Azhar jannat

Azhar jannat “Content that inspires and adds value to others ✨”

14/07/2026

اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
آج 14 جولائ بروز منگل 2026 ہے
29۔ محرم الحرام ہے اور 1448 ہجری ہے
آج کی حدیث مبارکہ صحیح بخآری سے ہے
عربی متن اور اردو ترجمہ کے ساتھ

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عامِرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ الْمَدِينِيُّ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَهُ رَجُلٌ عَنِ اللُّقَطَةِ ؟ فَقَالَ : اعْرِفْ وِكَاءَهَا ، أَوْ قَالَ : وِعَاءَهَا وَعِفَاصَهَا ، ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً ، ثُمَّ اسْتَمْتِعْ بِهَا ، فَإِنْ جَاءَ رَبُّهَا فَأَدِّهَا إِلَيْهِ ، قَالَ : فَضَالَّةُ الْإِبِلِ ؟ فَغَضِبَ حَتَّى احْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ ، أَوْ قَالَ : احْمَرَّ وَجْهُهُ ، فَقَالَ : وَمَا لَكَ وَلَهَا ، مَعَهَا سِقَاؤُهَا وَحِذَاؤُهَا ، تَرِدُ الْمَاءَ وَتَرْعَى الشَّجَرَ ، فَذَرْهَا حَتَّى يَلْقَاهَا رَبُّهَا ، قَالَ : فَضَالَّةُ الْغَنَمِ ؟ قَالَ : لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ .

ایک شخص ( عمیر یا بلال ) نے رسول اللہ ﷺ سے پڑی ہوئی چیز کے بارے میں دریافت کیا ۔ آپ نے فرمایا ، اس کی بندھن پہچان لے یا فرمایا کہ اس کا برتن اور تھیلی ( پہچان لے ) پھر ایک سال تک اس کی شناخت ( کا اعلان ) کراؤ پھر ( اس کا مالک نہ ملے تو ) اس سے فائدہ اٹھاؤ اور اگر اس کا مالک آ جائے تو اسے سونپ دو ۔ اس نے پوچھا کہ اچھا گم شدہ اونٹ ( کے بارے میں ) کیا حکم ہے ؟ آپ کو اس قدر غصہ آ گیا کہ رخسار مبارک سرخ ہو گئے ۔ یا راوی نے یہ کہا کہ آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا ۔ ( یہ سن کر ) آپ ﷺ نے فرمایا ۔ تجھے اونٹ سے کیا واسطہ ؟ اس کے ساتھ خود اس کی مشک ہے اور اس کے ( پاؤں کے ) سم ہیں ۔ وہ خود پانی پر پہنچے گا اور خود پی لے گا اور خود درخت پر چرے گا ۔ لہٰذا اسے چھوڑ دو یہاں تک کہ اس کا مالک مل جائے ۔ اس نے کہا کہ اچھا گم شدہ بکری کے ( بارے میں ) کیا ارشاد ہے ؟ آپ نے فرمایا ، وہ تیری ہے یا تیرے بھائی کی ، ورنہ بھیڑیئے کی ( غذا ) ہے ۔

Sahih Bukhari #91
کتاب علم کے بیان میں

Status: صحیح

Islam360

13/07/2026

کیا کوئی ایک تحریک کامیاب ہوئی؟
تاریخی طور پر دیکھا جائے تو کشمیر میں مختلف ادوار میں:
پرامن احتجاج،
سیاسی تحریکیں،
سفارتی کوششیں،
اور مسلح شورش
سب دیکھنے میں آئے، لیکن اب تک ایسا جامع سیاسی حل سامنے نہیں آیا جس پر تمام متعلقہ فریق متفق ہوں۔ اسی وجہ سے یہ مسئلہ آج بھی جنوبی ایشیا کے اہم اور پیچیدہ تنازعات میں شمار ہوتا ہے۔

