکستان آمد کی... تو ایک امید کی کرن جاگی تھی جب خبریں گردش کرنے لگیں کہ یہ عرب برانڈ جلد ہی لاہور اور کراچی جیسے بڑے شہروں میں اپنے رسمی قدم رکھنے والا ہے۔ لیکن ہائے رے ہماری قسمت! دفتری پیچیدگیوں، ریگولیٹری رکاوٹوں اور معاشی عدم استحکام کے باعث یہ منصوبہ فی الوقت تعطل کا شکار ہو گیا۔ لیکن ذائقے کے شیدائی اب بھی آس لگائے بیٹھے ہیں کہ وہ دن دور نہیں جب اصل البیک کی خوشبو ہماری گلیوں میں بھی مہکے گی۔

یہ بدر کا وہ بقعہ نور ہے جہاں زمین نے آسماں کے سب سے محبوب اور منتخب نفوس کو اپنے دامن میں سمیٹ رکھا ہے۔ وہ جگہ جہاں حق ...
09/09/2026

یہ بدر کا وہ بقعہ نور ہے جہاں زمین نے آسماں کے سب سے محبوب اور منتخب نفوس کو اپنے دامن میں سمیٹ رکھا ہے۔ وہ جگہ جہاں حق اور باطل کا پہلا معرکہ برپا ہوا تھا اور جہاں آسمان سے ملائکہ کی فوجیں اتری تھیں۔ آج جب میں شہدائے بدر کی اس مبارک تختی کے سامنے کھڑا ہوں، تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے صدیاں لمحوں کی صورت سمٹ کر روح کو بیدار کر رہی ہوں۔
یہ وہ چودہ باصفا اور مقرب نفوس ہیں جنہیں اللہ رب العزت نے معرکہِ بدر کے روز شہادت کے اعلیٰ ترین مقام کے لیے چن لیا۔ رسول اللہ ﷺ نے بدر کے روز فتح کے بعد جب شہدا کے جسدِ مبارک کو اس پاکیزہ مٹی کے سپرد فرمایا تو اس جگہ کو قیامت تک کے لیے ایک ابدی روشنی عطا کر دی۔
صحیح بخاری میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب حارثہ بن سراقہ رضی اللہ عنہ کی والدہ نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئیں اور اپنے بیٹے کے متعلق دریافت کیا، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
> "اے امِ حارثہ! جنت میں ایک نہیں بلکہ کئی درجات ہیں اور تیرا بیٹا تو جنت الفردوس کے اعلیٰ مقام پر پہنچ چکا ہے۔"
>
غزوہِ بدر کے 14 شہدائے کرام (رضی اللہ عنہم):
* مہاجرینِ مکہ:
* سیدنا عبیدہ بن حارث
* سیدنا عمیر بن ابی وقاص
* سیدنا ذو الشمالین عمیر بن عبد عمرو
* سیدنا عاقل بن بکیر
* سیدنا مہجع بن صالح (مولى عمر بن الخطاب)
* سیدنا صفوان بن بیضاء
* انصار (اوس و خزرج):
7. سیدنا سعد بن خیثمہ (اوسی)
8. سیدنا مبشر بن عبدالمنذر (اوسی)
9. سیدنا حارثہ بن سراقہ (خزرجی)
10. سیدنا عوف بن حارث (خزرجی)
11. سیدنا معوذ بن حارث (خزرجی)
12. سیدنا عمیر بن الحمام (خزرجی)
13. سیدنا رافع بن المعلی (خزرجی)
14. سیدنا یزید بن الحارث (خزرجی)
بدر کا یہ قبرستان محض ایک تاریخی مقام نہیں، بلکہ یہ ایثار، قربانی اور توکل کا وہ روشن باب ہے جو ہمیں بتاتا ہے کہ جب انسان اپنے رب پر کامل ایمان رکھتا ہے تو دنیا کی کوئی قوت اسے شکست نہیں دے سکتی۔ ان پاکیزہ ناموں پر نظر پڑتی ہے تو دل میں ایک منفرد سا سکون اور آنکھوں میں نمی تیرنے لگتی ہے۔ یہاں کھڑے ہو کر انسان کو اپنے وجود کی بے مائگی اور خالقِ کائنات کی لامحدود وسعتِ قدرت کا کامل ادراک ہوتا ہے۔
یا رب! ہمیں ان عظما کی قدم بقدم پیروی کرنے اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرما۔ آمین۔

