News Extra

News Extra Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from News Extra, News & Media Website, Illinois USA, Chicago, IL.
(2)

اداکارہ مومنہ اقبال ہراسانی کیس ایک دو دن میں مکمل کر لیا جائے گا، ڈی جی NCCIA ڈی جی نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجن...
05/22/2026

اداکارہ مومنہ اقبال ہراسانی کیس ایک دو دن میں مکمل کر لیا جائے گا، ڈی جی NCCIA

ڈی جی نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے کہا ہے کہ اداکارہ مومنہ اقبال کیس میں دونوں جانب سے جو بھی بیانات ریکارڈ ہوں گے، ایک دو دن میں کیس مکمل کر لیا جائے گا۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی این سی سی آئی اے نے کہا کہ مومنہ اقبال کیس کو لاہور آفس ڈیل کر رہا ہے، دونوں جانب سے جو بھی بیانات ریکارڈ ہوں گے، ایک دو دن میں کیس مکمل کر لیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ خواتین کے کیسز این سی سی آئی اے کی اولین ترجیح ہیں۔

ڈی جی این سی سی آئی اے نے کہا کہ این سی سی آئی اے غریب اور امیر میں فرق نہیں کرتا۔ صحافی ہم سب کے لیے سب سے اہم ہیں اور صحافی پورے معاشرے کی آنکھیں اور کان ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر کوئی ریاست کے خلاف بات کرے گا تو کارروائی ہوگی۔ ڈی جی این سی سی آئی اے کے مطابق کچھ لڑکوں کو گرفتار کیا گیا تھا جو کہہ رہے تھے کہ سوات کو افغانستان کا حصہ ہونا چاہیے۔

ڈی جی این سی سی آئی اے نے کہا کہ اگر این سی سی آئی اے ریاستِ پاکستان پر اعتماد نہ رکھنے والوں کے خلاف کارروائی نہ کرے تو پھر کیا کرے۔ انہوں نے بتایا کہ این سی سی آئی اے کے ملک بھر میں 480 اہلکار ہیں اور ادارہ اپنی اندرونی استعداد کار بڑھا رہا ہے۔

میں عقیل ہوں اور میں نمرا کے نخرے اٹھاتا ہوں لائن سے مشہور عقیل نے دوبارہ والد بننے پر بیوی کا چہرہ پہلی بار دنیا کو دکھ...
05/22/2026

میں عقیل ہوں اور میں نمرا کے نخرے اٹھاتا ہوں لائن سے مشہور عقیل نے دوبارہ والد بننے پر بیوی کا چہرہ پہلی بار دنیا کو دکھا دیا

معروف سوشل میڈیا انفلوئنسر M Akeel، جو اپنی مشہور لائن “میں ہوں اکیل اور میں نمرہ کے نخرے اٹھاتا ہوں” کی وجہ سے سوشل میڈیا پر بے حد مقبول ہوئے، ایک بار پھر خبروں میں آگئے ہیں۔ اس بار وجہ ان کے ہاں دوسرے بچے کی پیدائش اور اس موقع پر اپنی اہلیہ نمرہ کا چہرہ پہلی مرتبہ مداحوں کو دکھانا بنی۔

سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز اور تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ M Akeel نے اپنے دوسرے بچے کی آمد کی خوشی میں مداحوں کے ساتھ خصوصی لمحات شیئر کیے۔ اسی دوران انہوں نے پہلی بار اپنی اہلیہ نمرہ کا چہرہ بھی نمایاں طور پر دکھایا، جس کے بعد سوشل میڈیا پر یہ موضوع تیزی سے وائرل ہوگیا۔

یاد رہے کہ M Akeel اور نمرہ کی جوڑی پاکستان میں سوشل میڈیا کی مقبول ترین جوڑیوں میں شمار ہوتی ہے۔ اکیل اپنی ویڈیوز میں اکثر مزاحیہ انداز میں “میں ہوں اکیل اور میں نمرہ کے نخرے اٹھاتا ہوں” کہہ کر مداحوں کو محظوظ کرتے رہے ہیں، اور یہی جملہ ان کی پہچان بن چکا ہے۔

