Pardesi But Desi

Pardesi But Desi UK shift honay k baad se le kar … ab tak life ek mix platter hai — thori si thand 🥶, thori si chaey ☕️ aur bohot saari desi yaadein. Welcome to this page!

05/08/2026
01/21/2026

پاکستان میں آج کل یوکے جانے کا رجحان بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے، اور ایجنٹس ایسی تصویر پیش کرتے ہیں جیسے ویزا لگا اور زندگی سیٹ ہو گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ UK study visa کا مطلب settlement نہیں ہوتا۔ زیادہ تر طلبہ یہ سمجھتے ہیں کہ دو سال کا PSW مل گیا تو سب مسئلے حل ہو جائیں گے، حالانکہ PSW کوئی حق نہیں بلکہ ایک سہولت ہے جس کے لیے الگ اپلائی کرنا پڑتا ہے، بھاری فیس دینی ہوتی ہے اور سخت شرائط پوری کرنا ضروری ہوتی ہیں۔ اگر فیس، حاضری، اسائنمنٹس یا ڈگری مکمل کرنے میں مسئلہ ہو تو PSW نہیں ملتا۔ اس کے ساتھ ساتھ UK میں قانون پر مکمل عمل نہ کرنا، چاہے وہ چھوٹی سی غلطی ہی کیوں نہ ہو، مستقبل کے تمام ویزا آپشنز ختم کر سکتا ہے۔

دوسرا اور سب سے بڑا مسئلہ sponsorship کا ہے۔ PSW کے دوران عام نوکری مل جانا ممکن ہے، مگر sponsorship حاصل کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ زیادہ تر طلبہ پڑھائی کے دوران صرف پیسے کمانے پر فوکس کرتے ہیں اور اپنے field سے متعلق skills اور تجربہ پیچھے رہ جاتا ہے، جس کا نقصان بعد میں ہوتا ہے۔ Sponsorship صرف skilled اور field-related jobs پر ملتی ہے؛ ریسٹورنٹ، دکان، ویئرہاؤس یا سیلز کی نوکری پر نہیں، چاہے بندہ کتنا ہی محنتی کیوں نہ ہو۔ اسی مایوسی میں کچھ لوگ غیر یقینی یورپی راستوں یا مہنگے work visa deals میں پھنس جاتے ہیں اور آخرکار نقصان اٹھاتے ہیں۔

سمجھداری یہ ہے کہ PSW کے دو سال گھبراہٹ میں ضائع کرنے کے بجائے اپنے field سے متعلق junior یا assistant job کی جائے، skills بہتر کی جائیں اور کمپنی میں اپنا اچھا نام بنایا جائے، کیونکہ اکثر کمپنیاں باہر سے بندہ لانے کے بجائے اندر سے ہی sponsor کرنا پسند کرتی ہیں۔

یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ 2023 کے بعد UK کے قوانین سخت ہو چکے ہیں اور زیادہ تر کیسز میں پڑھائی مکمل کرنے کے بعد UK میں رہتے ہوئے direct work visa نہیں ملتا۔ اگر مقصد صرف work permit ہے تو study visa پر اتنا خرچ کرنا دانشمندی نہیں۔ UK واحد راستہ نہیں، کم بجٹ اور long-term پلان والوں کے لیے یورپ میں اور بھی بہتر اور پائیدار آپشنز موجود ہیں۔ یہ باتیں کسی کو روکنے کے لیے نہیں بلکہ حقیقت دکھانے کے لیے ہیں، تاکہ فیصلے جذبات میں نہیں بلکہ سمجھ بوجھ سے کیے جائیں۔

یہ بات اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ برطانیہ  میں نئے آنے والے طلبہ اور ورک پرمٹ پر آنے والے افراد کو اکثر مقامی سطح پر نا...
01/12/2026

