Islamic content

Islamic content اللّٰہ اکبر و للہ الحمد
(8)

🕊️ خان عبدالغفار خان (باچا خان)  کون تھے۔خان عبدالغفار خان، جنہیں دنیا باچا خان، فخرِ افغا/ن اور سرحدی گاندھی کے نام سے ...
06/24/2026

🕊️ خان عبدالغفار خان (باچا خان) کون تھے۔
خان عبدالغفار خان، جنہیں دنیا باچا خان، فخرِ افغا/ن اور سرحدی گاندھی کے نام سے جانتی ہے، برصغیر کی تاریخ کے ایک عظیم پشتون رہنما، مصل/ح، اور عدم تشد/د کے عالمی علمبردار تھے۔ وہ ایسے وقت میں پیدا ہوئے جب پشتون معاشرہ غر/بت، جہا/لت، قبائلی جھگڑ/وں اور سیاسی غلامی کا شکا/ر تھا۔
ان کی پیدائش 6 فروری 1890ء کو اتمانزئی (چارسدہ، خیبر پختونخوا) میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم انہوں نے مقامی مدرسے اور بعد میں مشن اسکول پشاور سے حاصل کی۔ نوجوانی میں ہی انہوں نے محسوس کیا کہ قوم کی پسماند/گی کی اصل وجہ تعلیم کی کمی اور شعور کا فقدان ہے، جس کے بعد انہوں نے اپنی زندگی کا مقصد تعلیم اور اصلاح کو بنا لیا۔
انہوں نے برطانوی فوج میں ملازمت کے بجائے قوم کی خدمت کا راستہ اختیار کیا اور ایک عظیم اصلاحی تحریک کی بنیاد رکھی جسے خدائی خدمتگار تحریک (Red Shirts) کہا جاتا ہے۔ یہ ایک مکمل غیر مسل/ح اور پرامن تحریک تھی جس کا مقصد عوام میں تعلیم، اخلاقی اصلاح، سماجی بہتری اور سیاسی شعور پیدا کرنا تھا۔ یہ تحریک بہت جلد ہزاروں افراد پر مشتمل ایک بڑی عوامی تحریک بن گئی۔
باچا خان مہاتما گاندھی کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے اور انہوں نے ہمیشہ عدم تشد/د (Non-vio/lence) کو اپنی جدوجہد کا بنیادی اصول بنایا۔ ان کا ماننا تھا کہ ظلم کا جواب طاقت سے نہیں بلکہ صبر، علم اور شعور سے دیا جانا چاہیے۔ اسی وجہ سے انہیں “سرحدی گاندھی” بھی کہا جاتا ہے۔
برطانوی دور حکومت میں انہوں نے آزادی کی تحریک میں اہم کردار ادا کیا اور انگریز حکومت کے خلاف پرامن جدوجہد کی پاداش میں کئی بار جییں کاٹیں اور سخت/یاں برداشت کیں۔ وہ ان رہنماؤں میں شامل تھے جنہوں نے برصغیر میں امن، اتحاد اور تعلیم کے فروغ کی بات کی۔
1947 کے بعد پاکستان کے قیام کے بعد بھی وہ سیاست میں فعال رہے اور پشتون قوم کے حقوق، تعلیم اور امن کے لیے آواز بلند کرتے رہے۔ تاہم ان کے سیاسی نظریات کی وجہ سے انہیں طویل عرصہ نظر بندی اور جلاو/طنی کا سامنا کرنا پڑا۔
ان کی زندگی کا بیشتر حصہ ق/ید، نظر بند/ی یا جلاوطنی میں گزرا، مگر وہ اپنے اصولوں پر قائم رہے۔ آخرکار وہ 20 جنوری 1988ء کو وفات پا گئے۔ ان کی وصیت کے مطابق انہیں افغانستان کے شہر جلال آباد میں دفن کیا گیا۔
باچا خان کی سب سے بڑی تاریخی اہمیت یہ ہے کہ انہوں نے پشتون معاشرے میں امن، تعلیم اور عدم تشد/د کی بنیاد رکھی۔ وہ اس بات کی علامت ہیں کہ بڑی تبدیلی ہتھیاروں سے نہیں بلکہ شعور، علم اور صبر سے آتی ہے۔ آج بھی وہ دنیا بھر میں ایک عظیم امن پسند رہنما کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں۔

حافظ الحدیث مولانا عبداللہ درخواستیؒتحریک ختم نبوت اور تحریک نظام مصطفی کے عظیم قائدجمعیت علماء اسلام پاکستان کے امیرجام...
06/24/2026

حافظ الحدیث مولانا عبداللہ درخواستیؒ
تحریک ختم نبوت اور تحریک نظام مصطفی کے عظیم قائد
جمعیت علماء اسلام پاکستان کے امیر
جامعہ مخزن العلوم خانپور کے بانی و مہتمم
پیدائش 1890 وفات1994
ولادت و تعلیم:
مولانا عبداللہ درخواستی بروز جمعہ محرم الحرام 1313ھ جولائی1898 ء کو بسیت درخواست تحصیل جانپور ضلع رحیم یار خان میں ہوئی ۔ آپ کے ولد حافظ محمود الدین اپنے عہد کے ممتاز عالم دین اور حفاظ میں سے تھے ۔ آپ نے تمام دینی تعلیم اپنے والد بزرگوار حافظ محمود الدین اور حضرت خواجہ غلام محمد دین پوری کے زیر سایہ مکمل فرمائی ۔ درس نظامی کے بعد دورہ حدیث دین پور میں حضرت شیخ الہند کے شاگرد مولانا عبدالغفور حاجی پوری اور شیخ الحدیث حضرت مولانا غلام صدیق حاجی پوری سے پڑھ کر سند فراغت حاصل کی آپ کی دستار بندی حضرت خواجہ خلیفہ غلام محمد دین پوری نے اپنے مبارک ہاتھ سے فرمائی ۔
درس و تدریس :
آپ نے مختلف مدارس میں درس کے بعد ۱۹۴۱ء میں اپنا قدیمی مدرسہ مخزن العلوم درخواست سے خانپور ضلع رحیم یار خان منتقل کیا جلد ہی پوری ریاست بھاولپور میں مخزن العلوم کو مرکزی حیثیت حاصل ہو گئی اور پھر یہ پاکستا ن کی مثالی درس گاہوں میں شامل ہوگیا ۔
تحریکات میں حصہ اور قید و بند کی آزمائشیں :
مولانا عبداللہ درخواستی نے 1953 کو تحریک ختم نبوت میں قائدانہ کردار ادا کیا اور ملک کے چپے چپے کا دورہ کیا اور اس مسئلے کی اہمیت کو اجاگر گیا ۔ ۱۹۷۷ء کی تحریک نظام مصطفی میں بھی آپ سرگرم رہے اور حکومت وقت کے ہاتھوں گرفتار ہوئے ۔
مجلس تحفظ ختم نبوت کی سرپرستی
1953ی تحریک ختم نبوت میں قائدانہ کردار ادا کیا۔ ۱۹۵۴ء میں مجلس تحفظ ختم نبوت کی بنیاد رکھی گئی تو آپ کو اس مجلس کا سرپرست بنایا گیا۔
حضرتؒ اور تحفظ ختم نبوتؐ
1952ء میں آپ حج پر تشریف لے گئے ۔ مدینہ منورہ جا کر روضہ اقدس پر حاضر ہو کر مراقب ہوئے اور حضوری میں رہنے کی اجازت چاہی۔ رات کو خواب میں زیارت سے مشرف ہوئے۔ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ پاکستان میں میری نبوت کو چیل اور کتے نوچ رہے ہیں، ان سے تحفظ ختم نبوت کے لئے مقابلہ کرو اور میرے نواسے عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کو میرا پیغام پہنچا دو۔
اس کے بعد آپ فوراً پاکستان واپس تشریف لائے اور خان گڑھ میں جا کر حضرت عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کو حضور ﷺ کا پیغام اور سلام پہنچایا۔ تذکرہ حافظ الحدیث حضرت مولانا عبداللہ درخواستی 62
جمعیت علمائے اسلام کی امارت
22فروری1962ماہ رمضان میںاچانک نظام اعلماء کے امیر حضرت مولانا احمد علی لاہوری کاسانحہ وفات پیش آیا۔نظام العلماء کے لئے اب سب سے بڑا مرحلہ اپنے لئے ایسے قائد کی تلاش و انتخاب تھا جو حضرت مولانا احمد علی لاہوری مرحوم کی جگہ لے سکے ۔ اور ظاہر ہے کہ علماء کی ایسی جماعت جو شریعت و طریقت کی جامع اور جہاد زندگی کے حریت آگین راستہ کی گامزن تھی ایک ایسے رہنما کی ضرورت مند تھی جس میں بیک وقت۔
درکفے جام شریعت درکف سندان عشق
کی خصوصیات ہوں ۔ بالا آخر21 مارچ1962؁ کو نظام العلماء کا مرکزی اجلاس لاہور میں منعقد ہوا جس میں دور نزدیک کے سینکڑوں علماء نے شرکت کی اور سب کی نگاہ امارت کے لئے حضرت مولانا محمد عبداللہ صاحب درخواستی پر پڑی ۔ (عہدسازقیادت79)
جمعیت علمائے اسلام کااجلاس
28 اکتوبر1963کو لاہور میں جمعیت علماء اسلام کا مرکزی اجلاس ہوا، اور نئے عہدہ داروں کا انتخاب عمل میں آیا۔
امیر حضرت مولانا عبداللہ درخواستی منتخب ہوئے ۔ نائب امیر مولانا مفتی محموداور مولانا عبیداللہ انور۔ ناظم اعلیٰ مولانا غلام غوث ہزاروی معاون ناظم مولانا حامد میاں اور مولانا عبدالواحد گوجرانوالہ ۔خازن مولانا محمد اکرم صاحب۔ اس اجلاس میں جمعیت نے مندرجہ ذیل امور پر قراردادیں منظور کیں ۔
1۔ موددوی صاحب کی جماعت کے اجتماع میں ہلڑبازی اور اقدام قتل کی مذمت ۔
2۔ عائلی قوانین کی تنسیخ کا مطالبہ
3۔ پریس آرڈ نینس اور یونیورسٹی آرڈنینس منسوخ کرنے کا مطالبہ ۔
4۔ سیاسی قیدیوں کی رہائی اور ان کو انتخاب میںحصہ لینے کی اجازت دینے کا مطالبہ ۔ (عہدسازقیادت95)
وفات :
19 ربیع الال1415ھ مطابق 28 اگست 1994 کو کلمہ طیبہ پڑھتے ہوئے جان جان آفرین کے سپرد کر دی ۔ 29اگست1994 کو لاکھوں افراد نے آپ کی نماز جنازہ اداکی اور دین پور کی تاریخی قبرستان میں حضرت خلیفہ غلام محمد اور امام انقلاب حضرت مولانا عبیداللہ سندھی اور دیگر بزرگوں کے جوار میں آسودہ خاک ہوئے۔

