13/05/2026
حسنِ قیامت خیز کی کارستانیاں — کراچی میں چند ہفتے قبل پیش آنے والے ایک افسوسناک قتل کی کہانی۔
ڈاکٹر سارنگ کا تعلق بدین سے تھا اور وہ کراچی میں بطور ڈاکٹر خدمات انجام دے رہے تھے۔ ان کی اہلیہ ڈاکٹر رمینہ بھی ایک اسپتال میں پریکٹس کرتی تھیں۔ بظاہر دونوں خوشگوار زندگی گزار رہے تھے۔
واقعے کے روز ڈاکٹر سارنگ اپنی ڈیوٹی مکمل کرنے کے بعد اپنی اہلیہ کو ان کے والدین کے گھر سے لے کر رکشے میں اپنی رہائش گاہ کی طرف روانہ ہوئے۔ جب رکشہ مہران ہوٹل کے قریب انڈر پاس سے گزر رہا تھا تو ایک گاڑی نے ان کا راستہ روکا۔ گاڑی سے ایک نقاب پوش مسلح شخص باہر نکلا اور ڈاکٹر سارنگ کو رکشے سے اترنے کا کہا۔ انکار پر اس نے فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں ڈاکٹر سارنگ شدید زخمی ہو گئے۔ انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا مگر وہ جانبر نہ ہو سکے۔
ابتدائی تحقیقات میں پولیس کو کوئی واضح سراغ نہ ملا، کیونکہ نہ کسی دشمنی کا ثبوت تھا اور نہ ہی کسی مالی یا خاندانی تنازعے کا۔ بعد ازاں تفتیش کا دائرہ وسیع کیا گیا اور کال ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے دوران ایک مشتبہ نمبر سامنے آیا جس سے ڈاکٹر رمینہ مسلسل رابطے میں تھیں۔
تحقیقات کے مطابق یہ نمبر ایک سرکاری افسر حسیب کا تھا، جس سے ڈاکٹر رمینہ کی کافی عرصے سے بات چیت جاری تھی۔ مزید تفتیش میں انکشاف ہوا کہ ڈاکٹر سارنگ کے گوادر تبادلے کے دوران حسیب اور ڈاکٹر رمینہ کے درمیان قربت بڑھی۔ بعد میں یہ تعلق سنگین صورتحال اختیار کر گیا۔
پولیس کے مطابق حسیب چاہتا تھا کہ ڈاکٹر رمینہ اپنے شوہر سے علیحدگی اختیار کریں، مگر معاملات اس نہج تک پہنچ گئے کہ ایک خطرناک منصوبہ بنا لیا گیا۔ الزام ہے کہ وقوعہ کے روز ڈاکٹر سارنگ کی نقل و حرکت کی معلومات فراہم کی گئیں اور پھر حملہ کیا گیا۔
پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ڈاکٹر رمینہ اور حسیب دونوں کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا، جہاں سے انہیں جیل بھیج دیا گیا۔
یہ واقعہ اس بات کی تلخ یاد دہانی ہے کہ غلط فیصلے اور ناجائز تعلقات صرف ایک نہیں بلکہ کئی خاندانوں کی تباہی کا سبب بن سکتے ہیں۔