تاریخ میں بہت سی ایسی مثالیں ملتی ہیں جہاں کسی خطے یا قوم نے اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کی، جبکہ انہیں مختلف ادوار میں تشدد، گرفتاریوں یا طاقت کے استعمال کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ مختلف جگہوں کے حالات ایک دوسرے سے مختلف تھے، اس لیے کوئی ایک حکمت عملی ہر جگہ کامیاب نہیں ہوئی، لیکن کچھ مشترک طریقے بار بار سامنے آئے۔
چند تاریخی مثالیں:
مہاتما گاندھی کی قیادت میں برصغیر میں عدم تشدد، سول نافرمانی، بائیکاٹ اور پرامن مارچ کو بنیادی حکمت عملی بنایا گیا۔ اس دوران کئی کارکن گرفتار ہوئے، لیکن تحریک نے وسیع عوامی حمایت حاصل کی۔
مارٹن لوتھر کنگ جونیئر نے امریکہ میں پرامن احتجاج، جلوس، تقاریر اور عدالتوں کے ذریعے نسلی امتیاز کے خلاف جدوجہد کی۔ کارکنوں کو تشدد، گرفتاریوں اور دھمکیوں کا سامنا بھی کرنا پڑا، مگر بالآخر اہم قانونی اصلاحات ہوئیں۔
نیلسن منڈیلا اور ان کے ساتھیوں نے ابتدا میں پرامن سیاسی جدوجہد، تنظیم سازی اور بین الاقوامی حمایت پر زور دیا۔ انہیں طویل قید کا سامنا کرنا پڑا، لیکن آخرکار مذاکرات کے ذریعے نظام میں تبدیلی آئی۔
ان مثالوں سے چند مشترک اسباق سامنے آتے ہیں:
عوام کو منظم اور پرامن رکھنا۔
اپنے مطالبات واضح، مختصر اور قابلِ عمل انداز میں پیش کرنا۔
قابلِ اعتماد شواہد اور دستاویزات جمع کرنا۔
قانونی اور آئینی راستوں سے رجوع کرنا۔
میڈیا اور عوام تک درست معلومات پہنچانا۔
مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنا۔
ایسے اقدامات سے گریز کرنا جو عام لوگوں یا املاک کو نقصان پہنچائیں، کیونکہ اس سے عوامی حمایت متاثر ہو سکتی ہے۔
تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ پرامن تحریکوں کو اکثر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، لیکن منظم قیادت، عوامی اعتماد، صبر اور واضح حکمت عملی نے کئی جگہوں پر مثبت نتائج حاصل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

13/07/2026

اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
آج 13 جولائ بروز پیر 2026 ہے
28۔ محرم الحرام اور 1448 ہجری ہے
آج کی حدیث مبارکہ صحیح بخآری سے ہے
عربی متن اور اردو ترجمہ کے ساتھ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ ابْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَا أَكَادُ أُدْرِكُ الصَّلَاةَ مِمَّا يُطَوِّلُ بِنَا فُلَانٌ ، فَمَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَوْعِظَةٍ أَشَدَّ غَضَبًا مِنْ يَوْمِئِذٍ ، فَقَالَ : أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّكُمْ مُنَفِّرُونَ ، فَمَنْ صَلَّى بِالنَّاسِ فَلْيُخَفِّفْ ، فَإِنَّ فِيهِمُ الْمَرِيضَ وَالضَّعِيفَ وَذَا الْحَاجَةِ .

ایک شخص ( حزم بن ابی کعب ) نے ( رسول اللہ کی خدمت میں آ کر ) عرض کیا ۔ یا رسول اللہ ! فلاں شخص ( معاذ بن جبل ) لمبی نماز پڑھاتے ہیں اس لیے میں ( جماعت کی ) نماز میں شریک نہیں ہو سکتا ( کیونکہ میں دن بھر اونٹ چرانے کی وجہ سے رات کو تھک کر چکنا چور ہو جاتا ہوں اور طویل قرأت سننے کی طاقت نہیں رکھتا ) ( ابومسعود راوی کہتے ہیں ) کہ اس دن سے زیادہ میں نے کبھی رسول اللہ ﷺ کو وعظ کے دوران اتنا غضب ناک نہیں دیکھا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا اے لوگو ! تم ( ایسی شدت اختیار کر کے لوگوں کو دین سے ) نفرت دلانے لگے ہو ۔ ( سن لو ) جو شخص لوگوں کو نماز پڑھائے تو وہ ہلکی پڑھائے ، کیونکہ ان میں بیمار ، کمزور اور حاجت والے ( سب ہی قسم کے لوگ ) ہوتے ہیں ۔