یہ بات اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ برطانیہ میں نئے آنے والے طلبہ اور ورک پرمٹ پر آنے والے افراد کو اکثر مقامی سطح پر ناپسندیدگی، سرد مہری یا بغض کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر اس رویّے کی وجوہات کیا ہیں؟
اس کا جواب صرف برطانیہ میں نہیں، بلکہ ہماری اپنی تاریخ، سماجی نفسیات اور ماضی کے رویّوں میں بھی پوشیدہ ہے۔
ایک وقت تھا جب برطانیہ پاکستانیوں کو آسانی سے ویزے جاری نہیں کرتا تھا۔ اس لیے برطانیہ کا ویزا لوگوں کے لیے کسی خواب سے کم نہ تھا۔ یوں جو لوگ کئی سال پہلے کسی نہ کسی طریقے سے برطانیہ پہنچ چکے تھے، وہ جب پاکستان چھٹیاں گزارنے آتے اور کرائے کی بڑی بڑی گاڑیاں لے کر باہر نکلتے، بناؤ سنگھار، عجیب و غریب قسم کا حلیہ اور ٹہری میڑھی مگر رعب دار انگریزی کے ذریعے خود کو کسی “اعلیٰ دنیا” کا نمائندہ بنا کر پیش کرتے ۔
یہ تاثر دیا جاتا تھا کہ ہم کسی برتر معاشرے سے آئے ہیں، ہم زیادہ مہذب، زیادہ کامیاب اور زیادہ “ہائی کلاس” ہیں۔
افسوسناک پہلو یہ تھا کہ ہمارے اپنے لوگ بھی اس مصنوعی رعب میں آ جاتے تھے۔
ایئرپورٹ سے لے کر دعوتوں تک، پروٹوکول، تصویریں، فخر، اور بے جا عزت—یہ سب کچھ صرف اس بنیاد پر دیا جاتا تھا کہ “یہ برطانیہ سے آئے ہیں”۔
یوں برطانیہ ایک ملک نہیں بلکہ ایک دیومالائی خواب بن چکا تھا۔
پھر وقت بدلا۔
جب برطانیہ نے اسٹوڈنٹ ویزے اور ورک پرمٹس کھولے تو ہزاروں پاکستانی نوجوان وہاں پہنچے ،جب ھمارے برطانوی نژاد پاکستانیوں نے ان لوگوں کو برطانیہ میں دیکھا تو ھونا تو یہ چاہیے تھا کہ ان کے ساتھ ویساہی عزت و احترام والا رویہ رکھا جاتا جس طرح یہ طالب علم ان کے پاکستان جانے پر رکھتے تھے لیکن افسوس ایسا نہ ھوا ۔
اور وہاں جا کر پہلی بار انہوں نے حقیقت کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔
وہی لوگ جو پاکستان میں خود کو بہت بڑھا چڑھا کر ہیش کرتے تھے،
وہاں چھوٹی موٹی نوکریاں کرتے،
تنگ فلیٹس میں کئی کئی افراد کے ساتھ رہتے،
اور بمشکل مہینے کا خرچ پورا کر پاتے نظر آئے اور نئے آنے والوں کو حقارت کی نظر سے دیکھنے لگے۔
یوں ایک بہت بڑا پردہ چاک ہو گیا۔
ان کا رحب، وہ ذہنی بت، وہ غیر حقیقی برتری سب ٹوٹ گیا۔
یہی وہ لمحہ تھا جہاں اصل مسئلہ شروع ہوا۔
اب نہ وہ غیر معمولی پروٹوکول رہا،
نہ وہ اندھی عزت،
نہ وہ بے جا فخر۔
پاکستانیوں نے اب برطانیہ کو ایک انسانی جدوجہد والا ملک کے طور پر دیکھا۔،
۔
اس تبدیلی سے سب سے زیادہ نقصان کس کو ہوا؟
انہیں، جن کی ساری پہچان "صرف ہم ' پر کھڑی تھی۔
جب یہ مصنوعی برتری ختم ہوئی،
تو اس کا ردعمل نفسیاتی تلخی کی صورت میں سامنے آیا۔
اسی تلخی نے آہستہ آہستہ
نئے آنے والے طالب علموں اور ورک پرمٹ والوں کے خلاف
سرد مہری اور بغض کو جنم دیا۔
ایک اور اہم پہلو یہ بھی ہے کہ
نئے آنے والے نوجوان اب زیادہ باخبر، زیادہ حقیقت پسند اور زیادہ خوددار ہیں۔
وہ کسی کے جھوٹے رعب میں نہیں آتے،
نہ ہی کسی کو بلا وجہ سر پر بٹھاتے ہیں۔
یہ خود اعتمادی بھی کچھ لوگوں کو ناگوار گزرتی ہے۔

