07/13/2026
"یہ تو تاریخ کا بہت دہرایا ہوا تجربہ ہے کہ طاقتور سے طاقتور قوم کہیں پھنس جائے تو ایک مرحلہ آتا ہے جب عقل اور شعور کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ لیڈر پھر اپنے ہی بنائے ہوئے تصوراتی خ*ل میں بند ہو کر رہ جاتے ہیں۔ جتنا بھی کوئی باہر سے کہے کہ پاگل پن کے فیصلے موڑے جائیں اور دلدل سے نکلنے کی کوشش کی جائے، ایسی باتیں ایسے کانوں پر پڑتی ہیں جو کچھ سننے کے قابل نہیں رہتے۔ کچھ ایسی ہی کیفیت 71ء میں پائی گئی، جب اُس وقت کی ریاستی قیادت مشرقی پاکستان کے حالات کو سمجھنے کے قابل نہ رہی"۔ ایاز امیر