HumSub Videos

HumSub Videos Videos Produced by HumSub.com.pk

خالد جاوید سے سیکھیںرفاقت حیاتوقت سے بڑا نقاد کوئی نہیں۔ اس لیے کسی ادیب یا کتاب کے متعلق، کسی عظیم یا سربرآوردہ ناقد کے...
09/06/2026

خالد جاوید سے سیکھیں
رفاقت حیات

وقت سے بڑا نقاد کوئی نہیں۔ اس لیے کسی ادیب یا کتاب کے متعلق، کسی عظیم یا سربرآوردہ ناقد کے تنقیدی محاکمے یا محاسبے کو بھی حرفِ آخر قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ادب میں کوئی رائے حرفِ آخر نہیں ہوتی۔ کسی ادبی فن پارے کی قدر و قیمت اور اہمیت
مزید پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کریں
https://humsub.com.pk/n/57527/2026/09/06/rafaqat-hayat/

آپ کی توجہ بس چند لمحوں کے لیےسلمیٰ اعوان(میں نے اپنی آپ بیتی کا آغاز کیا ہے۔ یہ اس کا ابتدائیہ ہے )سارا کریڈٹ تو جہلم ب...
09/06/2026

آپ کی توجہ بس چند لمحوں کے لیے
سلمیٰ اعوان

(میں نے اپنی آپ بیتی کا آغاز کیا ہے۔ یہ اس کا ابتدائیہ ہے )
سارا کریڈٹ تو جہلم بک کارنر کے امر شاہد کو جاتا ہے جس نے اپنی یادوں کو لکھنے کی ترغیب دی اور بار بار اصرار بھی کیا۔ ”بہت بھرپور زندگی گزاری ہے آپ نے، اسے لکھیں۔“
مزید پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کریں
https://humsub.com.pk/n/57462/2026/09/06/salma-awan/

مصروف زندگی، خالی دلحافظہ زریاب فاطمہہم جس دور میں سانس لے رہے ہیں، وہاں انسان کے پاس وقت کی کمی نہیں بلکہ سکون کی کمی ہ...
09/06/2026

مصروف زندگی، خالی دل
حافظہ زریاب فاطمہ

ہم جس دور میں سانس لے رہے ہیں، وہاں انسان کے پاس وقت کی کمی نہیں بلکہ سکون کی کمی ہے۔ دن مصروف ہیں، راتیں تھکی ہوئی ہیں اور دل مسلسل کسی انجانی بے قراری میں مبتلا ہے۔ زندگی بظاہر کامیابیوں سے بھری ہوئی دکھائی دیتی ہے، مگر اندر کہیں
مزید پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کریں
https://humsub.com.pk/n/57456/2026/09/06/hafiza-zaryab-fatima/

ایران، امریکہ کشیدگی اور عالمی معیشت کی صورتحالپروفیسر ظفر منصورخلیج میں ایک بار پھر بارود کی بو تیزی سے پھیل رہی ہے۔ ای...
09/06/2026

ایران، امریکہ کشیدگی اور عالمی معیشت کی صورتحال
پروفیسر ظفر منصور

خلیج میں ایک بار پھر بارود کی بو تیزی سے پھیل رہی ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان چھ ماہ سے جاری جنگ، امن کے عارضی کے وقفے کے بعد ، دوبارہ پوری شدت سے بھڑک اٹھی ہے۔ امریکہ نے ایران پر شدید حملے شروع کر دیے ہیں۔ ایران نے
مزید پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کریں
https://humsub.com.pk/n/57450/2026/09/06/zafar-mansoor/

چھ ستمبر وہ دن جب مٹی نے اپنے بیٹوں کا لہو یاد رکھاصاحبزادہ شمس منیر گوندلرات کا آخری پہر تھا۔ لاہور کی گلیوں میں خاموشی...
09/06/2026

