Create By Amir

Create By Amir اس پیج کہ نام سے میرا یوٹیوب چینل بھی ہے پلیز اسے بھی سبسکرائیب کریں
Subscribe➡ Create By Amir
I am a Content creator and a life style vlogger

آپ کے ذہن میں بھی یہ سوال ہوں گے کہ ایران اور پاکستان کی طرح دیگر مسلم ممالک اپنے دفاع پر/ایٹمی ہتھیاروں پر کام کیوں نہی...
03/03/2026

آپ کے ذہن میں بھی یہ سوال ہوں گے کہ ایران اور پاکستان کی طرح دیگر مسلم ممالک اپنے دفاع پر/ایٹمی ہتھیاروں پر کام کیوں نہیں کرتے؟
حالانکہ دبئی نے اتنی بڑی بڑی بلڈنگز تو کھڑی کر لیں لیکن آج تک اس کے بارے میں کیوں نہیں سوچا؟ کیا وجوہات ہیں؟ اور سعودی عرب کو بھی اس بارے میں سوچنا چاہیے وغیرہ وغیرہ
لیکن یاد رکھیں
ایٹمی ہتھیار بنانا صرف پیسوں کا مسئلہ نہیں ہوتا، بلکہ اس کے پیچھے قانونی، سیاسی، سفارتی اور سیکیورٹی عوامل ہوتے ہیں۔

آئیے چند نکات میں سمجھتے ہیں:
1️⃣ عالمی معاہدے (NPT)
دنیا کے زیادہ تر ممالک نے International Atomic Energy Agency اور
Treaty on the Non-Proliferation of Nuclear Weapons (NPT) پر دستخط کر رکھے ہیں۔

اس معاہدے کے تحت:
نئے ممالک ایٹمی ہتھیار نہیں بنا سکتے۔
جو بناتے ہیں ان پر سخت پابندیاں لگ سکتی ہیں۔
عالمی پابندیاں معیشت تباہ کر سکتی ہیں (مثال: ایران پر پابندیاں)

2️⃣ صرف پیسہ کافی نہیں ہوتا
دبئی (جو کہ Dubai ہے) بلند عمارتیں بنا سکتا ہے جیسے
Burj Khalifa
لیکن:
ایٹمی پروگرام کے لیے سائنسدان، یورینیم افزودگی کی ٹیکنالوجی، خفیہ تنصیبات، اور برسوں کی تحقیق چاہیے۔
یہ سب عالمی نگرانی میں ہوتا ہے۔
United Arab Emirates نے خود نیوکلیئر انرجی پلانٹس تو بنائے ہیں لیکن ہتھیار نہ بنانے کا معاہدہ کیا ہوا ہے۔

3️⃣ سیاسی قیمت
مثلاً:
ایران نے جوہری پروگرام پر کام کیا تو اس پر عالمی پابندیاں لگ گئیں۔
پاکستان نے ایٹمی پروگرام بنایا لیکن اسے کئی دہائیوں تک عالمی دباؤ اور پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔
ہر ملک یہ حساب لگاتا ہے:

"کیا ایٹمی ہتھیار بنانے سے فائدہ زیادہ ہوگا یا نقصان؟"
4️⃣ سیکیورٹی اتحاد (Alliances)
کچھ ممالک خود ایٹمی ہتھیار نہیں بناتے کیونکہ:
وہ بڑی طاقتوں کے ساتھ دفاعی اتحاد رکھتے ہیں۔
مثال کے طور پر Saudi Arabia کی سیکیورٹی بڑی حد تک امریکہ کے ساتھ تعلقات پر مبنی ہے۔
اسی طرح United Arab Emirates بھی مغربی دفاعی نظام کا حصہ ہے۔

5️⃣ خطے میں طاقت کا توازن
اگر ہر ملک ایٹمی ہتھیار بنانے لگے تو:
خطہ شدید غیر مستحکم ہو جائے گا۔
ہتھیاروں کی دوڑ (Arms Race) شروع ہو جائے گی۔
معمولی تنازع بھی عالمی تباہی میں بدل سکتا ہے۔
خلاصہ
ایٹمی ہتھیار بنانا:
صرف پیسے کا مسئلہ نہیں
عالمی قانون اور سفارت کاری کا معاملہ ہے
معاشی پابندیوں کا خطرہ ہوتا ہے
علاقائی توازن بگڑ سکتا ہے
ہر ملک اپنی جغرافیائی، سیاسی اور معاشی صورتحال دیکھ کر فیصلہ کرتا ہے۔

ایک # پاکستانی فوجی کا بیٹا بنگلہ دیش میں کیسے جیت گیا؟بنگلہ دیش کے نئے وزیر اعظم طارق رحمان کون ہیں؟اپنی زندگی کے 17 قی...
14/02/2026

