15/02/2026
منگو پیر
کراچی شہر کے شمال مشرق میں "منگو پیر" کی دربار واقع ہے،اس دربار کی خاص بات یہ ہے کہ یہ صرف مریدوں ہی کا نہیں بلکہ مگرمچھوں کا بھی مسکن ہے۔
درگاہ سے متصل تالاب میں ہمیشہ 80 سے 150 کے درمیان مگرمچھ موجود رہتے ہیں۔
بدعقیدہ لوگ اور جاہل مرید ان مگرمچھوں کو بابا منگو پیر کی "جوئیں" قرار دیتے ہیں۔ مریدوں کا عقیدہ ہے کہ یہ مگرمچھ دراصل بابا منگو کی جوئیں ہیں۔
لوگوں کا ماننا ہے کہ جو شخص بابا جی کے مزار پر حاضر ہو کر دعا کرے، پھر تالاب میں مگرمچھوں کی طرف دیکھے، اگر مگرمچھ حرکت کرے تو اس کا کام بن جائے گا، اور اگر حرکت نہ کرے تو سمجھ لیا جاتا ہے کہ دعا قبول نہیں ہوئی۔
ان مگرمچھوں کے سردار کا نام "مور" بتایا جاتا ہے۔ لوگوں کا عقیدہ ہے کہ اگر مور خوش ہو گیا تو ان کی مراد پوری ہو جائے گی۔
"موگیمبو خوش ہوا" یعنی پھر تو سمجھیں مرادیں لگ گئیں، دعا قبول، تالاب مبارک، اور حلوہ بھی حاضر!
یہاں آنے والے لوگ اپنی نذر و نیاز تالاب کے حوالے کر دیتے ہیں۔ یہ مگرمچھ اب انسانوں سے اس قدر مانوس ہو چکے ہیں کہ ہر چیز کھا جاتے ہیں۔ نیاز کے بکرے، چھترے، اور مریدوں کی دیکھا دیکھی حلوہ بھی ان کی خوراک میں شامل ہے۔
عقیدت کا عالم یہ ہے کہ بعض لوگ جلدی بیماری، دمے اور بانجھ پن وغیرہ کے علاج کے لیے تالاب کا گندا پانی تک پی لیتے ہیں۔
ان مگرمچھوں کو مقدس سمجھا جاتا ہے، ان پر چادریں چڑھائی جاتی ہیں، پھولوں کے ہار پہنائے جاتے ہیں، اور انہیں گویا درگاہ کا مستقل "متبرک حصہ" بنا دیا گیا ہے۔
"اے انسان کیا ہو گیاہے تجےمگرمچھوں سے تجھ کو امیدیں ہیں، اور اللّٰہ تعالیٰ جو تیری شاہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے اس سے نااومیدی"لوٹ اللّٰہ تعالیٰ کی طرف کیوں کہ تیری ہرمشکل کا حل اللّٰہ تعالیٰ کے حکم سے ہے