Mrs.Waqas

Mrs.Waqas Hello everyone, this is mrs.Waqas living with my husband and 3 beautiful kids in Riyadh,Saudi Arabia. Please follow my page to explore Riyadh and World with me.

I have explored 8 countries so far! Let’s explore together

24/06/2026

آج سے ساٹھ ستر سال پہلے بھی آس پاس کے شیطان صفت انسان

، کہیں ملازم کہیں گھر کا ڈرائیور تو کہیں مدرسے کا معلم شیطانی فعل میں

ملوث پائے جاتے رہے ہیں ۔ تب نہ بے حیائی عام تھی ۔ نہ موبائل

کا فتنہ تھا ۔ میری امی کا بتایا ہوا ایک واقعہ یاد آگیا ۔ ان کے مسجد

کے مدرسے کی سب سے بڑی بچی جو اس وقت 11- 12 سال کی تھی

اچانک لا پتہ ہو گئی ۔ مدرسے سے اور بچوں کی طرح جب وقت مقررہ

پر گھر واپس نہیں پہنچی تو سارے علاقے میں تلاش کی گئی ۔ لیکن بچی

نہ ملی ۔14 دن بعد بچی بہت بری حالت میں گلی میں رات کے وقت

پڑی ملی ۔جسے شاید مردہ سمجھ کر باہر گھر سے دور پھینک دیا گیا تھا ۔

جب گھر والوں کو پتہ چلا اٹھا کر لائی گئی ۔ کافی مشکلوں سے بچی کی

جان بچی جب وہ بولنے کے قابل ہوئی تو اس نے بتایا کہ مدرسے کے

معلم قاری صاحب نے مدرسے کے نیچے فرش میں زمین دوذ تہہ خانہ بنا

رکھا تھا اور وہیں بچی کو قید میں رکھا ہوا تھا اور روز کئی کئی بار اپنی

ہوس کا نشانہ بناتے تھے ۔ لڑکی کے بچنے کی خبر سنتے ہی اور اس بچی

کے بیان دینے کے قابل ہونے سے پہلے قاری مسجد اور شہر چھوڑ کر

فرار ہو گئے تھے ۔ یہ کوئی ستر پچھتر سال پرانی بات ہے ۔ اس سے یہ

ثابت ہوا کہ شیطان بھیڑیے ہر دور میں موجود ہیں ۔ ایسی خبریں سن کر

یا پڑھ کر طبیعت خراب ہونے لگتی ہے ۔ جن پر بیتی ہے ۔ ان پر

کیا گزرتی ہو گی ؟


23/06/2026

Mujhy madine jany ki dua do

افسوس کرنے کا وقت نہیںتمام والدین جلدی سے نوٹ کریں۔بچوں کو محفوظ بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال وقت کی اشد ضرورت ہے۔ہ...
23/06/2026

افسوس کرنے کا وقت نہیں
تمام والدین جلدی سے نوٹ کریں۔

بچوں کو محفوظ بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال وقت کی اشد ضرورت ہے۔
ہمیں معلوم ہوگیا ہے کہ کل وسطی پنجاب کے ایک شہر میں کم سن بچی ظالموں کا شکار ہو چکی ہے۔
بے حد افسوس ہوا ہے لیکن سوشل میڈیا پر رونے دھونے والی پوسٹ لگا کر بچی کے والدین اور معاشرے کو کچھ حاصل نہیں ہوگا۔
ہر دو تین مہینے بعد ایسا کیس سامنے آتا ہے اور ہم جذباتی ہونے کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتے۔
اب تمام والدین متحد ہو کر عملی قدم اٹھائیں۔
بچوں کی سیکیورٹی کے لیے یہ سکیورٹی الارم اور گیجٹس مارکیٹ سے آسانی سے مل جاتے ہیں۔
آن لائن بھی خریدے جا سکتے ہیں۔
یہ کوئی کھلونا ہرگز نہیں بلکہ اس کا پینک بٹن دبانے یا نیچے گرنے پر یہ اتنی تیز بیپ ساؤنڈ پیدا کرتا ہے کہ کئی کلومیٹر تک بھی سنی جا سکتی ہے۔
یہ گیجٹس بڑے الیکٹرانکس سٹورز اور دراز ایپ پر بھی دستیاب ہوتے ہیں۔
نام: سیلف سکیورٹی الارم

اس کے علاوہ بچوں کی لائیو لوکیشن کے لیے ایئر ٹیگ کا استعمال سب سے بہتر ہے۔
یاد رکھیے کہ ٹیکنالوجی کو آپشنل کے طور پر رکھیں۔
سب سے ضروری یہ ہے کہ بچوں کو حالات کے مطابق ہوشیار رہنا سکھائیں۔

