Maneezey Athar

Maneezey Athar Radio Presenter / Blogger/LifewithManiza/ content creator

09/06/2026

Sohail Sameer has shared a thought-provoking message about how people often judge others based on their past. He said that when people cannot find faults in your present, they may bring up your past mistakes to question your growth. His words serve as a reminder that personal growth should not be defined by old mistakes, but by the person we choose to become today.

Disclaimer: This image is AI-generated and used for illustrative purposes only.

09/06/2026

Pakistani actor Momina Iqbal has spoken publicly about her ongoing legal dispute with former PML-N MPA Saqib Chadhar, making serious allegations during a recent podcast appearance.

Momina claimed she has faced harassment blackmail, cyberbullying and threats, while also sharing allegations about his family environment and their past association.

The actor said the experience has caused her years of trauma as the legal matter continues.

09/05/2026

Please Provide Your Valuable Feedback On Tonights Episode Of "Aap Ki Izzat."✨

Continue Watching "AapKiIzzat" Every Friday & Saturday At 8:00PM, Only On HUM TV✨

Digitally Presented By PEL

Digitally Powered By Master Paints

Digitally Associated By Nisa Hair Removing Cream

09/03/2026
08/30/2026

در نجات
اس ڈرامے پر بات بہت ہو رہی ہے
کچھ لوگوں کو اچھا لگ رہا ہے، کچھ کو اس کا اتنا بولڈ ہونا ٹھیک نہیں لگ رہا۔
اب living relation پر بات ہو رہی ہے۔
پہلی بات
تو یہ کہ اس میں elite class دکھائی گئی ہے۔
اور elite class ایسی ہی ہے۔
مثال آپ کے سامنے ہے۔
*نور مقدم ٹائپ کیس*۔
جس طرح کا ماحول دکھایا گیا وہ شاید ایک عام بندہ اس سے relate نہ کر سکے، مگر اس class میں ہوتا ایسا ہی ہے۔
دوسری بات
جب کسی ڈرامے میں کوئی چور، ڈاکو، corrupt انسان دکھایا جائے تو کیا اس کو normal کیا جا رہا ہوتا ہے؟؟؟؟
آپ اس کا کنسپٹ دیکھیں۔ کہانی کا مقصد دیکھیں
یہ concept نہیں ہے کہ ان سب چیزوں کو normal کیا جا رہا ہے۔
اگر زامل اور زریاب physical ہوئے ہیں تو ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ
*"حیا اور عزت بہت انمول ہے، محبت سے بھی زیادہ"*
اگر یہ live-in میں ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کو normal کیا جا رہا ہے۔
آگے کہانی میں اس کا بھی counter آئے گا اور بتایا جائے گا کہ غلط ہے۔
کہانی ہی ایسی ہے یہ۔
پاکستان کی society کے حساب سے یہ تھوڑا bold ہوگا کیونکہ پہلے ایسے نہیں دکھایا گیا کبھی۔
آپ یہ دیکھیں کہ کیسے ایک انسان جو گناہ کی زندگی میں گزار رہا ہے وہ کیسے اسلام کی طرف آئے گا۔
اور شاید زریاب بھی۔
پاکستان کے ڈراموں میں ہمیں یہ چیز بہت کم ملتی ہے
کہ اپنے دین کے بارے میں اس طرح بات ہو۔
ایسے کسی کا turnaround ہو۔
مجھے اس بات کی بے حد خوشی ہے کہ ایسی کہانی لکھی گئی اور اس پر ڈرامہ بنایا گیا۔
میرے خیال میں شاید اسی لیے عمیرہ احمد نے کہا تھا کہ *"پیر کامل"* پر ڈرامہ نہیں بنے گا۔
اس پر بن جاتا تو قیامت ہی آ جانی تھی۔
وہ اس سے زیادہ bold تھا۔
فرق صرف یہ تھا کہ اس میں سالار کو مسلمان اور امامہ کو قادیانی بتایا گیا اور درِ نجات میں دونوں ہی مسلمان لیکن بھٹکے ہوئے۔۔۔
کہانی اور concept یہی ہے۔

بات ساری یہ ہے کہ اسلام کو لے کر ڈرامے بنتے ہی کتنے ہیں؟؟
اب ایک بن ہی گیا اور اس کو اتنا اچھا دکھایا گیا ہے تو اسے دیکھ ہی لیں اور دِل بڑا کر کے ہضم کریں۔
کچھ لوگوں کو آئینے میں اپنا چہرہ نظر آنے لگتا ہے تو تنقید کے نِشتر تیز ہونے لگتے ہیں۔
شاید اِسے دیکھنے سے کسی انسان کی زندگی میں کچھ تبدیلی آ جائے۔
خیر، ایک بہت اچھا ڈرامہ ہے۔
*دُرفشاں* کی acting پر بہت تنقید ہوئی۔
مگر میرے خیال سے بہت اچھا کام کیا ہے اس نے۔
ہاں ایک بات ہے۔
مجھے لگتا ہے زامل کا اس طرح بالکل change ہونا بہت جلدی دکھا دیا گیا۔
مجھے نہیں پتہ آگے کیا ہوتا ہے۔
مگر تھوڑا سا اس کا سفر دکھانا چاہیے تھا کہ کیسے اسلام کی طرف آیا وہ۔
آگے دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔
آخری بات یہ کہ ہمارے ڈراموں میں ابو بکر نام بہت بہت کم سُننے میں آتا ہے ، واللہ یہ بھی کانوں کو بھلا لگا ۔۔۔ یہ کریڈٹ بھی عمیرہ کو گیا ۔
(علی عرفان)

Address

Houston, TX

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Maneezey Athar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Maneezey Athar:

Shortcuts

Share