آج اس پہ بات کرتے ہیں کہ انگلینڈ میں بندہ ماہانہ کتنے پیسے کماتا ہے؟ایک عام بندہ جس نے تعلیم مکمل کی ہو، ورک ویزے پر ہو ...
01/10/2026

آج اس پہ بات کرتے ہیں کہ انگلینڈ میں بندہ ماہانہ کتنے پیسے کماتا ہے؟

ایک عام بندہ جس نے تعلیم مکمل کی ہو، ورک ویزے پر ہو اور پورا مہینہ کام کرے تو سارے اخراجات نکال کر کم از کم تین سے چار لاکھ بچت آرام سے کر لیتا ہے ۔۔۔

اب بات کرتے ہیں سٹوڈنٹس کی۔۔
انگلینڈ آ کر سب سے پہلی بات آپ کے روزگار کی ہوتی ہے اگر آپ کو پہلے تین چار مہینوں میں جاب مل جائے تو بہتر ہوتا ہے ورنہ لوگ اکثر 6-7 مہینے بس گزارہ ہی چلاتے ہیں ۔۔۔

دوسری بات ہے کہ آپ کے جاب کی نوعیت کیا ہے، آپ کیا کام کر رہے ہیں، قانونی گھنٹوں پہ کام کر رہے ہیں یا غیرقانونی۔۔۔
اگر آپ قانونی طور پر صرف 20 گھنٹے فی ہفتہ کے حساب سے کام کر رہے ہیں تو آپ کی ماہانہ آمدن تقریبا 976 پاونڈز ہوتی ہے، رینٹ ، کھانا پینا اور دیگر بلز وغیرہ نکال کر 100 سے دو سو پاونڈز آپ کی بچت ہو سکتی ہے۔۔۔

اگر آپ کیش پر کام کر رہے ہیں تو اس کا حساب الگ الگ ہوتا ہے، اس میں دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ آپ کو کتنے گھنٹے کام مل رہا ہےاور فی گھنٹہ آپ کو کتنے پیسے ملتے ہیں، ایک اندازے کے مطابق کیش پر کام کرنے والے تقریبا 1400 سے 1800 پاونڈز تک ماہانہ کماتے ہیں۔۔۔

اس میں بچت تو ہوتی ہے لیکن اگر آپ پکڑے گئے تو پھر سیدھا اپنے ملک بھیج دئے جائیں گے، اور یہ کام انسانوں کی طرح نہیں بلکہ گدھوں کی طرح کرنی ہوتی ہے کیونکہ جو بندہ کیش پہ ہوتا ہے اس کے جاب کی کوئی گارنٹی نہیں ہوتی اور ایمپلائر کسی بھی وقت آپ کو نکال سکتا ہے۔۔۔

یہاں ایک بات اور یاد رکھیں کہ انگلینڈ میں آپ انسان نہیں بلکہ پیسوں کی ایک مشین کی طرح کام کرتے ہیں، جسکی نہ نیند ہوتی ہے، نا کھانے پینے کا وقت، بس ہر وقت ایک نہ ختم ہونے والی دوڑ۔۔۔

01/09/2026

انگلینڈ میں ڈلیوری ڈرائیورز اور ان کے حالات۔۔۔

دراصل جو سٹوڈنٹس یہاں آتے ہیں ان کو ڈیلیوری کے کام کی بلکل اجازت نہیں ہے اور وقتا فوقتا پولیس ان پہ چھاپے مار کر ان کو پکڑتے بھی ہیں اور پھر سیدھا اپنے ملک بھیجتے ہیں۔۔۔

سٹوڈنٹس کسی اور کا اکاونٹ استعمال کرتے ہیں اور ہفتے کی کمائی میں سے اکاونٹ ہولڈر کو 100-150 پاونڈز دیتے ہیں، حکومت نے قانون سخت کیا تو اوبر اور ڈیلیورو نے بھی پالیسیاں سخت کیں، پہلے وہ اکاونٹ ہولڈر کی سیلفی مانگتے تھے جو اکاونٹ ہولڈر اپنے موبائل سے اپلوڈ کر لیتا تھا لیکن پھر معاملہ بدل گیا۔۔۔