ایک # پاکستانی فوجی کا بیٹا بنگلہ دیش میں کیسے جیت گیا؟
بنگلہ دیش کے نئے وزیر اعظم طارق رحمان کون ہیں؟

اپنی زندگی کے 17 قیمتی سال ملک سے باہر کیوں گزارے؟

وہ 20 نومبر 1965ء کوڈھاکہ میں پیدا ہوئے۔
انہوں نے ابتدائی و کالج کی تعلیم بھی وہیں سے حاصل کی۔
ڈھاکہ یونیورسٹی سے International Relations میں گریجویشن کیا۔

ان کے والدین دونوں اہم شخصیات رہ چکے ہیں:
1):
والد ضیاء الرحمان نے پی ایم اے 1953ء میں پاک فوج جوائن کی۔
پھر 65 کی جنگ بھی لڑی۔ جس پہ انہیں ہلال جرات بھی دیا گیا۔
مگر 71ء میں انہوں نے مشرقی پاکستان کا ساتھ دیا، علیحدہ ہوئے۔
پھر وہ 1977ء میں بنگلہ دیش کے صدر بنے۔
مگر بعد میں انہیں ق-تل کردیا گیا تھا۔

2):
دلچسپ بات یہ کہ انکی والدہ خالدہ ضیاء بھی دو مرتبہ وزیرِاعظم بن چکی ہیں:

1): سال 1991ء سے سال 1996ء تک
2): سال 2001ء سے 2006ء تک

انہوں نے 1994ء کو ڈاکٹر زبیدہ رحمان سے شادی کی۔
جنہوں نے بنگلہ سول سروس بھی پاس کیا ہوا ہے۔
ان کی بیٹی ضائمہ رحمان وکالت کے شعبہ سے منسلک ہیں۔

انکی پارٹی بنگلہ دیش نیشنل پارٹی ہے۔
جبکہ عوامی لیگ ان کے مخالف رہی ہے۔

سال 2008ء میں مخالف پارٹی کے جیتنے کے بعد خودساختہ ملک بدر ہوئے۔
کیونکہ ان پہ کرپشن بالخصوص منی لانڈرنگ کے کیسسز بھی رہ چکے ہیں۔
اور 2025ء تک وہ واپس نہیں آئے کہ انہیں گرفتار کردیا جائے گا۔

کہا جارہا ہے کہ 12 فروری الیکشن میں انہوں نے 300 میں
سے 210 سیٹیں جیتی ہیں جو کہ کافی ہیوی مارجن ہوتا ہے۔

اور یہ عموما جمہوری نظام کے لیے خوش آیند ہوتا ہے۔
وگرنہ دیگر پارٹیاں اپنی بات منوانے کے لیے بلیک میل کرتی ہیں۔

(یاد رہے کہ حتمی سرکاری نتائج میں کم سیٹیں فائنل ہوسکتی ہیں۔)

کیا طارق رحمان کی زندگی ایک پاکستانی اہم سیاستدان سے ملتی ہے؟
اورپاکستان بنگلہ تعلقات میں بہتری کی امید کی جاسکتی ہے؟

شکریہ
بلال مختار
آسٹریلیا



جگنو ٹیلرز : بے گناہ اور ناحق ق۔ت۔ل خود پکار اٹھتا ہے ۔۔۔۔ 1998 میں ایک مزدور کےاندھے ق۔ت۔ل کی تفتیش کی روداد جب واقعات ...
12/02/2026