06/24/2026

مولانا بجلی گھر صاحب رحمۃ اللہ علیہ

دنیا میں فحاشی کے لحاظ سے سرفہرست دس ممالک کی غالب مذہب1. تھائی لینڈ – (بدھ مت)2. ڈنمارک – (عیسائیت)3. اٹلی – (عیسائیت)4...
06/24/2026

دنیا میں فحاشی کے لحاظ سے سرفہرست دس ممالک کی غالب مذہب

1. تھائی لینڈ – (بدھ مت)

2. ڈنمارک – (عیسائیت)

3. اٹلی – (عیسائیت)

4. جرمنی – (عیسائیت)

5. فرانس – (عیسائیت)

6. ناروے – (عیسائیت)

7. بیلجیم – (عیسائیت)

8. اسپین – (عیسائیت)

9. برطانیہ – (عیسائیت)

10. فن لینڈ – (عیسائیت)

دنیا میں چوری کی شرح کے لحاظ سے سرفہرست دس ممالک اور ان کی غالب مذہب:

1. ڈنمارک اور فن لینڈ – (عیسائیت)

2. زمبابوے – (عیسائیت)

3. آسٹریلیا – (عیسائیت)

4. کینیڈا – (عیسائیت)

5. نیوزی لینڈ – (عیسائیت)

6. بھارت – (ہندومت)

7. انگلینڈ اور ویلز – (عیسائیت)

8. امریکا – (عیسائیت)

9. سویڈن – (عیسائیت)

10. جنوبی افریقہ – (عیسائیت)

دنیا میں شراب نوشی کی شرح کے لحاظ سے سرفہرست ممالک اور ان کی غالب مذہب:

1. مالڈووا – (عیسائیت)

2. بیلاروس – (عیسائیت)

3. لیتھوینیا – (عیسائیت)

4. روس – (عیسائیت)

5. چیک ریپبلک – (عیسائیت)

6. یوکرین – (عیسائیت)

7. انڈورا – (عیسائیت)

8. رومانیہ – (عیسائیت)

9. سربیا – (عیسائیت)

10. آسٹریلیا – (عیسائیت)

دنیا میں قتل کی بلند شرح والے ممالک اور ان کی غالب مذہب:

1. ہونڈوراس – (عیسائیت)

2. وینزویلا – (عیسائیت)

3. بیلیز – (عیسائیت)

4. ایل سلواڈور – (عیسائیت)

5. گوئٹے مالا – (عیسائیت)

6. جنوبی افریقہ – (عیسائیت)

7. سینٹ کٹس – (عیسائیت)

8. بہاماس – (عیسائیت)

9. لیسوتھو – (عیسائیت)

10. جمیکا – (عیسائیت)

دنیا کی چھ خطرناک ترین گینگوں کی مذہبی شناخت:

1. یاکوزا – جاپان (لا مذہبی)

2. اگبیرس – نائجیریا (عیسائیت)

3. واہ سینگ وُو – ہانگ کانگ / چین (بدھ مت)

4. جمیکا بوس – جمیکا (عیسائیت)

5. پی سی سی – برازیل (عیسائیت)

6. آرین برادرہڈ – امریکا (انتہا پسند سفید فام عیسائیت)

دنیا کے سب سے بڑے منشیات فروشوں کی قومیت اور مذہب:

1. پابلو ایسکوبار – کولمبیا (عیسائی)

2. آمادو کاریو – میکسیکو (عیسائی)

3. کارلوس لیدر – کولمبیا (عیسائی)

4. گریسیلڈا بلانکو – کولمبیا (عیسائی)

5. خواکین گوزمان (ال چاپو) – میکسیکو (عیسائی)

6. رافائیل کارو – میکسیکو (عیسائی)

پھر بھی ہمیں کہا جاتا ہے کہ اسلام دنیا میں دہشت گردی اور تشدد کا سبب ہے، اور ہم سے توقع کی جاتی ہے کہ ہم اس پر یقین کریں؟

مسلمانوں نے پہلی عالمی جنگ شروع نہیں کی، بلکہ یہ مغربی سیکولر عیسائیوں کی پیدا کردہ تھی

مسلمانوں نے دوسری عالمی جنگ بھی شروع نہیں کی، وہ بھی مغرب ہی نے بھڑکائی

آسٹریلیا کے بیس ملین مقامی باشندوں کا قتل مسلمانوں نے نہیں کیا، بلکہ وہ لوگ تھے جو "محبت کے دین" کے پیروکار تھے۔

جاپان کے دو شہروں (ہیروشیما اور ناگاساکی) پر ایٹمی بم گرانے والے بھی مسلمان نہیں تھے

جنوبی امریکا میں ایک کروڑ سے زائد ریڈ انڈینز کے قاتل بھی مسلمان نہیں تھے بلکہ "امن کا پیغام" لے کر آئے ہوئے عیسائی مبلغ تھے۔

شمالی امریکا میں پانچ کروڑ ریڈ انڈینز کا قتل بھی مسلمانوں نے نہیں کیا

افریقہ سے 18 کروڑ افراد کو غلام بنا کر لے جانے والے بھی مسلمان نہیں تھے بلکہ وہی تھے جو آزادی اور لبرل ازم کے نعرے لگاتے ہیں

مسلمان دہشت گرد نہیں
بلکہ دہشت گردی کی تعریف ہی مغرب کی طرف سے امتیازی اور جانبدار ہے۔

اگر کوئی غیر مسلم حملہ کرے تو وہ ایک "انفرادی جرم" کہلاتا ہے
لیکن اگر کوئی مسلمان کسی حملے میں ملوث ہو، تو اُسے فوراً دہشت گردی قرار دے دیا جاتا ہے
چاہے وہ اپنے دین اور امت کے دفاع میں ہی کیوں نہ ہو

ایف بی آئی کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق
1980 سے 2005 کے درمیان امریکا میں ہونے والے حملوں میں
صرف 6 فیصد حملے مسلمانوں سے منسوب تھے
جبکہ یہودیوں سے 7 فیصد
لیکن ان پر میڈیا نے کبھی توجہ نہیں دی

لہٰذا ہمیں دوہرے معیارات چھوڑنے ہوں گے
تبھی ہم اسلام کی اخلاقی بلندی اور عدل کو دنیا کے سامنے درست انداز میں پیش کر سکیں گے

اس پیغام کو خود تک محدود نہ رکھیں
اس سچائی کو دوسروں تک بھی پہنچائیں،
کیونکہ میڈیا کی طاقت دولت اور مفاد پرستی نے
اسلام کی تصویر کو مسخ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی

اور افسوسناک پہلو یہ ہے کہ
ہماری ہی قوم کے کچھ منافق اس مہم کا حصہ بن چکے ہیں

یہ دراصل اسلام کے خلاف ایک جنگ ہے
اور ہم پر فرض ہے کہ ہم اپنے لوگوں کو اس حقیقت سے خبردار کریں
جتنے ممکن ہوں اور جتنے وسائل ہمارے پاس ہوں

اور آخر میں فخر سے کہیں

میں مسلمان ہوں اپنے دین پر فخر ہے اور اپنی امت اور اس کی جدوجہد پر مجھے ناز ہے

اور اللہ کے محبوب نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنا نہ بھولیں۔

