Al Quran With Urdu Translation

Al Quran With Urdu Translation its a pure Quran Translation

15/03/2026

゚viralシfypシ゚viralシalシ

15/03/2026

゚viralシfypシ゚viralシalシ

13/01/2026

Al Quran
゚viralシfypシ゚viralシalシ

13/01/2026

القرآن
゚viralシfypシ゚viralシalシ

05/01/2026

MashaAllah ❤️ Hearts touching Voice
When the Qur’an is recited, hearts soften and souls reconnect. ゚viralシfypシ゚viralシalシ

26/12/2025

جو لوگ ایمان ﻻئے اور انہوں نے نیک اعمال کیے انہیں اللہ تعالیٰ ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہیں اور جو لوگ کافر ہوئے وه (دنیا ہی کا) فائده اٹھا رہے ہیں اور مثل چوپایوں کے کھا رہے ہیں، ان کا (اصل) ٹھکانہ جہنم ہے.
سورة محمد ايت ١٢

23/11/2025

سورت نمبر
67
آیت نمبر
1
(67) سورۃ الملک
(مکی — کل آیات 30)
بِسْمِ اللّـٰهِ الرَّحْـمٰنِ الرَّحِيْـمِ
تَبَارَكَ الَّـذِىْ بِيَدِهِ الْمُلْكُۖ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيْرٌ (1) ↖
وہ ذات با برکت ہے جس کے ہاتھ میں سب حکومت ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

اَلَّـذِىْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ۚ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْغَفُوْرُ (2) ↖
جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کس کے کام اچھے ہیں اور وہ غالب بخشنے والا ہے۔

اَلَّـذِىْ خَلَقَ سَبْعَ سَـمَاوَاتٍ طِبَاقًا ۖ مَّا تَـرٰى فِىْ خَلْقِ الرَّحْـمٰنِ مِنْ تَفَاوُتٍ ۖ فَارْجِــعِ الْبَصَرَ هَلْ تَـرٰى مِنْ فُطُوْرٍ (3) ↖
جس نے سات آسمان اوپر تلے بنائے، تو رحمان کی اس صنعت میں کوئی خلل نہ دیکھے گا، تو پھر نگاہ دوڑا کیا تجھے کوئی شگاف دکھائی دیتا ہے۔

ثُـمَّ ارْجِــعِ الْبَصَرَ كَرَّتَيْنِ يَنْقَلِبْ اِلَيْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَّهُوَ حَسِيْرٌ (4) ↖
پھر دوبارہ نگاہ کر تیری طرف نگاہ ناکام لوٹ آئے گی اور وہ تھکی ہوئی ہوگی۔

وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَآءَ الـدُّنْيَا بِمَصَابِيْحَ وَجَعَلْنَاهَا رُجُوْمًا لِّلشَّيَاطِيْنِ ۖ وَاَعْتَدْنَا لَـهُـمْ عَذَابَ السَّعِيْـرِ (5) ↖
اور ہم نے دنیا کے آسمان کو چراغوں سے آراستہ کیا ہے اور ہم نے انہیں شیطانوں کو مارنے کے لیے آلہ بنا دیا ہے اور ہم نے ان کے لیے بھڑکتی آگ کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔

وَلِلَّـذِيْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِـمْ عَذَابُ جَهَنَّـمَ ۖ وَبِئْسَ الْمَصِيْـرُ (6) ↖
اور جنہوں نے اپنے رب کا انکار کیا ہے ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور وہ بہت ہی بری جگہ ہے۔

اِذَآ اُلْـقُوْا فِيْـهَا سَـمِعُوْا لَـهَا شَهِيْقًا وَّهِىَ تَفُوْرُ (7) ↖
جب اس میں ڈالے جائیں گے تو اس کے شور کی آواز سنیں گے اور وہ جوش مارتی ہوگی۔

تَكَادُ تَمَيَّـزُ مِنَ الْغَيْظِ ۖ كُلَّمَآ اُلْقِىَ فِيْـهَا فَوْجٌ سَاَلَـهُـمْ خَزَنَتُهَآ اَلَمْ يَاْتِكُمْ نَذِيْرٌ (8) ↖
ایسا معلوم ہوگا کہ جوش کی وجہ سے ابھی پھٹ پڑے گی، جب اس میں ایک گروہ ڈالا جائے گا تو ان سے دوزخ کے داروغہ پوچھیں گے کیا تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا۔