جگنو ٹیلرز : بے گناہ اور ناحق ق۔ت۔ل خود پکار اٹھتا ہے ۔۔۔۔ 1998 میں ایک مزدور کےاندھے ق۔ت۔ل کی تفتیش کی روداد جب واقعات کی کڑیاں ایسے ملتی گئیں کہ تفتیشی افسران بھی حیران رہ گئے ۔۔۔۔۔ گوجرانوالہ میں ایک روز پولیس کو اطلاع ملی کی ایک لا۔ش کسی ٹوبہ یا تالاب میں تیر رہی ہے ، پولیس موقع پر پہنچی ، لا۔ش کے گل سڑ جانے اور پھول جانے کی وجہ سے شناخت ممکن نہ تھی ، ایک ہجوم جمع تھا مگر کسی نے شناخت نہ کی ، لہذا رسمی کارروائی کے بعد پولیس نے لا۔ش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھجوا دیا ، متوفی کی جیب سے بھی کچھ نہ ملا تھا ، پوسٹ۔ مارٹم رپورٹ میں وجہ موت سر پر لگنے والی چوٹ بتائی گئی اور یہ کہ ٹوبہ میں پھینکے جانے سے قبل اس شخص کی موت ہو چکی تھی جسے ق۔ت۔ل کیا گیا ہے ۔۔۔۔ لا۔ش کو لاوارث قرار دے کر امانتا دفن کردیا گیا اور دیگر ضلع جات اور تھانوں کو بھی مطلع کردیا گیا تاکہ وارثان کا پتہ چل سکے مگر کہیں سے کوئی اطلاع نہ آئی ۔۔۔ 10 روز گزرے تو اس کیس کے تفتیشی افسر سید امجد حسین نے نئے سرے سے اس کیس کی تفتیش شروع کردی ، انہوں نے تھانے کے مال خانے سے مق۔تول کے کپڑے اٹھائے جنہیں مال مقدمہ کے طور پر محفوظ کر لیا گیا تھا اور انکا بغور جائزہ لیا ، کچھ بھی نہ نکلا مگرقمیض کے پچھلی سائیڈ پر اندر کی طرف جگنو ٹیلرز کا چھوٹا سا ٹیگ نظر آگیا ، پتہ کروایا گیا تو شہر میں اس نام سے دو دکانوں کا پتہ چلا ، پہلی دکان والوں نے سوٹ دیکھ کر کہا یہ ہمارا نہیں دوسری دکان کا سلا سوٹ ہے ، دوسری دکان پر پولیس پہنچی اور ٹیلر ماسٹر کو سوٹ دکھایا تو اس نے نہ صرف تسلیم کیا کہ سوٹ انہوں نے تیار کیا تھا بلکہ رجسٹر کا معائنہ کرکے اور ناپ وغیرہ دیکھ کر بتا دیا کہ یہ شہر کے ایک مہر صاحب نامی آڑھتی ایک سال قبل سلوا کر لے گئے تھے ، درزی نے مہر صاحب کا پتہ بتا دیا ، پولیس والے پریشان ہو گئے کہ کہیں وہ لاوارث دفن کردہ مہر صاحب ہی نہ ہوں لیکن پولیس انکے گھر پہنچی تو شام کا وقت تھا مہر صاحب گھر پر تھے ، سوٹ دیکھ کر انہوں نے کہا لگتا تو میرا ہے لیکن میں بیگم سے پوچھتا ہوں ، بیگم صاحبہ نے تصدیق کردی کہ سوٹ انکا ہی ہے لیکن یہ میں نے 3،4 ماہ قبل اپنی نوکرانی کو دے دیا تھا جس نے اپنے شوہر کے لیے پرانے کپڑے مانگے تھے ، پتہ چلا کہ نوکرانی کئی دنوں سے کام پر بھی نہیں آرہی ، خیر اس نوکرانی کے گھر کا پتہ معلوم کرکے پولیس وہاں پہنچی تو ایک پریشان حال عورت نے دروازہ کھولا ۔ اسے سوٹ دکھایا گیا اور دفن کردہ میت کے چہرے کی تصویر دکھائی گئی تو تصویر کو یہ شناخت نہ کر سکی لیکن سوٹ اس نے پہچان لیا کہ یہ اسکے شوہر نے پہنا ہوا تھا جب 15 روز قبل وہ ایک فیکٹری میں کام پر گیا اور پھر واپس نہیں آیا ، خاتون کے بقول وہ فیکٹری گئی لیکن مالکان نے کہا کہ وہ 2 ہفتے سے غیر حاضر ہے ، خاتون نے فیکٹری کا پتہ بتایا تو یہ فیکٹری اس ٹوبے والے مقام سے چند سو فٹ کے فاصلے پر تھی جہاں سے مق۔تول کی لا۔ش ملی تھی ، پولیس ٹیم فیکٹری پہنچی اور اس مزدور کے بارے میں پوچھا گیا تو فیکٹری مالک کے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگیں اور اس نے خود اعتمادی کی مصنوعی اداکاری کرکے پولیس والوں پر رعب ڈالنا چاہا کہ یہ تو ہمارے ایڈوانس پیسے کھا کر بھاگ گیا ہے ، ہم تو خود اسے ڈھونڈ رہے ہیں ۔۔۔ آپ کو ملے تو بتائیے گا ہم آپ کو چایے پانی دیں گے ۔۔۔۔ اس بات پر پولیس نے انہیں تھانے چلنے کو کہا ، چار وناچار فیکٹری مالک اور اسکا جوان سال بیٹا پولیس والوں کے ہمراہ تھانے پہنچے ، پہلے احترام سے ان سے سوال کیا گیا کہ اس مزدور کے بارے میں کچھ علم ہے تو بتاؤ ۔۔۔ فیکٹری مالک بولا استٖغفراللہ ، ہمیں کچھ نہیں پتہ ۔۔۔ اسکے بعد تفتیشی افسر نے اپنے ایک 6 فٹ 2 انچ قد والے پہلوان ٹائپ کانسٹیبل کو بلایا اور فیکٹری مالک باپ کو اسکے حوالے کردیا گیا ، 5 منٹ بعد والد صاحب کے بعد برخوردار کی باری آگئی ، اس پر بھی پانچ منٹ محنت کی گئی جسکے بعد باپ بیٹا خود بولے : جناب: یہ مزدور اپنے ایڈوانس والے پیسے کلیئر کرنے کے چکر میں اوور ٹائم لگا رہا تھا، کسی بات پر میرے بیٹے نے اسے گا۔لی دی تو جواب میں مزدور نے بھی اسے گا۔لی دی ، جوان خون تھا اس نے لوہے کا سریا اٹھایا اور مزدور کے سر میں دے مارا جس سے وہ گر پڑا اور اسکی موت واقع ہو گئی ، فیکٹری میں اس وقت بیٹے چوکیدار اور اس مزدور کے علاوہ کوئی نہ تھا ، بیٹے کو اور کچھ سمجھ نہ آیا اس نے چوکیدار کی مدد سے مزدور کی لا۔ش قریبی ٹوبے میں جا کر پھینک دی اور جب کچھ روز گزر گئے تو یہ بے فکر ہو چکے تھے کہ انکا جرم چھپ چکا تھا ۔۔۔۔۔ پولیس نے دونوں باپ بیٹے کو چالان کرکے جیل بھیج دیا تھا مگر ایک سال بعد ملزمان کے لواحقین نے مزدور کی بیوہ کو دیت کی رقم ادا کرکے صلح نامے پر دستخط کروا لیے جسکے بعد باپ بیٹے کو رہا کردیا گیا تھا ۔