مداحوں کی بڑی تعداد نے اکیل اور نمرہ کو دوسرے بچے کی پیدائش پر مبارکباد دی اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ کئی صارفین نے نمرہ کا چہرہ سامنے آنے پر حیرت کا اظہار کیا جبکہ بعض مداحوں نے اس جوڑی کو “پاکستان کی سب سے پیاری سوشل میڈیا فیملی” قرار دیا۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی پوسٹس پر لاکھوں ویوز اور تبصرے آچکے ہیں، جہاں مداح اس نئے مرحلے پر خوشی کا اظہار کررہے ہیں۔ کئی صارفین کا کہنا ہے کہ M Akeel نے ہمیشہ اپنی فیملی کو عزت اور محبت کے ساتھ پیش کیا، اسی وجہ سے لوگ ان سے خاص لگاؤ رکھتے ہیں۔

پشاور سے  11 سالہ حرم سعید اغوا کے بعد سندھ اور پھر کچے کے ڈاکووں کے ہتھے چڑھ گئی، پولیس حرم کو چھڑانے میں ناکام گذشتہ ک...
05/22/2026

پشاور سے 11 سالہ حرم سعید اغوا کے بعد سندھ اور پھر کچے کے ڈاکووں کے ہتھے چڑھ گئی، پولیس حرم کو چھڑانے میں ناکام
گذشتہ کئی روز سے لاپتا ہونے والی 11 سال کی حرم سعید نے جب اغوا کاروں کے فون کے ذریعے اپنی ماں سے کہا کہ ’امی، یہ کہہ رہے ہیں کہ مجھے مار کر دریا میں پھینک دیں گے‘ تو اس وقت خوف میں مبتلا والدہ کے ذہن میں پولیس سے مدد حاصل کرنے کا خیال تک نہیں آیا۔ انہوں نے یہ خیال بھی نہ کیا کہ وہ کس خطرے کی طرف جا رہی ہیں۔
وہ رات کے کسی پہر سندھ کے شہر شکارپور کے کچے کے علاقے کی طرف جاتی ایک ویگن میں سوار بار بار اپنے فون کی سکرین پر دیکھ رہی تھیں۔
دوسری طرف ان کی 11 سالہ بیٹی کی کانپتی ہوئی آواز ان کے کانوں میں گونج رہی تھی کہ ’امی جلدی آئیں… یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ مجھے مار کر دریا میں پھینک دیں گے۔‘
یہ کہانی صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے دلازاک روڈ پر رہنے والے ایک ایسے خاندان کی ہے جس کی زندگی 28 مارچ کی شام اچانک بدل گئی۔
کائنات سعید (فرضی نام) نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’ان کا بنیادی تعلق مردان سے ہے جبکہ اس وقت وہ پشاور میں رہائش پذیر ہیں۔‘
وہ بتاتی ہیں، ’میرے چار بچے ہیں، ایک بیٹا اور تین بیٹیاں۔ دو بیٹیوں کی شادی ہو چکی ہے جبکہ بیٹا 15 سال کا ہے۔‘
ان کے شوہر کراچی کے علاقے مومن آباد میں پرچون کی دکان چلاتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ’وہ 28 مارچ 2026 کو اپنی بڑی بیٹی کے ہاں گئی تھیں۔‘
انہوں نے اس حوالے سے کہا کہ ’میری بڑی بیٹی امید سے تھی۔ میں ان کے ساتھ ہسپتال میں تھی۔ بچے کی پیدائش کے بعد میں ان کے ساتھ ان کے گھر بھی گئی۔ میری چھوٹی بیٹی حرم گھر پر اکیلی تھی۔ بدقسمتی یہ ہوئی کہ میں ہمیشہ دروازہ باہر سے لاک کر کے جاتی ہوں لیکن اس دن بھول گئی۔‘
ان کے مطابق وہ جب شام کو گھر واپس آئیں تو دروازہ باہر سے بند تھا جبکہ گھر پر ان کی بیٹی موجود نہیں تھی۔
کائنات سعید کے مطابق انہوں نے آس پاس اپنی بیٹی کو ڈھونڈا اور پڑوسیوں سے بھی پوچھا لیکن کوئی معلومات نہیں ملیں جس پر انہوں نے اس بارے میں پڑوسیوں سے پوچھا۔