قَالُوْا بَلٰى قَدْ جَآءَنَا نَذِيْرٌ فَكَذَّبْنَا وَقُلْنَا مَا نَزَّلَ اللّـٰهُ مِنْ شَيْءٍۚ اِنْ اَنْتُـمْ اِلَّا فِىْ ضَلَالٍ كَبِيْـرٍ (9) ↖
وہ کہیں گے ہاں بے شک ہمارے پاس ڈرانے والا آیا تھا پر ہم نے جھٹلا دیا اور کہہ دیا کہ اللہ نے کچھ بھی نازل نہیں کیا، تم خود بڑی گمراہی میں پڑے ہوئے ہو۔

وَقَالُوْا لَوْ كُنَّا نَسْـمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِىٓ اَصْحَابِ السَّعِيْـرِ (10) ↖
اور کہیں گے کہ اگر ہم نے سنا یا سمجھا ہوتا تو ہم دوزخیوں میں نہ ہوتے۔

فَاعْتَـرَفُوْا بِذَنْبِهِـمْ فَسُحْقًا لِّاَصْحَابِ السَّعِيْـرِ (11) ↖
پھر وہ اپنے گناہ کا اقرار کریں گے سو دوزخیوں پر پھٹکار ہے۔

اِنَّ الَّـذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّـهُـمْ بِالْغَيْبِ لَـهُـمْ مَّغْفِرَةٌ وَّاَجْرٌ كَبِيْرٌ (12) ↖
بے شک جو لوگ اپنے رب سے بن دیکھے ڈرتے ہیں ان کے لیے بخشش اور بڑا اجر ہے۔

وَاَسِرُّوْا قَوْلَكُمْ اَوِ اجْهَرُوْا بِهٖ ۖ اِنَّهٝ عَلِـيْمٌ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ (13) ↖
اور تم اپنی بات کو چھپاؤ یا ظاہر کرو بے شک وہ سینوں کے بھید خوب جانتا ہے۔

اَلَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ ؕ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْـرُ (14) ↖
بھلا وہ نہیں جانتا جس نے (سب کو) پیدا کیا وہ بڑا باریک بین خبردار ہے۔

هُوَ الَّـذِىْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا فَامْشُوْا فِىْ مَنَاكِبِـهَا وَكُلُوْا مِنْ رِّزْقِهٖ ۖ وَاِلَيْهِ النُّشُوْرُ (15) ↖
وہی تو ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو نرم کر دیا سو تم اس کے راستوں میں چلو پھرو اور اللہ کے رزق میں سے کھاؤ، اور اسی کے پاس پھر کر جانا ہے۔

اَاَمِنْتُـمْ مَّنْ فِى السَّمَآءِ اَنْ يَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا هِىَ تَمُوْرُ (16) ↖
کیا تم اس سے ڈرتے نہیں جو آسمان میں ہے کہ وہ تمہیں زمین میں دھنسا دے پس یکایک وہ لرزنے لگے۔

اَمْ اَمِنْتُـمْ مَّنْ فِى السَّمَآءِ اَنْ يُّرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًا ۖ فَسَتَعْلَمُوْنَ كَيْفَ نَذِيْـرِ (17) ↖
کیا تم اس سے نڈر ہو گئے ہو جو آسمان میں ہے وہ تم پر پتھر برسا دے، پھر تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ میرا ڈرانا کیسا ہے۔

وَلَقَدْ كَذَّبَ الَّـذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِـمْ فَكَـيْفَ كَانَ نَكِيْـرِ (18) ↖
اور ان سے پہلے لوگ بھی جھٹلا چکے ہیں پھر ہماری ناراضگی کا کیا نتیجہ ہوا۔

اَوَلَمْ يَرَوْا اِلَى الطَّيْـرِ فَوْقَهُـمْ صَآفَّاتٍ وَّّيَقْبِضْنَ ۚ مَا يُمْسِكُـهُنَّ اِلَّا الرَّحْـمٰنُ ۚ اِنَّهٝ بِكُلِّ شَىْءٍ بَصِيْرٌ (19) ↖
اور کیا انہوں نے اپنے اوپر پرندوں کو پر کھولتے اور سکیڑتے ہوئے نہیں دیکھا، جنہیں رحمان کے سوا کوئی نہیں تھام رہا، بے شک وہ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے۔

اَمَّنْ هٰذَا الَّـذِىْ هُوَ جُنْدٌ لَّكُمْ يَنْصُرُكُمْ مِّنْ دُوْنِ الرَّحْـمٰنِ ۚ اِنِ الْكَافِرُوْنَ اِلَّا فِىْ غُرُوْرٍ (20) ↖
بھلا وہ تمہارا کون سا لشکر ہے جو رحمنٰ کے مقابلہ میں تمہاری مدد کرے گا، کچھ نہیں کافر تو دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں۔