چھ ستمبر وہ دن جب مٹی نے اپنے بیٹوں کا لہو یاد رکھا
صاحبزادہ شمس منیر گوندل

رات کا آخری پہر تھا۔ لاہور کی گلیوں میں خاموشی اتر چکی تھی۔ کہیں چراغ مدھم ہو رہے تھے کہیں گھروں کے دروازے بند ہو چکے تھے اور کہیں مائیں اپنے بچوں کو سینے سے لگا کر سو چکی تھیں۔ شہر کو خبر نہ تھی کہ سرحد کے اُس پار
مزید پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کریں
https://humsub.com.pk/n/57447/2026/09/06/sahibzada-shams-muneer-gondal/

بلوچستان: آئین کا وعدہ، زمین کا زخمکریم نوازملک میں جاری تشدد کی جو تصویر ذرائع ابلاغ پیش کرتے ہیں وہ حقیقت کا صرف ایک ر...
09/06/2026

بلوچستان: آئین کا وعدہ، زمین کا زخم
کریم نواز

ملک میں جاری تشدد کی جو تصویر ذرائع ابلاغ پیش کرتے ہیں وہ حقیقت کا صرف ایک رخ ہے، ایک ایسا رخ جس میں شور تو ہے مگر معنی نہیں، تصویر تو ہے مگر پس منظر نہیں۔ اصل اسباب اور محرکات عام آدمی تک پہنچنے ہی نہیں دیے جاتے، یوں
مزید پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کریں
https://humsub.com.pk/n/57444/2026/09/06/kareem-nawaz/

مونی بھائی اور ٹرمپطارق اسحاقہمارے دوست مونی بھائی بھی عجیب ہی شخصیت کے مالک ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر دنیا میں کسی شخص ...
09/06/2026

مونی بھائی اور ٹرمپ
طارق اسحاق

ہمارے دوست مونی بھائی بھی عجیب ہی شخصیت کے مالک ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر دنیا میں کسی شخص نے ان کے ’فنی پائے‘ کا کام کیا ہے، تو وہ ڈونلڈ ٹرمپ صاحب ہیں۔ مونی بھائی ٹرمپ کو صرف ایک عالمی لیڈر نہیں بلکہ اپنا روحانی استاد مانتے
مزید پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کریں
https://humsub.com.pk/n/57441/2026/09/06/tariq-ishaq/

اشوک کا پاکستانحبیب گوہرپاکستان کی قدیم تاریخ کے کچھ اہم زاویے صدیوں سے ہماری توجہ کے منتظر ہیں۔ انہی میں سے ایک کو ”اشو...
09/06/2026

اشوک کا پاکستان
حبیب گوہر

پاکستان کی قدیم تاریخ کے کچھ اہم زاویے صدیوں سے ہماری توجہ کے منتظر ہیں۔ انہی میں سے ایک کو ”اشوک کا پاکستان“ کہا جا سکتا ہے، یعنی موجودہ پاکستان کے جغرافیے میں محفوظ اشوک کے تاریخی، مذہبی، فکری اور آثاریاتی ورثے کا وہ باب جسے ابھی تک ہم نے اپنی تہذیبی یادداشت کا پوری طرح حصہ نہیں بنایا۔ اشوک کا اس سرزمین سے تعلق گہرا اور تہذیبی نوعیت کا حامل ہے، ایک ایسا تعلق جو تحریر سے تعمیر تک پھیلا ہوا ہے۔

ویسے تو اشوک سے صدیوں پہلے بھی یہ خطہ غیر معمولی اہمیت رکھتا تھا۔ گندھارا اور ٹیکسلا قدیم دنیا کے بڑے تجارتی اور تہذیبی راستوں پر واقع تھے۔ لیکن اشوک کے عہد میں اس خطے کی چٹانوں پر ایسے شاہی فرامین نقش ہوئے جن کی روشنی آج بھی ہماری آنکھوں کو خیرہ کرتی ہے۔

اشوک کی اس سرزمین سے وابستگی کی ایک قدیم روایت کے مطابق، اس نے تخت نشین ہونے سے پہلے ٹیکسلا میں بحیثیت گورنر خدمات انجام دیں اور وہاں ہونے والی بغاوت کو تدبر سے ختم کیا۔ گویا اقتدار میں اس کا پہلا امتحان بھی اسی زمین پر ہوا جسے آج ہم پاکستان کہتے ہیں۔