امام مسجد کے بیٹے کی شادی تھی تو انہوں نے دنیاں کے آگے ہاتھ پھیلانے کے بجائے اپنے رب کے آگے التجا کی پھر کیسے اللہ نے غی...
06/23/2026

امام مسجد کے بیٹے کی شادی تھی تو
انہوں نے دنیاں کے آگے ہاتھ پھیلانے کے بجائے
اپنے رب کے آگے التجا کی پھر کیسے اللہ نے غیبی مدد فرمائ
مولوی شبیر احمد صاحب پچھلے پندرہ سالوں سے محلے کی جامع مسجد میں امامت کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔

انتہائی مخلص، بااخلاق اور صابر انسان۔ مسجد سے ملنے والا قلیل سا ہدیہ اور چند بچوں کو قرآن پاک پڑھا کر ہونے والی معمولی آمدنی میں وہ اپنے پورے گھر کا نظام چلاتے تھے۔ کبھی ان کے چہرے پر شکوہ نہیں دیکھا گیا، ہمیشہ "الحمدللہ" ان کا تکیہ کلام تھا۔

دن گزرتے گئے اور ان کا بڑا بیٹا، جو ایک دکان پر معمولی تنخواہ پر کام کرتا تھا، شادی کی عمر کو پہنچ گیا۔

شرافت اور اچھے اخلاق کی وجہ سے ایک بہترین جگہ رشتہ طے تو ہو گیا، لیکن اصل امتحان اب شروع ہونا تھا۔

دن پر لگائے اڑ رہے تھے اور شادی کی تاریخ قریب آتی جا رہی تھی۔

مولوی صاحب کی مالی حالت انتہائی کمزور تھی۔ گھر میں نہ تو اتنی جمع پونجی تھی اور نہ ہی کوئی قیمتی سامان جسے بیچ کر اخراجات پورے کیے جا سکتے۔

لڑکی والوں کی طرف سے کوئی بڑی فرمائش نہیں تھی، لیکن ایک باپ ہونے کے ناطے وہ چاہتے تھے کہ کم از کم سنت کے مطابق، عزت وقار کے ساتھ بیٹے کا نکاح اور چند مہمانوں کی سادگی سے دعوتِ ولیمہ ہو جائے۔

شادی میں صرف ایک ہفتہ رہ گیا تھا، لیکن ابھی تک ضروری اخراجات کا کوئی انتظام نہ ہو سکا۔ مولوی شبیر احمد صاحب نے کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانا گوارا نہیں کیا۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ دین کی خدمت کے بدلے وہ لوگوں کے سامنے دنیا کے لیے سوال کریں۔

ایک رات، جب پورا محلہ گہری نیند سو رہا تھا، مولوی صاحب مسجد کے صحن میں آ گئے۔ انہوں نے وضو کیا، مصلّہ بچھایا اور تہجد کی نماز نیت لی۔

نماز سے فارغ ہو کر جب انہوں نے اللہ کے حضور ہاتھ اٹھائے، تو ان کے ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا۔ ان کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی۔ وہ رو رو کر اپنے رب سے باتیں کر رہے تھے:

"اے میرے پروردگار! تو جانتا ہے میں نے کبھی تیرے سوا کسی کے آگے سر نہیں جھکایا۔ میں اپنے بیٹے کا فرض سادگی سے پورا کرنا چاہتا ہوں، مجھے لوگوں کی نظروں میں رسوا نہ کرنا۔ میرے پاس کچھ نہیں ہے باری تعالیٰ، لیکن تیرے خزانے تو لامتناہی ہیں۔ اپنے اس عاجز بندے کی لاج رکھ لے..."

وہ کافی دیر تک سجدے میں سر رکھے روتے رہے، یہاں تک کہ فجر کی اذان کا وقت ہو گیا۔ انہوں نے اپنے آنسو پونچھے، نماز فجر پڑھائی اور دل میں ایک عجیب سا سکون محسوس کررہے تھے
بچوں کو قرآن پاک پڑھانے بیٹھ گئے صبح 11 بجے
چھٹی کے وقت سب بچے اپنے گھروں کو لوٹ گئے
مولوی صاحب مسجد کے ساتھ بنے دفتر میں چلے گئے

اسی دن دوپہر کے وقت، شہر کے ایک کاروباری شخص،
جو کبھی کبھار اس مسجد میں نماز پڑھنے آتے تھے،

مسجد کے دفتر میں داخل ہوئے۔ وہ مولوی صاحب کے پاس بیٹھے اور کچھ دیر ادھر ادھر کی باتیں کرنے کے بعد انہوں نے جیب سے ایک لفافہ نکالا اور مولوی صاحب کے ہاتھ میں تھما دیا۔

مولوی صاحب نے حیرت سے ان کی طرف دیکھا۔
تاجر صاحب مسکرائے اور بولے:
"مولوی صاحب! میں پچھلے کچھ دنوں سے ایک کاروباری الجھن میں تھا اور میں نے منت مانی تھی کہ جیسے ہی میرا یہ کام ہوا، میں اللہ کی راہ میں ایک خاص رقم دوں گا۔

آج صبح ہی میرا وہ کام معجزاتی طور پر ہو گیا، اور میرے دل میں بار بار یہی خیال آ رہا تھا کہ یہ امانت سب سے پہلے آپ تک پہنچاؤں۔ مجھے نہیں معلوم آپ کی ضرورت کیا ہے، لیکن اسے میری طرف سے ایک چھوٹا سا تحفہ سمجھ کر قبول کیجیے۔"

جب وہ صاحب چلے گئے، تو مولوی شبیر احمد صاحب نے کانپتے ہاتھوں سے لفافہ کھولا۔ اس میں اتنی رقم موجود تھی جس سے نہ صرف بیٹے کی شادی کے تمام اخراجات نہایت عزت و احترام کے ساتھ پورے ہو سکتے تھے، بلکہ دلہن کے لیے چند ضروری اشیاء بھی خریدی جا سکتی تھیں۔

مولوی شبیر احمد صاحب کی آنکھوں میں ایک بار پھر آنسو آ گئے، لیکن اس بار یہ آنسو پریشانی کے نہیں، بلکہ شکرانے کے تھے۔

انہوں نے اسی وقت سجدہ شکر ادا کیا کہ
جب انسان دنیا کے تمام سہاروں کو چھوڑ کر
صرف اپنے رب کو پکارتا ہے،
تو وہ ایسے راستوں سے مدد فرماتا ہے
جہاں انسان کا گمان بھی نہیں جاتا۔

بیشک

مفتی محمودپاکستانی سیاست دانمفتی محمود رح ایک با اثر مذہبی رہنما اور سیاست دان تھے۔ کانگریس پارٹی کے سابقہ رکن اور جمیعت...
06/23/2026

مفتی محمود

پاکستانی سیاست دان

مفتی محمود رح ایک با اثر مذہبی رہنما اور سیاست دان تھے۔ کانگریس پارٹی کے سابقہ رکن اور جمیعت علمائے اسلام کے بانی رکن تھے۔

پیدائش

وہ سال 1919ء میں ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے عبد الخیل گاؤں میں پیدا ہوئے۔ وہ لسانی طور پر مروت پشتون قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے والد کا نام مولانا خلیفہ محمد صدیق تھا۔

تعليم

آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے والد سے اپنے گھر پر حاصل کی۔ آپ نے ان سے فارسی اور عربی کی ابتدائی کتابیں پڑھیں۔ مزید دینی تعلیم کے لیے آپ حضرت مولانا سيد عبد الحليم شاہ کے بھائی حضرت مولانا عبد العزيز شاہ کے پاس اباخیل (لکی مروت چلے گئے اور ان سے صرف و نحو کی ابتدائی کتابیں پڑھیں۔ مفتی محمود صاحب نہایت ہی ذبین واقع ہوئے تھے اور علم حاصل کرنے کا ذوق و شوق بھی رکھتے تھے، لہٰذا اپنے استاد محترم مولانا عبد العزیز اور دیگر بزرگوں کے مشورے سے مدرسہ شاہی مرادآباد میں داخل ہوئے۔ ایک مرتبہ مولانا عبد الرحمن امروہی تعطیلات کے ایام میں تشریف لائے اور مفتی صاحب سے پوچھا کیا تم نے تحصیل علم مکمل کر لیا ہے، جب انھوں نے مثبت میں جواب دیا تو مولانا صاحب نے ان کا امتحان لیا اور اپنی طرف سے حدیث کی سند عطا فرمائی