کچھ عرصہ بعد صرف اسی موبائل سے اکاونٹ ہولڈر کی سیلفی اپلوڈ ہو سکتی تھی جس میں اکاونٹ لاگ ان ہوتا تھا اور یہ دن میں صرف ایک بار ہوتا تھا، پھر تھوڑے عرصے بعد معاملہ اور سخت ہوگیا، اب دن میں دو سے تین بار سیلفی اپلوڈ کرنی ہوتی ہے جس میں کام کرنا تقریبا نا ممکن ہوگیا ہے۔۔۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ جو لوگ ڈیلیوری کرتے ہیں وہ کبھی ادھر ہوتے ہیں کبھی ادھر، اسی طرح اکاونٹ ہولڈرز کی ڈیوٹی کبھی ادھر کبھی ادھر، کبھی وہ گھر ہوتے ہیں کبھی کام پہ، تو بار بار ان کے پاس سیلفی کیلئے آنے جانے میں گھنٹے لگ جاتے ہیں اور اس بات کی گارنٹی پھر بھی نہیں ہوتی کہ سیلفی دوبارہ کتنی دیر میں مانگی جائے گی۔۔

اب ڈیلیوری صرف وہ لوگ کر سکتے ہیں جن کے پاس اپنا اکاونٹ ہو اور اکاونٹ کیلئے ضروری ہے کہ آپ کی ڈگری مکمل ہو اور آپ ورک ویزے پر ہوں نا کہ سٹوڈنٹ ویزے پر۔۔۔

جو لوگ آپ کو بتا رہے ہیں کہ ڈیلیوری میں اتنا پیسہ ہے اور دن کے 100 اور مہینے کی تین ہزار پاونڈز، سو ان سے یہ سوال ضرور کیا کریں کہ کیا ہم سٹوڈنٹ ہو کے یہ کام اب کر سکتے ہیں؟

آج کل یوکے 🇬🇧 اسٹوڈنٹ ویزا کیوں ریفیوز ہو رہے ہیں؟آج کل یوکے اسٹوڈنٹ ویزا پہلے کے مقابلے میں زیادہ سختی سے چیک کیا جا رہ...
01/09/2026

آج کل یوکے 🇬🇧 اسٹوڈنٹ ویزا کیوں ریفیوز ہو رہے ہیں؟

آج کل یوکے اسٹوڈنٹ ویزا پہلے کے مقابلے میں زیادہ سختی سے چیک کیا جا رہا ہے۔ یوکے حکومت نے امیگریشن کنٹرول کو مضبوط کرنے کے لیے ویزا پالیسی میں واضح تبدیلیاں کی ہیں، جس کا سب سے زیادہ اثر اسٹوڈنٹ ویزا اپلیکیشنز پر پڑ رہا ہے۔ اب صرف ایڈمیشن لینا کافی نہیں رہا، بلکہ ہر اپلیکیشن کو اس بنیاد پر جانچا جاتا ہے کہ آیا طالب علم واقعی پڑھائی کے مقصد سے آ رہا ہے یا نہیں۔

سب سے بڑی وجہ فنانشل پروف ہے۔ بہت سے ویزا ریفیوز اس لیے ہو رہے ہیں کیونکہ بینک اسٹیٹمنٹ مکمل نہیں ہوتی، مطلوبہ رقم مقررہ مدت تک برقرار نہیں رکھی جاتی، یا فنڈز کے سورس واضح نہیں ہوتے۔ یوکے ویزا آفیسر اب اس بات پر خاص توجہ دیتا ہے کہ طالب علم کے پاس نہ صرف فیس بلکہ یوکے میں رہائش اور اخراجات پورے کرنے کی حقیقی صلاحیت بھی موجود ہو۔

دوسری اہم وجہ Genuine Student Test ہے۔ اب UKVI یہ جانچتا ہے کہ آیا اپلائی کرنے والا واقعی تعلیم حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے یا وہ اسٹوڈنٹ ویزا کو کسی اور مقصد کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔ اگر applicant کا تعلیمی بیک گراؤنڈ، کورس کا انتخاب اور مستقبل کا پلان آپس میں match نہ کرے تو ویزا آفیسر کو شک ہو جاتا ہے، جس کا نتیجہ اکثر ریفیوزل کی صورت میں نکلتا ہے۔

