20/09/2025
برٹش تھرمل یونٹس
BTu
فی گھنٹہ اور
HP
دونوں طاقت کی اکائیاں ہیں، لیکن یہ دونوں طاقت کی مختلف اقسام کی پیمائش کرتے ہیں۔
BTU
فی گھنٹہ کا استعمال تھرمل پاور (ہیٹنگ اور کولنگ) کی پیمائش کے لیے کیا جاتا ہے، جبکہ
HP
مکینیکل پاور کی پیمائش کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یونٹس کنورژن میں تو دونوں اکائیاں ایک دوسرے کے مساوی ہیں، لیکن
HVAC
سسٹم میں کارکردگی میں بہتری کی وجہ سے دونوں الگ ہو جاتے ہیں۔
چونکہ پورا ایئر کنڈیشنگ
(HVAC)
سسٹم بجلی سے چلتا ہے، اس لیے ایفیشنسی کا حساب لگاتے وقت اگر ہم
BTU
فی
HP
کے بجائے
BTU
فی واٹ لکھیں تو یہ زیادہ مناسب ہوگا۔ اس سے ہمیں نسبتاً درست معلومات ملیں گی کہ کون سا سسٹم کس قدر مؤثر طریقے سے برقی توانائی کو کولنگ یا ہیٹنگ میں تبدیل کرتا ہے۔
مثال کے طور پر، انیس سو پچاس اور انیس سو ساٹھ کی دہائی میں، کیریئر کے سنٹرل چِلر کی انرجی ایفشنسی ریشو تقریباً پانچ
BTU
فی واٹ تھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خرچ ہونے والے بجلی کے ہر واٹ پر سسٹم نے پانچ
BTU
کولنگ فراہم کی۔ انیس سو ستر کی دہائی میں، لینکس ونڈو
AC
کا ایفشنسی ریشو تقریباً سات
BTU
فی واٹ تھا۔ دو ہزار میں ڈائیکن اسپلٹ
AC
نے ایفشنسی کو مزید بہتر کیا، تقریباً بارہ
BTU
فی واٹ تک پہنچ گیا۔ دو ہزار دس کی دہائی میں مٹسوبشی نے انورٹر
AC
متعارف کروائے، جس سے ایفشنسی مزید بہتر ہوئی، تقریباً چودہ
BTU
فی واٹ تک ہو گئی۔ دو ہزار بیس میں
LG
کے
VRF
سسٹم آ گئے جنہوں نے ایفشنسی کو مزید بہتر کیا اور تقریباً بیس
BTU
فی واٹ تک پہنچا دیا۔
ٹیکنالوجی وقت کے ساتھ ساتھ کارکردگی میں مسلسل بہتری لا رہی ہے۔ مثال کے طور پر پسٹن کمپریسرز کی جگہ جدید اسکرو اور روٹری کمپریسرز آ گئے۔ ریفریجرینٹس میں بھی وقت کے ساتھ بہتری آئی اور زیادہ مؤثر گیسیں مارکیٹ میں آ گئیں۔ اس کے علاوہ کانسٹنٹ اسپیڈ والے
AC
انڈکشن موٹرز کی جگہ ویری ایبل اسپیڈ والے
BLDC
موٹرز آ گئے، اور سادہ تھرموسٹیٹ کی جگہ انٹیلیجنٹ اور اسمارٹ کنٹرولرز آ گئے۔
ان سب کی وجہ سے وقت کے ساتھ ان تمام بہتریوں نے
HVAC
سسٹمز کے معیار اور انرجی ایفشنسی ریشو دونوں کو بہتر کیا ہے۔ ساٹھ سال پہلے ایک
AC
یونٹ پانچ
BTU
فی واٹ کولنگ فراہم کرتا تھا، جبکہ آج کے جدید سسٹم بیس
BTU
فی واٹ سے زیادہ فراہم کر سکتے ہیں۔ اور جس رفتار سے ٹیکنالوجی میں ترقی ہو رہی ہے، اگلے بیس سے تیس سالوں میں ایفشنسی مزید بڑھ سکتی ہے، ممکنہ طور پر چالیس
BTU
فی واٹ یا اس سے زیادہ تک پہنچ سکتی ہے۔
۔
حقائق اور ریکارڈ میں غلطی ہو تو اسکے لیئے معذرت خواہ ہوں۔
سیّد فہیم الحق المردانی
20/09/24
نشر مکرر
20/09/24
British Thermal Units
BTU
per hour and
HP
both are units of power, but they measure different types of power.
BTU
per hour is used to measure thermal power (heating and cooling), while
HP
is used to measure mechanical power. In unit conversion, both units are equivalent, but in
HVAC
systems, efficiency improvements cause them to diverge.
Since the entire air conditioning
(HVAC)
system operates on electricity, calculating efficiency using
BTU
per
HP
instead of
BTU
per watt is more appropriate. This provides relatively accurate information about how effectively a system converts electrical energy into cooling or heating.
For example, in the 1950s and 1960s, the energy efficiency ratio of a Carrier central chiller was approximately five
BTU
per watt. This means the system delivered five
BTU
of cooling per watt of electricity consumed. In the 1970s, a Lennox window
AC
had an efficiency ratio of approximately seven
BTU
per watt. In 2000, a Daikin split
AC
further improved efficiency to about twelve
BTU
per watt. In the 2010s, Mitsubishi introduced inverter
AC
units, raising efficiency to approximately fourteen
BTU
per watt. By 2020,
LG
VRF
systems further increased efficiency to about twenty
BTU
per watt.
Over time, technology has continuously improved performance. For example, piston compressors have been replaced by modern screw and rotary compressors. Refrigerants have become more efficient, and constant-speed AC induction motors have been replaced by variable-speed
BLDC
motors. Traditional thermostats have been upgraded to intelligent and smart controllers.
These improvements have significantly enhanced both the quality and energy efficiency ratios of
HVAC
systems over time. Sixty years ago, an
AC
unit provided five
BTU
per watt of cooling, while modern systems can deliver more than twenty
BTU
per watt. Given the pace of technological advancement, efficiency could potentially reach forty
BTU
per watt or higher in the next 20–30 years.
I apologize for any inaccuracies in the facts or records.
Sayed Faheem-ul-Haq Al-Mardani
20/09/24
۔