دیارِ حبیب ﷺ کی وہ مقدس فضا، جہاں سانس لینا بھی اک عبادت کی مانند ہے اور جہاں کی خاک سرمہِ بصیرت کا درجہ رکھتی ہے۔ جب اس...
08/09/2026

دیارِ حبیب ﷺ کی وہ مقدس فضا، جہاں سانس لینا بھی اک عبادت کی مانند ہے اور جہاں کی خاک سرمہِ بصیرت کا درجہ رکھتی ہے۔ جب اس پاکیزہ سرزمین پر قدم پڑتے ہیں تو تاریخ کے بکھرے ہوئے ورک خاموشی سے دل و دماغ کی کھڑکیوں پر دستک دینے لگتے ہیں۔
تصویر میں دکھائی دینے والی یہ پرشکوہ عمارت گورنر ہاؤس مدینہ منورہ کی ہے—ایک ایسی جگہ جہاں سے اس تاریخ ساز اور بابرکت خطے کا نظم و نسق سنبھالا جاتا ہے۔ اس دلکش و جاذبِ نظر عمارت کا سنِ تعمیر 1990ء کی دہائی کا اہم باب ہے، جو روایتی عربی و اسلامی فنِ تعمیر اور جدید سعودی آرکیٹیکچر کا ایک دلنشین امتزاج ہے۔ عمارت پر کندہ محرابیں، نقش و نگار اور اس کا وسیع و عریض رقبہ اس خطے کے جاہ و جلال اور روحانی وقار کا عکس پیش کرتا ہے۔
اگر جغرافیائی اور تاریخی نظر سے دیکھا جائے تو صوبہ مدینہ منورہ شمال میں تبوک اور حائل، مشرق میں قصیم اور ریاض، جنوب میں مکہ مکرمہ اور مغرب میں بحیرہ احمر سے ملتا ہے۔ یہ وہی مقدس خطہ ہے جہاں یثرب نے ہجرتِ نبوی ﷺ کے بعد "مدینۃ النبی" بن کر کائنات کے سینے پر اپنی ابدی سحر انگیزی ثبت کی تھی۔
صوبہ مدینہ منورہ کے اہم اضلاع:
* مدینہ منورہ (مرکزی ضلع)
* ینبع (بندرگاہی اور صنعتی شہر)
* العلا (تاريخی اثرات کا گنجینہ)
* بدر (غزوہِ بدر کی تاریخی و عظمت والی وادی)
* خیبر (قلعوں اور تاریخ کا دیس)
* مہد الذہب
* الحناکیہ
* العیص
* وادی الفرع
اس پاکیزہ خطے کی مسندِ حکومت پر مختلف ادوار میں عظیم شخصیات متمکن رہی ہیں، جن میں سے چند نامور گورنر یہ ہیں:
* شہزادہ سلمان بن سلطان بن عبدالعزیز آل سعود (موجودہ گورنر)
* شہزادہ فیصل بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود
* شہزادہ عبدالعزیز بن ماجد آل سعود
* شہزادہ مقرن بن عبدالعزیز آل سعود
* شہزادہ عبدالمجید بن عبدالعزیز آل سعود
مدینہ کی ان سڑکوں پر چلتے ہوئے احساس ہوتا ہے کہ گزرتا وقت چاہے کتنا ہی بدل جائے، لیکن اس دیار کا سحر اور محبت کا جو تاثر روح میں اترتا ہے، وہ ہمیشہ لافانی رہتا ہے۔

بیسویں صدی کے آغاز میں جب سلطان عبدالحمید ثانی نے حجاز ریلوے کا عظیم منصوبہ شروع کیا، تو ان کا بنیادی مقصد دمشق سے مدینہ...
07/09/2026

