10/07/2026
ستلج" کے ایک طاقتور منظر میں ایڈیشنل ڈائریکٹر سی بی آئی سمندر سنگھ (ارجن رامپال) اور ایس ایس پی سرجیت سنگھ "سگّا" (سروِندر وکی) آمنے سامنے ہوتے ہیں، اور دونوں کے درمیان ہونے والی لفظوں کی جنگ پورے منظر کو یادگار بنا دیتی ہے۔
سمندر سنگھ، سگّا سے سوال کرتا ہے:
"6 ستمبر کو جب جسونت سنگھ لاپتا ہوا، اُس وقت تم کہاں تھے؟ تین شمشان گھاٹوں سے چھ ہزار سے زائد لاوارث لاشیں مل چکی ہیں، جبکہ جسونت سنگھ تم پر پچیس ہزار گمشدہ افراد کا الزام لگا رہا ہے۔ کیا ان میں ماورائے عدالت ہلاکتیں بھی شامل ہیں یا نہیں؟"
سگّا بھی خاموش رہنے والوں میں سے نہیں۔ وہ فوراً سمندر کے ماضی کا دروازہ کھول دیتا ہے:
"تم بھی تو 1986 سے سی بی آئی میں ہو، اُس سے پہلے دہلی پولیس میں تھے۔ 1984 کے فسادات بھی تمہاری آنکھوں کے سامنے ہوئے تھے۔ اُس وقت کتنی ہلاکتیں عدالتی کارروائی کے تحت ہوئیں اور کتنی ماورائے عدالت؟ تم اتنے بھی پراسرار نہیں کہ تمہارا ماضی کسی سے چھپا رہے۔"
یہ منظر دیکھ کر بے اختیار خیال آیا کہ شاید آدتیہ دھر نے یہ فلم پہلے ہی دیکھ لی تھی، یا پھر "دھورندھر 2" کی ری شوٹنگ سے پہلے خود ارجن رامپال نے مشورہ دیا ہوگا کہ میرے والد کے کردار کے لیے سروِندر وکی کو کاسٹ کر لیا جائے، کیونکہ ان دونوں کی اسکرین پر موجودگی واقعی کمال کی ہے۔
آپ فلم کے نظریے یا اس کی آئیڈیالوجی سے اتفاق کریں یا نہ کریں، یہ آپ کی ذاتی رائے ہو سکتی ہے، لیکن ارجن رامپال اور سروِندر وکی کے درمیان تناؤ، مکالمے اور آمنے سامنے کی اداکاری یقیناً آپ کو متاثر کیے بغیر نہیں رہے گی۔ دونوں فنکاروں نے اپنے کرداروں میں جان ڈال دی ہے۔
بریگیڈیئر جہاںگیر کے کردار میں سروِندر وکی ایک بے بس اور نسبتاً کمزور شخصیت دکھائی دیتے تھے، مگر ستلج میں وہ نہایت پُرسکون، سفاک اور خطرناک افسر کے روپ میں نظر آتے ہیں۔ ان کے کردار کی ایک جھلک ارجن رامپال کے اس مکالمے سے ملتی ہے:
"سرجیت سنگھ سگّا کے لیے گاڑی چلانا اور گولی چلانا، دونوں ایک ہی بات تھے۔"
دوسری طرف سمندر سنگھ کے کردار میں ارجن رامپال نے بغیر کسی گولی، مکے یا تھپڑ کے صرف اپنی باڈی لینگویج، نگاہوں اور تاثرات سے ایسا رعب قائم کیا ہے کہ وہ پوری فلم میں چھائے رہتے ہیں۔
عدالت کا ایک منظر خاص طور پر قابلِ تعریف ہے، جہاں سمندر سنگھ کا اہم گواہ اچانک اپنے بیان سے مکر جاتا ہے۔ سمندر غصے سے بے قابو ہو کر چشمہ اتارتا ہے، گواہ کی طرف بڑھتا ہے مگر روک لیا جاتا ہے۔ پھر جب وہ دوبارہ چشمہ پہنتا ہے تو اس کے ہاتھ غصے کی شدت سے کانپ رہے ہوتے ہیں۔ اتنی باریک اور حقیقت سے قریب اداکاری ارجن رامپال کی بہترین پرفارمنس میں شمار کی جا سکتی ہے۔
اگر کسی ایک وجہ سے "ستلج" دیکھی جائے تو وہ ارجن رامپال اور سروِندر وکی کی غیرمعمولی اداکاری ہے۔ دونوں نے اپنی موجودگی سے ہر منظر کو یادگار بنا دیا ہے۔