تاریخ میں کبھی کبھار روایت بھی جغرافیے کی یادداشت بن جاتی ہے۔ ٹیکسلا میں اشوک کے بیٹے کنال سے منسوب داستان اسی کی ایک مثال ہے۔ اس کی تاریخی صحت اپنی جگہ، مگر یہ روایت اس بات کی شہادت ضرور ہے کہ اشوک کا نام اس شہر کی تہذیبی یادداشت میں کس قدر گہرائی سے اتر چکا تھا۔

موجودہ پاکستان میں اشوک کی نمایاں ترین یادگاریں مانسہرہ اور شہباز گڑھی کے چٹانی فرامین ہیں۔ دونوں مقامات پر اشوک کے بڑے فرامین خروشتی رسم الخط میں، دائیں سے بائیں، کندہ ہیں۔ یہ تیسری صدی قبل مسیح کے وہ شواہد ہیں جو جنوبی ایشیا میں تحریری ثقافت کے قدیم ترین محفوظ شواہد میں شمار ہوتے ہیں۔

ان فرامین میں اشوک نے اپنی فتوحات کے بجائے رواداری، رحم اور انسان و حیوان کے احترام کے اصول بیان کیے۔ یہی خصوصیت ان کتبوں کو محض آثارِ قدیمہ سے بڑھ کر ایک زندہ اخلاقی مکالمہ بناتی ہے۔

اشوک کے بعد بھی اس خطے کی تہذیبی کہانی ختم نہیں ہوئی؛ صرف اس کا سیاسی اور مذہبی منظرنامہ بدلتا گیا۔ موریہ سلطنت کے زوال کے بعد بھی گندھارا میں بدھ مت کئی صدیوں تک زندہ رہا اور کشان عہد میں اس نے غیر معمولی فروغ پایا۔ بعد کے زمانے میں سیاسی تبدیلیوں، تجارتی راستوں کے رخ بدلنے، مذہبی سرپرستی میں تبدیلی اور بالخصوص ہن حملوں نے اس تہذیبی نظام کو شدید متاثر کیا۔ ساتویں صدی تک ہیون سانگ کو گندھارا کے متعدد وہار ویران ملتے ہیں، اگرچہ بدھ مت اس وقت بھی خطے کے مختلف حصوں میں موجود تھا۔

موریہ سلطنت کے آخری دور کا اختتام بھی ایک اہم تاریخی موڑ تھا۔ اشوک کے تقریباً نصف صدی بعد آخری موریہ حکمران برہدرَتھ کو اس کے سپہ سالار پشیَمتر شُنگا نے قتل کر کے اقتدار سنبھال لیا۔ پشیَمتر کی برہمنی وابستگی اور ویدک رسومات کی تجدید کو بعض مؤرخین موریائی عہد کی بدھ نواز پالیسیوں کے ردِعمل کے تناظر میں دیکھتے ہیں، اگرچہ اس کے ہاتھوں بدھ مت کے منظم اور وسیع پیمانے پر تعاقب کا دعویٰ آج بھی تاریخی بحث کا موضوع ہے۔ یوں اشوک کے بعد کا زمانہ کسی ایک مذہبی قوت کی فتح و شکست سے زیادہ ایک بدلتے ہوئے تہذیبی منظرنامے کی داستان ہے۔

اسی تاریخی تسلسل کو سامنے رکھنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ آٹھویں صدی میں محمد بن قاسم جب سندھ پہنچا تو وہ کسی خالی یا تاریخ سے عاری سرزمین میں داخل نہیں ہوا تھا۔ اس کے سامنے ایک ایسا معاشرہ تھا جس کی تہذیبی پرتیں اشوک، گندھارا، کشان اور اس سے بھی پہلے کے ادوار تک جاتی تھیں۔ مقامی بودھ آبادی کے عرب فاتحین کے ساتھ تعاون یا مفاہمت کے بعض اشارات بعد کی روایات میں ملتے ہیں، اگرچہ ان کی تاریخی صحت پر احتیاط ضروری ہے۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ 712 ء کو ہم نے اکثر ایک آغاز بنا دیا، حالاں کہ محمد بن قاسم خود ایک طویل تاریخی تسلسل میں داخل ہونے والا ایک نیا باب تھا۔