عظیم سلطنت عثمانیہ کہ آخری خلیفہ سلطان عبدالحمید کا آخری صفر     fb  ゚
11/02/2026

عظیم سلطنت عثمانیہ کہ آخری خلیفہ سلطان عبدالحمید کا آخری صفر
fb ゚

لیبیا  #کے سابق سربراہ معمر قذافی کے صاحبزادہ سیف الاسلام قذافی کی نمازہ جنازہ ادا کردی گئی۔سیف الاسلام قذافی کی نماز جن...
07/02/2026

لیبیا #کے سابق سربراہ معمر قذافی کے صاحبزادہ سیف الاسلام قذافی کی نمازہ جنازہ ادا کردی گئی۔

سیف الاسلام قذافی کی نماز جنازہ لیبیا کے شہر بنی ولید میں ادا کی گئی جس میں قبائلی عمائدین سمیت ہزاروں لیبیائی شہری شریک ہوئے۔

سیف الاسلام قذافی کی تدفین بنی ولید میں ان کے بھائی اور چچا کے پہلو میں کی گئی۔

افسوسناک خبر: گل پلازہ، کراچی میں آتشزدگی کا سانحہ 💔​کراچی کا اہم تجارتی مرکز 'گل پلازہ'، جہاں سے ہزاروں افراد کا روزگار...
18/01/2026

افسوسناک خبر: گل پلازہ، کراچی میں آتشزدگی کا سانحہ 💔
​کراچی کا اہم تجارتی مرکز 'گل پلازہ'، جہاں سے ہزاروں افراد کا روزگار وابستہ ہے، آج ایک خوفناک آتشزدگی کے واقعے کا شکار ہوا۔ اس سانحے میں ہونے والے جانی و مالی نقصان کی اطلاعات پر دل شدید رنجیدہ ہے۔
​🤲 دعا:
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ تمام متاثرہ افراد کے ساتھ خیر و عافیت کا معاملہ فرمائے۔ اس حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کو جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور زخمیوں کو جلد از جلد صحتِ کاملہ نصیب کرے۔
اس المناک واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہیں اور متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔


سو سے زائد مساجد بنوانے والےجاگیردار منشی میاں فتح دین ارائیںجب لائل پور(فیصل آباد) کے نام سے نیا شہر بسایا گیا تو اس کی...
17/01/2026