ان کا اس دن کے حوالے سے کہنا تھا کہ ’میں نے پڑوسیوں سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ حرم کہہ رہی تھی اسے بھوک لگی ہے وہ بریانی لینے جا رہی ہے۔‘
یوں ابتدا میں خاندان نے یہ سمجھا کہ وہ شاید کسی رشتہ دار کے ہاں گئی ہوگی لیکن کئی گھنٹے گزرنے کے بعد تشویش بڑھنے لگی۔
انہوں نے کراچی میں مقیم اپنے شوہر کو آگاہ کیا۔ اگلے روز وہ پشاور کے لیے نکلے۔ کائنات سعید دعویٰ کرتی ہیں کہ دو روز بعد انہیں ایک نامعلوم نمبر سے کال موصول ہوئی اور انہیں بتایا گیا کہ ان کی بیٹی مبینہ طور پر اغوا کر لی گئی ہے اور اس وقت سکھر میں ہے۔
مجھے فون پر یہی اطلاع دی گئی اور فون بند ہوگیا۔ پھر دوبارہ کال آئی تو اغوا کاروں نے بتایا کہ 30 لاکھ روپے دے کر اپنی بیٹی لے جائیں۔
یہ خاندان متوسط طبقے سے تعلق رکھتا ہے۔کائنات کہتی ہیں کہ ’ان کے لیے اس قدر رقم کا بندوبست کرنے کا تصور کرنا بھی ممکن نہیں تھا۔‘
انہوں نے اغواکاروں کے مبینہ مطالبے پر رقم جمع کرنے سے متعلق کہا کہ ’ہم نے 30 لاکھ کی بجائے 15 لاکھ روپے دینے کا کہا۔ میں نے زیورات بیچ دیے جبکہ اپنے والد سے بھی قرض لیا۔ میرے شوہر نے اپنے بھائی سے قرض لیا۔ اس طرح 14 لاکھ 70 ہزار روپے جمع ہوئے۔‘
ان کے مطابق اغوا کار 15 لاکھ روپے لینے پر راضی ہوگئے تھے۔ کائنات اپنے شوہر اور بیٹے کے ہمراہ سکھر پہنچیں تو مبینہ طور پر اغوا کاروں نے ان کو ہدایات دینا شروع کر دیں۔ پہلے انہیں بتایا گیا کہ وہ ایک بائی پاس پر اتر جائیں جس کے بعد انہیں شوہر اور بیٹے کے بغیر ویگن میں نواب شاہ آنے کے لیے کہا گیا۔
کائنات بتاتی ہیں کہ ’ان کے شوہر بار بار پولیس کو اطلاع دینے کا کہتے رہے لیکن وہ خوف زدہ تھیں۔‘
اس حوالے سے ان کا مؤقف ہے کہ ’میری بیٹی فون پر رو رہی تھی۔ کہہ رہی تھی امی یہ لوگ مجھے مار دیں گے۔ میں نے اپنے شوہر سے کہا میری بیٹی کو اگر کچھ ہوا تو ذمہ دار آپ ہوں گے۔‘
وہ سکھر سے ویگن میں سوار ہو کر کچھ فاصلے پر ایک پیٹرول پمپ پر اُتر گئیں۔ اغوا کاروں نے اس مقام کے بارے میں فون پر مبینہ طور پر خود خاتون کے ڈرائیور کو بتایا تھا۔
کائنات کی پیٹرول پمپ پر ایک موٹرسائیکل سوار شخص سے ملاقات ہوئی جنہوں نے بتایا کہ ان کی بیٹی ان کے پاس ہیں۔
کائنات کے مطابق، میں اس شخص کے ساتھ روانہ ہوئی اور اسی دوران اپنی لوکیشن شوہر کو بھیج دی۔
خاتون کے مطابق اس کے بعد انہیں ایک ویران مقام پر واقع گھر لے جایا گیا۔
ان کا اس گھر کے حوالے سے دعویٰ ہے کہ ’وہاں ایک بھینس کھڑی تھی اور ایک چارپائی پڑی تھی۔ انہوں نے مجھ سے پیسے لیے اور کہا آپ کی بیٹی لا رہے ہیں لیکن کچھ دیر بعد صورتِ حال بدل گئی۔ میں نے شور مچایا کہ میری بیٹی کہاں ہے؟ تو انہوں نے مجھے اندر بند کر دیا۔‘
وہ دعویٰ کرتی ہیں کہ ’اگلے 8 روز تک اُن پر تشدد ہوتا رہا۔ میرا جسم سگریٹوں سے جلاتے۔ گرم چھری جسم پر رکھتے تھے۔ 8 روز کے دوران گھر میں مختلف لوگ آتے رہے۔ 8 روز گزرنے کے بعد پہلی مرتبہ میری بات میری بیٹی سے کروائی گئی۔‘
