19/01/2026
الحمدللہ۔۔❤️
پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ: صحافی زاہد خان کے خلاف درج ایف آئی آر بدنیتی پر مبنی قرار، مردان پریس کلب کے صحافیوں کو قانونی نوٹس جاری
مردان (مردان نیوز) پشاور ہائی کورٹ نے صحافی زاہد خان کے خلاف مردان پریس کلب کے عہدیدار صدر ریاض ولد اکرم خان ساکن توحید کالونی اور جنرل سیکرٹری پرویز ولد زمان ساکن بہرام خان کلی کی جانب سے درج کرائی گئی ایف آئی آر کو بدنیتی پر مبنی قرار دیتے ہوئے اہم ریمارکس دیے ہیں۔ اس عدالتی فیصلے کے بعد زاہد خان نے اپنی ساکھ کو نقصان پہنچانے پر پریس کلب مردان کے صدر اور جنرل سیکرٹری کو بھاری ہرجانے کا قانونی نوٹس بھیج دیا ہے۔دستاویزات کے مطابق، پریس کلب مردان کے صدر محمد ریاض اور جنرل سیکرٹری پرویز خان نے صحافی زاہد خان کے خلاف تھانہ سٹی مردان میں PECA ایکٹ (سائبر کرائم) کی مختلف دفعات کے تحت ایف آئی آر نمبر 184 درج کرائی تھی۔ زاہد خان پر الزام لگایا گیا تھا کہ وہ صحافیوں کے خلاف منفی مہم چلا رہے ہیں۔ زاہد خان نے اپنے وکیل نجم الدین ایڈوکیٹ (سپریم کورٹ) کے ذریعے پشاور ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن نمبر1153-P/2025) دائر کی، جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ یہ ایف آئی آر صرف بلیک میلنگ، ہراساں کرنے اور جاری سول مقدمات میں سمجھوتے کے لیے دباؤ ڈالنے کی غرض سے درج کرائی گئی ہے۔ جسٹس فرح جمشید نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے ریکارڈ کا جائزہ لیا اور ابتدائی طور پر اسے بدنیتی پر مبنی قرار دیا۔
عدالتی کارروائی کے بعد، زاہدخان نے پریس کلب کے دونوں عہدیداروں کو لیگل نوٹس جاری کر دیا ہے۔ نوٹس میں موقف اپنایا گیا ہے کہ:
جھوٹی ایف آئی آر کے ذریعے ان کی سماجی اور خاندانی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔
یہ کارروائی محض ذاتی عناد اور جاری قانونی تنازعات میں رعایت حاصل کرنے کے لیے کی گئی۔
Former President of Mardan Press Club Riaz son of Akram Khan, resident of Toheed Colony near Haroon Masjid, and General Secretary Pervez son of Zaman Khan, resident of Nowshera Road, Bahram Khan Killi, were issued a legal notice of Rs 51 million in damages.
I approached the esteemed court after the matter was not resolved within the stipulated period۔
It should be remembered that a fabricated, false and malicious FIR was registered against me at the city police station under the PECA Act and other provisions. Eminent lawyer Najmuddin Advocate Supreme Court gave arguments and satisfied the court, which was quashed by the honorable Justice of the High Court.