Sahih Bukhari #90
کتاب علم کے بیان میں

Status: صحیح

Islam360

الجزائر کی آزادی کی جدوجہد 20ویں صدی کی اہم ترین تحریکوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نوآبادیاتی دور میں ایک...
12/07/2026

الجزائر کی آزادی کی جدوجہد 20ویں صدی کی اہم ترین تحریکوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نوآبادیاتی دور میں ایک قوم نے طویل عرصے تک سیاسی، سفارتی اور مسلح مزاحمت کے مختلف طریقے اختیار کیے، اور آخرکار مذاکرات کے ذریعے آزادی حاصل کی۔
پس منظر (1830–1954)
1830 میں الجزائر پر فرانس نے قبضہ کر لیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ بڑی تعداد میں فرانسیسی آبادکار الجزائر میں آ گئے۔
مقامی آبادی کی شکایات میں شامل تھے:
سیاسی حقوق کی کمی۔
زمینوں پر قبضے۔
معاشی عدم مساوات۔
مقامی ثقافت اور شناخت پر دباؤ۔
کئی دہائیوں تک مختلف سیاسی رہنماؤں نے اصلاحات اور زیادہ حقوق کا مطالبہ کیا، لیکن ان کی بڑی خواہشات پوری نہ ہو سکیں۔
1954: آزادی کی تحریک کا آغاز
1954 میں National Liberation Front (FLN) نے آزادی کی تحریک شروع کی۔
ان کی حکمت عملی میں شامل تھا:
آزادی کا واضح مطالبہ۔
سیاسی تنظیم سازی۔
دیہی علاقوں میں اثر و رسوخ بڑھانا۔
بیرونی دنیا تک اپنی بات پہنچانا۔
اسی دور میں مسلح کارروائیاں بھی شروع ہوئیں، جبکہ فرانس نے بڑی فوجی کارروائیاں کیں۔
فرانس کا ردِعمل
فرانس نے لاکھوں فوجی الجزائر بھیجے۔
اس دوران:
بڑے پیمانے پر گرفتاریاں ہوئیں۔
کرفیو اور سخت سیکیورٹی اقدامات نافذ کیے گئے۔
کئی شہروں میں شدید لڑائیاں ہوئیں، جن میں Battle of Algiers خاص طور پر معروف ہے۔
اس جنگ میں عام شہری بھی شدید متاثر ہوئے۔
بین الاقوامی حمایت
FLN نے صرف میدانِ جنگ پر انحصار نہیں کیا بلکہ:
اقوام متحدہ میں مسئلہ اٹھایا۔
عرب اور افریقی ممالک کی حمایت حاصل کی۔
عالمی میڈیا میں اپنی بات پہنچائی۔
اس سے الجزائر کے مسئلے پر عالمی توجہ بڑھی۔
فرانس کے اندر تبدیلی
جنگ کئی سال تک جاری رہی، جس کے نتیجے میں:
انسانی جانوں کا بڑا نقصان ہوا۔
فرانس پر مالی اور سیاسی دباؤ بڑھا۔
فرانسیسی عوام میں بھی جنگ کے بارے میں اختلافات پیدا ہوئے۔
جب شارل ڈیگال اقتدار میں آئے تو انہوں نے آخرکار مذاکرات کی راہ اختیار کی۔
آزادی
1962 میں دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات کے بعد معاہدہ ہوا، جسے عام طور پر Évian Accords کہا جاتا ہے۔
اسی سال ریفرنڈم ہوا اور الجزائر ایک آزاد ریاست بن گیا۔
اس جدوجہد سے تاریخی اسباق
الجزائر کی مثال سے مورخین عام طور پر یہ نکات اخذ کرتے ہیں:
عوامی حمایت کسی بھی تحریک کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
سیاسی اور سفارتی کوششیں اکثر بین الاقوامی توجہ حاصل کرنے میں مدد دیتی ہیں۔
طویل تنازعات میں عام شہریوں کو بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔
کئی تاریخی تنازعات میں، برسوں کی کشیدگی کے بعد بھی حتمی سیاسی حل مذاکرات کے ذریعے ہی سامنے آیا۔
یہ بات بھی اہم ہے کہ الجزائر کی جنگ انتہائی خونریز تھی۔ مختلف اندازوں کے مطابق اس میں دونوں جانب کے فوجیوں، جنگجوؤں اور عام شہریوں کی بڑی تعداد ہلاک ہوئی، جس کی وجہ سے اسے آزادی کی جدوجہد کے ساتھ ساتھ ایک بڑی انسانی المیے کے طور پر بھی یاد کیا جاتا ہے۔
۔