خاتون کے مطابق انہیں بتایا گیا کہ اب انہیں ان کی بیٹی کے پاس لے جایا جا رہا ہے۔ مبینہ طور پر انہیں فون بھی واپس کر دیا گیا جس پر انہوں نے اپنے شوہر کو اطلاع دی اور بتایا کہ انہیں شاید بیٹی کے پاس لے جایا جا رہا ہے۔
خاتون کے مطابق تین گھنٹے کے سفر کے بعد وہ شکارپور کے کچے کے علاقے میں پہنچیں۔
’یہ جنگل جیسا علاقہ تھا۔ کانٹوں سے ایک عارضی جگہ بنائی گئی تھی۔ وہاں میں نے اپنی بیٹی کو دیکھا تو مجھے تسلی ہوئی۔ میں نے اسے گلے لگا لیا۔‘
خاتون کا کہنا ہے کہ ’ان کی بیٹی کا ان کے سامنے نکاح کروایا گیا اور ان کی ویڈیو بھی بنائی گئی۔‘
انہوں نے کہا کہ ’میں نے شوہر کو بتایا تو انہوں نے کہا کسی طرح وہاں سے نکل آؤ۔ ایک ڈاکو نے کہا کہ تمہاری بیٹی کے بدلے میں نے 8 لاکھ روپے دیے ہیں اب اسے ایسے کیسے جانے دیں؟‘
وہ کہتی ہیں کہ ’میں یہ سن کر چیخی چلائی لیکن مجھ پر تشدد کیا جاتا رہا۔ میری بیٹی کہتی امی خاموش رہیں، یہ بہت مارتے ہیں۔‘
ان کے مطابق اغوا کاروں نے ایک مرتبہ پھر 15 لاکھ روپے مانگے اور اُنہیں واپس بھیج دیا، جس کے بعد وہ مبینہ طور پر سکھر تھانے پہنچ گئیں۔
یہ معاملہ اس دوران سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا۔ کچھ صارفین نے دعویٰ کیا کہ ماں نے مبینہ طور پر خود اپنی بیٹی کو فروخت کیا ہے تاہم خاتون ان الزامات کو سختی سے مسترد کرتی ہیں۔
ان کا اس حوالے سے کہنا ہے ’میری بیٹی بازیاب ہونے کے بعد تفتیش کر لیجیے گا۔ کوئی ماں اپنی پھول جیسی بیٹی کو فروخت نہیں کر سکتی۔ لوگ کہانیاں بنا رہے ہیں۔‘
دوسری جانب شکارپور کے کچے کے علاقے رستم میں 11 سالہ مغوی بچی کی بازیابی کے لیے پولیس کا آپریشن جاری ہے جبکہ کارروائی کے دوران ایک ملزم زخمی ہوگیا اور اس کے ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔
ایس ایس پی شکارپور کلیم ملک کے مطابق کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے دودانی، مصرانی اور جتوئی گروہوں کے خلاف آپریشن کیا جا رہا ہے، جس کے دوران ان کے متعدد ٹھکانے مسمار کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’زخمی ملزم کی تلاش اور فرار ملزموں کے تعاقب کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔‘
خاتون کے مطابق آج انہیں اطلاع دی گئی ہے کہ بچی بازیاب ہو گئی ہے اور بعض مشتبہ افراد کو گرفتار بھی کیا جا چکا ہے۔
حرم کی والدہ کائنات سعید نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’ہمیں ایس ایس پی شکارپور نے بلایا ہے۔ کہا گیا ہے کہ کل رات کچھ لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔‘
یہ واقعہ سیاسی حلقوں میں بھی زیر بحث آیا۔ عوامی نیشنل پارٹی کے صدر ایمل ولی خان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ انہوں نے ’ایک بے بس ماں کی فریاد‘ سنی اور سندھ حکومت سے فوری اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے بعد میں سوشل میڈیا پر لکھا کہ کچھ لوگ ’اس افسوس ناک واقعے کو غلط رنگ دینے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ توجہ بچی کی بازیابی پر ہونی چاہیے

