18/01/2026
یہ لوگ اہلِ سنت کے دشمن بن کر سامنے آئے ہیں۔
جنہوں نے کروڑوں روپے لگا کر سنٹرل کرم میں آپریشن کی آگ بھڑکائی، جن کے فیصلوں نے بستیاں اجاڑیں، لاشیں گرائیں اور پورے علاقے کو عدمِ تحفظ میں دھکیل دیا۔
آج ملک میں اہلِ تشیع حکومت میں ہیں —
صدرِ پاکستان اہلِ تشیع،
وزیرِ داخلہ اہلِ تشیع،
وزیرِ خارجہ اہلِ تشیع —
مگر سوال یہ ہے کہ اہلِ سنت کے خون پر یہ خاموشی کیوں؟
اگر یہ واقعی انصاف اور انسانیت کے دعوے دار ہوتے تو
پاڑاچنار میں ایران کی حمایت میں نکلنے والے جلوسوں کی طرح
سنٹرل کرم کے مظلوم اہلِ سنت کے لیے بھی آواز اٹھاتے۔
مگر نہیں —
سنٹرل کرم میں اہلِ سنت قتل ہوں،
گھروں سے بے دخل ہوں،
بازار جلیں،
بچے یتیم ہوں —
تو یہ سب “سیکیورٹی” کے نام پر جائز قرار دے دیا جاتا ہے۔
یہ خاموشی اب لاعلمی نہیں رہی،
یہ جانبداری ہے،
یہ اہلِ سنت دشمن سوچ کا واضح ثبوت ہے۔
ہم واضح کرنا چاہتے ہیں:
سنٹرل کرم کے اہلِ سنت نہ دہشت گرد ہیں، نہ مجرم —
وہ پاکستانی شہری ہیں،
انہیں بھی وہی حقِ زندگی، امن اور انصاف چاہیے
جو ہر پاکستانی کا حق ہے۔
ہم ظلم کے خلاف بولتے رہیں گے،
چاہے ظالم بااثر ہوں،
چاہے خاموشی کو طاقت سمجھا جائے —