12/07/2026

اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
آج 12 جولائ بروز اتوار 2026 ہے
27۔ محرم الحرام ہے اور 1448 ہجری ہے
آج کی حدیث مبارکہ صحیح بخآری سے ہے
عربی متن اور اردو ترجمہ کے ساتھ
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ . ح قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ ، وَقَالَ ابْنُ وَهْبٍ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ : كُنْتُ أَنَا وَجَارٌ لِي مِنْ الْأَنْصَارِ فِي بَنِي أُمَيَّةَ بْنِ زَيْدٍ وَهِيَ مِنْ عَوَالِي الْمَدِينَةِ ، وَكُنَّا نَتَنَاوَبُ النُّزُولَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْزِلُ يَوْمًا وَأَنْزِلُ يَوْمًا ، فَإِذَا نَزَلْتُ جِئْتُهُ بِخَبَرِ ذَلِكَ الْيَوْمِ مِنَ الْوَحْيِ وَغَيْرِهِ ، وَإِذَا نَزَلَ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ ، فَنَزَلَ صَاحِبِي الْأَنْصَارِيُّ يَوْمَ نَوْبَتِهِ فَضَرَبَ بَابِي ضَرْبًا شَدِيدًا ، فَقَالَ : أَثَمَّ هُوَ ، فَفَزِعْتُ فَخَرَجْتُ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : قَدْ حَدَثَ أَمْرٌ عَظِيمٌ ، قَالَ : فَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ فَإِذَا هِيَ تَبْكِي ، فَقُلْتُ : طَلَّقَكُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : لَا أَدْرِي ، ثُمَّ دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ وَأَنَا قَائِمٌ : أَطَلَّقْتَ نِسَاءَكَ ، قَالَ : لَا ، فَقُلْتُ : اللَّهُ أَكْبَرُ .