CAS (Confirmation of Acceptance for Studies) سے متعلق مسائل بھی ایک بڑی وجہ ہیں۔ اگر CAS میں دی گئی معلومات اور ویزا اپلیکیشن میں فرق ہو، جیسے کورس لیول، فیس، اسپانسرشپ یا سٹڈی گیپ کی وضاحت نہ ہونا، تو ویزا ریفیوز ہو سکتا ہے۔ بعض اوقات یونیورسٹی کی طرف سے معمولی سی administrative غلطی بھی applicant کے لیے بڑا مسئلہ بن جاتی ہے۔

انگریزی زبان کی اہلیت بھی ایک اہم فیکٹر ہے۔ کئی درخواستیں اس لیے ریفیوز ہو رہی ہیں کیونکہ applicant نے UKVI سے منظور شدہ English language test فراہم نہیں کیا ہوتا۔ صرف ESOL یا غیر منظور شدہ سرٹیفکیٹ بعض کیسز میں قابل قبول نہیں ہوتے، خاص طور پر جب یونیورسٹی یا ویزا آفیسر کو language level پر شک ہو۔

اس کے علاوہ documentation errors بھی ویزا ریفیوزل کی عام وجہ ہیں۔ ادھورے کاغذات، غلط فارمیٹ، نام یا تاریخ میں فرق، یا کسی ضروری دستاویز کا miss ہو جانا، یہ سب ایسی غلطیاں ہیں جو بظاہر چھوٹی لگتی ہیں مگر ویزا آفیسر کے لیے فیصلہ کن بن جاتی ہیں۔

آخر میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یوکے اسٹوڈنٹ ویزا کا مقصد صرف ویزا دینا نہیں بلکہ یہ یقینی بنانا ہے کہ طالب علم واقعی تعلیم حاصل کرے، قوانین کی پابندی کرے اور پڑھائی مکمل ہونے کے بعد درست راستہ اختیار کرے۔ اسی لیے آج کل ویزا اپلیکیشن میں سچائی، وضاحت اور مضبوط تیاری پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو گئی ہے


12/26/2025

امین الحق، جو پاکستان کے علاقے ملاکنڈ سے تعلق رکھنے والا 23 سالہ نوجوان تھا، برطانیہ کے علاقے لنکاشائر میں ایک افسوسناک حادثے میں جان کی بازی ہار گیا۔ وہ اپنے طالب علم دوستوں کے ساتھ دریا پار کرنے کے مقابلے میں شامل تھا، جس دوران وہ آدھے راستے میں ڈوب گیا۔ خوش قسمتی سے اس کے دوست محفوظ رہے۔

امین اپنے خاندان کا اکلوتا بیٹا تھا۔ وہ بہتر مستقبل بنانے اور پاکستان میں اپنے خاندان کی مدد کرنے کے خواب کے ساتھ ورک ویزا پر برطانیہ آیا تھا۔ اس خواب کے لیے اس کے خاندان نے بڑی قربانیاں دیں اور ویزا، سفر اور دیگر اخراجات پورے کرنے کے لیے تقریباً 50 لاکھ روپے کی اپنی زمین فروخت کر دی۔

بدقسمتی سے، لنکاشائر میں ایک دریا سے امین کی لاش ملی۔ پولیس کے مطابق امین دو دن سے لاپتہ تھا اور بعد میں اس کی لاش دریا سے برآمد ہوئی۔ پولیس نے کہا ہے کہ اس واقعے میں کوئی مشکوک بات سامنے نہیں آئی۔ تاہم، ایک نوجوان کی اس اچانک موت نے اس کے خاندان، دوستوں اور پاکستانی کمیونٹی کو شدید صدمے اور غم میں مبتلا کر دیا ہے۔

امین کے اہلِ خانہ نے گریٹر مانچسٹر پولیس سے مزید تحقیقات کرنے کی اپیل کی ہے۔ اس کے والدین پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہے کیونکہ وہ اپنے اکلوتے بیٹے، جو ان کا واحد سہارا اور امید تھا، کو کھو چکے ہیں۔

Address

Manchester
Bradford, PA
M1

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pardesi But Desi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share