22/12/2025
کراچی میں شیطانی تنظیم کے بدقسمت پیروکار کی گرفتاری
کراچی شہر میں شیطانی تنظیم کے پیروکاروں کی موجودگی کے شواہد سامنے آنے کے بعد قانون نافذ کرنے والے ادارے اس معاملے کی نہایت باریک بینی سے تحقیقات کر رہے ہیں۔
یہ معاملہ چار دن قبل اس وقت سامنے آیا جب خواتین پولیس افسر ارم امجد نے رضویہ کے علاقے سے مجرم طاہر عباس مرزا کو گرفتار کیا، جو خود بھی اس شیطانی تنظیم کا پیروکار ہے اور ایک اسکول ٹیچر ہے۔
23 اپریل کو وومن لیاقت آباد کی ایس ایچ او ارم امجد کے پاس ایک خاتون نے شکایت درج کروائی کہ اس کا بہنوئی اس کی بہن اور بھانجیوں کی نازیبا ویڈیوز بناتا ہے اور انہیں الومناتی نیٹ ورک کی ایک ویب سائٹ پر اپلوڈ کرتا ہے۔
یہ شیطانی کام الومناتی ویب سائٹ کے ہینڈلرز کی ہدایت پر کیا جاتا تھا، اور ویڈیوز اپلوڈ کرنے کے بدلے ملزم کو ڈالرز میں رقم دی جاتی تھی۔
اسی بنیاد پر پولیس افسر ارم امجد نے چھاپہ مار کارروائی کے دوران ملزم طاہر عباس مرزا کو گرفتار کیا اور شکایت کنندہ کی بہن اور بھانجیوں کو اس کے چنگل سے آزاد کرا کر پولیس اسٹیشن منتقل کیا۔
بعد ازاں ملزم کی بیوی نے بھی طاہر عباس کے خلاف مقدمہ درج کروانے کی درخواست دی، جس پر اس کے خلاف کیس درج کر لیا گیا۔
پولیس نے ملزم کی بیوی اور بچیوں کو طبی معائنے کے لیے اسپتال منتقل کیا۔
متاثرہ خاتون نے پولیس کو بتایا کہ طاہر عباس گزشتہ دو سال سے شیطانی تنظیم "الومناتی" کا حصہ تھا اور اس نے یہ رکنیت انٹرنیٹ کے ذریعے مختلف ٹاسک مکمل کر کے حاصل کی، جن کے بدلے اسے مالی فائدہ دیا جاتا تھا۔
متاثرہ خاتون کے مطابق،
الومناتی کی جانب سے اس کے شوہر کو ہدایات دی جاتی تھیں کہ وہ ازدواجی تعلق کے دوران شدید تشدد کرے اور اس کی ویڈیو بنا کر انہیں بھیجے۔
اس نے بتایا:
"میرے شوہر نے یہ عمل مجھ پر سینکڑوں بار کیا اور ان ویڈیوز کے بدلے ڈالر وصول کرتا رہا۔ چند ماہ قبل الومناتی کی جانب سے اسے یہ ٹاسک دیا گیا کہ وہ اپنی بیٹیوں کی برہنہ ویڈیوز بھی بنائے۔ اسی مقصد کے لیے اس نے باتھ روم میں خفیہ کیمرے نصب کیے اور اپنی بیٹیوں کی ویڈیوز بھی انہیں بھیجیں۔ جب مجھے اس کا علم ہوا تو اس نے مجھے جان سے مارنے کی دھمکی دی۔ پھر میں نے یہ ظلم اپنی بہن کو بتایا اور پولیس سے مدد مانگی۔"
دوسری جانب گرفتار ملزم طاہر عباس مرزا کا کہنا ہے:
"میرا اس تنظیم سے رابطہ ہوا تھا، لیکن جب انہوں نے مجھے انتہائی گھٹیا ٹاسک دیے تو میں نے ان سے تعلق ختم کر لیا۔ اب میرا ان سے کوئی رابطہ نہیں۔ میری بیوی اور بیٹیاں مجھ پر جھوٹے الزامات لگا رہی ہیں۔"
اس حوالے سے وومن لیاقت آباد کی ایس ایچ او ارم امجد نے بتایا:
"ہم نے متاثرہ افراد کا طبی معائنہ کروا لیا ہے اور رپورٹس کا انتظار ہے۔ ملزم کا ریمانڈ حاصل کر لیا گیا ہے تاکہ تفتیش کر کے اصل حقائق سامنے لائے جا سکیں۔ ملزم کا موبائل فون اور لیپ ٹاپ فارنزک کے لیے بھیج دیے گئے ہیں تاکہ مزید شواہد حاصل کیے جا سکیں۔ ملزم کے بیانات میں بار بار تبدیلی سے ہمیں شبہ ہے کہ وہ بہت سی باتیں پولیس سے چھپا رہا ہے۔"
یہ بات قابل ذکر ہے کہ "الومناتی" نامی یہ شیطانی تنظیم تمام مذاہب کی منکر ہے اور صرف شیطان کی عبادت کرتی ہے۔ اس کے پیروکاروں کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے۔ ماضی میں بھی رپورٹس سامنے آ چکی ہیں کہ یہ تنظیم پاکستان میں نیٹ ورک رکھتی ہے اور بڑے شہروں میں ان کے عبادت خانے موجود ہیں۔
ان کی سرگرمیاں نہایت خفیہ ہوتی ہیں۔ یہ تنظیم اتنی خطرناک سمجھی جاتی ہے کہ جو بھی اس کے خلاف کھڑا ہو، اس کے قتل کا حکم دے سکتی ہے۔
جو شخص تنظیم چھوڑنے کی کوشش کرے یا بغاوت کرے، یہ تنظیم نہ صرف اسے بلکہ اس کے پورے خاندان کو ختم کر دیتی ہے تاکہ کوئی ثبوت باقی نہ رہے۔
اس تنظیم کی علامت ایک آنکھ ہے جسے وہ دجالی یا شیطانی آنکھ کہتے ہیں۔ ان کے عبادت خانوں میں شیطان کا مجسمہ نصب ہوتا ہے اور اس کی عبادت کی جاتی ہے۔ شیطان کو خوش کرنے کے لیے انسانی خون کی قربانی بھی دی جاتی ہے تاکہ وہ انہیں ماورائی طاقت اور دولت عطا کرے۔
یہ بھی سامنے آیا ہے کہ دنیا کی کئی بااثر شخصیات، فیشن انڈسٹری کے لوگ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کچھ بڑی شخصیات بھی اس نیٹ ورک کا حصہ ہیں۔
یہ تنظیم 244 سال قبل 1776 میں یورپ میں قائم ہوئی، جہاں سے یہ پوری دنیا میں پھیل گئی۔
ذرائع کے مطابق الومناتی اتنی طاقتور ہو چکی ہے کہ بڑی ریاستوں کے حکومتی فیصلے بھی اس کی مرضی کے مطابق ہوتے ہیں اور دنیا کی معیشت کا بڑا حصہ ان کے کنٹرول میں ہے۔
اس انتہائی حساس اور تشویشناک معاملے پر امت انتظامیہ نے تحقیقاتی کام شروع کر دیا ہے اور جلد ایک رپورٹ شائع کی جائے گی جس میں بتایا جائے گا کہ پاکستان میں اس نیٹ ورک کی موجودگی کہاں ہے اور کتنے افراد اس شیطانی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔
یہ بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ آیا اس تنظیم کے پیروکار عام لوگ ہیں یا پاکستان کی سیاسی اور کاروباری شخصیات بھی اس جال میں پھنس چکی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس نیٹ ورک کی سب سے بڑی ہتھیار خوبصورت لڑکیاں ہیں، جن کے ذریعے بااثر شخصیات کو اس تنظیم کا حصہ بننے پر مجبور کیا جاتا ہے۔