اس پوسٹ کو سیو کر لیجئے۔


20/06/2026

Koi mujh sy puchy mere dil mei kya hai

19/06/2026

تاریخ دانوں نے روایت کیا ہے کہ عمر بن خطابؓ، جنہیں ان کی سختی اور قوت کے لیے جانا جاتا ہے، ایک دن مدینہ میں لوگوں کے لیے کھانے کے دسترخوان لگا رہے تھے۔ انہوں نے ایک شخص کو بائیں ہاتھ سے کھاتے ہوئے دیکھا، تو پیچھے سے آ کر کہا:

"اے عبداللہ! دائیں ہاتھ سے کھاؤ۔"

اس شخص نے جواب دیا: "اے عبداللہ! میرا دایاں ہاتھ مصروف ہے۔"

عمرؓ نے دوبارہ یہی بات کہی۔

شخص نے پھر وہی جواب دیا۔

عمرؓ نے پوچھا: "اسے کیا مصروفیت ہے؟"

تو اس نے جواب دیا: "یہ ہاتھ غزوۂ مؤتہ میں زخمی ہوا تھا، اب حرکت نہیں کرتا۔"

یہ سن کر عمرؓ اس کے پاس بیٹھ گئے اور رونے لگے، اور سوالات کرنے لگے:

"تجھے وضو کون کراتا ہے؟

تیرے کپڑے کون دھوتا ہے؟

تیرا سر کون دھوتا ہے؟

اور۔۔۔ اور۔۔۔ اور۔۔۔؟"

اور ہر سوال کے ساتھ ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

پھر انہوں نے اس کے لیے ایک خادم، ایک سواری اور کھانے کا بندوبست کیا، اور اس سے معذرت کرنے لگے کہ انہوں نے نادانستہ طور پر ایسی بات کہہ دی جو اسے تکلیف دے گئی۔

اسی طرح قوانین بنتے ہیں...

عمرؓ رات کو مدینے کی گلیوں میں گشت کرتے تھے، نہ کہ رعایا پر نظر رکھنے کے لیے، بلکہ ان کے حالات جاننے کے لیے۔

ایک رات انہوں نے ایک دیہاتی عورت کو اپنے شوہر کی یاد میں اشعار پڑھتے سنا:

"طویل ہو گیا ہے یہ رات، اور اس کا اندھیرا بڑھ گیا ہے

مجھے نیند نہیں آتی کہ میرا محبوب میرے ساتھ نہیں

اگر نہ ہوتی وہ ذات جس کا عرش آسمانوں پر ہے

تو یہ بستر میرے ہجر کی شدت سے ہل گیا ہوتا"

امیر المؤمنین قریب آئے، سنا، اور پھر دروازے کے پیچھے سے پوچھا:

"اے بہن! کیا ہوا؟"

عورت نے جواب دیا:

"میرے شوہر کئی مہینوں سے جہاد کے لیے گئے ہوئے ہیں، میں انہیں یاد کرتی ہوں۔"

عمرؓ فوراً اپنی بیٹی حفصہؓ کے پاس گئے اور پوچھا:

"عورت اپنے شوہر کی جدائی کتنے عرصے برداشت کر سکتی ہے؟"

بیٹی شرما گئی اور سر جھکا لیا، تو عمرؓ نے عاجزی سے کہا:

"اللہ حق کہنے سے نہیں شرماتا، اگر یہ سوال رعایا کے معاملے کے لیے نہ ہوتا تو میں نہ پوچھتا۔"

حفصہؓ نے جواب دیا:

"چار، پانچ یا چھ مہینے۔"

عمرؓ واپس گئے اور تمام فوجی کمانڈروں کو لکھا:

"فوجوں کو چار ماہ سے زیادہ نہ روکا جائے۔"

یوں عورت کے ایک فطری حق کی بنیاد پر ایک قانون بنا۔

یہ قانون ریاست نے نہیں، بلکہ معاشرے (ایک دیہاتی عورت اور حفصہؓ) نے تشکیل دیا۔ ریاست نے صرف اسے نافذ کیا۔

اسی طرح عورت کا قانون تشکیل پایا۔

ایک رات عمرؓ گشت پر تھے تو ایک بچے کی رونے کی آواز سنی۔ قریب گئے اور پوچھا:

"کیا ہوا بچے کو؟"

ماں نے کہا:

"میں اسے دودھ چھڑوا رہی ہوں، اس لیے رو رہا ہے۔"

ظاہر ہے، یہ عام بات تھی۔ لیکن عمرؓ نے اس سے بات چیت کی تو معلوم ہوا کہ وہ عورت صرف اس لیے بچے کو وقت سے پہلے دودھ چھڑا رہی ہے تاکہ بیت المال سے ملنے والے سو درہم حاصل کر سکے، جو صرف دودھ چھڑانے کے بعد دیے جاتے تھے۔

