06/24/2026
🕊️ خان عبدالغفار خان (باچا خان) کون تھے۔
خان عبدالغفار خان، جنہیں دنیا باچا خان، فخرِ افغا/ن اور سرحدی گاندھی کے نام سے جانتی ہے، برصغیر کی تاریخ کے ایک عظیم پشتون رہنما، مصل/ح، اور عدم تشد/د کے عالمی علمبردار تھے۔ وہ ایسے وقت میں پیدا ہوئے جب پشتون معاشرہ غر/بت، جہا/لت، قبائلی جھگڑ/وں اور سیاسی غلامی کا شکا/ر تھا۔
ان کی پیدائش 6 فروری 1890ء کو اتمانزئی (چارسدہ، خیبر پختونخوا) میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم انہوں نے مقامی مدرسے اور بعد میں مشن اسکول پشاور سے حاصل کی۔ نوجوانی میں ہی انہوں نے محسوس کیا کہ قوم کی پسماند/گی کی اصل وجہ تعلیم کی کمی اور شعور کا فقدان ہے، جس کے بعد انہوں نے اپنی زندگی کا مقصد تعلیم اور اصلاح کو بنا لیا۔
انہوں نے برطانوی فوج میں ملازمت کے بجائے قوم کی خدمت کا راستہ اختیار کیا اور ایک عظیم اصلاحی تحریک کی بنیاد رکھی جسے خدائی خدمتگار تحریک (Red Shirts) کہا جاتا ہے۔ یہ ایک مکمل غیر مسل/ح اور پرامن تحریک تھی جس کا مقصد عوام میں تعلیم، اخلاقی اصلاح، سماجی بہتری اور سیاسی شعور پیدا کرنا تھا۔ یہ تحریک بہت جلد ہزاروں افراد پر مشتمل ایک بڑی عوامی تحریک بن گئی۔
باچا خان مہاتما گاندھی کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے اور انہوں نے ہمیشہ عدم تشد/د (Non-vio/lence) کو اپنی جدوجہد کا بنیادی اصول بنایا۔ ان کا ماننا تھا کہ ظلم کا جواب طاقت سے نہیں بلکہ صبر، علم اور شعور سے دیا جانا چاہیے۔ اسی وجہ سے انہیں “سرحدی گاندھی” بھی کہا جاتا ہے۔
برطانوی دور حکومت میں انہوں نے آزادی کی تحریک میں اہم کردار ادا کیا اور انگریز حکومت کے خلاف پرامن جدوجہد کی پاداش میں کئی بار جییں کاٹیں اور سخت/یاں برداشت کیں۔ وہ ان رہنماؤں میں شامل تھے جنہوں نے برصغیر میں امن، اتحاد اور تعلیم کے فروغ کی بات کی۔
1947 کے بعد پاکستان کے قیام کے بعد بھی وہ سیاست میں فعال رہے اور پشتون قوم کے حقوق، تعلیم اور امن کے لیے آواز بلند کرتے رہے۔ تاہم ان کے سیاسی نظریات کی وجہ سے انہیں طویل عرصہ نظر بندی اور جلاو/طنی کا سامنا کرنا پڑا۔
ان کی زندگی کا بیشتر حصہ ق/ید، نظر بند/ی یا جلاوطنی میں گزرا، مگر وہ اپنے اصولوں پر قائم رہے۔ آخرکار وہ 20 جنوری 1988ء کو وفات پا گئے۔ ان کی وصیت کے مطابق انہیں افغانستان کے شہر جلال آباد میں دفن کیا گیا۔
باچا خان کی سب سے بڑی تاریخی اہمیت یہ ہے کہ انہوں نے پشتون معاشرے میں امن، تعلیم اور عدم تشد/د کی بنیاد رکھی۔ وہ اس بات کی علامت ہیں کہ بڑی تبدیلی ہتھیاروں سے نہیں بلکہ شعور، علم اور صبر سے آتی ہے۔ آج بھی وہ دنیا بھر میں ایک عظیم امن پسند رہنما کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں۔