میں اور میرا ایک انصاری پڑوسی دونوں اطراف مدینہ کے ایک گاؤں بنی امیہ بن زید میں رہتے تھے جو مدینہ کے ( پورب کی طرف ) بلند گاؤں میں سے ہے ۔ ہم دونوں باری باری آنحضرت ﷺ کی خدمت شریف میں حاضر ہوا کرتے تھے ۔ ایک دن وہ آتا ، ایک دن میں آتا ۔ جس دن میں آتا اس دن کی وحی کی اور ( رسول اللہ ﷺ کی فرمودہ ) دیگر باتوں کی اس کو خبر دے دیتا تھا اور جب وہ آتا تو وہ بھی اسی طرح کرتا ۔ تو ایک دن وہ میرا انصاری ساتھی اپنی باری کے روز حاضر خدمت ہوا ( جب واپس آیا ) تو اس نے میرا دروازہ بہت زور سے کھٹکھٹایا اور ( میرے بارے میں پوچھا کہ ) کیا عمر یہاں ہیں ؟ میں گھبرا کر اس کے پاس آیا ۔ وہ کہنے لگا کہ ایک بڑا معاملہ پیش آ گیا ہے ۔ ( یعنی رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے ) پھر میں ( اپنی بیٹی ) حفصہ کے پاس گیا ، وہ رو رہی تھی ۔ میں نے پوچھا ، کیا تمہیں رسول اللہ ﷺ نے طلاق دے دی ہے ؟ وہ کہنے لگی میں نہیں جانتی ۔ پھر میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ میں نے کھڑے کھڑے کہا کہ کیا آپ ﷺ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں ۔ ( یہ افواہ غلط ہے ) تب میں نے ( تعجب سے ) کہا «الله اكبر» اللہ بہت بڑا ہے ۔

Sahih Bukhari #89
کتاب علم کے بیان میں

Status: صحیح

Islam360

11/07/2026

اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
آج 11 جولائ بروز ہفتہ 2026 ہے
26 محرم الحرام ہے اور 1448 ہجری ہے
آج کی حدیث مبارکہ صحیح بخآری سے ہے
عربی متن اور اردو ترجمہ کے ساتھ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَبُو الْحَسَنِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ ، أَنَّهُ تَزَوَّجَ ابْنَةً لِأَبِي إِهَابِ بْنِ عَزِيزٍ ، فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ ، فَقَالَتْ : إِنِّي قَدْ أَرْضَعْتُ عُقْبَةَ وَالَّتِي تَزَوَّجَ ، فَقَالَ لَهَا عُقْبَةُ : مَا أَعْلَمُ أَنَّكِ أَرْضَعْتِنِي وَلَا أَخْبَرْتِنِي ، فَرَكِبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ ، فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَيْفَ وَقَدْ قِيلَ ، فَفَارَقَهَا عُقْبَةُ ، وَنَكَحَتْ زَوْجًا غَيْرَهُ .

عقبہ نے ابواہاب بن عزیز کی لڑکی سے نکاح کیا ۔ تو ان کے پاس ایک عورت آئی اور کہنے لگی کہ میں نے عقبہ کو اور جس سے اس کا نکاح ہوا ہے ، اس کو دودھ پلایا ہے ۔ نہ تو نے کبھی مجھے بتایا ہے ۔ ( یہ سن کر ) عقبہ نے کہا ، مجھے نہیں معلوم کہ تو نے مجھے دودھ پلایا ہے ہے ۔ تب سوار ہو کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں مدینہ منورہ حاضر ہوئے اور آپ سے اس کے متعلق دریافت کیا ، تو آپ ﷺ نے فرمایا ، کس طرح ( تم اس لڑکی سے رشتہ رکھو گے ) حالانکہ ( اس کے متعلق یہ ) کہا گیا ۔ تب عقبہ بن حارث نے اس لڑکی کو چھوڑ دیا اور اس نے دوسرا خاوند کر لیا ۔

Sahih Bukhari #88
کتاب علم کے بیان میں

Status: صحیح

Islam360

10/07/2026

اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
آج 10 جولائی بروز جمعہ 2026 ہے