سو سے زائد مساجد بنوانے والے
جاگیردار منشی میاں فتح دین ارائیں
جب لائل پور(فیصل آباد) کے نام سے نیا شہر بسایا گیا تو اس کی آبادکاری کے لیے جن شخصیات نے اہم کردار ادا کیا، ان میں میاں فتح دین ارائیں کانام بہت نمایاں ہے۔ انہوں نے فیصل آباد اور نواحی علاقوں میں سو سے زائد مساجد، مدارس، سکول، کالج اور دیگر فلاحی ادارے قائم کئے۔ 1896 میں لائل پور کی آبادکاری کے لیے برطانیہ کی حکومت نے میاں فتح دین سے رابطہ کیا لیکن انہوں نے انکار کر دیا کیونکہ وہ جالندھرکے بڑے زمیندار تھےاور ان کے بڑے بیٹے میاں برکت اللہ ارائیں جالندھر سمیت پانچ اضلاع کے ذیلدار اور آنریری مجسٹریٹ تھے۔
سرگنگا رام اور منشی صاحب آپس میں بہت اچھے دوست تھے۔ برٹش حکومت نے سرگنگا رام کو درخواست کی کہ آپ منشی میاں فتح دین کو درخواست کریں کہ ہماری مدد کریں ہم نے نیا شہر بنانا ہے۔ سر گنگا رام نے منشی صاحب کو رضامند کر لیا اور پھر وہ 1900 میں فیصل آباد پہنچے۔مقامی لوگ انہیں منشی فتح دین کے نام سے یاد کرتے ہیں ،
لائل پور آنے کے بعد منشی میاں فتح دین نے سب سے پہلی مسجد عبداللہ پور میں اپنے گھر کے پاس بنائی تھی جس کے ساتھ شہر کا پہلا دارالعلوم بھی تعمیر کیا گیا تھا۔ فیصل آباد میں منشی فتح دین 101 مربع اراضی کے مالک تھے جبکہ ملحقہ شہروں گوجرہ، جڑانوالہ، تاندلیانوالہ اور ٹوبہ ٹیک سنگھ وغیرہ میں بھی ان کے پاس کافی اراضی تھی جو انہوں نے انگریز حکومت سے نیلامی میں خریدی تھی۔جہاں جہاں زمینیں تھیں ان شہروں کی جامع مساجد، مرکزی عید گاہیں، یتیم خانے اور متعدد قبرستان منشی صاحب نے وہاں پر عطیہ کیے۔لائل پور میں انجمن اسلامیہ کی بنیاد بھی منشی فتح دین نے رکھی تھی ۔اس کے زیر انتظام اسلامیہ کالج، اسلامیہ سکول، طارق آباد میں آدھ مربع کے وسیع رقبے پر محیط سکول بھی منشی فتح دین کا عطیہ ہے اور پھر اس کے ساتھ ایک یتیم خانہ بنایا۔ ریلوے روڈ پر واقع مرکزی چرچ اور اس سے ملحق سیکرڈ ہارٹ کانونٹ سکول کی اراضی بھی منشی فتح دین ، میاں برکت اللہ اور ان کے بھائیوں نے عطیہ کی تھی۔ جب کچہری بازار والی مسجد کی جگہ نیلام ہو رہی تھی تو وہ اپنے خچر پر وہاں پہنچے اور انہوں نے انگریز سے کہا کہ آپ نے جتنے پیسوں میں بھی دینی ہےمیرے نام ڈال دیں ۔ آج کچہری بازار کی جامع مسجد کے ساتھ کم و بیش اربوں روپے کی دکانیں ہیں ، ان کی ساری آمدن مسجد کو جاتی ہے۔ آج فیصل آباد کے وزٹ کے موقع پر 1911ء میں منشی فتح دین کے ہاتھوں سے بنائی ہوئی فیصل آباد کی پہلی مسجد اور دارالعلوم بھی دیکھنے کی سعادت حاصل ہوئی۔
پروردگار عالم منشی فتح دین کو اعلیٰ ترین جنتوں میں اعلیٰ مقام عطاء فرمائے آمین
ان کی آخری آرام گاہ حلال روڈ پر بوہڑ چوک کے قریب جامع مسجد فتح دین سے ملحق ان کے آبائی قبرستان میں ہے۔

‏خفیہ ہاتھ۔۔۔کچھ ماہ پہلے اسرائیل نے جب ایران پر حملہ کیا تو جنگ کے تیسرے دن اسرائیلی وار روم میں کھلبلی مچ گئی تھی اور ...
13/01/2026