درس و تدریس

مفتی صاحب جب تحصیل علم سے فارغ ہو کر واپس آئے تو شاہ عبد العزیز اور دیگر احباب نے اجلاس بلایا اور مشورہ کیا کہ علاقے میں ایک دینی درسگاه تائم کرنی چاہیے، پس جامعہ عزیزیہ کے نام سے ایک درسگاہ قائم کی گئی اور مفتی صاحب تین سال تک اس میں پڑھاتے رہے۔ بعد میں وسائل کی عدم دستیابی کے وجہ سے مدرسہ بند کرنا پڑا اور آپ نے پڑھانے کی خدمات عیسی خیل کے ایک دینی مدرسے کے سپرد کر دیں۔ کچھ عرصہ بعد یہاں سے مستعفی ہو کر واپس عبد الخیل آئے اور صاحبان کی تجویز پر انھوں نے یہاں مسجد کی امامت اور درس کا انتظام سنبھال لیا۔ علاقہ بھر سے طلبہ ان کے پاس آتے اور علم کے نور سے منور ہوتے۔ مقیم طلبہ کی بھی اچھی خاصی تعداد تھی۔ ان کے شاگردوں میں سے ایک ان دنوں مدرسہ قاسم العلوم ملتان میں زیر تعلیم تھے۔ انھوں نے اپنے اساتذہ کے سامنے مفتی صاحب کی تدریسی صلاحیتوں اور علمی عظمت کا ذکر کیا تو مدرسہ کے ارباب انتظام و اہتمام نے مفتی صاحب کو اپنے مدرسے میں پڑھانے کی دعوت دی اور آپ ملتان تشریف لے گئے۔ یہاں سے ان کی علمی و سیاسی ترقی کا سفر شروع ہوا اور ملتان آنے کے بعد ان کی شہرت کو چار چاند لگ گئے۔ اس میں خود ان کی اپنی محنت، سعی و توجہ اور دوڑ دھوپ کا بہت عمل دخل تھا۔ ان کی علمی و سیاسی زندگی کا آغار یہاں سے ہوا۔
تعارف

مفتی محمود

معلومات شخصیت

پیدائش

جنوری 1919ء

کراچی

وفات

60( 14 اكتوبر 1980ء

)61 سال

کراچی

شہریت

پاکستان برطانوی بند

جماعت

انڈین نیشنل کانگریس جمیعت علمائے اسلام

اولاد

در

در

مولانا فضل الرحمن ، عطا الرحمن سیاست دان . لطيف الرحمان .

ضياء الرحمن

مناصب

سیکرٹری جنرل (1)

برسر عهده

1978 19 اكتوبر 1959 - 15 منى

وفاق المدارس پاکستان

محمد ادریس میرتهی

صدر نشین (4 )

برسر عهده

1980 15 مئی 1978 - 14 اكتوبر

وفاق المدارس پاکستان

محمد ادریس میرتهی

محمد يوسف بنوری

2/3

مفتی محمود صاحب تحریک پاکستان کے سخت مخالف رہے لیکن قیام پاکستان کے بعد اسے قبول کیا پاکستان کے صوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ رہے اور آپ کا شمار ملک کے نامور سیاست دانوں میں ہوتا ہے۔ آپ جمعیت علمائے اسلام کے قائد اور مولانا فضل الرحمن صاحب کے والد ہیں۔ آپ کے اساتذہ میں مولانا سید میاں محمد رحمہ اللہ علیہ جیسے مایہ ناز علما ہیں۔ وہ انڈین نیشنل کانگریس کے سرگرم رکن تھے۔ لیکن بعد میں مسلمانوں کی اپنی جماعت جمیعت علما اسلام میں شمولیت اختیار کی اور سال 1940ء میں ہندوستان کی آزادی کی تحریک میں شامل رہے۔ برصغیر پاک و ہند کے دوسرے مسلمان سرکردہ لیڈروں کی طرح انھوں نے بھی پاکستان کے قیام کی نظریاتی بنیادوں پر مخالفت کی لیکن پاکستان بن جانے کے بعد انھوں نے اپنی توانائیاں پاکستان کے لیے وقف کر دیں۔ سال 1970 ء کے انتخابات کے بعد وہ مولانا شبیر احمد عثمانی صاحب کے قائم کردہ جمیعت علما اسلام پاکستان کے صدر بنے۔ وہ پاکستان پیپلز پارٹی اور نیشنل عوامی پارٹی کے ساتھ اتحاد کا حصہ بھی رہے۔ 1 مارچ 1970ء کو وہ صوبہ سرحد موجودہ صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے۔ انھوں نے اپنی کابینہ کے ساتھ بلوچستان میں نیشنل عوامی پارٹی اور جمیعت علما اسلام کی مشترکہ حکومت کے جبراً اختتام کے خلاف 14 فروری 1973ء کو احتجاجاً استعفا دیا۔ مفتی صاحب نے پاکستان میں ختم نبوت کے موضوع پر بحث میں ایک اہم کردار ادا کیا۔ انھوں نے ایک ٹیم کی قیادت میں جس کے سرکردہ لیڈر شاہ احمد نورانی تھے قادیانیوں احمدیوں اور لاہوری گروپ کو غیر مسلم ثابت کرنے پر کام کر رہے تھے۔ انھیں اس موضوع کے بعد بہت شہرت اور پزیرائی ملی انھوں نے روس کے خلاف افغان جہاد کی حمایت کی۔
المتنبي الفادياني من هو ؟

التسهيل لاحكام الترتيل

اردو

تفسير محمود (تین جلدیں)

مادر علمی
فتاوی مفتی محمود (11) ضخیم جلدیں)

زاد المنتهى شرح سنن الترمذى (2)

عملی زندگی

جامعہ قاسمیہ مدرسہ

شابی

استاذ

محمد میاں دیوبندی

تلميذ خاص

عبداللہ کاکا خیل ، عبد

المجيد لدھیانوی ، مولانا

نور محمد، محمد ضياء القاسمی، محمد موسی

وفات

انھوں نے 14 اکتوبر 1980ء کو وفات پائی اور اپنے آبائی گاؤں عبد الخیل پنیالہ میں مدفون ہیں۔

روحانی بازی

پیشہ

سیاست دان

مادری زبان

اردو

پیشہ ورانہ زبان

اردو

ملازمت

قاسم العلوم ملتان

حوالہ جات
2 عبد الحكيم اکبری (2010ء) مفتی اعظم مولانا مفتی محمود کی علمی دینی اور سیاسی خدمات، الحمید ڈیرہ اسماعیل خان

سیاسی عہدے

ما قبل

سردار بهادر خان

وزیر اعلی خیبر پختونخوا صوبہ سرحد)

1973-1972

ما بعد

عنایت اللہ خان گنڈا پور

ما قبل

سیاسی جماعتوں کے عہدے

امیر جمیعت علمائے اسلام

مولانا عبداللہ درخواستی

1980-1968

ما بعد

مولانا فضل الرحمن

دارالعلوم دیوبند کے سابق اُستاذ ودارالعلوم حقانیہ اَکوڑہ خٹک کے بانی حضرت مولانا عبدالحق قدس سرہٗ کے فرزند ارجمند، امام ...
06/23/2026

