07/07/2026
منگھوپیر ٹاؤن کے عوام کاسوال ہے؟؟
چار سال گزر گئے۔۔
منگھوپیر ٹاؤن کا چیئرمین اپنی مدت پوری کرنے کے قریب ہے، اور تمام 16 یونین کونسلوں کے چیئرمین بھی چار سال سے عوام کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ ہر یونین کونسل کو ترقیاتی فنڈز بھی ملتے رہے، اختیارات بھی حاصل رہے، لیکن آج سوال یہ ہے کہ...
آخر منگھوپیر ٹاؤن بدلا کہاں ہے؟
آج بھی ٹوٹی سڑکیں، خراب سیوریج، گندگی کے ڈھیر، پانی کے مسائل اور بنیادی شہری سہولیات کی کمی عوام کی زندگی کا حصہ ہیں۔ اگر چار سال بعد بھی عوام کی زندگی میں واضح بہتری نظر نہ آئے، تو پھر اس بلدیاتی نظام کی کامیابی کا دعویٰ کیسے کیا جا سکتا ہے؟
یہ سوال کسی ایک سیاسی جماعت سے نہیں، بلکہ منگھوپیر ٹاؤن کے چیئرمین اور تمام 16 یونین کونسلوں کے چیئرمین سے ہے، جنہیں عوام نے اپنے مسائل حل کرنے اور اپنے علاقوں کی خدمت کے لیے منتخب کیا تھا
عوام کو تقریروں سے نہیں، کام سے مطلب ہوتا ہے۔
اگر چار سال بعد بھی عوام وہی مسائل لے کر کھڑے ہوں، تو یہ لمحۂ فکریہ ہے۔
آئیے، سچ کا سامنا کریں۔
کیا واقعی منگھوپیر ٹاؤن نے ترقی کی ہے، یا پھر یہ چار سال عوام کی امیدوں کے مطابق ثابت نہیں ہو سکے؟
اب فیصلہ صرف عوام کریں، کیونکہ عوام کی عدالت سے بڑا
کوئی احتساب نہیں۔
Hamza Ahmad