10/08/2026
ڈاکٹر‘ کے بورڈ سے ’اسپیشلسٹ‘ تک؛ باجوڑ کے نجی کلینکس میں مبینہ گڑبڑ کا انکشاف
باجوڑ: ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال خار کے سامنے قائم نجی کلینکس میں بعض افراد کی جانب سے اپنی طبی قابلیت اور اسپیشلائزیشن سے متعلق مبینہ طور پر ایسے دعوے کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے جن کی تصدیق متعلقہ حکام سے کرانے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے، جبکہ مریضوں اور لواحقین نے مارکیٹ میں مبینہ ٹاؤٹ مافیا کی سرگرمیوں اور مریضوں کی باری آگے کرنے کے لیے غیرضروری رقم وصول کیے جانے کی شکایات بھی سامنے لائی ہیں۔
شہریوں کے مطابق مذکورہ مارکیٹ میں بعض ایسے افراد بھی کلینکس چلا رہے ہیں جن کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے صرف مختلف نوعیت کے ڈپلومے حاصل کیے ہیں اور باقاعدہ MBBS کی تعلیم بھی مکمل نہیں کی، تاہم مبینہ طور پر اپنے نام کے ساتھ ’’الٹراساؤنڈ اسپیشلسٹ‘‘ اور دیگر طبی شعبوں میں اسپیشلسٹ ہونے کے القابات استعمال کر رہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ معاملہ نہ صرف طبی ضابطوں بلکہ مریضوں کی زندگی اور صحت سے براہِ راست جڑا انتہائی حساس مسئلہ ہے۔
مریضوں اور لواحقین کی جانب سے یہ شکایات بھی سامنے آئی ہیں کہ مارکیٹ میں بعض مبینہ ٹاؤٹس سرگرم ہیں جو مریضوں کو مخصوص کلینکس یا ڈاکٹروں کی طرف لے جانے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ بعض افراد پر مریضوں کا نمبر آگے کروانے کے عوض مبینہ طور پر اضافی رقم طلب کرنے کے الزامات بھی عائد کیے جا رہے ہیں۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ڈگری، رجسٹریشن اور اسپیشلائزیشن کا معاملہ محض ایک بورڈ یا کلینک کے دعوے سے ثابت نہیں ہوتا، اس لیے متعلقہ حکام کو چاہیے کہ ڈی ایچ کیو ہسپتال کے سامنے قائم تمام نجی کلینکس کا جامع معائنہ کرکے وہاں پریکٹس کرنے والے افراد کی MBBS ڈگری، متعلقہ پوسٹ گریجویٹ قابلیت، پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی رجسٹریشن اور الٹراساؤنڈ سمیت دیگر مخصوص طبی خدمات انجام دینے کی قانونی اہلیت کی تصدیق کریں۔
شہریوں نے ضلعی انتظامیہ اور محکمۂ صحت باجوڑ سے مطالبہ کیا ہے کہ مذکورہ مارکیٹ میں اچانک اور غیرجانبدارانہ انسپیکشن کیا جائے، مبینہ ٹاؤٹ مافیا کی سرگرمیوں کی بھی تحقیقات کی جائیں اور اگر کسی شخص کی جانب سے اپنی تعلیمی یا طبی قابلیت کے بارے میں غلط بیانی، غیرمجاز پریکٹس یا مریضوں سے غیرقانونی رقم وصول کرنے کے شواہد ملیں تو قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ صحت کا شعبہ اعتماد کا معاملہ ہے؛ سفید کوٹ، کلینک کا بورڈ اور ’اسپیشلسٹ‘ کا لقب اس وقت ہی معتبر ہونا چاہیے جب اس کے پیچھے باقاعدہ ڈگری، رجسٹریشن اور متعلقہ مہارت موجود ہو۔ ان کے بقول سرکاری ہسپتال کے سامنے قائم نجی کلینکس میں مؤثر نگرانی نہ ہونے کی صورت میں سب سے زیادہ نقصان عام اور لاعلم مریضوں کو اٹھانا پڑ سکتا ہے۔