دارالعلوم دیوبند کے سابق اُستاذ ودارالعلوم حقانیہ اَکوڑہ خٹک کے بانی حضرت مولانا عبدالحق قدس سرہٗ کے فرزند ارجمند، امام الاولیاء حضرت مولانا احمد علی لاہوری قدس سرہٗ کے تلمیذ ومسترشد، دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے مہتمم واُستاذِ حدیث ، جمعیت علمائے اسلام (س) کے امیر، سابق رکن قومی اسمبلی وسینیٹ، ہزاروں فضلائے حقانیہ ومجاہدینِ افغانستان کے محبوب استاذ، مربی وسرپرست، مولانا حامد الحق ومولانا راشد الحق سلمہما کے والد گرامی‘ حضرت مولانا سمیع الحق کو ۲۳؍ صفر ۱۴۴۰ھ مطابق ۲؍ نومبر ۲۰۱۸ء بروز جمعہ بعد نمازِ عصر اُن کے گھر واقع بحریہ ٹاؤن اسکیم راولپنڈی میں سفاک ودرندہ صفت قاتلوں نے خنجر اور چھری جیسے آلۂ جارحہ کو استعمال کرتے ہوئے بے دردی سے ذب-ح اور شہی-د کردیا، إنا للّٰہ وإنا إلیہ راجعون، إن للّٰہ ما أخذ ولہٗ ما أعطٰی وکل شیء عندہٗ بأجل مسمّٰی۔
آپ کی شہادت کا عین وہی دن ہے جب سیشن کورٹ اور ہائی کورٹ سے سزائے موت پانے والی آسیہ ملعونہ کی سپریم کورٹ سے بریت پر پوری پاکستانی قوم سراپائے احتجاج بنی ہوئی تھی۔ حضرت مولانا سمیع الحق شہی-د رح بھی اپنی شہادت سے ایک دن پہلے ایک احتجاجی مظاہرہ میں شریک ہوئے اور وہاں خطاب اور اس فیصلے پر اپنے غم وغصہ کا اظہار بھی فرمایا تھا۔ شہادت کے دن بھی آپ ایک احتجاجی مظاہرہ میں شرکت کے لیے گھر سے روانہ ہوئے، لیکن راستے بند ہونے کی وجہ سے آپ واپس اپنے گھر تشریف لے آئے۔ آپ کے خادم اور ڈرائیور قریب ہی سودا سلف لانے کے لیے گئے ہوئے تھے، واپس آئے تو دیکھا کہ حضرتؒ خون میں لت پت ہیں، ہسپتال لے جایا گیا، لیکن آپ کی روحِ مبارک پہلے ہی قفسِ عنصری سے محوپرواز ہوچکی تھی۔ یقین نہیں آتا کہ کوئی ظالم ۸۳ سالہ بوڑھے، بیمار اور بزرگ ہستی پر اس وحشت ناک اور دردناک انداز میں ہاتھ اُٹھاسکتا ہے۔ حضرت موصوف کی شہادت سے ایک بار پھر مظلومِ مدینہ ، دامادِ رسول، امیرالمؤمنین حضرت عثمان بن عفان q کی شہادت کا منظر دُہرایا گیا۔ ان شاء اللہ تعالیٰ! جس طرح حضرت عثمان بن عفان q کے قاتلین اس دنیا میں دیدۂ عبرت بنے اور ذلت کی موت مرے، اسی طرح حضرت مولانا سمیع الحق شہیدv کے قاتلین بھی اس دنیا میں نمونۂ عبرت اور ذلت کی موت مریں گے۔
حضرت مولانا سمیع الحق شہیدv کی پوری زندگی تعلیم وتعلُّم، درس وتدریس، تصنیف وتالیف، قومی، ملی، سیاسی خدمات کے علاوہ اعلائے کلمۃ اللہ اور پاکستان کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہوئے قادیانیت سمیت تمام فرقِ باطلہ اور اُمتِ مسلمہ کے خلاف عالمی استعمار کی دہشت گردی کے تعاقب میں گزری۔ پاکستان میں نفاذِ شریعت کے لیے آپ کی تڑپ، پارلیمنٹ کے اندر اور باہر آپ کی تاریخ ساز جدوجہد، افغان جہاد کی سرپرستی‘ آپ کی حیات کے ایسے لازوال کارنامے ہیں، جو موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لیے نشانِ راہ بن کر مہمیز کا کام دیں گے، ان شاء اللہ!۔
الغرض موصوف ہمہ جہت شخصیت کے حامل تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بے شمار خوبیوں اور فکرونظر کے بہت سے فضائل وخصائص سے نوازا تھا۔
آپ کی پیدائش ۱۲؍ رجب ۱۳۵۵ھ مطابق ۳؍ ستمبر ۱۹۳۶ء کو اکوڑہ خٹک میں ایک علمی خانوادہ میں ہوئی۔ آپ کے شجرۂ نسب میں تقریباً علماء اور دین دار افراد ہی گزرے ہیں۔ آپ کی پانچویں پشت کے حضرت مولانا عبدالرحیم اپنے خاندان کے ہمراہ ۱۱۷۴ھ مطابق ۱۷۶۱ء میں تبلیغِ دین کی غرض سے اکوڑہ خٹک میں آکر آباد ہوئے۔
آپؒ نے ابتدائی دینی تعلیم اپنے والد شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالحق قدس سرہٗ سے حاصل کی۔ انجمن تعلیم القرآن اسلامیہ پرائمری اسکول میں پرائمری تک تعلیم مکمل کی۔پھر درسِ نظامی کی مکمل تعلیم دارالعلوم حقانیہ ہی میں رہ کر حاصل کی۔ آپ کے اساتذہ میں آپ کے والد ماجد کے علاوہ مولانا رسول خان ہزارویؒ اور شیخ التفسیر امام الاولیاء حضرت مولانا احمد علی لاہوری قدس اللہ اسرارہم کے نام نامی نمایاں ہیں۔ آپ نے ۱۹۵۸ء میں دارالعلوم حقانیہ سے دورہ حدیث کیا۔ درسِ نظامی سے فراغت کے بعد آپ کے والد ماجد نے دورۂ تفسیر کے لیے حضرت لاہوریؒ کی خدمت میں آپؒ کو لاہور بھیجا۔ آپؒ نے رمضان تا ذوالحجہ وہاں رہ کر مکمل دورۂ تفسیر پڑھا، امتحان میں سونمبر حاصل کیے۔ اور امام الاولیاء حضرت لاہوریv سے آپ نے بیعت کی، حضرت مولانا سمیع الحقv خودلکھتے ہیں:
’’۲۷ مئی نمازِ عشاء سے قبل حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ سے احقر نے بیعت کی درخواست کی، جس پر آپ نے والد ماجدؒ کی اجازت اور مرضی کی تحقیق کرنے کے بعد پذیرائی بخشی اور نمازِ عشاء کے بعد حضرت لاہوریؒ نے اپنے خصوصی کمرے میںیکسوئی اور تنہائی میں مجھے بیعت کروایا۔ لطیفۂ قلبی کی تعلیم وتلقین کی اور پھر خصوصی شفقت سے لبریز جامع دعا فرمائی۔ مجھے کم از کم ایک ہزار مرتبہ ’’اللّٰہ ہو‘‘ کہنے کا حکم فرمایا اور اشیائے خورد ونوش میں شدید احتیاط برتنے پر زور دیا ۔‘‘ (خود نوشت ڈائری)
آپ نے ۲۲؍ سال کی عمر میں جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک میں تدریس شروع فرمادی، گویا آپؒ نے ساٹھ سال کے قریب ’’قال اللّٰہ وقال الرسول(a)‘‘ کا درس دیا۔ آپؒ کادرس دل چسپ اور معلومات سے بھرپور ہوتا تھا، اس کے ساتھ ساتھ آپؒ نے اپنے ادارے سے ایک مجلہ ماہنامہ ’’الحق‘‘ بھی جاری کیا، جس کے آپ ایک عرصہ تک مدیر رہے اور آپ کے اداریہ کی بڑے بڑے اکابر اور اہلِ قلم صحافی حضرات انتظار، تعریف اور توصیف کیا کرتے تھے۔ جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے ترجمان ماہنامہ ’’بینات‘‘ میں ماہنامہ ’’الحق‘‘ پر ان دنوں ان الفاظ میں تبصرہ کیا گیا تھا:
’’اس ماہنامہ کی ترتیب بڑی دلکش اور مضامین ایمان افزا ہوتے ہیں۔ اداریہ میں مسائلِ حاضرہ پر شگفتہ زبان، سنجیدہ اسلوب اور متین اندازِ بیان میں شرعی نقطۂ نظر سے بصیرت افروز تبصرہ، مقالات میں تنوُّع، عالم اسلام کے کوائف، عالمی مسائل اور ان کا صحیح حل اور تازہ مطبوعات پر جاندار تبصرہ اس مجلہ کے خصوصی مشمولات ہوتے ہیں۔‘‘ (ذوالحجہ ۱۳۸۶ھ)
آپ کے فیضِ قلم سے درج ذیل کتب منصہ شہود پر آئیں:
۱:-زین المحافل شرح الشمائل للترمذی، ۲:-اسلام کا نظامِ اکل وشرب (ترمذی ابواب الاطعمہ) کی شرح، ۳:-اسلامی معاشرہ کے لازمی خدوخال (ترمذی ابواب البر والصلۃ)کی شرح، ۴:-کاروانِ آخرت، ۵:-شریعت بل کا معرکہ، ۶:-اسلام اور عصر حاضر، ۷:-صلیبی دہشت گردی اور عالم اسلام، ۸:-دعواتِ حق (۲ جلد)، ۹:-مکاتیبِ مشاہیر (۱۰جلد)، ۱۰:-خطباتِ حق، ۱۱:-منبرِ حقانیہ سے خطباتِ مشاہیر (۱۰ جلد)، ۱۲:-قادیانیت: ملتِ اسلامیہ کا موقف، ۱۳:-قومی اسمبلی میں اسلام کا معرکہ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حضرت مولانا سمیع الحقؒ نے یوں تو ان مذکورہ بالا کتب کے علاوہ بھی زندگی میں پیش آنے والے ہر اہم واقعہ اور ہر اہم معاملہ پر لکھا اور خوب لکھا، شایدان منتشر مضامین اور تحریروں کو جمع کیا جائے تو مزید کئی کتب منصہ شہود پر آسکتی ہیں، لیکن فی الحال اس بزم میں اپنی طرف سے کچھ لکھنے کی بجائے حضرتؒ ہی کے مضامین، انٹرویوز اور تحریرات میں سے چند اقتباسات نقل کیے جاتے ہیں، جو حضرت مولانا عبدالقیوم حقانی مدظلہٗ کی تالیف کردہ کتاب ’’مولانا سمیع الحق: حیات وخدمات‘‘ سے لیے گئے ہیں، جس سے محسوس اور معلوم ہوگا کہ آپ کو اُمتِ مسلمہ، خصوصاً پاکستانی قوم کے لیے کتنا فکرمندی اور درد تھا اور کس طرح سلگتے مسائل کے حل کے لیے آپ نے پاکستانی قوم اور حکومت کی راہنمائی فرمائی اور پاکستانی مخالف لابیوں کو کس انداز سے دندان شکن جواب اور دلائل سے چاروں شانے چت کیا۔
۱:… ایک جگہ علمائے کرام کو ان کی ذمہ داریوں اور فرائضِ منصبی کا احساس دلاتے اور آگاہ کرتے ہوئے آپؒ نے لکھا:
’’علماء حق زمین کا نمک ہیں، جس کی نمکینی کلمۂ حق کہنے اور دین کو ہرچیز پر مقدم رکھنے میں ہے، لیکن اگر نمک اپنی خاصیت کھوبیٹھے تو پھر کون سی چیز ہے جو اُسے نمکین بنادے۔ اگر کسی میں یہ کربناک منظر دیکھنے کی تاب نہیں تو اسے یہ بات ہر وقت مستحضر رکھنی چاہیے کہ علم خدا کی صفت ہے اور عالم اس کا مظہر، اس علم کا تقاضا ہے کہ اسے اونچا رکھا جائے۔ خدا کی صفت ہر حال میں بالادستی کی مستحق ہے، دارورسن ہو یا تلوار کی دھار، خدا کے وصفِ خصوصی کو ذلت ورسوائی سے محفوظ رکھنا چاہیے۔اس علم کے حامل لوگ اس کی آبرو نہ رکھ سکیں تو ان کے لیے بہترہے کہ عالمانہ بھیس چھوڑ کر چمار اور بھنگی بننا قبول کرلیں۔ ملک وملت سے نصیحت وخیرخواہی کا معاملہ آپ کا فریضہ ہے، اگر کوئی تمہاری رہنمائی طلب کرے تو بصد خلوص بھرپور تعاون کریں، لیکن اگر معاملہ غلام اور خادم جیسا ہو تو یہ آپ کی اپنی تحقیر نہ ہوگی، بلکہ علم اور دین کی آبروریزی ہوگی۔ علماء دین تو ائمہ صدق وعزیمت امام مالکؒ، امام ابوحنیفہؒ اور امام احمد بن حنبلؒ کے جانشین ہوتے ہیں۔ دربارِ اکبری کے ابوالفضل اور فیضی اور دربارِ عباسی کے قاضی ابوالبختری کے نقشِ قدم پر چلنے والے نائبِ رسول نہیں، بلکہ اس دھرتی پر خدا کی پھٹکار ہیں۔‘‘ (مولانا سمیع الحقؒ: حیات وخدمات، ص:۱۶۵)
۲:…پاکستانی قوم اور مدارس کے لیے دہشت گرد کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے، آپؒ نے جہاد اور دہشت گردی کے فرق کو واضح کرتے ہوئے فرمایا:
’’مشکلات کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ دنیا ٹیررازم کو جس مقصد کے لیے استعمال کرتی ہے بغیر اس کے کہ وہ ہے کیا چیز؟ اس کی حدود کیا ہیں؟ کون سی چیز ٹیررازم ہے اور کونسی ٹیررازم نہیں ہے، خواہ اس تعریف ومعیار پر مغربی طاقتیں یا بڑی طاقتیں اُتریں یا کوئی گمنام شخص تو پھر پانی کا پانی اور دودھ کا دودھ سب صاف ہوگا۔ یہ سارا معاملہ تب صحیح ہوگا جب ہم ڈیفینیشن طے کریں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں خود چاہتا ہوں کہ دہشت گردی کی متعین تعریف ہوجائے۔ اقوام متحدہ یا کسی اور پلیٹ فارم پر اس کا تشخُّص معلوم ہوجائے، حدود متعین کیے جائیں۔ لیکن میں آپ کو آسان الفاظ میں فرق بتاتا ہوں کہ جہاد اور ٹیررازم میں فرق کیا ہے؟ میں آپ کو مثال دیتا ہوں، رات کو ایک بس اس روڈ پر پشاور جارہی ہے اور چند ڈاکو اس کو روک لیں اور اس کے اندر گھس جاتے ہیں اور وہاں لڑکیوں کی بے عزتی وآبروریزی کردیتے ہیں، وہاں سواریوں کوقتل کردیتے ہیں، ان کا سارا سامان لوٹ لیتے ہیں تو اس کے ساتھ جو کچھ ہوا، یہ ٹیررازم ہے اور ایک شخص گھر میں آرام سے سورہا ہے، چادر اور چاردیواری کا تحفظ ساری دنیا ضروری سمجھتی ہے، رات کے اندھیرے سے یا اپنی طاقت سے دن دھاڑے کوئی شخص بندوق کی نوک سے آکر میرے گھر میں گھس جاتا ہے، میری عزت لوٹتا ہے، میرے گھر کو لوٹتا ہے، میرے سارے گھر کو تباہ وبرباد کرتا ہے، اس وقت اگر میں گھر میں بندوق اُٹھاتا ہوں تو یہ میرے لیے لازمی ہے کہ میں اپنے گھر کا تحفظ کروں، اس گھر میں اگر کوئی اس طریقے سے آتا ہے تو اس کی بقاء کی جنگ جہاد ہے اور جو شخص باہر ڈاکو کی شکل میں آکر لوٹ کھسوٹ کرتا ہے وہ ہے ٹیررازم ، ان دونوں میں فرق کرنا چاہیے۔‘‘
(ماہنامہ الحق، اگست ۲۰۰۵ء،بحوالہ مولانا سمیع الحق : حیات وخدمات، ص: ۱۴۰)
۳:…اسلام اور اُمت مسلمہ کی سالمیت کے بارہ میں لکھا کہ:
’’اب کسی ایک قانون، کسی ایک جزئیہ، کسی ایک عنوان یا کسی ایک مشن، کسی ایک مسئلہ اور ملت کے کسی ایک عضو واندام کی حفاظت کی بات نہیں، اب تو اُمت کی سالمیت کا مسئلہ ہے، دشمن پوری قوت سے اُمتِ مسلمہ کو ڈائنا میٹ کردینا چاہتا ہے۔ دنیا کی تمام طاقتیں اس بات پر متحد ہوگئی ہیں کہ اسلام کو بہرحال پنپنے نہیں دینا۔ اُمتِ مسلمہ کو جدید عالمی تبدیلیوں کے بڑے بڑے ہولناک چیلنجوں کا سامنا ہے۔ امریکہ، روس، چین، جاپان، برطانیہ اور پوری دنیائے کفر عالم اسلام کی بیداری کی نئی لہر سے خائف اور لرزاں وترساں ہے۔‘‘ (مولانا سمیع الحق : حیات وخدمات، ص: ۲۲)
۴:…افتراق وتشتُّت کا سبب بننے والی چیزوں سے احتراز کرنے کی تلقین کرتے ہوئے آپؒ نے فرمایا:
’’ہمیں آئندہ ایسی چیزوں سے اجتناب کرنا ہوگا جو دل آزاری اور افتراق وتشتُّت کا سبب ٹھہرے یا اس سے صحابہ کرامؓ کی شخصیات متأثر ہوں۔ اگر ہم گزرے لوگوں (جنہوںنے ایسا کیا ہو) کے بارے میں فیصلہ نہیں کرسکتے ہیں تو کم از کم موجودہ لوگوں کو اتحاد ووحدت کی خاطر یہ اُمور چھوڑنے ہوں گے۔ فرمایا کہ: ’’تِلْکَ أُمَّۃٌ قَدْ خَلَتْ لَہَا مَاکَسَبَتْ وَلَکُمْ مَّاکَسَبْتُمْ وَلَاتُسْئَلُوْنَ عَمَّا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۔‘‘ (مولانا سمیع الحق : حیات وخدمات، ص: ۳۷۸)
۵:…پاکستانی قوم اور حکومت کو خودداری اور آزادی کا درس دیتے ہوئے آپؒ نے فرمایا:
’’ کسی ملک کی امداد پر رہنا، کسی غیور زندہ قوم اور مسلمان قوم کے لیے مناسب نہیں ہے، ہم ایک آزاد قوم ہیں اور ہم نے بڑی عظیم قربانیوں سے یہ ملک حاصل کیا ہے۔ اس وقت ہمارا ملک بدقسمتی سے کچھ ایسے جغرافیائی حالات سے دوچار ہے جن سے بعض سپرطاقتیں ناجائز فائدہ اُٹھارہی ہیں۔ اس وقت پوری دنیا میں اقتصادی امداد کا سلسلہ جاری ہے اور بڑی طاقتیں چھوٹی طاقتوں کی امداد کررہی ہیں، جو کہ درحقیقت مدد نہیں ہوتی، بلکہ سود پر رقم دیتے ہیں، جسے پھر امداد حاصل کرنے والے ممالک سود در سود واپس ادا کرتے ہیں اور یہ سودی نظام ساری دنیا میں رائج ہے۔ اس کو وہ اقتصادی امداد کا نام دے کر طرح طرح کے قومی، ملی اور دینی وسیاسی مفادات سے کھیلتے ہیں۔‘‘ (مولانا سمیع الحق: حیات وخدمات، ص: ۲۵۶)