بیسویں صدی کے آغاز میں جب سلطان عبدالحمید ثانی نے حجاز ریلوے کا عظیم منصوبہ شروع کیا، تو ان کا بنیادی مقصد دمشق سے مدینہ منورہ تک کے مہینوں کے کٹھن اور جان لیوا سفر کو محض چند دنوں میں سمیٹنا تھا۔ یہ دنیا بھر کے مسلمانوں کو ایک جذباتی اور روحانی رشتے میں پروپیو کرنے کی اک بے مثال کوشش تھی۔ اس عظیم منصوبے کا سب سے خوبصورت پہلو یہ تھا کہ جب ٹرین مدینہ کے قریب پہنچتی، تو پٹریوں کے نیچے ربڑ اور لکڑی کی تہیں بچھائی جاتیں اور انجن کی رفتار مدھم کر دی جاتی تاکہ شہرِ نبی کی پرسکون فضا میں ذرّہ برابر شور پیدا نہ ہو اور ادب و احترام کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹے۔
​اسی اسٹیشن کے پہلو میں 1908ء میں عثمانی طرزِ تعمیر کا شاہکار 'مسجدِ عنبریہ' قائم کی گئی۔ اپنے سیاہ بازالٹ پتھروں، جڑواں پتلے میناروں اور منفرد گنبدوں کے ساتھ یہ آج بھی پوری شان سے کھڑی ہے۔ یہ مسجد اس اسٹیشن پر اترنے والے زائرین کے لیے پہلی عبادت گاہ اور شکرانے کی جگہ تھی، جہاں سے وہ باوضو ہو کر روضۂ رسول کی حاضری کے لیے قدم بڑھاتے تھے۔
​آج پٹریاں خاموش ہیں اور ٹرینوں کی آمد و رفت تھم چکی ہے، مگر ان تاریخی بنیادوں پر کھڑے ہو کر انسان محسوس کرتا ہے کہ آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی محبت میں کی جانے والی کاوشیں کبھی پرانی نہیں ہوتیں—ان کی مہک ہمیشہ مدینے کی ہواؤں میں بسے رہتی ہے۔
​

مسجدِ غمامہ کے پتھریلے صحن میں ایک طرف بیٹھے ان بزرگ کو جب میں نے ساتھ عکس بند ہونے کی دعوت دی، تو ان کے چہرے پر کھلنے و...
06/09/2026

مسجدِ غمامہ کے پتھریلے صحن میں ایک طرف بیٹھے ان بزرگ کو جب میں نے ساتھ عکس بند ہونے کی دعوت دی، تو ان کے چہرے پر کھلنے والی مسکراہٹ نے فاصلوں کی تمام دیواریں گرا دیں۔ نہ زبان ایک، نہ ملک ایک، مگر مدینے کا دیار ایسا ہے جہاں اجنبیت کا لفظ اپنا مفہوم کھو دیتا ہے۔ یہاں ہر چہرہ شناسا اور ہر دل ایک ہی رشتہ دار لگتا ہے۔
​یہ وہی بابرکت مقام ہے جہاں سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ استسقاء کے لیے ہاتھ اٹھائے تو خشک سالی کے عالم میں بدلیوں نے آ کر فضا پر سایہ کر دیا تھا—اسی لیے تو یہ جگہ ’غمامہ‘ یعنی بادل کے نام سے منسوب ہوئی۔ یہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدین کی نمازیں بھی ادا کیں۔ اس تاریخی اور مقدس زمین پر بیٹھ کر جب میں نے ان بنگالی زائر کے ساتھ یہ لمحات محفوظ کیے، تو یوں لگا جیسے محبت اور اخوت کا ایک چھوٹا سا بادل ہمارے سروں پر بھی آن ٹھہرا ہے۔
​مدینہ صرف ایک شہر نہیں، یہ ایک ایسا آغوش ہے جہاں دنیا بھر سے آئے انسان ایک ہی برادرم کے دھاگے میں پروئے جاتے ہیں۔ یہاں کوئی بیگانہ نہیں، یہاں سب اپنے ہیں۔
​

بعض سفر زمین پر نہیں ہوتے، وہ دل کی بستی سے روح کی گہرائیوں تک طے پاتے ہیں۔ مکہ کی طرف اٹھنے والا ہر قدم انسان کو دنیاوی...
04/09/2026