‏خفیہ ہاتھ۔۔۔
کچھ ماہ پہلے اسرائیل نے جب ایران پر حملہ کیا تو جنگ کے تیسرے دن اسرائیلی وار روم میں کھلبلی مچ گئی تھی اور کسی خفیہ مدد کا زکر ہونا شروع ہو گیا اور پھر کچھ دنوں بعد امریکہ و یورپ نے جنگ بندی کا اعلان کرنا شروع کر دیا تھا👇
ہم سبکو معلوم ھے کہ اسرائیل کے مقابلے میں ایران کتنی صلاحیت رکھتا ھے۔ ایران کا کوئی میزائل، ٹیکنالوجی یا صلاحیت ایسی نہیں تھی جو اسرائیل کا دفاعی نظام توڑ کر اپنے میزائل اسرائیل میں پہنچا سکتی تھی۔
اور جہاں تک فضائیہ کی بات ھے تو
اسرائیل کے پاس دنیا کے جدید ترین امریکن اسٹیلتھ ٹیکنالوجی کے حامل ایف 35 موجود ہیں اور اسرائیل دنیا میں واحد ایسا ملک ہے جسے امریکہ نے اس طیارے میں مقامی سطح پر تبدیلیاں (جیسے اسرائیلی الیکٹرانک وارفیئر سسٹم اور دیگر اپ گریڈز) کرنے کی مکمل اجازت دی ہوئی ہے۔
جبکہ ایران کے پاس سب سے جدید طیارہ بھی 50 سال پرانا ھے۔۔
اسی لئے جنگ کے پہلے دو دن میں ہی ایرانی عوام اور فوج کا مورال مکمل طور پر ڈاؤن ہو چکا تھا۔
ایرانی فوج اور سئنیر سیاسی قیادت کو ایک ہی حملے میں مار دیا گیا تھا جبکہ اسرائیلی میزائل اور طیارے بغیر کسی روک ٹوک کے ایران میں دندنا رھے تھے۔
اور پھر اچانک جنگ کے تین دن بعد علاقے کا جے کانت شکرا ایران کو خفیہ مدد پہنچاتا ھے،
اس کے بعد جنگ کا پانسہ پلٹنا شروع ہو جاتا ھے۔
ایرانی میڈیا میں شور مچ جاتا ھے کہ ایران نے اسرائیل کے تین طیارے گرائے ہیں جن میں ایف 35 بھی شامل ھے۔
اور پھر اچانک ایرانی میزائل اسرائیل کے دفاعی نظام کو روندتے ہوئے اسرائیل کے اندر جانا شروع ہو جاتے ہیں۔ پورے اسرائیل میں خوف و ہراس پھیل جاتا ھے۔ اسرائیلی عوام اپنے سروں پر دشمن کے میزائل دیکھنے کی عادی نہیں تھی، عجیب و غریب افراتفری پھیل جاتی ھے۔ اسرائیلی عوام اپنے پاسپورٹ پکڑ کر ائیرپورٹ کی طرف جانا شروع ہو جاتی ھے جبکہ اسرائیل کا وزیرداخلہ اسرائیلیوں کے ملک سے باہر جانے پر پابندی لگا دیتا ھے، ائیرپورٹس پر لڑائی جھگڑے بھی ہوتے ہیں۔ جبکہ ایرانی میزائل اسرائیل کا دفاعی نظام مفلوج کر کے اسرائیل کے اہم مقامات کو نشانہ بنا رہا ہوتا ھے۔ اور پوری دنیا ایکدم جنگ کے حالات تبدیل ہوتا دیکھ کر حیران ہو جاتی ھے اور پھر فرانسیسی مشہور صحافی اس جنگ میں ایرانی میزائل اسرائیل پہنچنے پر اسے کھل کر پاکستان کی مدد بولتا ھے۔ اس کے بعد مختلف اخبارات پاکستان کا خفیہ ہاتھ ملوث ہونے کا زکر کرتے ہیں۔۔
اسرائیل کو مار پڑتا دیکھ کر اچانک امریکہ کو امن اور جنگ بندی یاد آ جاتی ھے۔
خیر پھر کئی ممالک ملکر جنگ بندی کروا دیتے ہیں۔ جسکے لئے نیتن یاہو پہلے ہی تیار ہوتا ھے۔۔
اس جنگ کے فورآ بعد ایران کے انڈیا کیساتھ تعلقات خراب ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور دونوں طرف سے ایک دوسرے کے خلاف کچھ بیانات بھی دئے جاتے ہیں۔ میجر گرو آریا تو ایران کے وزیر دفاع کو سور بھی بول دیتا ھے ایک طرف انڈیا سے تعلقات خراب ہوتے ہیں تو دوسری طرف ایرانی پارلیمنٹ میں تمام ممبران پاکستان کا پرچم لہرا کر پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ سپریم کونسل میں شکریہ پاکستان کے نغمے گائے جاتے ہیں۔
اور پھر ایکدم سے بی ایل اے کے دہشتگردوں کے خلاف شکنجہ ٹائٹ ہونا شروع ہو جاتا ھے۔ بلوچستان میں حملہ کر کے ایران بھاگنے والے دہشتگردوں کا استقبال اب ایرانی بارڈر فورسز گولیوں سے کرنا شروع ہو جاتی ھے اور کئی پاکستانی صحافی یہ بیان دینا شروع کر دیتے ہیں کہ اگلے کچھ ماہ میں بلوچستان سے دہشتگردی کا مکمل خاتمہ ہو جائے گا۔ بسز سے پنجابیوں کو اتار کر شہید کرنے والے واقعات میں بھی بہت کمی آ جاتی ھے اور بی ایل اے کا نیٹورک 80 فیصد تک تباہ کر دیا جاتا ھے۔۔
تو جناب سب سمجھ گے ہوں گے یہ خفیہ ہاتھ چائنہ، شمالی کوریا یا روس کا نہیں بلکہ پاکستان کا تھا۔
اسی لئے اسرائیل اب کھل کر انڈیا کیساتھ کھڑا ھے اور پاکستان کے خلاف اسکی مدد کر رہا ھے۔۔
اسرائیل جانتا ھے کہ وہ دنیا کی جدید ترین ٹیکنالوجی رکھنے کے باوجود پاکستان سے ڈائریکٹ جنگ نہیں لڑ سکتا۔۔ اس لئے وہ ایران میں رجیم چینج کر کے انڈیا اور افغانستان کے زریعے پاکستان کو گھیرنے کی کوشش کر رہا ھے۔۔
لیکن اس کے جواب میں پاکستان بھی بھرپور تیاری میں ھے وہ ایسی سازشوں سے بخوبی واقف ھے۔ پاک سعودیہ معاہدہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ھے۔
اس معاہدے کے بعد پاکستان نے سعودیہ سے ایسا ائیر بیس لیا ھے جہاں سے اسرائیل صرف 6 منٹ کی فضائی دوری پر ھے۔ اور اس ائیر بیس پر پاکستان اپنے طیاروں، میزائل سمیت تمام ٹیکنالوجی لیجا چکا ھے۔۔
امریکہ نے دنیا میں جو ہلچل پیدا کر دی ھے اس سے بہت کچھ ایسا ہونے جا رہا ھے جس کا کسی نے گمان بھی نہیں کیا ہو گا، بس دیکھتے رہیں ہوتا کیا ھے۔