اَمَّنْ هٰذَا الَّـذِىْ يَرْزُقُكُمْ اِنْ اَمْسَكَ رِزْقَهٝ ۚ بَلْ لَّجُّوْا فِىْ عُتُوٍّ وَّنُفُوْرٍ (21) ↖
بھلا وہ کون ہے جو تم کو روزی دے گا اگر وہ اپنی روزی بند کر لے، کچھ نہیں بلکہ وہ سرکشی اور نفرت میں اڑے بیٹھے ہیں۔

اَفَمَنْ يَّمْشِىْ مُكِـبًّا عَلٰى وَجْهِهٓ ٖ اَهْدٰٓى اَمَّنْ يَّمْشِىْ سَوِيًّا عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِـيْمٍ (22) ↖
پس کیا وہ شخص جو اپنے منہ کے بل اوندھا چلتا ہے وہ زیادہ راہِ راست پر ہے یا وہ جو سیدھے راستے پر سیدھا چلا جاتا ہے۔

قُلْ هُوَ الَّـذِىٓ اَنْشَاَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْئِدَةَ ۖ قَلِيْلًا مَّا تَشْكُـرُوْنَ (23) ↖
کہہ دو اسی نے تم کو پیدا کیا ہے اور تمہارے لیے کان اور آنکھ اور دل بھی بنائے ہیں، (مگر) تم بہت ہی کم شکر کرتے ہو۔

قُلْ هُوَ الَّـذِىْ ذَرَاَكُمْ فِى الْاَرْضِ وَاِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ (24) ↖
کہہ دو اسی نے تمہیں زمین میں پھیلایا ہے اور اسی کے پاس جمع کر کے لائے جاؤ گے۔

وَيَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُـمْ صَادِقِيْنَ (25) ↖
اور وہ کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کب ہوگا اگر تم سچے ہو۔

قُلْ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّـٰهِ ۖ وَاِنَّمَآ اَنَا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ (26) ↖
کہہ دو اس کی خبر تو اللہ ہی کو ہے اور میں تو صاف صاف ڈرانے والا ہوں۔

فَلَمَّا رَاَوْهُ زُلْفَةً سِيٓـئَتْ وُجُوْهُ الَّـذِيْنَ كَفَرُوْا وَقِيْلَ هٰذَا الَّـذِىْ كُنْتُـم بِهٖ تَدَّعُوْنَ (27) ↖
پھر جب وہ اسے قریب دیکھیں گے تو ان کی صورتیں بگڑ جائیں گی جو کافر ہیں اور کہا جائے گا یہ وہی ہے جسے تم دنیا میں مانگا کرتے تھے۔

قُلْ اَرَاَيْتُـمْ اِنْ اَهْلَكَنِىَ اللّـٰهُ وَمَنْ مَّعِىَ اَوْ رَحِمَنَا ۙ فَمَنْ يُّجِيْـرُ الْكَافِـرِيْنَ مِنْ عَذَابٍ اَلِـيْمٍ (28) ↖
کہہ دو بھلا دیکھو تو سہی اگر اللہ مجھے اور میرے ساتھ والوں کو ہلاک کرے یا ہم پر رحم کرے، پھر وہ کون ہے جو منکروں کو دردناک عذاب سے بچا سکے۔

قُلْ هُوَ الرَّحْـمٰنُ اٰمَنَّا بِهٖ وَعَلَيْهِ تَوَكَّلْنَا ۖ فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ هُوَ فِىْ ضَلَالٍ مُّبِيْنٍ (29) ↖
کہہ دو وہی رحمان ہے ہم اس پر ایمان لائے اور اسی پر ہم نے بھروسہ بھی کر رکھا، پس عنقریب تم جان لو گے کون صریح گمراہی میں ہے۔

قُلْ اَرَاَيْتُـمْ اِنْ اَصْبَحَ مَآؤُكُمْ غَوْرًا فَمَنْ يَّاْتِيْكُمْ بِمَآءٍ مَّعِيْنٍ (30) ↖
کہہ دو بھلا دیکھو تو سہی اگر تمہارا پانی خشک ہو جائے تو وہ کون ہے جو تمہارے پاس صاف پانی لے آئے گا۔