بعض سفر زمین پر نہیں ہوتے، وہ دل کی بستی سے روح کی گہرائیوں تک طے پاتے ہیں۔ مکہ کی طرف اٹھنے والا ہر قدم انسان کو دنیاوی بندھنوں سے آزاد کر کے ایک ایسے آستانے پر لے جاتا ہے جہاں الفاظ ختم ہو جاتے ہیں اور صرف آنسو بات کرتے ہیں۔ کعبۃ اللہ—وہ مرکزِ ہدایت، جو حضرت آدم علیہ السلام کے ہاتھوں پہلی بار اس زمین پر بپا ہوا اور پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اس کی بنیادیں اٹھا کر قیامت تک کے لیے توحید کی شمع روشن کر دی۔
تاریخ کا پہلا حج اور پہلا عمرہ
جب کعبہ کی تعمیر مکمل ہوئی، تو ربِ کریم کا حکم آیا کہ لوگوں میں حج کا اعلان کر دیا جائے (سورۃ الحج: 27)۔ اسلامی تاریخ اور تفاسیر کی روایات کے مطابق:
* سب سے پہلا حج: حضرت ابراہیم علیہ السلام نے انجام دیا، جنہیں حضرت جبرائیل علیہ السلام نے تمام مناسک کی تربیت دی (تفسیر ابن کثیر، سورۃ الحج)۔
* سب سے پہلا عمرہ: فتح القدیر اور مختلف تاریخی روایات کے مطابق، انسانی تاریخ میں زمین پر سب سے پہلے عمرہ ادا کرنے والی ہستی حضرت آدم علیہ السلام تھے، جنہوں نے ہندوستان سے مکہ کا سفر کر کے کعبۃ اللہ کے گرد طواف فرمایا (الہدایہ/فتح القدیر)۔
سید الانبیاء ﷺ کے حج اور عمرے
ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ میں عبادات کا ہر لمحہ امت کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ صحیح احادیث کی روشنی میں آپ ﷺ نے ہجرت کے بعد:
* ایک فرض حج (حجۃ الوداع): 10 ہجری میں ادا فرمایا (صحیح مسلم: 1218)۔
* کل 4 عمرے: ادا فرمائے (صحیح البخاری: 1778):
* عمرۂ حدیبیہ (6 ہجری): جس کا احرام باندھا گیا لیکن صصلح کے بعد قربانی کر کے احرام کھول دیا گیا۔
* عمرۃ القضاء (7 ہجری): صلحِ حدیبیہ کے معاہدے کے مطابق اگلے سال ادا کیا گیا۔
* عمرۂ جعرانہ (8 ہجری): غزوۂ حنین کی غنیمتیں تقسیم کرنے کے بعد جعرانہ سے احرام باندھ کر کیا گیا۔
* عمرہ (10 ہجری): جو آپ ﷺ نے اپنے حج (حجۃ الوداع) کے ساتھ ادا فرمایا۔
عمرہ کا طریقہ، شرائط اور لوازمات
عمرہ محض ایک ظاہری سفر نہیں، یہ دل کی تطہیر کا نام ہے۔ شرعی نقطۂ نظر سے اس کا باقاعدہ طریقہ درج ذیل ہے:
عمرہ کی بنیادی شرائط:
* اسلام: مسلمان ہونا۔
* عقل و بلوغت: (عمرہ کی فرضیت اور کامل ثواب کے لیے)۔
* استطاعت: مالی اور جسمانی طور پر سفر کا اہل ہونا (سورۃ آل عمران: 97)۔
* محرم/ساتھ: خواتین کے لیے شرعی و مقاصدی سفر کی ضروری تدابیر۔
عمرہ کے 4 بنیادی ارکان و واجبات:
* احرام (شرط):
میقات پر یا اس سے پہلے پاکیزگی حاصل کر کے احرام کی دو چادریں (مردوں کے لیے) زیبِ تن کریں۔ نیت کر کے بلند آواز سے تلبیہ کہیں: "لبَّيْكَ اللَّهُمَّ لبَّيْكَ..." (صحیح البخاری: 1549)۔
* طواف (رکن):
حجرِ اسود سے طواف شروع کر کے کعبہ کے گرد 7 چکر مکمل کریں۔ مرد پہلے 3 چکروں میں 'رمل' اور 'اضطباع' کریں۔ طواف کے بعد مقامِ ابراہیم کے پاس 2 رکعت نمازِ طواف پڑھیں اور زم زم پیئیں (صحیح مسلم: 1218)۔
* سعی (رکن):
صفا سے شروع کر کے مروہ تک 7 چکر لگائیں (سورۃ البقرہ: 158)۔ سبز لائٹوں کے درمیان مرد ذرا تیز قدموں سے چلیں۔
* حلق یا تقصیر (واجب):
سعی کے بعد مرد سر کے بال منڈوائیں یا کٹوائیں، اور خواتین انگلی کے پور کے برابر بال کاٹیں۔ اس کے ساتھ ہی عمرہ مکمل ہو جاتا ہے (صحیح البخاری: 1727)۔
جب انسان بال کٹوا کر احرام کھولتا ہے، تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے روح سے سالوں کا بوجھ اتر گیا ہو اور وہ اک نويں، پاکیزہ وجود کے ساتھ دنیا میں لوٹ رہا ہو۔