یہی وہ مقام ہے جہاں تاریخ اور تاریخ نویسی ایک دوسرے سے الگ ہونے لگتی ہیں۔ پاکستان کی مروجہ تاریخی یادداشت میں محمد بن قاسم ایک نمایاں نقطۂ آغاز بن جاتا ہے، جبکہ اس سے پہلے کے تہذیبی ادوار پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ جس سرزمین پر اشوک نے اپنے فرامین کندہ کروائے، جہاں گندھارا نے ایک عالمی فن پارہ تخلیق کیا اور جہاں کشان دور میں بدھ تہذیب نے عروج پایا، وہی سرزمین اپنی قدیم تہذیبی گہرائی کے ساتھ ہماری اجتماعی یادداشت میں پوری طرح ظاہر نہیں ہو پاتی۔
مزید پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کریں
https://humsub.com.pk/n/57438/2026/09/06/habib-gohar/

جامعات کا ڈھلتا چراغ: بجٹ سے کمزور مستقبل تکمسعود الرحمان اظہرکسی بھی قوم کی ترقی کا سفر اس کے تعلیمی اداروں سے شروع ہوت...
09/06/2026

جامعات کا ڈھلتا چراغ: بجٹ سے کمزور مستقبل تک
مسعود الرحمان اظہر

کسی بھی قوم کی ترقی کا سفر اس کے تعلیمی اداروں سے شروع ہوتا ہے۔ یونیورسٹی محض ایک عمارت، چند کلاس رومز اور ڈگریاں جاری کرنے والا ادارہ نہیں ہوتی؛ یہ وہ جگہ ہے جہاں ایک معاشرہ اپنے مستقبل کے ذہن تیار کرتا ہے، تحقیق جنم لیتی ہے اور نئی
مزید پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کریں
https://humsub.com.pk/n/57429/2026/09/06/masood-ur-rehman-azhar/

ایسٹ انڈیا کمپنی کے نئے تجربات اور دیسی انگریزافسر نگار خانسندھ اسمبلی نے متفقہ طور پر سندھ کی تقسیم یا اس کی جغرافیائی ...
09/06/2026

ایسٹ انڈیا کمپنی کے نئے تجربات اور دیسی انگریز
افسر نگار خان

سندھ اسمبلی نے متفقہ طور پر سندھ کی تقسیم یا اس کی جغرافیائی حدود تبدیل کرنے کی کسی بھی تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔ یہ قرارداد ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کی بحث ایک مرتبہ پھر شدت اختیار کر چکی ہے۔

سندھ اسمبلی کا یہ فیصلہ ایک بنیادی سوال ضرور اٹھاتا ہے : کیا پاکستان کے مسائل کا حل صوبوں کو توڑنے میں ہے یا نظامِ حکومت، معیشت، انصاف، روزگار اور اداروں کو بہتر بنانے میں؟

میرے نزدیک سندھ اسمبلی کا یہ موقف قابلِ غور ہے۔ کوئی بھی قوم اپنی سرزمین، شناخت، زبان، ثقافت اور تاریخی وحدت کو محض انتظامی تجربہ سمجھ کر تقسیم نہیں کرتی۔ اگر نئے صوبے واقعی انتظامی ضرورت کے تحت بنائے جائیں تو اس پر بحث ہونی چاہیے، لیکن اگر تقسیم کا بنیادی نتیجہ وسائل، پانی، زمین، توانائی اور سیاسی اختیار کی نئی بندر بانٹ ہو تو پھر سوال صرف نئے صوبے کا نہیں رہتا؛ سوال ریاستی ترجیحات کا بن جاتا ہے۔

تقسیم کرو اور حکومت کرو

یہاں تاریخ کا ایک باب یاد آتا ہے : ایسٹ انڈیا کمپنی۔ ایسٹ انڈیا کمپنی محض تجارت کرنے والی ایک کمپنی نہیں رہی تھی۔ وقت کے ساتھ اس نے فوجی طاقت، سیاسی مداخلت، مالیاتی اختیار اور مقامی طاقتوں کے باہمی اختلافات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہندوستان کے وسیع علاقوں پر اپنا اقتدار قائم کیا۔