05/22/2026

ٓآٹھ ماہ ہوچکے، اداکارہ کے ساتھ کوئی فون کال یا رابطہ نہیں ہوا، مومنہ اقبال ویمن کارڈ کھیل رہی ہے، ایم پی اے ثاقب چدھڑ کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) لیگی ایم پی اے ثاقب چد ھٹر کا کہنا ہے آٹھ ماہ ہوگئے ہیں اداکارہ مومنہ اقبال کو کوئی کال نہیں کی ، اس کے ساتھ اب میرا کوئی رابط نہیں ہے ۔

اپنے ویڈیو بیان میں انہوں نے کہا میرے پاس سب ریکارڈ ہے ،مومنہ اقبال ویمن کارڈ کھیل رہی ہے ،اسکے ہونے والے خاوند نے اسکے موبائل میری کوئی ویڈیو دیکھی ، وہ ویڈیو دیکھ کر طیش میں آگئے اور مجھے کال کر کے دھمکی دی ۔ میں نے اس حوالےسے تھانے میں دراخوست بھی دی کے اس نمبر سے مجھے دھمکیاں دی جارہی ہیں ۔ مجھے تو اب پتہ چلا ہے کہ وہ شادی کرنے جارہی ہیں ۔مومنہ کی والدہ نے بھی کال کی اور معافی مانگی ہے ،میں نے کوئی کال کی ہو وہ ثبوت پیش کرے ۔

05/22/2026

سعد ایدھی سمیت گلوبل صمود فلوٹیلا کے 430 رضاکار رہا ہوگئے

سماجی رہنما سعد ایدھی سمیت گلوبل صمود فلوٹیلا کے 430 رضاکار رہا ہوگئے۔

اے آر اوئی نیوز کے مطابق اسرائیلی فورسز کی جانب سے حراست میں لیے گئے سعد ایدھی سمیت گلوبل صمود فلوٹیلا کے 430 رضاکاروں کو رہائی کے بعد استنبول منتقل کرنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔

امریکا میں مقیم فلسطینیوں کی تنظیم عدالہ کا کہنا ہےکہ امدادی کارکنوں کو اسرائیل بدر کیا جارہا ہے۔

سعد ایدھی سمیت گلوبل صمود فلوٹیلا کے 430 رضاکار غزہ امداد لے کر جارہے تھے اس دوران اسرائیلی فورسز نے انہیں حراست میں لیا تھا۔

واضح رہے کہ سعد ایدھی "گلوبل صمود فلوٹیلا” بین الاقوامی امدادی مشن کا حصہ ہیں، جو غزہ کے محصور مسلمانوں تک انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد پہنچانے کی کوشش کر رہا تھا۔

یہ امدادی مشن 14 مئی 2026 کو ترکیہ کے علاقے مارماریس سے روانہ ہوا تھا، جس میں سعد ایدھی سمیت دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے 500 سے زائد امدادی کارکنان شامل تھے۔

اسرائیلی فوج کی جانب سے حراست میں لیے جانے سے چند لمحے قبل سعد ایدھی نے ہنگامی ویڈیو بیان بھی جاری کیا تھا۔ ویڈیو میں اسرائیلی فوج کو امدادی مشن پر حملہ کرتے اور کارروائی کرتے ہوئے واضح طور پر دیکھا گیا۔

ایدھی فاؤنڈیشن اور عالمی رضاکاروں کی جانب سے فلسطینیوں کے لیے امدادی سامان پہنچانے کی اس پرامن کوشش کو اسرائیلی فورسز نے طاقت کے زور پر روک کر امدادی کارکنان کو قیدی بنا لیا۔

05/22/2026

میری پرائیویٹ تصاویر ثاقب چدھڑ کے موبائل میں ہیں۔ ثاقب چدھڑ کو پرائیویٹ تصاویر پبلک کرنے سے روکا جائے: اداکارہ مومنہ اقبال کا ے این سی سی آئی میں بیان

(ویب ڈیسک)اداکارہ مومنہ اقبال کے این سی سی آئی اے کو دئیے گئے بیان کی تفصیلات سامنے آ گئی۔

تفصیلات کے مطابق مومنہ اقبال نے ثاقب چدھڑ پر پرائیویٹ تصاویر پبلک کرنے کا الزام لگا دیا۔ مومنہ اقبال نے بیان میں کہا کہ میری پرائیویٹ تصاویر ثاقب چدھڑ کے موبائل میں ہیں۔ ثاقب چدھڑ کو پرائیویٹ تصاویر پبلک کرنے سے روکا جائے۔

حکام ذرائع کا کہنا ہے کہ ثاقب چدھڑ کے موبائل کے فرانزک کے بعد ہی پتا چلے گا کہ آیا تصاویر پبلک ہوئیں یا نہیں۔