مکہ مکرمہ کی روشن اور نکھری ہوئی دوپہر میں، جب آفتاب کی کرنیں حرم پاک کے برآمدوں اور آس پاس کی بلند پہاڑیوں پر چمکتی ہیں...
03/09/2026

مکہ مکرمہ کی روشن اور نکھری ہوئی دوپہر میں، جب آفتاب کی کرنیں حرم پاک کے برآمدوں اور آس پاس کی بلند پہاڑیوں پر چمکتی ہیں، تو دل ایک عجیب سرشاری سے بھر جاتا ہے۔ میں اس وقت حرمِ مکی کے عین سامنے، فلک بوس رائل کلاک ٹاور کے زیرِ سایہ کھڑا ہوں۔ دن کے اجالے میں جب نیلی رنگت کے بادلوں کے پس منظر میں اس کا دیوہیکل چہرہ اور چوٹی پر چمکتا سونا سورج کی دھوپ میں جگمگاتا ہے، تو یوں لگتا ہے جیسے زمانے کی رفتار کو ناپنے والا یہ مینار مکہ کے افق پر ایک مستقل نگہبان بن کر ایستادہ ہے۔
یہ فلک شگاف عمارت محض جدید دور کا کوئی تعمیری عجوبہ یا لوہے و شیشے کا تراشہ نہیں، بلکہ اس کی بنیادوں کے نیچے تاریخ کی کئی پرتیں دبی ہوئی ہیں۔ جس جگہ آج یہ جدید ساخت کھڑی ہے، وہاں صدیوں تک عثمانی دور کا تاریخی قلعہ اجیاد قائم ہوا کرتا تھا۔ اٹھارہویں صدی کے اختتام پر تعمیر ہونے والا وہ عظیم الشان قلعہ سالہا سال تک وادیِ مکہ کی حفاظت کا رمزیہ نشان اور حجاجِ کرام کا مسکن رہا۔ وقت کی گردش کے ساتھ وہ پرانا قلعہ رخصت ہوا اور اس کی جگہ اس جدید دور کے مینار نے لے لی، جو اب کوسوں دور سے مکہ مکرمہ آنے والے زائرین کو اپنی آغوش کا پتا دیتا ہے۔
دن کے اس دلفریب اجالے میں، جب میں اس بلند و بالا عمارت کو دیکھتا ہوں تو اس کی چوٹی پر لگا ہلال آفتاب کی روشنی میں سونے کی طرح دمکتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ اس کی دیوہیکل گھڑی کی سوئیاں جب وقت کی چھاپ ثبت کرتی ہیں، تو دل میں ایک درویشانہ خیال آتا ہے کہ یہ جدید ترین ٹاور اور اس کے نیچے دفن عثمانی تاریخ، سب اس ایک لازوال نقطے کی مرکزیت کے گرد گھوم رہے ہیں جسے کعبۃ اللہ کہتے ہیں۔
کلاک ٹاور کے سائے تلے کھڑے ہو کر انسان کو اپنی بے وسعت ہستی کا احساس ہوتا ہے۔ مکہ کی روشن فضاؤں میں لبیک کی وہی صدا گونجتی ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دور سے چلی آ رہی ہے، اور یہ بلند مینار بس اس مسلسل اور لافانی سفر کا ایک نیا موڑ ہے۔









تاریک شب کے بھیگے ہوئے سائے میں جب مدینہ کی فضائیں درود و سلام کے معطر جھونکوں سے سرشار ہوتی ہیں، تو روح پر عجب سی بے خو...
02/09/2026