عمرؓ گھر واپس گئے، مگر نیند نہ آئی۔ اس بچے کی سسکیوں نے دل کو جھنجھوڑ دیا تھا۔

انہوں نے فوراً حکم جاری کیا:

"بچے کو پیدائش کے وقت ہی سے سو درہم دیے جائیں، نہ کہ دودھ چھڑانے کے بعد۔"

یوں بچوں کے لیے قانون بنا جو ان کی مناسب غذا اور صحت کا ضامن بن گیا۔

اگر عمرؓ اس عورت سے گفتگو نہ کرتے تو یہ قانون نہ بنتا۔

یوں بچے کا قانون بھی تشکیل پایا۔

عمرؓ کو اپنے بھائی زید سے محبت تھی، جو حروبِ ارتداد میں شہید ہو گئے تھے۔

ایک دن بازار میں عمرؓ کی ملاقات زید کے قاتل سے ہوئی، جو اب مسلمان ہو چکا تھا۔

عمرؓ نے غصے سے کہا:

"اللہ کی قسم! میں تجھ سے اتنی نفرت کرتا ہوں جتنا زمین بہتے ہوئے خون سے کرتی ہے!"

اعرابی نے پوچھا:

"کیا اس نفرت سے میرے حقوق متاثر ہوں گے، اے امیر المؤمنین؟"

عمرؓ نے کہا:

"نہیں۔"

تو اعرابی نے بے پروائی سے کہا:

"محبت کا غم تو عورتیں کرتی ہیں۔"

(یعنی مجھے تمہاری محبت کی پروا نہیں، میرے اور تمہارے درمیان صرف حقوق اور فرائض کا رشتہ ہے)

عمرؓ نے غصے کے باوجود نہ اسے جیل بھیجا، نہ سزا دی۔

اس کی آزادی رائے کا احترام کیا۔

یوں معاشرے میں آزادیِ اظہار کا قانون بنا۔

ایک عورت نے ایک جمعے کے خطبے کے دوران کہا:

"اے عمر! تم غلطی پر ہو۔"

یہ اس وقت ہوا جب عمرؓ نے مہر کی حد مقرر کرنے کا قانون تجویز کیا۔

وہ عورت عام تھی، مگر اس کی دلیل درست تھی۔

عمرؓ نے نہ اسے گرفتار کیا، نہ سزا دی، نہ شرمندہ کیا، بلکہ علی الاعلان کہا:

"عمر غلطی پر تھا، اور عورت نے درست کہا۔"

اور اس قانون کو واپس لے لیا۔

یوں مہر کی مقدار کا فیصلہ معاشرے پر چھوڑ دیا گیا۔

یوں قوانین بنتے ہیں۔۔۔ معاشرے کی ضرورت، خواہش، روایت، اور فطری تقاضوں سے۔

قانون نہ ایوان اقتدار میں بنتے ہیں، نہ محلات میں، بلکہ لوگوں کی نبض پر ہاتھ رکھ کر، ان کی حالت سن کر، ان سے سیکھ کر۔

اصل قانون ساز معاشرہ ہے،؛ اقتدار

نہیں۔

رضی اللہ تعالیٰ عنہ ❤️

19/06/2026

Pyary nabi ka roza

16/06/2026

Kiswah changing

"عورتیں مردوں کی حفاظت نہیں کرتی!""نو ماہ تو کرتی ہیں۔ بنیادیں بھول گئے آپ۔؟نو ماہ کے بعد نو سال اور پھر انیس سال۔ عورت ...
12/06/2026

"عورتیں مردوں کی حفاظت نہیں کرتی!"

"نو ماہ تو کرتی ہیں۔ بنیادیں بھول گئے آپ۔؟

نو ماہ کے بعد نو سال اور پھر انیس سال۔

عورت نے مرد کو سانپ،

بچھو،


چھپکلی

اور ہر زہریلے کیڑے سے بچایا ہے تاکہ وہ زندہ رہے۔

اور جب وہ کہتا ہے ماں مجھے اندھیرے سے ڈر لگتا ہے؟؟

نو ماہ تک اُسکی حفاظت کی۔

تاکہ وہ دُنیا میں آسکے۔

کیا اُسے طعنے دیتے، مارتے، دھتکارتے ہوئے مرد کو غیرت نہیں آنی

چاہیے؟

آنی چاہیے نا......"






فیس بک کی طرف سے یہ نوٹیفیکیشن آیا ہے۔ کسی کو پتہ ہے کب مونیٹائیز ہوتا ہے پیج؟؟
10/06/2026

فیس بک کی طرف سے یہ نوٹیفیکیشن آیا ہے۔ کسی کو پتہ ہے کب مونیٹائیز ہوتا ہے پیج؟؟


10/06/2026

Hajj ka safar khatam hva

Address

Riyadh

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mrs.Waqas posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share