۶:…ایک انٹرویو میں اُمتِ مسلمہ کی قربانیوں کی بدولت مغربی اقوام کو ملنے والے فوائد اور اس کے بدلہ میں انہوں نے مسلمانوں کو کیا دیا؟ اس سوال کا جواب جب ان سے مانگا تو ان کے پاس کوئی جواب نہ تھا، آپؒ نے فرمایا:
’’دیکھیے! افغانستان پر روس کا جو قبضہ ہوا تو سب سے بڑی قربانی پاکستان نے دی اور پاکستان کے عوام نے دی۔ کم از کم بیس لاکھ آدمی شہید ہوگئے۔ ۵۰ لاکھ کا بوجھ ہم نے اُٹھایا اور پورے پاکستان کو رسک میں ڈال دیا، ہوسکتا تھا کہ سویت یونین ہمیں بھی تباہ وبرباد کرکے رکھتا، ابھی تک ہم وہ نقصانات بھگت رہے ہیں۔ ۲۰ لاکھ آدمیوں کا قتل، ہزاروں معذور لولے، لنگڑے، کئی لاکھ مہاجر ہمارے ملک میں اب بھی پڑے ہوئے ہیں۔ اس ساری قربانی کے بعد اس کا سارا فائدہ مغربی اقوام نے لیا۔ ایک فائدہ یہ کہ امریکہ واحد سپرپاور بن گیا۔ دوسرا فائدہ یہ کہ آپ کا مشرقی یورپ سارا آزاد ہوگیا۔ تیسرا فائدہ یہ کہ برلن کی ساری دیواریں ٹوٹ گئیں اور تمام دنیا پر صرف مغربی قوتوں کا ہولڈ آگیا۔ یورپی یونین سارا آپس میں متحد ہوگیا۔ یہ سب کچھ ہماری قربانیوں کا پھل تھا، ہمیں کیا ملا؟ اتنی بڑی قربانیوں کے بعد بھی ہمارا افغانستان جہنم کدہ بنا ہوا ہے اور ایسی آگ میں ڈالا گیا جس سے کوئی نہیں نکل سکتا اور پھر پاکستان کی کیا حالت ہے؟ کہ ہم دہشت گرد کہلائے، اب ہم ہر جگہ ٹیرارسٹ ہیں اور دنیا میں بلی بھی ایک چوہے کو پکڑتی ہے تو شور مچتا ہے کہ یہ پاکستان سے ہوا، تو جن لوگوں کی قربانیوں اور سڑگل سے یہ سب کچھ ہوا اور وہ سب کچھ ہم نے آپ کی جھولی میں ڈالا تو آپ ہمارے ساتھ کم از کم یہ نہ کریں کہ کانٹے صرف ہم کو ملیں اور ہمارا سارا دامن ہی کانٹوں سے بھردیا۔ تو اس کا جواب ان کے پاس نہیں تھا، وہ بڑے متأثر ہوئے اور سوچ کر کہا کہ واقعی یہ سوچنے کی بات ہے۔ ‘‘ (مولانا سمیع الحق : حیات وخدمات، ص: ۱۳۹)
۷:…تجددپسندوں اور مغربی افکار ونظریات کے دل دادہ لوگوںکے عزائم سے آگاہ کرتے ہوئے حضرت موصوفؒ لکھتے ہیں:
’’الغرض تجدد واصلاحِ مذہب کے نعرے بلند کرنے والوں کے عزائم اور مقاصد اگر صرف یہی ہوتے تو اختلاف کی کوئی صورت پیدا نہ ہوتی، مگر اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ اسلام کو نئے تقاضوں کے سانچے میں ڈھالنا چاہتے ہیں، ان کی ذہنی ساخت ، تعلیم وتربیت، ذاتی وسیاسی مصالح، مغربی تہذیب وتمدن میں سرتاپا استغراق اور جن سرچشموں سے ان کے نظریات کی آبیاری ہورہی ہے اور اسلام پر تحقیق وریسرچ کے جو نت نئے نمونے مسلمانوں کے سامنے آرہے ہیں، ان سب چیزوں سے یہ حقیقتِ مسلمہ کھل کر سامنے آچکی ہے کہ دراصل ان لوگوں کا مقصد پورے اسلامی معاشرہ کو مغربی تہذیب وتمدن اور لادینی افکار وخیالات میںڈھالنا اور اسلامی ممالک کو مغربی ممالک کے نقشِ قدم پر چلانا ہے۔ اس راہ میں جو بھی دینی تصورات اور ضوابط، قوانین اور دینی اقدار وروایات حائل ہوسکتے ہوں ان میں ترمیم وتنسیخ کی جائے یا اُسے کھینچ تان کر اسلام کے دائرہ میں لایاجائے۔ اور مختصراً یہ کہ اس طرح حقیقی خدوخال سے محروم ہوکر ملک ومعاشرہ کو ’’مغربیت‘‘ کے سانچے میں ڈھالنے کے لیے کوئی رکاوٹ نہ بنے۔ یہی وہ المناک صورت حال ہے جس سے تجدد اور اصلاح کے خوشنما نام سے اسلام اور راسخ العقیدہ مسلمان دوچار ہیں۔ تجدید کے نام پر مغربی تہذیب وافکار کی ہی وہ اندھی تقلید ہے جس کا رونا علامہ اقبالؒ روچکے ہیں:
لیکن مجھے ڈر ہے کہ یہ آوازۂ تجدید
مشرق میں ہے تقلیدِ فرنگی کا بہانہ
اور یہی وہ تشویشناک صورت حال ہے جس نے دینی اقدار وافکار پر مرمٹنے والے علماء اور غیور مسلمانوں کو شدید اضطراب میں مبتلا کردیا ہے اور وہ کسی حال میں بھی اسلام کو یورپ کے اخلاقی اور روحانی اقدار سے عاری نظام کی بھینٹ چڑھانے پر آمادہ نہیںہوسکتے۔ اور اس راہ میں وہ بے خطر ہر میدان میں سنگِ گراں ثابت ہوجاتے ہیں۔ اہلِ تجدد اور مغرب زدہ طبقہ کے ہاں نئے تقاضوں اور حالات کے سامنے اور مذہب کے ترقی پذیر ہونے کا مطلب کھلے الفاظ میں یہ ہے کہ مذہب کو حالات کا تابع بنادیاجائے ، نہ کہ حالات اور زمانہ کو مذہب کے مطابق بنایا جائے۔‘‘ (مولانا سمیع الحقؒ: حیات وخدمات، ص:۳۰۴-۳۰۵)
۸:…ڈاکٹر فضل الرحمن کے فتنہ کے بارہ میں آپ نے لکھا:
’’ڈاکٹر فضل الرحمن اور ان کے ادارے ’’اسلامی تحقیقاتی ادارہ‘‘کا مشغلہ ہی آج تک دین کے مسلمات سے تلاعب، تمسخر اور اُسے مشقِ مسخ وتحریف بنانے کے سوا کچھ نہیں۔ ان کے مشاغل وعزائم کی کچھ جھلکیاں ہم وقتاً فوقتاً پیش کرتے رہتے ہیں، ادارے کے بزعم خود شہرۂ آفاق محقق ڈاکٹر فضل الرحمن کا اصل روپ اب مسلمانوں سے مخفی نہیں رہا۔ ان کی مساعی کا نتیجہ سوائے ضیاعِ وقت کے کچھ اور نہیں نکلتا اور ان کی تحقیقات مسلمانوں کی دل شکنی اور نظریۂ پاکستان سے انحراف رہا ، باہمی تفریق وانتشار اور پاکستان کی سالمیت کو نقصان پہنچانے کا سبب بن رہی ہیں۔‘‘ (الحق، اکتوبر۱۹۶۶ء)
۹:…قادیانیت کے بارہ میں آپ نے لکھا :
’’قادیانیت مسلمانوں کے لیے ایک ایسا شجرۂ خبیثہ ہے، جس کی جڑیں کبھی بھی عقل ودانش کی زمین میں جگہ نہیں پکڑسکیں، لیکن دجل وتلبیس، ملمع سازی اور فریب کے بل بوتے پر اس کی شاخیں کبھی کبھی پھیلنے لگتی ہیں اور خطرہ لاحق ہوجاتا ہے کہ دینِ قیم کے صراطِ مستقیم پر چلنے والوں کے لیے پرخاردار جھاڑیاں اور کانٹے راہِ حق سے بھٹکنے کا ذریعہ نہ بن جائیں۔۔۔۔۔۔۔ گو آج انور شاہ کشمیریؒ، سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، اور مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ ہم میں نہیں، مگر مسلمانوں کے منبرومحراب، ہر مدرسہ وخانقاہ،ہر مجلس ومحفل سے ان اکابر کی روح بول رہی ہے اور ہر مسلمان کے دل میں وہ آگ سلگ رہی ہے، جسے ان اکابر نے روشن کیا تھا، یہاں ہم اس دریدہ دہن کی خدمت میں صرف یہ شعر پیش کرنے پر اکتفا کریں گے۔
مت سوچ ’’بخاری‘‘ نہیں اربابِ وطن میں
یہ دیکھ فضا شعلہ فشاں ہے کہ نہیںہے
جو آگ سلگتی رہی اس شیر دل میں
اس آگ سے ہر روح تپاں ہے کہ نہیں ہے
(بادنیٰ تغیر، الحق مارچ ۱۹۶۷ء)
۱۰:…قادیانیت کو غیرمسلم اقلیت قراردینے کی وضاحت کرتے ہوئے آپؒ نے فرمایا:
’’قادیانیت کے بارے میں آئین کی اسلامی دفعات ہیں، اس مسئلے کا فیصلہ نہ تو مولویوں نے کیا ہے اور نہ ہی کسی مدرسے نے، بلکہ پارلیمنٹ نے کیا ہے، انہوں نے پورے چالیس دن بڑے بڑے وکلاء اور اٹارنی جنرل رکھے ہوئے تھے اور وہ دہشت گرد تو کیا پارلیمنٹرین بھی نہیں تھے، بھٹو خود سوشلسٹ، اور روشن خیال تھا، انہوں نے آئین کی روشنی میں فیصلہ کیا۔ اب اس کے بارے میں ہر وقت مسئلہ اُٹھتا ہے کہ آئین سے یہ چیز امریکہ نکال رہا ہے، جو بہت افسوس کی بات ہے، اس کی تلافی کرنی چاہیے، امریکہ کو اپنی براء ت کا کھل کر اظہار کرنا چاہیے، پارلیمنٹ کسی کو غیرمسلم کہے یا مسلمان کہے، امریکہ کا اس سے کوئی سروکار نہیں ہونا چاہیے۔ کوئی فنڈامینٹل (Fundamental) ہونے کی وجہ سے ہم نے ان کی مخالفت نہیں کی تھی، بلکہ وہ خود کہتے تھے کہ ہمارا نبی الگ ہے، اس کی الگ کتاب ہے، جیسے موسیٰ ؑ کے بعد عیسیٰ ؑ آگئے اور عیسیٰ ؑ کے بعد حضورa ، کوئی بھی کسی کو مجبور نہیں کرسکتا کہ وہ اپنا مذہب تبدیل کردے۔ کیا ایسے شخص کو یہودی موسیٰ ؑ کی طرح اور عیسائی عیسیٰ ؑ کی طرح نبی ماننے کے لیے تیار ہیں؟ وہ ہرگز تیار نہیں ہوں گے، اگر آپ ہمیں مجبور کرتے ہیں تو پہلے خود اعلان کیجیے کہ عیسائی اور یہودی اب مرزا غلام احمد کے امتی ہیں۔ جب مرزائیوں نے خود کہا کہ ہم علیحدہ ایک امت ہیں، باقاعدہ ان کی کتابوںکے حوالے ہیں اور دوسری اہم بات یہ کہ ان کے تعلقات اسرائیل کے ساتھ تھے۔ درحقیقت یہ مسلمانوں کے خلاف استعمار اور سامراج کا ایک ففتھ کالم سیاسی گروپ تھا، جس کی سازشیں اور عزائم ہم نے قومی اسمبلی میں مستند حوالوںکے ساتھ پیش کیے۔ پسِ منظر میں ان کی ساری تاریخ مسلمانوں کے خلاف تھی۔ کشمیر میں بھی انہوںنے غداری کی ہے، سارا علاقہ کاٹ دیا، تقسیم ایسی کی گئی کہ ضلع گورداسپور انڈیا کے ساتھ شامل ہوگیا اور کشمیر ہم سے کٹ گیا، یہ بہت بڑی داستان ہے۔قومی اسمبلی میں ہمارے بزرگوں نے جو بحث کی ۱۹۷۴ء کی ، وہاں ہمارے بزرگوں نے مسلمانوں کا موقف پیش کیا کہ ان کو کیوں غیرمسلم سمجھتے ہیں، اس کے بعد اس پر تین سو صفحات کی کتاب مسلمانوں کی طرف سے لکھی گئی تھی، اس میں کافی حصہ میں نے بھی لکھا تھا، میں اس وقت نوجوان تھا، جبکہ پہلا حصہ جسٹس تقی عثمانی صاحب نے لکھا تھا، اس میں سارے دلائل واضح طور پر ذکر کیے گئے تھے۔ اگر امریکہ میں اوبامہ بھی وہ کتاب پڑھتا تو وہ بھی فیصلہ کرلیتا کہ یہ لوگ مسلم نہیںہیں۔ مسئلہ صرف مسلمان اور غیرمسلمان کا نہیں تھا، بلکہ مسئلہ غدار اور غیرغدار کا بھی تھا۔ وہ ملک کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے والے تھے ، جیسے آپ امریکہ میں کسی ایسے شخص یا جماعت کو برداشت نہیں کرتے جو غدارِ وطن ودین ہو تو ایسے ہم بھی غدارِ وطن ، غدارِ ملت اور غدارِ دین کو برداشت نہیں کرتے۔‘‘ (مولانا سمیع الحق : حیات وخدمات، ص: ۳۵۲-۳۵۳)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
راقم الحروف کی حضرت مولانا سمیع الحقؒ سے سرِراہ تو کئی بار سلام دعا ہوئی، لیکن تفصیلی ملاقات اس وقت ہوئی جب حضرت مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہ صاحب نور اللہ مرقدہٗ کی تعزیت کے لیے حضرت مولانا مفتی خالد محمود اور مفتی محمد بن جمیل خان کے ہمراہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک گیا تھا۔ حضرت شہیدؒ بہت ہی شفقت اور محبت سے ملے، کافی دیر باتیں ہوتی رہیں، راقم الحروف سے فرمایا: میں آپ کا اداریہ ماہنامہ ’’بینات‘‘ میں پڑھتا ہوں، دل سے دعائیں نکلتی ہیں۔ غائبانہ تو آپ سے تعارف ہے، آج بالمشافہہ ملاقات غالباً پہلی دفعہ ہورہی ہے۔ پھر فرمایا: اور مضامین بھی لکھتے ہیں یا راشد الحق کی طرح صرف اداریہ لکھنے پر اکتفا ہے؟ میں نے عرض کیا: حضرت! آپ دعا فرمائیں، اللہ تعالیٰ دین کی خدمت لیتے رہیں۔ تقریباً دو گھنٹے سے زیادہ وقت دیا، کھانا اپنے ساتھ بٹھاکر کھلایا اور اپنی شہرہ آفاق کتاب ’’مکتوباتِ مشاہیر‘‘ مکمل سیٹ بھی ہدیۃً عنایت فرمایا۔ اس موقع پر آپؒ نے فرمایا : آج کل حضرت لاہوریؒ کے افادات پر کام کررہا ہوں، دعا ہے کہ وہ میری زندگی میںمکمل ہوجائے۔ اس پر حضرت مفتی خالد محمود صاحب نے آپ سے کہا: حضرت! آپ سیاست میں اپنے آپ کو نہ اُلجھائیں، بس اسی علمی کام میںاپنے آپ کو ہمہ وقت مصروف رکھیں، اس میں آپ کی زیادہ ضرورت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حضرتؒ کی شہادت کی خبر جیسے ہی ملی تو دل پر بہت زیادہ صدمہ ہوا، اور دل میں آیا کہ حضرت کے جنازہ میں شرکت کی سعادت حاصل کرکے اپنی بخشش کا سامان کیا جائے۔ دوسرے دن صبح کی فلائٹ میں مولانا مفتی خالد محمود صاحب کی سربراہی ، مولانا ڈاکٹر سعید خان اسکندر اور مولانا محمد ابراہیم سکرگاہی کی ہمراہی اور پشاور سے محترم جناب بھائی زبیر علی صاحب کی قیادت میں آپؒ کے جنازہ میں شرکت کی سعادت نصیب ہوئی۔ آپ کی نمازِ جنازہ آپ کے بڑے صاحبزادے حضرت مولانا حامد الحق نے پڑھائی، جس میں بلامبالغہ لاکھوں لوگ شریک تھے۔ آپ کی نمازِ جنازہ ساڑھے تین بجے پڑھائی گئی، لیکن ازدحام کی بنا پر مغرب کے بعد تک گاڑیاں اپنی اپنی جگہ پھنسی رہیں، جیسے ہی ہماری گاڑی کو کچھ راستہ ملا، ہم نے دارالعلوم حقانیہ میں مغرب کی نماز ادا کی اور اس کے بعد اپنے رفقائے سفر کے ہمراہ حضرت مولانا حامد الحق سے تعزیت کی۔
چونکہ جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے رئیس حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر دامت برکاتہم عذر کی بناپر نمازِ جنازہ میں شریک نہ ہوسکے تو ۳۰؍صفر مطابق ۹؍نومبر بروز جمعہ آپ اپنے صاحبزادے حضرت ڈاکٹر مولانا سعید خان اسکندر کے ساتھ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک تعزیت کے لیے تشریف لے گئے۔
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے نائب رئیس حضرت مولانا سید سلیمان یوسف بنوری دامت برکاتہم، اساتذۂ جامعہ اور ادارہ بینات حضرت مولانا سمیع الحق شہیدv کے پسماندگان کے غم میں برابر کے شریک ہیںاور حضرت کی شہادت کے سانحہ کو اپنا سانحہ اور غم تصور کرتے ہیں۔ قارئین بینات سے حضرت موصوف کے لیے ایصالِ ثواب کی درخواست ہے۔
اللہ تبارک وتعالیٰ حضرت مولانا سمیع الحقv کی شہادت کو قبول فرمائے، آپ کو جنت الفردوس کا مکین بنائے، آپ کے پسماندگان، متعلقین اور آپ کے تلامذہ کو صبرِ جمیل کی توفیق عطا فرمائے اور آپ کے قاتلین کو دنیا وآخرت میں عبرت کا نشان بنائے۔ آمین

Address

Los Angeles, CA

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Islamic content posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share