12/07/2023

قیامت قریب آ گئی[ایک تو بہ اعتبار اس زمانےکے جو گزر گیا،کیونکہ جو باقی ہے، وہ تھوڑا ہے۔ دوسرے، ہر آنے والی چیز قریب ہی ہے چنانچہ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے بھی اپنی بابت فرمایا کہ میرا وجود قیامت سےمتصل ہے، یعنی میرے اور قیامت کے درمیان کوئی نبی نہیں آئےگا۔]] اور چاند پھٹ گیا.[[- یہ وہ معجزہ ہے جو اہل مکہ کے مطالبے پر دکھایا گیا، چاندکے دو ٹکڑے ہو گئے حتیٰ کہ لوگوں نے حرا پہاڑ کو اس کے درمیان دیکھا۔ یعنی اس کا ایک ٹکڑا پہاڑ کے اس طرف اور ایک ٹکڑا اس طرف ہو گیا۔ (صحيح بخاري، كتاب مناقب الأنصار، باب انشقاق القمر وتفسير سورة اقتربت الساعة، وصحيح مسلم كتاب صفة القيامة، باب انشقاق القمر) جمہور سلف وخلف کا یہی مسلک ہے (فتح القدیر) امام ابن کثیر لکھتے ہیں ”علماء کے درمیان یہ بات متفق علیہ ہے کہ انشقاق قمر نبی (صلى الله عليه وسلم) کے زمانے میں ہوا اور یہ آپ (صلى الله عليه وسلم) کے واضح معجزات میں سے ہے، صحیح سند سے ثابت احادیث متواترہ اس پردلالت کرتی ہیں“۔]]

یہ اگر کوئی معجزه دیکھتے ہیں تو منہ پھیر لیتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ یہ پہلے سے چلا آتا ہوا جادو ہے.[[یعنی قریش نے، ایمان لانے کے بجائے، اسے جادو قرار دے کر اپنے اعراض کی روش برقرار رکھی۔]]

انہوں نے جھٹلایا اور اپنی خواہشوں کی پیروی کی اور ہر کام ٹھہرے ہوئے وقت پر مقرر ہے.[[یہ کفار مکہ کی تکذیب اور اتباع اہوا کی تردید وبطلان کے لیے فرمایا کہ ہر کام کی ایک غایت اور انتہا ہے، وہ کام اچھا ہو یا برا۔ یعنی بالآخر اس کا نتیجہ نکلے گا، اچھے کام کانتیجہ اچھا اوربرے کام کا نتیجہ برا۔ اس نتیجے کا ظہوردنیا میں بھی ہو سکتا ہے اگراللہ کی مشیت متقضی ہو، ورنہ آخرت میں تو یقینی ہے۔

یقیناً ان کے پاس وه خبریں آچکی ہیں[[یعنی گزشتہ امتوں کی ہلاکت کی،جب انہوں نےتکذیب کی۔]] جن میں ڈانٹ ڈپٹ (کی نصیحت) ہے.[[- یعنی ان میں عبرت ونصیحت کے پہلو ہیں، کوئی ان سے سبق حاصل کر کے شرک ومعصیت سے بچنا چاہے تو بچ سکتا ہے مُزْدَجَرٌ اصل میں مُزْتَجَرٌ ہے زَجْرٌ سے مصدر میمی۔]]

اور کامل عقل کی بات ہے[[یعنی ایسی بات جو تباہی سے پھیر دینے والی ہے یا یہ قرآن حکمت بالغہ ہے جس میں کوئی نقص یا خلل نہیں ہے۔ یا اللہ تعالیٰ جس کو ہدایت دے اور اس کو گمراہ کرے، اس میں بڑی حکمت ہے جس کو وہی جانتا ہے۔]] لیکن ان ڈراؤنی باتوں نے بھی کچھ فائده نہ دیا.[[- یعنی جس کے لیے اللہ نے شقاوت لکھ دی ہے اور اس کے دل پر مہر لگا دی ہے، اس کو پیغمبروں کا ڈراوا کیا فائدہ پہنچا سکتا ہے؟ اس کےلیے تو «سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ» والی بات ہے تقریباً اسی مفہوم کی یہ آیت ہے۔ «قُلْ فَلِلَّهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ فَلَوْ شَاءَ لَهَدَاكُمْ أَجْمَعِينَ» (الأنعام: 149)۔]]

پس (اے نبی) تم ان سے اعراض کرو جس دن ایک پکارنے واﻻ ناگوار چیز کی طرف پکارے گا.[[يَوْمَ سے پہلے اذْكُرْ محذوف ہے، یعنی اس دن کو یادکرو۔ نُكُرٌ، نہایت ہولناک اور دہشت ناک مراد میدان محشر اور موقف حساب کے اہوال اور آزمائشیں ہیں۔]]
سوورة القمر ١-٦ ايات

Address

Riyadh

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al Quran With Urdu Translation posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Al Quran With Urdu Translation:

Share

Category