13/01/2026

عمر بن اومران 19 سال کے تھے جب اچانک ایک دن لاپتہ ہو گئے۔یہ 1990 کی دہائی تھی اور الجزائر میں خانہ جنگی ہو رہی تھی۔ حیرا...
12/01/2026

عمر بن اومران 19 سال کے تھے جب اچانک ایک دن لاپتہ ہو گئے۔
یہ 1990 کی دہائی تھی اور الجزائر میں خانہ جنگی ہو رہی تھی۔ حیران کن طور پر اس واقعے کے 26 سال بعد عمر بن اومران ال گودید قصبے میں اپنے گھر سے چند ہی میٹر دور ایک ہمسائے کے مکان کے تہہ خانے سے زندہ ملے۔
اب ان کی عمر 45 سال ہو چکی ہے اور انھیں اس جگہ سے صرف 200 میٹر دوری پر زندہ پایا گیا جہاں وہ پلے بڑھے تھے۔
مقامی حکام نے بتایا ہے کہ عمر بن اومران کو مبینہ طور پر اغوا کرنے کے الزام میں ایک 61 سالہ شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ 1998
میں جس وقت عمر بن اومران لاپتہ ہوئے تو اس زمانے میں الجزائر حکومت اور شدت پسند گروہوں کے درمیان کئی برس سے خانی جنگی جاری تھی۔
عمر کی یوں اچانک گمشدگی کے بعد ان کے خاندان کو یہ خوف لاحق ہوا کہ کہیں وہ بھی اس جنگ میں ہلاک یا لاپتہ ہو جانے والوں میں سے ایک نہ بن گئے ہوں۔
تاہم 12 مئی کو ان کی گمشدگی کے 26 سال گزر جانے کے بعد انھیں مقامی حکام کے مطابق بھوسے کے ڈھیر تلے زندہ تلاش کر لیا گیا۔
اس معاملے میں استغاثہ کے مطابق حکام کو ایک انجان ذریعے سے اطلاع ملی تھی کہ عمر اپنے ہمسائے کے گھر میں ہیں۔
عدالتی اہلکار نے بتایا ہے کہ اس اطلاع کے بعد اٹارنی جنرل نے تفتیش کا حکم دیا اور افسران اس گھر گئے۔
بیان کے مطابق 12 مئی کو رات آٹھ بجے 45 سالہ عمر بن اومران کو ان کے ہمسائے کے مکان کے تہہ خانے سے زندہ حالت میں تلاش کر لیا گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ ملزم نے فرار ہونے کی کوشش کی لیکن اسے پکڑ کر حراست میں لے لیا گیا۔ عمر کے بھائی کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان کے مطابق مبینہ اغوا کی واردات کی وجہ ایک وراثتی تنازع تھا۔
تاہم حکام کا کہنا ہے کہ اس معاملے کی تفتیش جاری ہے اور عمر کو طبی اور نفسیاتی مدد فراہم کی جا رہی ہے۔ الجزائر کے پراسیکیوٹر آفس کے ترجمان نے اس جرم کو ظالمانہ قرار دیا ہے۔
عمر نے حکام کو بتایا کہ قید کے دوران انھوں نے متعدد بار اپنے اہلخانہ کو دیکھا تھا لیکن وہ مدد کے لیے ان کو آواز نہیں دے سکتے تھے کیوں کہ ان کو قید کرنے والے نے انھیں اس بات پر قائل کر رکھا تھا کہ ان پر جادو ہو چکا ہے۔
مقامی خبروں کے مطابق عمر کی والدہ 2013 میں یہ جانے بغیر ہی انتقال کر گئی تھیں کہ ان کا بیٹا زندہ ہے۔