این سی سی آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ این سی سی آئی اے نے مومنہ اقبال کے بیان کے بعد ثاقب چدھڑ کو فون دینے کے لیے ثمن کر دیا۔ ثاقب چدھڑ کے فون کے فرانزک کے بعد اصل حقائق سامنے آ سکیں گئے۔

05/22/2026

پاکستان کرکٹ میں کوئی دلچسپی نہیں رہی، پیسے ملتے ہیں اس لیے دیکھ لیتا ہوں‘

سابق فاسٹ بولر شعیب اختر قومی ٹیم کی بنگلادیش کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں عبرتناک شکست پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

راولپنڈی ایکسپریس شعیب اختر نے کہا کہ میری کرکٹ میں دلچسپی ختم ہوگئی ہے اب صرف نوکری کے لیے آتا ہوں کیونکہ پیسے ملتے ہیں، کھلاڑی اس قسم کی پرفارمنس دیں گے تو آپ اب کیا کرسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شان مسعود سمیت کوئی بھی ٹیسٹ ٹیم کا کپتان بننے کے لائق نہیں ہے۔

سابق فاسٹ بولر نے کہا کہ اگر آپ کو وائٹ بال کا کپتان بنانا تھا تو فخر زمان کو بناتے اور اس کو نہ اوپنر ہٹانے اور نہ کپتان ہٹانے اسے وقت دیتے تو نتائئج اچھے آتے۔

شعیب اختر نے کہا کہ شاہین آفریدی کو ون ڈے کے بجائے ٹی 20 کا کپتان بنایا جانا چاہیے تھا

واضح رہے کہ بنگلادیش نے پاکستان کو دوسرے ٹیسٹ میچ میں 78 رنز سے شکست دے کر دو میچوں کی سیریز میں وائٹ واش کیا، اس سے قبل پاکستان میں بھی بنگلادیش نے پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں کلین سوئپ کیا تھا۔

سابق کرکٹرز کی جانب سے شان مسعود کو کپتانی سے ہٹائے جانے کا مطالبہ کیا جارہا ہے اور کہا جارہا ہے کہ پی سی بی کھلاڑیوں کے خلاف ایکشن لے۔

05/22/2026

دیویا بھارتی اور ممتا کلکرنی مغرور تھیں، بیک گراؤنڈ ڈانسر روبینہ خان کا انکشاف

بھارت کی بیک گراؤنڈ ڈانسر روبینہ خان نے انکشاف کیا ہے کہ دیویا بھارتی اور ممتا کلکرنی مغرور تھیں۔

بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق تجربہ کار بیک گراؤنڈ ڈانسر روبینہ خان نے حال ہی میں بالی ووڈ میں اپنے تجربے کے بارے میں بات کی اور انکشاف کیا کہ دیویا بھارتی اور ممتا کلکرنی مغرور تھیں جبکہ سنجے دت اور متھن چکرورتی نے ہمارے ساتھ دوستوں جیسا سلوک کیا۔

روبینہ خان کا کہنا تھا کہ سنجے دت، اجے دیوگن، جیکی شیروف اور متھن چکرورتی جیسے اداکار اچھا برتاؤ کرتے تھے، یہ اداکار بغیر کسی تکبر کے ڈانسرز کے ساتھ اتفاقاً بات چیت کرتے تھے۔

ڈانسر نے کہا کہ مادھوری ڈکشت بھی ایک شوٹ کے دوران رقاصوں کے ساتھ فرش پر بیٹھیں، لطیفے سنائے اور سب کے ساتھ شائستہ گفتگو کی، کبھی ایسا نہیں لگا کہ وہ ایک سپر اسٹار ہیں اور ہم ڈانسر ہیں۔

ممتا کلکرنی اور دیویا بھارتی کا رویہ

انہوں نے کہا کہ میں برا نہیں کہوں گی لیکن کچھ اداکارائیں شروع میں قدرے مغرور تھیں، وہ اکثر ڈانسرز کو شاٹس کے دوران تھوڑا دور کھڑے ہونے کو کہتی تھیں تاکہ پرہجوم رقص کے سلسلے میں دھکیلنے سے بچ سکیں۔

روبینہ نے اعتراف کیا کہ رقاص بھی اس عمر میں کافی شرارتی تھے اور بعض اوقات ہم جان بوجھ کر غلطیاں کرتے تھے تاکہ انہیں تھوڑا سا پریشان کیا جاسکے۔