تاریخ دانوں کے مطابق کمپنی کے ہندوستان میں اقتدار کا ایک بنیادی مقصد معاشی وسائل کا حصول تھا۔ آکسفورڈ یونیورسٹی پریس میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق کمپنی کی حکمرانی نے برطانیہ کو فائدہ پہنچایا جبکہ ہندوستان سے وسائل کی منتقلی، مقامی بچت کے غلط استعمال اور مقامی صنعتوں کی تباہی جیسے اثرات ہندوستان پر پڑے۔

ایک اور معاشی تحقیق میں کمپنی کے دور میں دولت کی منتقلی کے لیے زمین کے بھاری محصولات، نوآبادیاتی فوج و انتظامیہ کے اخراجات اور ہندوستانی اشیا کی ایسی برآمدات کا جائزہ لیا گیا ہے جن کے بدلے ہندوستان کو مساوی ادائیگی نہیں ملتی تھی۔ تحقیق کے مطابق دستیاب اعداد و شمار دولت کے اخراج کی تھیوری کو قابلِ توجہ تقویت دیتے ہیں۔

ہندوستان کبھی دنیا کی بڑی صنعتی معیشتوں میں شمار ہوتا تھا۔ تحقیق کے مطابق 1750 کے آس پاس عالمی صنعتی پیداوار میں ہندوستان کا حصہ تقریباً 25 فیصد تھا، جو 1900 تک تقریباً 2 فیصد رہ گیا۔ تاہم اس تبدیلی کی تمام ذمہ داری صرف برطانوی پالیسی پر ڈالنا بھی علمی طور پر درست نہیں ؛ تحقیق میں داخلی سیاسی تبدیلیوں، عالمی قیمتوں، یورپی صنعتی ترقی اور عالمی تجارت جیسے عوامل کو بھی اہم قرار دیا گیا ہے۔

یعنی تاریخ ہمیں ایک سادہ مگر خطرناک سبق دیتی ہے : جب سیاسی اختیار، معاشی مفاد اور وسائل پر کنٹرول ایک جگہ جمع ہو جائیں تو تقسیم محض نقشے کی تبدیلی نہیں رہتی، طاقت کی منتقلی بن جاتی ہے۔

آج کا سوال: کیا ہم تاریخ سے کچھ سیکھ رہے ہیں؟

دو دن قبل سوشل میڈیا پر یہ خبر گردش کرتی رہی کہ سندھ اسمبلی کے ارکان کو مبینہ طور پر فون کیے گئے اور سندھ کی تقسیم کے حق میں ووٹ دینے کے لیے دباؤ ڈالا گیا، حتیٰ کہ ”خوفناک انجام“ کی بات بھی کی گئی۔

یہ دعویٰ میں نے کسی قابلِ اعتماد سرکاری یا صحافتی ذریعے سے ثابت شدہ نہیں پایا، اس لیے اسے حقیقت قرار دینا درست نہیں ہو گا۔ لیکن سوال اپنی جگہ اہم ہے۔ اگر کسی رکنِ اسمبلی کو واقعی سیاسی دباؤ یا دھمکی کا سامنا ہو تو کیا یہ جمہوریت کے لیے قابلِ قبول ہو گا؟

اور اگر یہ صرف سوشل میڈیا کا پروپیگنڈا تھا تو پھر اسے پھیلانے کا مقصد کیا تھا؟

سندھ اسمبلی نے بہرحال اپنا فیصلہ سنا دیا۔ اسمبلی میں ”سندھ ایک ہے اور رہے گا“ کے موقف کے ساتھ قرارداد منظور ہوئی، اگرچہ اپوزیشن کے بعض ارکان نے اس عمل سے اختلاف کرتے ہوئے واک آؤٹ بھی کیا۔

