24/06/2026
آج سے ساٹھ ستر سال پہلے بھی آس پاس کے شیطان صفت انسان
، کہیں ملازم کہیں گھر کا ڈرائیور تو کہیں مدرسے کا معلم شیطانی فعل میں
ملوث پائے جاتے رہے ہیں ۔ تب نہ بے حیائی عام تھی ۔ نہ موبائل
کا فتنہ تھا ۔ میری امی کا بتایا ہوا ایک واقعہ یاد آگیا ۔ ان کے مسجد
کے مدرسے کی سب سے بڑی بچی جو اس وقت 11- 12 سال کی تھی
اچانک لا پتہ ہو گئی ۔ مدرسے سے اور بچوں کی طرح جب وقت مقررہ
پر گھر واپس نہیں پہنچی تو سارے علاقے میں تلاش کی گئی ۔ لیکن بچی
نہ ملی ۔14 دن بعد بچی بہت بری حالت میں گلی میں رات کے وقت
پڑی ملی ۔جسے شاید مردہ سمجھ کر باہر گھر سے دور پھینک دیا گیا تھا ۔
جب گھر والوں کو پتہ چلا اٹھا کر لائی گئی ۔ کافی مشکلوں سے بچی کی
جان بچی جب وہ بولنے کے قابل ہوئی تو اس نے بتایا کہ مدرسے کے
معلم قاری صاحب نے مدرسے کے نیچے فرش میں زمین دوذ تہہ خانہ بنا
رکھا تھا اور وہیں بچی کو قید میں رکھا ہوا تھا اور روز کئی کئی بار اپنی
ہوس کا نشانہ بناتے تھے ۔ لڑکی کے بچنے کی خبر سنتے ہی اور اس بچی
کے بیان دینے کے قابل ہونے سے پہلے قاری مسجد اور شہر چھوڑ کر
فرار ہو گئے تھے ۔ یہ کوئی ستر پچھتر سال پرانی بات ہے ۔ اس سے یہ
ثابت ہوا کہ شیطان بھیڑیے ہر دور میں موجود ہیں ۔ ایسی خبریں سن کر
یا پڑھ کر طبیعت خراب ہونے لگتی ہے ۔ جن پر بیتی ہے ۔ ان پر
کیا گزرتی ہو گی ؟