ڈانسر نے کہا کہ تبو اور سنجے کپور کی فلم ’پریم‘ کے ایک گانے میں ہمیں بغیر چپل کے شدید گرمی میں مسلسل ناچتے رہنا پڑا، زمین گرم ہورہی تھی اور شوٹ کے اختتام تک سب کے پیروں میں چھالے پڑ گئے۔

بولڈ لباس کا مطلب دگنا معاوضہ

روبینہ یہ بھی انکشاف کیا کہ اگر ہم چھوٹے کپڑے پہنچتے ہیں تو ہمیں مخصوص نرخ ملتے ہیں، بعض اوقات ادائیگی براہ راست دگنی ہوجاتی ہے۔

ان کے مطابق کٹ، وگ، ٹیٹو یا وسیع اسٹائل والے ملبوسات اضافی ادائیگیوں کے ساتھ آئے کیونکہ ڈانسرز کی بنیادی تنخواہ بہت کم ہوتی تھی۔

روبینہ نے یہ بھی بتایا کہ جب انہوں نے انڈسٹری میں قدم رکھا تو وہ روزانہ صرف 175 روپے کماتی تھیں۔ تاہم دہائیاں گزرنے کے باوجود رقاصوں کی تنخواہوں میں خاطر خواہ بہتری نہیں آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پچیس سال پہلے ہمیں اشتہارات کے لیے 3500 روپے ملتے تھے اور آج بھی بہت سی پروڈکشنز اتنی ہی رقم ادا کرتی ہیں۔

05/22/2026

بھارتی اداکار سنجے دت کی بیٹی کے دکھ بھرے بچپن کی دردناک کہانی

عام طور پر فنکاروں کی فیملی کی لائف کو آئیڈیل تصور کیا جا تا ہے اور لوگ سمجھتے ہیں کہ ان کے بچوں کی زندگی عیش و آرام، گلیمر اور ہر طرح کی خوشیوں سے بھری ہوتی ہے، لیکن بولی ووڈ کے مشہور اداکار سنجے دت کی بیٹی تریشالا دت کی کہانی اس کے بالکل برعکس ہے۔

یوٹیوب چینل انسائیڈ تھاٹس آؤٹ لاؤڈ میں گفتگو کرتے ہوئے تریشالا دت نے اپنی زندگی کے مشکل دنوں کا ذکر کیا۔

انہوں نے بتایا کہ نیویارک میں پرورش پاتے ہوئے انہیں نسل پرستی، بدمعاشی، تنہائی اور اپنی والدہ، اداکارہ رچا شرما، کی المناک موت جیسے صدموں کا سامنا کرنا پڑا۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ دنیا انہیں ایک امیر اور نامور خاندان کی بیٹی کے طور پر دیکھتی تھی لیکن ان کا بچپن عام بچوں سے بھی زیادہ مختلف، تنہائی اور درد سے بھرا ہوا تھا، خصوصاً جب وہ محض آٹھ سال کی تھیں تو ان کی والدہ اور اداکارہ رچا شرما دماغ کے کینسر کے باعث انتقال کر گئیں اور وہ نیویارک میں بالکل اکیلی رہ گئیں۔

تریشالا کے مطابق جب وہ صرف پانچ یا چھ سال کی تھیں تو اسکول میں بچوں نے ان کا مذاق اڑانا شروع کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے ہندوستانی ہونے، بھنویں جڑی ہونے، گھنگھریالے بالوں اور چہرے پر بالوں کی وجہ سے نشانہ بنایا جاتا تھا۔

تریشالا نے بتایا کہ جیسے جیسے وہ بڑی ہوئیں یہ سلسلہ مزید بڑھ گیا۔ جب ہائی اسکول میں ان کے ساتھیوں کو معلوم ہوا کہ وہ سنجے دت کی بیٹی ہیں تو ان سے توقعات اور تنقید مزید بڑھ گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ میں سوسائٹی کے معیار پر پورا نہیں اترتی تھی اور لوگ جیسا سنجے دت کی بیٹی کو تصور کرتے تھے، میں ویسی بالکل نہیں دکھتی تھی۔

تریشالا دت نے اپنی والدہ کے انتقال کے بعد کی تنہائی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس صدمے نے مجھے اندر سے توڑ دیا تھا۔ اس دور میں میرے پاس کوئی ایسا نہیں تھا جس سے میں اپنے دل کی بات کر سکتی۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں نے اپنی تنہائی اور دکھ کو مٹانے کے لیے کھانے کا سہارا لیا کیونکہ کھانا میرے خالی پن کو بھرتا تھا اور مجھے سکون دیتا تھا، کاش اس وقت میرے پاس بات کرنے کے لیے کوئی ہوتا۔