پہلے پنجاب میں بنا کر دکھائیں

بحث کے دوران سندھ اسمبلی میں ایک دلچسپ نکتہ سامنے آیا: اگر نئے صوبے واقعی ترقی، خوشحالی، بہتر انتظامیہ اور عوامی سہولت کا نسخہ ہیں تو پہلے پنجاب میں نئے صوبے بنا کر دکھائے جائیں۔ اگر وہاں دودھ اور شہد کی نہریں بہنے لگیں، ادارے بہتر ہوجائیں، روزگار بڑھے، سرمایہ کاری آئے اور عوام کا معیارِ زندگی بلند ہو تو پھر دوسرے صوبے بھی اس تجربے سے فائدہ اٹھانے پر غور کر سکتے ہیں۔

یہ بات سیاسی طنز سے زیادہ ایک پالیسی سوال ہے۔ کیا صوبہ چھوٹا کرنے سے خود بخود حکومت اچھی ہوجاتی ہے؟
نہیں۔

اچھا نظام، مضبوط ادارے، آزاد اور موثر احتساب، سرمایہ کاری، تعلیم، صحت، روزگار اور قانون کی حکمرانی کسی جغرافیائی لکیر سے خود بخود پیدا نہیں ہوتے۔ پختونخوا کا معاملہ اس سے بھی زیادہ حساس ہے

خیبر پختونخوا میں نئے صوبے کی بحث کے ساتھ سب سے بڑا سوال زمین اور وسائل کا ہے۔
خصوصاً دریائے سندھ، تربیلا ڈیم، پن بجلی، پانی اور ان سے وابستہ مالی حقوق کا معاملہ انتہائی حساس ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں پختونخوا کے عوام کو جذبات سے نہیں بلکہ آئینی اور قانونی دستاویزات سے سوال پوچھنا چاہیے :

اگر نیا صوبہ بنتا ہے تو :
تربیلا ڈیم کس کے انتظامی دائرے میں ہو گا؟
خالص پن بجلی منافع کا حق کس کا ہو گا؟
پانی کے استعمال اور تقسیم کا آئینی حق کس کے پاس ہو گا؟
موجودہ صوبے کے وسائل اور واجبات کیسے تقسیم ہوں گے؟
ڈیم کی زمین، متاثرین اور رائلٹی کا معاملہ کیسے طے ہو گا؟
نئے صوبے کی آبادی، رقبہ، آمدنی اور اخراجات کا قابلِ عمل ماڈل کیا ہو گا؟
یہ محض جذباتی سوالات نہیں بلکہ اربوں روپے اور آنے والی نسلوں کے مستقبل سے متعلق سوالات ہیں۔

پختونخوا حکومت پہلے ہی وفاق سے نیٹ ہائیڈل پرافٹ اور دیگر واجبات کے معاملے پر اختلاف کرتی رہی ہے۔ سرکاری و پارلیمانی ریکارڈ میں بھی نیٹ ہائیڈل پرافٹ کے حساب کتاب پر اختلافات اور سینکڑوں ارب روپے کے مختلف تخمینے سامنے آتے رہے ہیں۔ تو سوال یہ ہے

جو صوبہ اپنے موجودہ وسائل کے مالی حقوق کے لیے وفاق سے لڑ رہا ہے، کیا اسے اپنے وسائل کی نئی تقسیم کے ہر ممکنہ نتیجے کا حساب نہیں کرنا چاہیے؟

نئے صوبے، پرانی سیاست

یہ تصور خطرناک ہے کہ نیا صوبہ بنے گا اور اگلے دن ترقی آسمان سے اتر آئے گی۔

نیا سیکریٹریٹ بنے گا، نئی اسمبلی بنے گی، نئے محکمے بنیں گے، نئی گاڑیاں خریدی جائیں گی، نئی سرکاری عمارتیں تعمیر ہوں گی، نئی پوسٹیں پیدا ہوں گی۔

لیکن سوال یہ ہے :
پیسہ کہاں سے آئے گا؟
مزید پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کریں
https://humsub.com.pk/n/57518/2026/09/06/afsar-nigar-khan/

Address

Dallas, TX
76039

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when HumSub Videos posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share