25 محرم الحرام اور 1448 ہجری ہے
آج کی حدیث مبارکہ صحیح بخآری سے ہے
عربی متن اور اردو ترجمہ کے ساتھ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ ، قَالَ : كُنْتُ أُتَرْجِمُ بَيْنَ ابْنِ عَبَّاسٍ وَبَيْنَ النَّاسِ ، فَقَالَ : إِنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَنِ الْوَفْدُ أَوْ مَنِ الْقَوْمُ ، قَالُوا : رَبِيعَةُ ، فَقَالَ : مَرْحَبًا بِالْقَوْمِ أَوْ بِالْوَفْدِ غَيْرَ خَزَايَا وَلَا نَدَامَى ، قَالُوا : إِنَّا نَأْتِيكَ مِنْ شُقَّةٍ بَعِيدَةٍ وَبَيْنَنَا وَبَيْنَكَ هَذَا الْحَيُّ مِنْ كُفَّارِ مُضَرَ ، وَلَا نَسْتَطِيعُ أَنْ نَأْتِيَكَ إِلَّا فِي شَهْرٍ حَرَامٍ ، فَمُرْنَا بِأَمْرٍ نُخْبِرُ بِهِ مَنْ وَرَاءَنَا نَدْخُلُ بِهِ الْجَنَّةَ ، فَأَمَرَهُمْ بِأَرْبَعٍ وَنَهَاهُمْ عَنْ أَرْبَعٍ ، أَمَرَهُمْ بِالْإِيمَانِ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَحْدَهُ ، قَالَ : هَلْ تَدْرُونَ مَا الْإِيمَانُ بِاللَّهِ وَحْدَهُ ؟ قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، وَإِقَامُ الصَّلَاةِ ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ ، وَصَوْمُ رَمَضَانَ ، وَتُعْطُوا الْخُمُسَ مِنَ الْمَغْنَمِ ، وَنَهَاهُمْ عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ . قَالَ شُعْبَةُ : رُبَّمَا قَالَ النَّقِيرِ ، وَرُبَّمَا قَالَ الْمُقَيَّرِ ، قَالَ : احْفَظُوهُ وَأَخْبِرُوهُ مَنْ وَرَاءَكُمْ .

میں ابن عباس رضی اللہ عنہما اور لوگوں کے درمیان ترجمانی کے فرائض انجام دیتا تھا ( ایک مرتبہ ) ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ قبیلہ عبدالقیس کا وفد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا ۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ کون سا وفد ہے ؟ یا یہ کون لوگ ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ ربیعہ خاندان ( کے لوگ ہیں ) آپ ﷺ نے فرمایا کہ مبارک ہو قوم کو ( آنا ) یا مبارک ہو اس وفد کو ( جو کبھی ) نہ رسوا ہو نہ شرمندہ ہو ( اس کے بعد ) انہوں نے عرض کیا کہ ہم ایک دور دراز کونے سے آپ ﷺ کے پاس آئے ہیں اور ہمارے اور آپ کے درمیان کفار مضر کا یہ قبیلہ ( پڑتا ) ہے ( اس کے خوف کی وجہ سے ) ہم حرمت والے مہینوں کے علاوہ اور ایام میں نہیں آ سکتے ۔ اس لیے ہمیں کوئی ایسی ( قطعی ) بات بتلا دیجیئے کہ جس کی ہم اپنے پیچھے رہ جانے والے لوگوں کو خبر دے دیں ۔ ( اور ) اس کی وجہ سے ہم جنت میں داخل ہو سکیں ۔ تو آپ ﷺ نے انہیں چار باتوں کا حکم دیا اور چار سے روک دیا ۔ اول انہیں حکم دیا کہ ایک اللہ پر ایمان لائیں ۔ ( پھر ) فرمایا کہ کیا تم جانتے ہو کہ ایک اللہ پر ایمان لانے کا کیا مطلب ہے ؟ انہوں نے عرض کیا ، اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں ۔ آپ

09/07/2026

اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
آج 9 جولائ بروز جمعرات 2026 ہے
24۔ محرم الحرام اور 1448 ہجری ہے
آج کی حدیث مبارکہ صحیح بخآری سے ہے
عربی متن اور اردو ترجمہ کے ساتھ

حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ سَالِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : يُقْبَضُ الْعِلْمُ ، وَيَظْهَرُ الْجَهْلُ وَالْفِتَنُ ، وَيَكْثُرُ الْهَرْجُ ، قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا الْهَرْجُ ؟ فَقَالَ : هَكَذَا بِيَدِهِ ، فَحَرَّفَهَا كَأَنَّه يُرِيدُ الْقَتْلَ .