انہوں نے بتایا کہ اس اکیلے پن میں انہوں نے تیرہ سال کی عمر سے ڈائری لکھنا شروع کی جو وہ آج بھی لکھتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں ایسے حالات میں آپ کو صرف اپنے آپ پر ہی بھروسہ کرنا پڑتا ہے، میرے پاس بھی اپنے احساسات بانٹنے کے لیے کوئی نہیں تھا، صرف میری ڈائری تھی۔

تریشالا کی زندگی میں ایک بڑا موڑ اس وقت آیا جب ان کی خالا نے ان سے ایک ایسی بات کہی جس نے ان کی سوچ بدل دی۔

تریشالا نے کہا کہ میری خالا نے مجھ سے کہا تھا کہ تریشالا، کوئی بھی تمہارے پاس نہیں آئے گا، تمہیں خود کو خود ہی سنبھالنا ہوگا۔ انہوں نے اس جملے کو اپنی زندگی کا سب سے اہم لمحہ قرار دیا کیونکہ یہی الفاظ ان کے لیے نئی طاقت بن گئے۔

اس کے بعد انہوں نے نفسیات کی تعلیم حاصل کی اور وہ اب ڈپریشن اور ذہنی دباؤ کی معالج بن چکی ہیں۔ اب وہ سمجھتی ہیں کہ لوگ دوسروں کو کیوں تنگ کرتے ہیں۔

تریشالا کا کہنا ہے کہ جب لوگ آپ پر تنقید کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ ان کے اپنے اندر کسی چیز کی کمی ہے، وہ دوسروں کو چھوٹا دکھا کر خود کو بڑا محسوس کروانا چاہتے ہیں۔

تریشالا دت نے والدین کے کردار پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ کے والدین آپ کا ساتھ دینے والے ہوں تو یہ ایک بہت بڑی نعمت ہے۔

انہوں نے والدین کو مشورہ دیا کہ وہ بچوں کو سوشل میڈیا سے دور رکھیں کیونکہ بچپن میں انسانی دماغ ایک اسپنج کی طرح ہوتا ہے جو ہر چیز کو اپنے اندر جذب کر لیتا ہے۔

یادرہے کہ تریشالا دت، سنجے دت اور ان کی پہلی اہلیہ رچا شرما کی بیٹی ہیں۔ رچا 1996 میں کینسر کے باعث انتقال کر گئی تھیں۔

تریشالا امریکا میں اپنے نانا نانی کے ساتھ پلی بڑھیں اور وہاں وہ پیشے کے اعتبار سے ایک ماہرِ نفسیات ہیں۔

سنجے دت کی موجودہ اہلیہ مانیتا دت سے ان کے دو بچے (ایک بیٹا اور ایک بیٹی) ہیں، جن کے ساتھ وہ ممبئی میں رہتے ہیں۔

05/22/2026

ماؤنٹ ایورسٹ پر ایک روز میں سب سےزیادہ سمٹ کا ریکارڈ قائم ہوگیا۔

تفصیلات کے مطابق موسم سازگار ہونے کے بعد ماؤنٹ ایورسٹ پر رش ہے اور نیپال نے رواں سیزن 500 کلائمبنگ پرمٹ جاری کیے ہیں۔

حکام کے مطابق 21 مئی کو 274 کوہ پیماؤں نے دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ سر کرکےنیاریکارڈ قائم کیا۔

رواں سیزن 56 سالہ کیمی ریتا شیرپانے 32 ویں بار ایورسٹ سرکرکے اپنا عالمی ریکارڈ مزیدبہترکیا جبکہ 52 سالہ لکھپا شیرپا نے11ویں بار ایورسٹ سر کر کے خواتین میں نیا ریکارڈ قائم کیا۔

اس کے علاوہ دونوں ٹانگوں سے محروم روسی کوہ پیما رستم نبیئیف نے صرف ہاتھوں کے سہارے ماؤنٹ ایورسٹ سرکیا۔

واضح رہے کہ ایورسٹ پر ایک روز میں کامیاب سمٹ کا پرانا ریکارڈ 2019 میں 223 کوہ پیماؤں کا تھا۔

Address

Illinois USA
Chicago, IL
60163

Telephone

+17085095789

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when News Extra posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to News Extra:

Share