تاریک شب کے بھیگے ہوئے سائے میں جب مدینہ کی فضائیں درود و سلام کے معطر جھونکوں سے سرشار ہوتی ہیں، تو روح پر عجب سی بے خودی طاری ہو جاتی ہے۔ میں اس وقت شہرِ جاناں کی شمالی سمت میں کھڑا ہوں، جہاں رات کا سرمئی سناٹا مسجدِ نبوی کے روشن گنبدوں کے نور سے گھل رہا ہے۔ رات کی اس بھیگی ہوئی خاموشی میں، جب مدینہ کی ٹھنڈی ہوا گالوں کو چھوتی ہوئی گزرتی ہے، تو یوں لگتا ہے جیسے ماضی اور حال کا سارا فرق مٹ گیا ہو اور انسان تاریخ کے ایک ان دیکھے روزن سے اس مقدس شہر کو دیکھ رہا ہو۔
یہ شمالی سمت اپنے اندر ایک عجب احترام سمیٹے ہوئے ہے۔ یہیں سے وہ راستے پھوٹتے ہیں جو جبلِ احد کی طرف جاتے ہیں—وہی احد جو اندھیری رات میں بھی اپنی دبی دبی محبت کی آفرینش سے کائنات کو گرمائے رکھتا ہے۔ یہاں قدم رکھتے ہی یوں لگتا ہے جیسے انسان دنیا کی تمام تر تھکن، شور اور جھنجھٹوں سے آزاد ہو کر کسی سچے، دیسی آنگن میں آ بیٹھا ہے۔
تھوڑا جنوب کی طرف نگاہ اٹھاؤں تو وہ راہیں دکھائی دیتی ہیں جہاں زائرین کے دل کی دھڑکنیں رات کے سناٹے میں بھی عبادت بن کر دھڑکتی ہیں۔ جب انسان اس سمت سے گزرتا ہوا مسجدِ قبا اور مسجدِ جمعہ کے قدسی ماحول کی طرف بڑھتا ہے، تو سینے کے اندر ایک عجیب سا درویشانہ سکون اترنے لگتا ہے، جیسے دنیا کی کوئی طلب باقی نہ رہی ہو۔
جنوب مغرب کی جانب نگاہ رخ موڑتی ہے تو دل احرام کی نیت اور بندگی کی تجدید سے بھر جاتا ہے۔ یہی وہ برکتوں والی جہت ہے جہاں مسجدِ قبلتین کا تاریخ ساز قدسی منظر نامہ ابھرتا ہے، جہاں تحویلِ قبلہ کا تاریخی حکم اترا تھا۔ اور اسی جنوب مغربی راہ گزر پر کچھ آگے چلیں تو ذوالحلیفہ (آبارِ علی) کا میقات واقع ہے—وہ مقام جہاں سے احرام کی چادریں اوڑھ کر عاشقانِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ مکرمہ کی طرف لبیک کی صداؤں کے ساتھ سفر کا آغاز کرتے ہیں۔
مشرق کی طرف رخ کرو تو پلکیں خود بخود بھیگ جاتی ہیں۔ وہاں جنۃ البقیع کی خاموش، پرنور زمین پھیلی ہے جہاں صحابہ کرام کی ابدی آرام گاہیں ہیں۔ رات کے وقت جب بقیع کی خاموش فضا پر نگاہ پڑتی ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہر ذرّہ سلامِ شوق پڑھ رہا ہو۔ اور مغرب کا رخ کرو تو مدینہ کی قدیم گلیوں، عطر اور کھجوروں کی بھینی بھینی خوشبوؤں کے ساتھ سبع مساجد کے تاریخی نقوش دل کو ایک عجیب سرشار کیفیت سے بھر دیتے ہیں۔
رات کے اس پہلو میں، مدینہ کی گلیوں میں کھڑے ہو کر انسان کو سمتوں کا ہوش نہیں رہتا۔ سچ تو یہ ہے کہ شہرِ نبی میں کوئی شمال، جنوب، شرق یا غرب نہیں ہوتا—یہاں ہر سمت بس اک التجا، اک سجدہ اور بے انتہا محبت ہے۔









مدینہ منورہ میں جبلِ سلع کے مغرب میں واقع "مساجدِ سبعہ" (سات مساجد) اسلامی تاریخ کے اس معرکۂ عظیم کی یاد دلاتی ہیں جسے ...
01/09/2026