آپ ﷺ نے فرمایا کہ ( ایک وقت ایسا آئے گا کہ جب ) علم اٹھا لیا جائے گا ۔ جہالت اور فتنے پھیل جائیں گے اور ہرج بڑھ جائے گا ۔ آپ سے پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ ! ہرج سے کیا مراد ہے ؟ آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ کو حرکت دے کر فرمایا اس طرح ، گویا آپ ﷺ نے اس سے قتل مراد لیا ۔

Sahih Bukhari #85
کتاب علم کے بیان میں

Status: صحیح

Islam360

08/07/2026

اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
آج 8 جولائی بروز بدھ 2026 ہے
23۔ محرم الحرام اور 1448 ہجری ہے
آج کی حدیث مبارکہ صحیح بخآری سے ہے
عربی متن اور اردو ترجمہ کے ساتھ

حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ سَالِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : يُقْبَضُ الْعِلْمُ ، وَيَظْهَرُ الْجَهْلُ وَالْفِتَنُ ، وَيَكْثُرُ الْهَرْجُ ، قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا الْهَرْجُ ؟ فَقَالَ : هَكَذَا بِيَدِهِ ، فَحَرَّفَهَا كَأَنَّه يُرِيدُ الْقَتْلَ .

آپ ﷺ نے فرمایا کہ ( ایک وقت ایسا آئے گا کہ جب ) علم اٹھا لیا جائے گا ۔ جہالت اور فتنے پھیل جائیں گے اور ہرج بڑھ جائے گا ۔ آپ سے پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ ! ہرج سے کیا مراد ہے ؟ آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ کو حرکت دے کر فرمایا اس طرح ، گویا آپ ﷺ نے اس سے قتل مراد لیا ۔

Sahih Bukhari #85
کتاب علم کے بیان میں

Status: صحیح

Islam360

07/07/2026

اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
آج 7 جولائ ہے بروز منگل 2026 ہے
22۔ محرم الحرام ہے اور 1448 ہجری
آج کی حدیث مبارکہ صحیح بخآری سے ہے
عربی متن اور اردو ترجمہ کے ساتھ

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِمِنًى لِلنَّاسِ يَسْأَلُونَهُ فَجَاءَهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : لَمْ أَشْعُرْ فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ ؟ فَقَالَ : اذْبَحْ وَلَا حَرَجَ ، فَجَاءَ آخَرُ ، فَقَالَ : لَمْ أَشْعُرْ فَنَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ ؟ قَالَ : ارْمِ وَلَا حَرَجَ ، فَمَا سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ قُدِّمَ وَلَا أُخِّرَ إِلَّا قَالَ : افْعَلْ وَلَا حَرَجَ .

حجۃ الوداع میں رسول اللہ ﷺ لوگوں کے مسائل دریافت کرنے کی وجہ سے منیٰ میں ٹھہر گئے ۔ تو ایک شخص آیا اور اس نے کہا کہ میں نے بےخبری میں ذبح کرنے سے پہلے سر منڈا لیا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا ( اب ) ذبح کر لے اور کچھ حرج نہیں ۔ پھر دوسرا آدمی آیا ، اس نے کہا کہ میں نے بےخبری میں رمی کرنے سے پہلے قربانی کر لی ۔ آپ ﷺ نے فرمایا ( اب ) رمی کر لے ۔ ( اور پہلے کر دینے سے ) کچھ حرج نہیں ۔ ابن عمرو کہتے ہیں ( اس دن ) آپ ﷺ سے جس چیز کا بھی سوال ہوا ، جو کسی نے آگے اور پیچھے کر لی تھی ۔ تو آپ ﷺ نے یہی فرمایا کہ اب کر لے اور کچھ حرج نہیں ۔

Sahih Bukhari #83
کتاب علم کے بیان میں

Status: صحیح

Islam360

Address

الرياض ..المملكه العربيه السعوديه
Khartoum

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Azhar jannat posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share