05/09/2026
روضہ رسول ﷺ سے جیسے عصر کے بعد سلام پیش کرکے نکلا تو گنبد خضراء کے سامنے یہ نواجوان کھڑا تھا
میں نے جب اردو میں گنبد خضراء کو دیکھ کر دوبارہ سلام پیش کیا تو
اس لڑکے کہا آپ پاکستانی ہیں میں نے کہا ہاں تو بولا کہ روضہ رسول ﷺ کہاں ہے ؟ اس کا راستہ بتادیں اور جانے کا طریقہ بھی ۔
میں نے کہا آپ یہاں کیسے آئے ہیں تو بولا کہ بھائی حج پہ آیا ہوں میں نے اوپر سے نیچے دیکھا اور نام پوچھا بولا محمد عباس نام ہے
اور میں ایک سیکورٹی گارڈ ہوں خانیوال میں ایک مرغیوں کا کنٹرول شیڈ ہے اس کے مالک کو اس سال اچھا نفع ہوا اور اس نے ہم بارہ سیکورٹی گارڈز کو حج پہ بھیج دیا
نہ میرے پاس پیسے تھے نہ وسائل میں نے گلے لگا کر مبارکباد دی کہ یہ بات سچ ہے کہ یہاں پیسہ نہیں بلاوا لے کر آتا ہے ۔
اس کے بعد میں نے پوچھا کہ تمہیں معلوم پہ کہ کیسے آقا کریم کو سلام کہنا ہے تو وہاں پہ کن کن چیزوں کا خیال کرنا ہے ؟
بولا اگر ساتھ آپ چل پڑیں تو مجھ پہ احسان ہوگا میں نے کہا کوئی بات نہیں پہلے آپ اپنی جوتیاں اتار لیں میرے پاس بیگ میں شاپر تھا میں نے اس کو دے دیا
مجھے معلوم ہوگیا تھا کہ آقا کریم نے اس بندے کی حاضری کے لیئے ہی مجھے دوبارہ موقع دیا ہے آنے کا ۔
میں نے عباس کا ہاتھ پکڑا اور دوبارہ روضہ رسول ﷺ میں حاضری کے لیئے نکل پڑا ۔
وہاں اس کو ہر جگہ سمجھتا رہا کہ یہ جگہ کونسی ہے اور آخر کار رسول ﷺ کی جالیوں کے سامنے کھڑا کردیا جیسے جیسے میں نے سلام پیش کیا اس نے بھی کیا ۔
اس کے بعد حضرت ابو بکر اور حضرت عمر فاروق کے روضہ اقدس کی نشاندہی کی اور وہاں سے آگیا ۔
جب باہر نکلا تو یہ نوجوان مجھ سے گلے لگ گیا اور شکریہ ادا کرنے لگا
میں نے کہا شکریہ آپ کا آپ آقا کریم کے خاص ہیں میں تو ہوٹل جارہا تھا آپکی وجہ سے ہی مجھکو دوبارہ دربار میں پیش ہونے کا موقع مل گیا
❤🌷🌹