وہ عورت جو ٹی وی دیکھتے ہوئے مر گئی — اور کسی نے 42 سال تک اُس کی غیر موجودگی محسوس نہ کیزگریب، کروشیا کے دل میں ایک عور...
12/07/2025

وہ عورت جو ٹی وی دیکھتے ہوئے مر گئی — اور کسی نے 42 سال تک اُس کی غیر موجودگی محسوس نہ کی

زگریب، کروشیا کے دل میں ایک عورت بغیر کسی نشان کے غائب ہو گئی۔ اُس کا نام ہیڈویگا گولِک تھا، اور آخری بار کسی نے اُسے 1966 میں زندہ دیکھا تھا۔

کسی نے اُس کے بارے میں کوئی سوال نہیں کیا۔
نہ اُس کا کوئی قریبی رشتہ دار تھا جو اُس کی گمشدگی کی اطلاع دیتا،
نہ کوئی دوست جو یہ سوچتا کہ وہ اچانک خاموش کیوں ہو گئی۔
کسی کو اُس کی غیر موجودگی کا احساس تک نہ ہوا۔

2008 میں، زگریب کے حکام نے ایک پرانے اپارٹمنٹ کو دوبارہ الاٹ کرنے کی کوشش کی — ایک ایسا اپارٹمنٹ جو برسوں سے بظاہر خالی پڑا تھا۔
اتنا وقت گزر چکا تھا کہ لوگ بھی بھول چکے تھے کہ یہ اپارٹمنٹ اصل میں کس کا تھا۔

جب حکام نے زبردستی دروازہ کھولا، تو جو منظر اُن کے سامنے تھا وہ دھچکا دینے والا اور دل دہلا دینے والا تھا۔

اپنی کرسی پر بیٹھی ہوئی تھی ہیڈویگا گولِک —
سامنے ایک پرانا 1960 کی دہائی کا ٹی وی،
پاس ایک چائے کا کپ،
اور اُس کا جسم وقت کے ہاتھوں ممی بن چکا تھا۔

اُس کا جسم کم از کم 42 سال تک وہیں پڑا رہا — مکمل تنہائی میں، دنیا کی نظروں سے یکسر اوجھل۔

یہ اپارٹمنٹ اُس کا ذاتی تھا، جو اُس نے سابقہ یوگوسلاویہ کے زمانے میں خریدا تھا۔
1966 کے بعد سے کوئی بھی اُس اپارٹمنٹ میں داخل نہیں ہوا تھا۔
پڑوسی سمجھتے رہے کہ وہ کہیں اور منتقل ہو گئی ہے… لیکن کسی نے کبھی تصدیق کرنے کی کوشش تک نہ کی۔

نہ کسی نے اُسے تلاش کیا،
نہ کوئی خاندان،
نہ کوئی دوست،
نہ ہی اُس کی گمشدگی کی رپورٹ درج ہوئی۔

اپارٹمنٹ کا اندرونی منظر ایک وقت کے کیپسول جیسا تھا:
برتن اب بھی سنک میں پڑے ہوئے،
فرنیچر پر موٹی گرد جمی ہوئی،
اور ٹی وی آج بھی کرسی کی طرف رخ کیے ہوئے —
جیسے اب بھی اُس عورت کو شام کی خبریں سنانے کے لیے تیار ہو
جسے یہ دنیا کب کی بھول چکی تھی۔۔۔۔۔

Address

Istanbul Türkiye
Istanbul
34000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Create By Amir posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category