مدینہ منورہ میں جبلِ سلع کے مغرب میں واقع "مساجدِ سبعہ" (سات مساجد) اسلامی تاریخ کے اس معرکۂ عظیم کی یاد دلاتی ہیں جسے "غزوۂ خندق" یا "غزوۂ احزاب" (5 ہجری) کہا جاتا ہے۔ یہ وہی تاریخی مقام ہے جہاں کفار کے دس ہزار لشکر کے محاصرے کے خلاف حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے المشورے پر خندق کھودی گئی تھی اور جہاں صحابہ کرام نے سخت تنگی و آزمائش کے باوجود ایمان و استقامت کا بے مثال مظاہرہ کیا تھا۔

اس مقام پر چھوٹی بڑی مساجد دراصل ان مقامات پر تعمیر کی گئیں جہاں غزوۂ خندق کے دوران رسول اللہ ﷺ اور جلیل القدر صحابہ کرام کے خیمے نصب تھے اور جہاں انہوں نے نصرتِ الٰہی کے لیے عبادات فرمائیں۔ ان مساجد میں سب سے نمایاں "مسجدِ الفتح" (جسے مسجدِ اعلیٰ بھی کہا جاتا ہے) ہے، جو جبلِ سلع کی ایک اونچی پہاڑی پر واقع ہے۔

مسجدِ الفتح وہ مبارک مقام ہے جہاں رسول اللہ ﷺ نے مسلسل تین دن (پیر، منگل اور بدھ) بارگاہِ الٰہی میں عاجزی و انکساری کے ساتھ فتح و نصرت کی دعا فرمائی۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

"نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا فِي مَسْجِدِ الْفَتْحِ ثَلاثًا: يَوْمَ الاِثْنَيْنِ، وَيَوْمَ الثُّلاثَاءِ، وَيَوْمَ الأَرْبِعَاءِ، فَاسْتُجِيبَ لَهُ يَوْمَ الأَرْبِعَاءِ بَيْنَ الصَّلاتَيْنِ صَلاةِ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ" (الادب المفرد للبخاری) "نبی کریم ﷺ نے مسجدِ الفتح میں تین دن دعا فرمائی: پیر، منگل اور بدھ کے دن۔ پھر بدھ کے دن ظہر اور عصر کی نمازوں کے درمیان آپ ﷺ کی دعا قبول کی گئی۔"

اسی دعا کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے شدید ٹھنڈی ہوا اور فرشتوں کا لشکر بھیج کر کفار کے قدم اکھاڑ دیے اور مسلمانوں کو بغیر جنگ کے فتح عظیم عطا فرمائی، جیسا کہ قرآنِ مجید میں ارشاد ہے:

"وَرَدَّ اللَّهُ الَّذِينَ كَفَرُوا بِغَيْظِهِمْ لَمْ يَنَالُوا خَيْرًا ۚ وَكَفَى اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ" (سورۃ الاحزاب: 25) "اور اللہ نے کافروں کو ان کے غصے کے ساتھ لوٹا دیا، وہ کوئی بھلائی نہ پا سکے، اور اللہ مومنوں کو جنگ کے لیے کافی ہو گیا۔"

ان مساجد میں مسجد الفتح کے علاوہ مسجد سلمان فارسی، مسجد ابو بکر صدیق، مسجد عمر بن خطاب، مسجد علی بن ابی طالب، اور مسجد فاطمۃ الزہراء (رضی اللہ عنہم) شامل ہیں۔ (چھ مساجد اور ساتویں مسجدِ قبا یا مسجدِ قبلتین کو ملا کر تاریخی طور پر انہیں مساجدِ سبعہ کہا جاتا رہا، جبکہ اب یہاں ایک بڑی جامع مسجد "مسجدِ خندق" بھی تعمیر کر دی گئی ہے)۔

آج بھی زائرین جب مدینہ منورہ حاضری دیتے ہیں، تو مقامِ خندق پہنچ کر نہ صرف اس حربی حکمتِ عملی کو یاد کرتے ہیں بلکہ سید الانبیاء ﷺ کی دعا کی قبولیت کے اس تاریخی مقام پر نوافل ادا کر کے اپنے ایمان کو جلا بخشتے ہیں۔

Address

Medina

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Abubakar Zubair posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share